certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (25 Sep 2017 NewAgeIslam.Com)



Rohingya Musalman روہنگیا مسلمان

 

 

مولانا وحید الدین خان: نیو ایج اسلام

نویں صدی عیسوی سے عرب اور دیگر مسلم تاجروں کی راکھین (قدیم اراکان) میں آمد شروع ہوئی۔ یہ برما (میانمار) کی ایک ریاست ہے ، جواس کے مغرب میں واقع ہے۔ ابتدائی دنوں میں ہی ان تاجروں میں سے کچھ لوگ وہاں آباد ہوگئے۔ان کے اثر سے مقامی آبادی میں آہستہ آہستہ اسلام پھیل گیا، یہاں تک کہ راکھین ریاست کی ایک بڑی آبادی مسلمان ہوگئی۔ صدیوں تک، اراکان کے یہ مسلمانوں برما کے باقی لوگوں کے ساتھ پرامن زندگی بسر کرتے رہے۔ یہ پرامن حالت اس وقت تک باقی رہی جب تک کہ ان کے درمیان علیحدگی پسند رجحانات پیدا نہیں ہوئے۔

تاہم 1947 میں جب مشرقی پاکستان قائم ہوا ، تو روہنگیا کےبعض جذباتی مسلم رہنماؤں نے اس کو دیکھ کر روہنگیا میں برما سے علاحدہ ایک آزاد مسلم ریاست بنانے کی کوشش شروع کردی ۔ انہوں نے اپنی اس کوشش کو "سیاسی خود اختیاری" کا نام دیا۔دھیرے دھیرے یہ تحریک تیز ہوتی گئی، اور بہت سے انتہا پسند مسلمانوں نے اس میں پوری سرگرمی کے ساتھ حصہ لیا۔ میانمار کی مرکزی حکومت نے ان کی کوششوں کو بغاوت کے طور پر دیکھا۔کیوں کہ حقیقت کے اعتبار سےیہ حکومت میانمار سے علیحدگی کی ایک تحریک تھی۔اس بغاوتی تحریک سے پہلے، روہنگیا کے مسلمان میانمار کے دوسرے لوگوں کے ساتھ پر امن طریقہ سے رہ رہے تھے۔ لیکن علیحدگی پسند رہنماؤں نے جذباتی تقریروں کے ذریعہ روہنگیا میں بسنے والے مسلم و غیرمسلم کے درمیان اختلاف کو ہوا دی۔

ان کی علیحدگی پسندانہ سرگرمیوں کو روکنے کے لئے میانمار حکومت نے ان کے خلاف سخت کارروائی کی ، جو کہ روہنگیا کے مسلم رہنماؤں کے مطابق ظلم کا عمل تھا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ حکومت میانمار کی یہ کارروائی اپنے ملک میں نظم و ضبط (law & order)کو قائم کرنے کے لیے تھی۔ 1971 میں بنگلہ دیش کے قیام نے روہنگیا کے مسلم رہنماؤں کو ایک قسم کا حوصلہ دیا، جس نے ان کی علیحدگی پسند سرگرمیوں کو اور تیز کیا، مگر نتیجہ یہ نکلا کہ میانمار کی حکومت نے پہلے سے کہیں زیادہ سختی سے بغاوت کی تحریک کو کچل دیا۔ یہ ہے مختصر طور پر روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا پس منظر۔

جب میں لکھنؤ میں تھا ، شاید 1966کی بات ہے ۔ ایک دن، ایک عالم دین نے مجھ سے کہا کہ وہ میانمارجا رہےہیں۔ انھوں نے مزید یہ پوچھا کہ کیا میں ان کے ساتھ برما جاسکتا ہوں۔ میں نے پوچھا کہ کیوں، انہوں نے جواب دیا کہ وہاں مسلم ریاست کے قیام کی تحریک چل رہی ہے،میں بھی اس میں بھر پور طور پر حصہ لینا چاہتا ہوں۔ میں نے ان کی بات کی سختی سے مخالفت کی۔ میں نے ان سے کہا کہ کچھ لوگ اس قسم کی تحریک چلاکر سوچتے ہیں کہ وہ اسلام کے نام پر ریاست قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں، حقیقت کے اعتبار سے اس طرح کی ہر ایک سرگرمی صرف کشیدگی اور نقصان میں اضافہ کے ہم معنی ہے۔میں نے ان سے مزید یہ کہا کہ میں ان کے اس عمل کو سخت ناپسند کرتا ہوں، جو کہ اپنی شکل کے اعتبار سے حقیقی اسلام نہیں ہے ، بلکہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے تنازعہ اور خون خرابے کا سبب ہوگا۔ میں نے یہ واضح کیا کہ میں ان چیزوں میں ان کی حمایت نہیں کرسکتا۔میرے جواب کو سن کر مذکورہ عالم مجھ سے ناراض ہو کرچلے گئے۔

 1966 کے بعد سے، روہنگیا مسلمان کے بارے میں میری رائے صرف ایک ہی ہے، اور وہ ہے: روہنگیا مسلمانوں کا معاملہ ظلم کا نہیں ہے، بلکہ مسلم رہنماؤں کی طرف سےاختیار کیے گیےغلط سیاسی موقف کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انجام کاہے، جس کو روہنگیا کے مسلم لیڈروں نے بھڑکا کر ان کے لیےجذباتی ایشو بنادیا ۔اگر تصویر کے دونوں رخ کو دیکھاجائے، تو اس سے ایک آدمی اس نتیجے پر پہنچے گا کہ روہنگیا مسلمان ظلم کا شکار نہیں ہیں، اس کے بجائے وہ مسلم رہنماؤں کی ان سیاسی سرگرمیوں کی قیمت ادا کررہے ہیں، جو کہ غیر حقیقت پسندی پر مبنی تھی۔ اس طرح کی علیحدگی پسند تحریک کسی بھی ملک کے لئے ناقابل قبول ہے، اگرچہ اس کو حکومتِ خود اختیاری  کا خوبصورت نام دے دیاجائے۔ روہنگیا مسلمانوں کی مشکلات کا صرف ایک ہی حل ہے۔ وہ یہ ہے کہ وہ اپنی بغاوت اور عسکریت پسندانہ سرگرمیوں کو لازمی طور پر ختم کریں ۔وہ اس حقیقت کو قبول کریں کہ وہ میانمار قومیت کا ایک بڑا حصہ ہیں۔

انہیں علیحدگی پسند رجحانات کو اپنے دلوں سےنکال دینا چاہئے، تب مجھے یقین ہے کہ میانمار کی حکومت ان کو قبول کرے گی، اور مسئلہ پوری طرح پرامن طریقہ سے حل ہو جائےگا۔ علیحدگی پسند تحریک نے روہنگیا مسلمانوں کی حالت کو بد سے بدتر کیا ہے۔ اگرچہ اس سے پہلے وہ میانمار میں خوشحالی کی زندگی گزار رہے تھے۔اصل یہ ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کا بہترین مفاد علاحدہ ملک میں نہیں ہے، بلکہ میانمار کی ریاست کا حصہ بن کر رہنے میں ہے۔ یہ مذہبی اور سیکولر احساس دونوں اعتبار سے درست ہے۔

1934 میں، مَیں نے مذہبی تعلیم کے لئے اعظم گڑھ کے اندر ایک عربی ادارہ، مدرسۃ الاصلاح میں داخلہ لیا۔ اس مدرسہ میں میرا صرف ایک دوست تھا، عبد الرشید رنگونی (وہ برما کا تھا)۔ وہ ایک مہذب شخص تھا، اور اس وقت کے برما کے بارے میں وہ بہت اچھی رائےرکھتا تھا۔اس کے تاثر کی بنیاد پر برما کے لوگوں کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے، میں یہ کہوں گا کہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کی جانے والی کارروائی کا الزام برما حکومت کی انتظامیہ کے اوپر نہیں ہے، بلکہ ان غیرحقیقت پسندانہ سرگرمیوں پر ابھارنے والے رہنماؤں کے اوپر ہے،جنھوں نے اس خطہ میں تشدد کی سرگرمیاں شروع کیں۔ ان متشددانہ کارروائیوں کو بڑھاوا دینےاور صورت حال کو سنگین کرنے میں باہر کے مسلم رہنماؤں نے بھی حصہ لیاہے۔

 لیکن میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ برما کے لوگ بہت اچھے ہیں، وہ روہنگیا مسلمانوں کو دوبارہ کھلےدل سے قبول کریں گے۔ بشرطیکہ روہنگیا مسلمان یہ تسلیم کریں کہ علیحدگی پسند رہنماؤں کی طرف سے وہ غلط رہنمائی کا شکار ہوئے ہیں، اور اب وہ میانمار کے وفادار شہری بن کر رہیں گے۔ روہنگیا مسلمانوں کو یہ جاننا چاہئے کہ اس دنیا میں دوستی اور دشمنی دونوں اضافی چیزیں ہیں۔ اگر آپ کسی دوسرے شخص کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے تو وہ بھی یقینی طور پر آپ کو ایک دوست کے طور پر قبول کرے گا۔ اس قدرتی قانون کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ (41:34)

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/maulana-wahiduddin-khan-for-new-age-islam/rohingya-musalman--روہنگیا-مسلمان/d/112643

 

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 




TOTAL COMMENTS:-   19


  • یہ ہرزہ سرائی کے علاوہ کچھ نہیں ہے کہ روہنگیا مسلمان علیحدگی پسند ہے۔
    1784 
    میں ارکان پر برمی قبضہ سے پہلے روہنگیا مسلمانوں کی ارکان پر حکومت تھی۔
    دیکھئے ٹائمز اٹلس آف ورلڈ ہسٹری ص 133
    تاریخی طور پر چاٹگام اور اراکان ایک ملک تھا اس لحاظ سےآبادی میں مماثلت ان کی چاٹگامی ہونے کی دلیل نہیں ہے۔
    چٹگام اور دوسرے علقوں سی بودھ آبادی کو سرکاری سرپرستی میں آراکان میں آبادکاری سے توجہ ہٹانے کے لئے روہنگیا مسلمانوں کے غیرملکی ہونے کا شوشہ چھوڑاغگیا ہے۔
    برما کی آزادی کے وقت مسلمانوں کی شہری حقوق سے انکار کی وجہ سے مجاہدین کی تحریک شروع ہوئی ۔ مجاہدین کا مطالبہ کبھی بھی آزادی کا  ہیں رہا۔
    ان کے قابل قدر مطالبات تسلیم کر ے کے بعد انہوں نے ہتھیار ڈالدئے۔
    ڈیل میں ہتھیار ڈالنے کی تقریب میں برمی مسلح افواج کے ناب سربراہ کی تقریر دی جارہی ہے بو سب کے آنکھیں کھول نے کے لئے کافی ہے۔
    The speech delivered by Brigadier General Aung Gyi on 4th July 1961, at Maungdaw, North Arakan. Brigadier General Aung Gyi (1919-2012) Vice Chief of Staff of Burma I want to speak a little in this arms laying down ceremony (at Maungdaw, July 4, 1961) of the resistance group who are fighting in the name of revolution since the independence of Burma. Rohingya means First and foremost, I want to say about the people of Mayu District. Pakistan is at the western side of this district. Both of sides of the border are Muslims. The people of the west are called Pakistani. The people of the east, who are in Burma, are called Rohingyas. I want to clear that it is not the only border where same people live in two countries; the same case is in Chinese border too. For example, in Kachin State there is Lesu in Burmese side, also there is Lesu in China too. As there is Eikaw in Burmese side and also in China side. As there is Lawa in Burmese side there is also Lawa in China. In this way as there is Shan in Burma, there is Thai in other side. They speak same language both inside Thailand and Burma. In this way the people of same religion are in Pakistan side and Rohingyas in Burma. Resolve Decisively In this meeting of all walks of people, I want to say clearly that the people in our side may have relatives in other side. But they are Pakistanis. The people of the border must take decisive decision. For example, when we have a look at Kachin State, some relatives of the Kachin are in China side, they are Chinese and those Kachin who are in Burma are Burmese. Some may be brother-in-laws. But the relative cannot naturally alter the nationalities of their respective countries. In this way the Rohingyas of our side must be faithful to the Union of Burma and the people of the western side of the border must be faithful to the government of Pakistan. I want to say the attending elders of the towns of Mayu District and comrades that there may be relatives, in-laws and children of the comrades in Pakistan. But you are the nationals of the Union of Burma. You must decide firmly to be faithful to the Union and your relatives must be faithful to the Pakistan though you are here. I request to do so and to explain it to all your near and dear ones. An act of error In this regard I want to say about a past history. Previously, as you know, the people of Burma regard this Rohingya people as Mujahids and Muslims who wanted to join with Pakistan. So people of this region thought, being Muslims, they should join with Pakistan. With this view they launched political movement, as Sudukstan of Germany, to join with Pakistan. As a matter of fact it is impossible and also against the nature. What had happened in Germany was happened before the Great War. It was no more after the War. The policy of Pakistan is very right. For example, in the case of Kyi-Kyun they did not demand it. When Pakistan is not even demanding Kyi Kyun they would never think about the Mayu District to join with East Pakistan. In this way the people of China cannot demand Kachin State to join with Yunan giving the reason that there are Kachin people in China’s Yunan province. There is no such thing in this time. Some people of Burma proper
     failed to recognise the people of this region as indigenous. Some people of this part may have longed for Pakistan. These are all mistakes of some people of Burma and some people of this region. Minority Race So, today I will declare openly that from this very time we will regard (the people of) Mayu District as an indigenous race of the Union of Burma, I do declare it clearly. The people of this region must also regard themselves as an indigenous minority race of Burma. Then only this part of the country will be in peace and prosperity. You should forget our previous mistakes. For example, there may be the burning of the villages in operations. It may be due to unavoidable circumstances. If this happened please forget it. From this time you must regard yourselves as the people of the Union. “We must be faithful, the country is Union of Burma, we are a minority group of the Union”. Then only this region will be in peace and prosperous. If there are people who do not understand it, I request the attending political parties, religious parties, Molvies, elders, ex-Mujahid comrades to try to change their minds and views. In future, as a minority race of the Union of Burma, in your efforts for peace, development, education and health, we will render full co-operation with you. This is the first thing I want to tell you. Like real relatives Secondly, I want to say about the programme of the development of this area by our army. As you know, the population of Mayu District is four to five lakhs. The occupation is only cultivation of narrow strip. The population is too much greater in comparison to lands for cultivation. Consumption is greater making the people automatically poor. You are poor. Most of the people of this area are poor. One cannot effort more than two or three longyis. We have approximate estimation for the development of this area as we feel your poverty as that of us as you are part and parcel of us. The economic development of this area will be carried out the Mayu Frontier Administration as if they are your real relatives, and you should corporate with them. We will discharge our duty taking you as if you are our own relatives. Economic Development You and we the administrative officials may have different religions, different traditions. In a country, it is not a big issue to have different religions, different traditions and different languages. Such kind of differences does exist in America, England, Russia, China, India, and Pakistan and in every country. But they worked together. You should also work together for the development keeping aside our differences without taking it as big issue, as if we are real relatives. Frontier Administration is ready to work hard for your development. The most important thing is the security of this area. Without the security it will be very difficult for development even though we work very hard. The first important thing is the security. The second important is also peace and security of the rural area of this region. For the security of the area, the Rohingya nationals, Rohingya leaders and Rohingya religious leaders should inform the army and government. If possible fight against the rebel. If possible, wage war joining with the army. It is an Order In this way when defence is carried out the strength of the remaining rebel forces will become weak and the rural area will be in peace. When there is peace we can effectively work for the development of this area. We can try our best for the economic development of this area in every angle. Which I am telling here is an order to the in charge army officers of the frontier Administration such as, Col. Soe Myint, Col. Ye Goung. In army such an instruction is an order. This is the difference between the political speech from the dais and the speech in army. In army such instruction is followed by the subordinate officers like an order. So when we tell or even before telling we start to work. The Frontier Administration will work hard for the economic development of the people of this area. We will support the culture and religious matters of this area. Well, from this time on, we will help, protect and defend the religion of this people, which I want you to believe it without any reservation. (“Myanmar Alin” 8-7-1961 page 5-6)
    برما میں دیگر اقلیتی اقوام کے علاقوں کو صوبوں کا درجہ دیکر ان کے لئے مختص کیاگیا اسی طرح روہنگیا مسلمان بھی روہنگیا اکثریتی علاقوں کو صوبہ کا درجہ دےکر ان کے لئے مختص کنے کا مطالبہ کررہے تھے بہرحال ان کا مطالبہ مان لیاگیا وہ امن وآشتی کے ساتھ ملک کی ترقی میں جٹ گئے۔
    1962
    میں فوجی انقلاب آیا مگھ قوم جو اپنے آپ کو ریکھائن کہلانا پسند کرتے ہیں انہوں نے اس شرط پر فوج کا ساتھ دیا کہ روہنگیا کا صوبہ ختم کرکے ان کے ماتحت کردیا جائے۔ اور ان کو غیرملکی قرار دےکر ان کی نسل کشی کیجائے ان کے علاقوں میں پڑوسی ممالک سے بدھوں کو لاکر بسایا جائے۔ 1962 سے اس پر عمل ہورہاہے۔


    By M Amin Nadwi - 11/7/2019 4:01:06 AM



  • مولانا وحیدالدین خاں صاحب کی بات تاریخ کی روشنی میں مدلل ہے۔ اکثر وہ لوگ جو مسلم رہنما ہونے کا دم بھرتے ہیں، اس قسم کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے اپنی قوم کی موت کا سبب بنتے ہیں۔ 
    By فیروزہاشمی - 10/8/2017 3:16:04 AM



  • مولانا کا مضمون مبعنی بھر حقیقت ہے۔مولانا نے اپنے مضمون میں برمی مسلمانوں کا تاریخی جائزہ لیا ہے اور منظر اور پس منظر دونوں کی نشان دہی کی یے۔برمی مسلمان کی لیڈر شپ کی غلط پالسی اور مسلمانوں کو الگ ریاست پر ابھارنا اور حکومت وقت کے ساتھ تضاد کا ماحول پیدا کرنا جس کی وجی سے مسلمانوں کو بھاری قیمت چکانی پڑی وہ بھی ۔ضموں میں نمایا کیا گیا ہے۔
    By Shafi Ahmad Dar - 10/2/2017 10:22:40 AM



  • روہنگیا کون ہیں؟
    میانمار جسے برما کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے سات صوبوں پر مشتمل ملک ہے جس میں سے راکھین یا رخائن میں مسلمانوں کی آبادی سب سے زیادہ ہے ۔ تقریباََ چھ لاکھ مسلمانوں کی آبادی جنہیں '' روہنگیا'' کہا جاتا ہے۔ 
    اقوامِ متحدہ ک ایک رپورٹ کے مطابق '' روہنگیا مسلمز '' کو دنیا کی مظلوم ترین '' اقلیت '' قرار دیا گیا ہے جنہیں بنیادی انسانی حقوق تو دور کی بات اپنے ملک کا شہری کہلوانے کا حق بھی حاصل نہیں ہے کیونکہ   بودھ انہیں غیر قانونی تارکینِ وطن گردانتے ہیں۔  سابقہ فوجی حکومتوں نے  بھی انہیں برما کا شہری تسلیم کرنے سے انکار کیا اور انہیں پاسپورٹ دینے یا سفری سہولتیں فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔ انہیں مجبور کیا کہ وہ مخصوص علاقوں یا کیمپوں میں رہیں۔
    اگرچہ میانمار ایک چھوٹا اور بے وسیلہ ملک ہے لیکن بدھ مذہب کے بانی مہاتما بدھ کی تعلیمات  کے برعکس اپنے ہی ملک کی ایک چھوٹی اقلیت کو نیست و نابود کرنے کے درپے ہیں اور مقامِ حیرت ہے کہ دنیا کا کوئی ادارہ ،  قانون ، پالیسی، انسانی حقوق کے علمبرداروں کی تنبیہ اسے روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ 
    گزشتہ ایک برس سے برما کی فوج روہنگیا علاقوں میں دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے نام سے کاروائی کر رہی ہے۔ اس دوران روہنگیا مسلمز کو بے دریغ قتل کیا گیا۔ دیہات جلائے گئے،بچوں ، بوڑھو، جوانوں کو قتل کیا گیا ، عورتوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ عالمی اداروں کے دباو پر کمیشن تشکیل دیا گیا جس نے میانمار کی فوج کو ان تمام واقعات سے بری الذمہ قرار دیا۔ لیکن غیر ملکی میڈیا، اقوام متحدہ کے نمائیندوں یا امدادی کارکنوں کو راکھین یا رخائن جانے کی اجازت نہیں دی۔یہاں تک کہ امدادی رقوم میں بھی خرد برد کی گئی۔ 
    حتی کہ ملک کے عوام کے جمہوری حق کے لیے پندرہ سال تک نظر بند رہنے والی اور  بین القوامی شہرت کی حامل اور امن کی نوبل انعام یافتہ   '' آنگ سان سوچی'' نے بھی روہنگیا مسلمز کے خلاف ہونے والے مظالم پر آواز بلند نہ کی ۔ مخص اس اندیشہ کے لیے کہ وہ بودھوں کی سیاسی حمایت سے محروم نہ ہوجائیں۔ 2015ء کو اقتدار میں آنے کی باوجود وہ اس انسانی المیہ کو حل کرنے کے کسی قسم کے قدم اٹھانے کا حوصلہ نہ کر سکیں بلکہ اسے یک طرفہ پروپگینڈا قرار دے کر مسترد کرتی رہیں اور اسے نسلی و مذہبی تعصب کی بجائے ثقافتی تصادم کا نام دیا۔
    کیا واقعی ایسا ہی ہے؟؟؟ 
    جانتے ہیں روہنگیا اصل میں ہیں کون؟
    کیا حکومت کے دعوی کے مطابق میانمار یا برما میں لفظ '' روہنگیا '' رائج ہی نہیں تھا؟ 
     کیا روہنگیا  حقیقتاََ تارکین وطن ہیں؟ 
    سات صوبوں کے ملک میانمار  میں مسلمانوں کی اکثریت شمال مغربی صوبے اراکان جسے اب راکھین یا رخائن کہا جاتا ہے ۔۔۔۔ میں  آباد ہے۔ ٹائمز اٹلس آف ورلڈ ہسٹری کے مطابق یہ  ایک آزاد ملک تھا جس کا نام ارکان یا اراکان تھا۔ 1784ء تک ایک مستقل آزاد ریاست کی حثیت سے دنیا کے نقشے میں موجود رہا۔ بعد میں برمیوں نے اس پر قبضہ کر لیا اور ایک صوبے کے طور پر اپنے ساتھ ضم کر لیا۔
    کیا میانمار یا برما میں روہنگ لفظ کبھی رائج ہی نہ تھا؟؟
    حکومتِ میانمار کا دعوی ہے کہ  لفظ روہنگیا کبھی میانمار میں رائج ہی نہیں تھا۔ جبکہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ 1799ء میں فرانسس ہملٹن نے اپنی کتاب ''ممڈن'' میں ان مسلمانوں کے لیے روہنگیا مسلم کا استعمال کیا تھا جو کہ وہاں کے مسلم اپنے لیے استعمال کرتے تھے۔
    میانمار یا برما میں مسلمانوں کی آمد کے آثار آٹھویں صدی عیسوی میں ملتے ہیں جب مسلمان تجارت کی غرض سے آئے اور یہی بس گئے۔ ان کے حسن سلوک سے  اور رحمدلی کے جذبات کی وجہ سے انہیں مسلم کی بجائے رحم کرنے والے کے نام سے پکارا گیا جسے مقامی زبان میں ''روحنگ'' یا '' روہنگ''  کہتے ہیں۔   اصطلاحی معنی رحم یا ہمدردی کے ہیں۔جن  مقامی لوگوں نے مسلمانوں کے حسنِ سلوک سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا اور وہ بھی مسلم کی بجائے اپنے ہی  دئیے گئے نام  روحنگ کی نسبت سے ''روحنگیا یا روہنگیا'' کہلائے۔ 1430ء میں اسلامی حکومت قائم کی گئی۔ یہ حکومت تقریباََ ساڑھے تین سو سال قائم رہی۔
    روہنگیا لفظ کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اراکان میں بسنے والوں کے لیے ''روہنگ'' لفظ رائج  تھا۔ روہنگیا کا مطلب اراکان میں بسنے والے۔ تھائی ایڈوکیسی گروپ کے ڈائرکٹر کرس لیوا کے مطابق '' روہنگیا '' کا لفظ مسلمان نسلی گروہ کی سابقہ اراکانی سلطنت کی سرزمین سے تعلق کا ثبوت ہے۔ 
    مطلب یہ کہ '' روہنگیا ''  تاریخ کے اوراق میں تو محفوظ ہے لیکن میانمار کی حکومت کی آنکھیں بند ہیں۔ شاید ان کے مفاد ات کا تقاضا ہے کہ وہ اپنی آنکھیں بند ہی رکھیں ۔ 
    غیر ملکی تاریکینِ وطن  کی اصلیت : 
    سن 1700ء میں ارکان صوبے پر انگریزوں کا قبضہ ہوا۔ 1826ء کی اینگلو برما جنگ کے نتیجہ میں برما  برطانوی ہندوستان  کا حصہ بن گیا اور ایسٹ انڈیا کمپنی نے بنگال ایڈمنسٹریشن کی صوبہ اراکان تک توسیع دی۔ اگرچہ بعد میں برما کے لیے علیحدہ برطانوی نو آبادیاتی ڈھانچہ مرتب کیا گیا لیکن برطانوی  انڈین وائسرائے کا دفتر ہی برما کے معاملات کو دیکھتا تھا۔ انیسویں صدی کے وسط سے مزدوری کی غرض سے ہندوستانیوں کو برطانوی سلطنت میں کھپایا گیا ۔ نہ صرف برما بلکہ اس کے ساتھ ساتھ حکومتِ برطانیہ نے مالدیپ، سوری نام، آسام، گیانا، ترینڈاڈ اور ماریشش گیانا میں بھی آباد کیا۔ ان کی نسلیں آج تک وہاں بھی موجود ہیں۔۔ یاد رہے وہ سلطنت جس کی حدود میں '' سورج غروب نہیں ہوتا تھا'' ۔
    1859ء کی مردم شماری کے مطابق صوبہ اراکان کی پانچ فیصد آبادی مسلمان تھی، اکثریت نسلی برمیوں کی تھی اور باقی وہ تھے جن کے نسلی ڈانڈے چٹاگانک کے پہاڑی علاقے میں بولی جانے والی زبان سے جا ملتے ہیں۔ جن کی بناء پر  آج انہیں بنگالی یا تارکین وطن  کہا جا رہا ہے۔
    1948ء میں برما آزاد ہوا اور 1989ء میں اس کا نام میانمار رکھا گیا۔ اس دوران حکومت نے روہنگیا کو ملک میں آباد 135 نسلی گروہوں میں سے ایک کے طور پر شناخت کرنے سے انکار کردیا اور انہیں بنگال سے آئے ہوئے تارکین وطن قرار دیا کیونکہ 1971ء  میں مغربی سرحد پر واقع مشرقی پاکستان سے بنگالیوں کی ایک بڑی تعداد نے سرحد پار کرکے ہندوستان میں پناہ لی تو چٹاگانگ کے پہاڑی علاقوں کے مسلمان بھی پناہ کی غرض سے برما پہنچے۔ مقامی بودھوں میں اس سے اضطراب پیدا ہوا۔ اس وقت کی حکومت نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈیڑھ پونے دو سو برس سے آباد روہنگیوں کو بھی ان بنگالی پناہ گزینوں کے ساتھ نتھی کردیا۔
    اس وقت کی حکومت نے بنگالی پناہ گزینوں کو واپس بلانے کا مطالبہ کیا۔ بنگلہ دیش کا کہنا ہے 1971ء کے بعد جن بنگالیوں نے برما میں پناہ لی وہ انہیں واپس لینے کے لیے تیار ہیں لیکن حکومتِ برما کا کہنا تھا کہ وہ ان تمام بنگالیوں کو قبول کرے جو نسلاََ برمی نہیں ہیں۔1978ء میں تقریباََ دو لاکھ افراد کو بنگلہ دیش کی سرحد پر دھکیل دیا گیا جس کے بارے میں بنگلہ دیشن حکام کا کہنا ہے کہ نوے فیصد برمی مسلمان تھے۔ 
      1982ء میں میانمار نے یہ کہہ کر ان کی شہریت منسوخ کر دی کہ برما کی سرزمین سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ وہ پختہ مکان نہیں بنوا سکتے، دو سے زائد بچے پیدا نہیں کر سکتے ، شادی کے لیے رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی۔ حتی کہ ان پر ایک گاوں سے دوسرے گاوں تک سفر کرنے پر بھی پابندی عائد کی گئی۔ ان پر تعلیم حاصل کرنے پر پابندی ہے۔ حتی کہ یہ پھل اور انڈے بھی نہیں کھا سکتے کہ صحت مند ہو کر حکومت کے لیے خطرہ نہ بن جائیں ۔ مساجد و مدارس کی تعمیر پر قدغن لگائی گئی اور اذان ممنوع قرار دی گئی۔
    نوے کی دہائی مسلمانوں جن میں روہنگیا اور غیر روہنگیا دونوں شامل ہے کے لیے وائٹ کارڈ کا اجراء کیا گیا ۔ جس کی بدولت انہیں کچھ حقوق تو ملے البتہ یہ ملک کے شہری ہونے کا ثبوت نہ تھے۔ 
    میانمار حکومت نے انہیں شہریت دینے  کے لیے شرط عائد کی ہے کہ وہ اپنے آپ کو روہنگیا مسلم نہیں بلکہ بنگلہ دیشی تاریکین قرار دیں۔ لیکن روہنگیا مسلمز اپنی شناخت چھوڑنے کو تیار نہیں کہ اسطرح  صدیوں سے آباد صوبے کے شہریوں کو مہاجر تارکین وطن قرار دے دیا جائےگا تاکہ وہ اپنی ہی سرزمین پر اجنبی بن جائے اور تیسرے درجہ کے شہری کہلوائیں۔
    تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو روہنگیا مسلم کا وجود ماضی کی آزاد ریاست اور حال کے میانمار کی صوبے راکھین یا رخائن میں آٹھویں صدی سے ثابت ہوتاہے۔ برطانوی دور میں بھی آباد ہونے والے مسلمانوں کو آباد ہوئے صدیاں گزر چکیں ہیں۔جدید دنیا میں تو بعض جگہ پانچ سال کے بعد تارکین وطن کو ملک کی شہریت دے دی جاتی ہے جبکہ حکومتِ میانمار صدیوں سے آباد نسلی روہنگیائی مسلم اور برطانوی دور میں آباد ہونے والے مسلمز کو 1971ء میں آنے والے بنگلہ دیشی مسلمز کی آڑ میں شہریت دینے سے انکاری ہے اور  حکومت کی سرپرستی میں مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے ایک منظم اور مسلح تحریک چل رہی ہے اور اقوامِ عالم خاموش تماشائی ہے۔ 
    نیزبودھوں کے تعصب اور نفرت کی ایک بڑی وجہ یہ بھی  ہے کہ  میانمار کی آزادی کے وقت  روہنگیا مسلمز نے علیحدہ ریاست کا مطالبہ کیا   اور اس کے حصول کے لیے جدوجہد کا آغاز کیا  ۔ 1950ء کے وسط میں کچھ مسلمانوں نے ہتھیار اٹھائے۔ جب یہ تحریک زور پکڑنے لگی تو اس تحریک کو طاقت کے ذریعے کچل دیا گیا۔ لیکن یہ مطالبہ آج تک باقی ہے۔ اسی کی پاداش وقتا فوقتا مسلمانوں کو اس قدر بے رحمی اور سفاکانہ طریقے سے  تہ تیغ کیا جاتا ہے کہ وہ دوبارہ خودمختاری کا مطالبہ نہ دہرانے کا سوچے تک نہیں  ۔
    امن کے ٹھیکداروں کی خاموشی کی وجہ یہ بھی ہے کہ دنیا کے نقشے پر ایک  مذید مسلم ریاست گوارا نہیں۔ 
    یوں روہنگیا مسلمز کے  مسئلہ کومخص ثقافتی مسئلہ  قرار دینا قطعی غلط ہوگا۔ اول و آخر یہ نسلی و  مذہبی تعصب کا مسئلہ ہے، اور مسلم کشی کی وجہ بھی۔
    ہمیں اپنے روہنگیا مسلم بہن بھائیوں کے اس حق کو دنیا  کے سامنے پیش کرنا اور اسے تسلیم کروانا چاہیے تاکہ انہیں ان کا حق مل سکے۔
    اللہ تعالی ہمیں روہنگیا مسلمز کی دامے درمےقدمے سخنے مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

    By Shahid Habib شاہد حبیب - 9/30/2017 8:20:29 AM



  • مضمون طویل ہے لیکن معلوماتی ہے، *صاحب زادہ ضیاء ناصر* جس موضوع پر بھی قلم اٹھاتے ہیں، حق ادا کر دیتے ہیں-

    کُرۂ ارض پہ مظلوم ترین قوم " روہنجا مسلمان "
    ----------------------------
    زمینی راستہ سے چائنہ، لاؤس، بھوٹان، نیپال، تھائی لینڈ، اور سمندری راستہ سے بنگلہ دیش اور انڈیا، سات ممالک میں گھرے دو لاکھ اکسٹھ ہزار مربع میل پہ مشتمل رقبے اور تقریباً پانچ کروڑ کی آبادی والے چھوٹے سے ملک ( پاکستان کے چوتھے حصے کے برابر ملک ) کا سابقہ نام برما موجودہ نام میانمار ہے، جس کا دارالحکومت رنگون ( نیا نام ینگون ) ہے۔

    برطانوی حکومت سے 1948 میں آزاد ہونےوالی چھوٹی چھوٹی ریاستوں کی فیڈریشن پہ مشتمل اس ملک کا نام " انڈیپنڈنٹ یونین آف برما " رکھا گیا۔
    سات ممالک میں گھرے اس ملک کو آزادی سے قبل تاجروں کی جنت سمجھا جاتا تھا، یہی وجہ تھی، کہ 1824 میں برما پہ برٹش گورنمنٹ کے قبضہ اور اسے برٹش انڈیا کا ایک صوبہ قرار دینے کے بعد برٹش انڈیا کے بڑے بڑے تاجروں جن میں گجراتی کاٹھیاواڑی مسلمانوں( صوبہ گجرات اور کاٹھیا واڑ کے رہائشی ) کے علاوہ ہندؤوں اور پٹھانوں کی بھی ایک چھوٹی سی تعداد بھی شامل تھی نے تجارت اور رہائش کے لئےبرما کے سب سے بڑے شھر " رنگون " کو چنا۔
    برما منتقل ہونے والے تجار جن کی اکثریت انڈین گجراتی مسلمان، بہت تھوڑی تعداد ہندو، ایک سو کے قریب پٹھان، دنوں میں کروڑوں میں کھیلنے لگی، اور حالات اس مقام پہ آ پہنچے کہ پورے برما کی اقتصادی شہ رگ کے مالک مسلمان بن گئے!
    یہ متمول مسلمان اتنے زیادہ مال و دولت کے باوجود اتنے پکےدین دار اور مذہبی تھے، کہ انہوں نے نہ صرف پورے برمامیں مساجد و مدارس کے جال بچھائے، بلکہ سعودی عرب، ساؤتھ افریقہ، کینیا، ملاوی، موزمبیق، مڈغاسکر، یوگنڈا، نائجیریا، ہندوستان میں مساجد، بڑے بڑے مدارس اور ہاسپٹلز کی سرپرستی اور مالی اعانت کرنا بھی اپنا دینی فریضہ سمجھتے تھے!

    دو مارچ 1962 کو برمی آرمی نے اپنے ملک کو فتح کرلیا یعنی مارشل لگادیا! 
    مارشل لگاتے ہی ڈکٹیٹر اور اس کے حواریوں نے اپنے ہی ہموطنوں کی املاک لوٹ لیں، ان کے بنک اکاؤنٹس منجمد کردئے، کاروبارز پہ قبضہ کرلیا، اور ان کے بڑے بڑے گھروں کو سرکاری تحویل میں لے لیا، کل تک جو لوگ لاکھوں روپیہ ٹیکسز اور فلاح عامہ کے کاموں میں اپنی خوشی سے صرف کرتے تھے، انہیں کوڑی کوڑی کو محتاج کردیا۔۔۔۔۔ رات کو امیر سونے والے صبح اٹھے تو غریب تھے۔۔۔۔۔کئی تخت نشینوں کو تختۂ دار پہ لٹکا دیا گیا۔۔۔۔لاکھوں مسلمان صرف اپنی اور اپنے بچوں کی جانیں بچاکے گرتے پڑتے تھائی لینڈ، پاکستان، بنگلہ دیش اور انڈیا میں پناہ گزین ہوئے، ان میں سب سے زیادہ تعداد میں لوگ پہلے پہل پاکستان میں آکے کراچی میں آباد ہوئے، اور پھر ان میں سے بہت بڑی تعداد انگلینڈ، یورپ، امریکہ، کینیڈا، اور سعودیہ میں جاکے آباد ہوگئے۔ 
     صرف سعودیہ میں ان کی تعداد کئی لاکھ ہے، اور انگلینڈ میں بھی ان کی کافی تعداد ہے، برطانیہ کے ایک شھر " بری " میں معروف عالم دین اور دارالعلوم بری کے بڑےشیخ الحدیث مولانا محمد بلال رنگونی صاحب جو شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رح کے آخری خلیفۂ مجاز ہیں اور ان کے بڑے بھائی مولانا محمد اقبال رنگونی جو بہت سی تحقیقی کتب کے مصنف ہیں کے والد ماجد بھی برما سے ہجرت کرکے اپنے خاندان سمیت پہلے کراچی اور پھر برطانیہ میں آباد ہونے والوں میں سے ہیں، اسی طرح تحریک تحفظ ختم نبوت برطانیہ کے مبلغ مولانا عبدالرحمٰن یعقوب باوا صاحب کے والد ماجد بھی ان ہزاروں برمی مہاجرین میں سے ہیں جنہوں نے اپنے خاندان سمیت 1962 کے بعد کراچی کی طرف ہجرت کی۔
    برما کی آزادی کے صرف دوسال بعد یعنی 1950 میں برما کے ایک صوبے میں ملکی پالیسیوں اور ترقی سے محروم رکھنے کی وجہ سے آزادی کی تحریک شروع ہوگئی، جس میں اس صوبہ میں رہنے والی تمام اقوام، یعنی بدھ، مسلم، ہندو، کرسچئن شامل تھیں۔
    اس صوبہ کو دو ناموں سے پکارا جاتا ہے، نیا نام رخین اور پرانا نام اراکان!
    برما کے مغرب میں بے آف بنگال کے ساتھ واقع رخین ( Rakhine ) صوبہ جسے اراکان ( Arakan ) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، پانچ اضلاع پہ مشتمل ہے، جس میں 17 ٹاؤن ( چھوٹے شہر ) اور 1164 دیھات ہیں۔
    اراکان صوبہ کا کل رقبہ 36778 مربع کلومیٹر ہے۔
    اس صوبہ کی کل آبادی 2014 کی حکومتی مردم شماری کے مطابق 32 لاکھ افراد پہ مشتمل ہے, لیکن اس تعداد میں سب سےاہم اور بنیادی بات یہ ہے، کہ اس مردم شماری میں مسلمانوں کو گنا ہی نہیں گیا!
    صرف اندازے سے مسلمانوں کی تعداد بتائی گئی۔
    انہیں روہنجا یا روہنجن مسلمان کہا جاتا ہے ( روہنجا مسلمانوں کے تلفظ کے مطابق ان کے نام کا تلفظ روہنگین نہیں بلکہ اردو، انگلش، عربی، برمی تمام زبانوں میں " روہنجن اور روہنجا " ہے) 

    میرے مختلف مسلمان برمی دوستوں جن میں چند روہنجا مسلمان بھی شامل ہیں، کے مطابق روہنجا مسلمانوں کی صرف اراکان صوبہ میں 2012 سے پہلے تعداد پچیس لاکھ سے زائد تھی۔
    ان کے علاوہ سعودی عرب میں 4 لاکھ، پاکستان میں 2 لاکھ، بنگلہ دیش میں 2012 تک 5 لاکھ، تھائی لینڈ میں 1 لاکھ، انگلینڈ میں 50 ہزار، 
     جن میں سے انگلینڈ کے ایک شہر شیفیلڈ میں پانچ سو سے زیادہ گھرانے آباد ہیں،
    ملائشیا میں 41 ہزار، انڈونیشیا میں 12 ہزار، اور امریکہ میں بھی 12 ہزار ہے۔
    پورے اراکان صوبہ میں 380 سے زائد دیھاتوں کی پچانوے فیصد سے زائد آبادی روہنجن مسلمانوں کی تھی، جن میں سے ہر گاؤں کی آبادی چھ سے دس ہزار افراد تھی۔
    اور بقیہ 784 دیھاتوں اور 17 ٹاؤنز میں بھی دس تا پندرہ فیصد روہنجن مسلمان آباد تھے 
    حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اراکان میں 52.2 فیصد بدھ 42.7 فیصد مسلمان 1.8 فیصد کرسچئن 0.5 فی صد ہندو اور بقیہ 2.8 فیصد دیگر اقوام ہیں۔

    برما میں 1962 کے مارشل لاء کے بعد کچھ اصلاحات نافذ کی گئیں، جن میں تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والی اقوام کی رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی، جن اقوام کی بھی رجسٹریشن کی گئی، مسلمانوں کو چھوڑ کے بقیہ تمام اقوام کو کچھ عرصہ بعد شناختی کارڈ بھی جاری کئے گئے،
    برما کے قانون کے مطابق جس شخص کے پاس برمی شناختی کارڈ موجود ہے، وہ برما میں کسی بھی جگہ سفر کرسکتا ہے، یا برما سے باھر جانے کے لئے پاسپورٹ بنواسکتا ہے، جس کے پاس شناختی کارڈ موجود نہیں، وہ شخص دن کی روشنی میں صرف اپنے شھر میں گھوم پھر بھی سکتا ہے، محنت مزدوری یا چھوٹا موٹا کاروبار بھی کرسکتا ہے، لیکن رات کو صرف اپنے ہی گھر میں سو سکتا ہے، اپنے ہی شھر میں کسی بھی قریبی ترین عزیز چاہے وہ بیٹا/ بیٹی ہو یا باپ/ ماں کے گھر میں رات کو قیام کرنے سے قبل اسے پولیس کو اطلاع کرکے ان سے اجازت حاصل کرنا ضروری ہے، اگر کوئی شخص بلا اجازت اپنے کسی عزیز کے گھر میں ٹھہرتا ہے، تو شکایت ہونے پہ اسے کم از کم ایک ماہ کے لئےجیل میں ڈال دیا جاتا ہے، مالی جرمانہ اتھارٹیز کی صوابدید پہ ہے، جتنا مرضی کرلیں، میزبان پہ علیحدہ اور مہمان پہ علیحدہ!

    برطانیہ میں رہنے والے میرے ایک عالم دوست مولانا سید علی جن کا برمی نام Min Naung ہے نے بتلایا کہ ان کے دادا( جو کہ پٹھان تھے) نے ایک بدھ مت سے تعلق رکھنے والی لڑکی کو مسلمان کرکے اس سے شادی کی، جس کی وجہ سے ان کے لئے اپنے شھر سے رنگون ( دارالحکومت ) آنے جانے میں آسانیاں پیدا ہوئیں، کیونکہ ان کے سسرالی خاندان کے اکثر افراد مرکزی حکومت میں اعلٰی عہدوں پہ فائز تھے، بعد میں جب شناختی کارڈ کا سلسلہ شروع کیا گیا، تو ان کے دادا کو تو کارڈ جاری کردیا گیا لیکن بچوں کو محروم رکھا گیا، مولانا سید علی کے مطابق جب وہ عالم بن گئے، تو انہوں نے شناختی کارڈ کے حصول کی جدوجہد شروع کی، لیکن ناکامی مقدر بنتی رہی!
    مولانا سید علی کے نانا نانی بھی بدھسٹ تھے، نانی مسلمان ہوگئیں ، تو ان کے بدھسٹ خاوند نے انہیں طلاق دے دی، وہ اپنی بچی کو لے کے علیحدہ رہنے لگیں، اسی بچی کی بعد میں مولانا سید علی کے والد سے شادی ہوئی، اس حساب سے مولاناسید علی کے ننہیالی تمام رشتہ دار نانی کے علاوہ بدھسٹ ہیں!
     آٹھ سال کی کوشش کے باوجود شناختی کارڈ کے حصول میں ناکامی کے بعد اپنی والدہ کے ماموں یعنی اپنی مرحومہ نانی کے بھائی جن کی عمر ستر سال سے زائد تھی، اور وہ " مونگ " تھے یعنی بدھوں کے پادری عالم یا روحانی پیشوا جو بھی کہ لیں کے پاس گئے، اور اپنی کتھا بیان کی!
    وہ انہیں اپنے ساتھ شناختی کارڈ آفس لےگئے، اور سیدھے بڑے آفیسر کے روم میں بلا اجازت داخل ہوئے، اسے صرف اتنا کہا، یہ میرا نواسہ ہے اسے شناختی کارڈ جاری کیا جائے!
    اور دس منٹ میں وہ شناختی کارڈ جاری ہوگیا، جس کے لئے وہ آٹھ سال سے دفتروں میں ٹھوکریں کھارہے تھے!
    یہ حال اس قوم کا ہے، جن کی رشتہ داریاں بدھسٹوں کے ساتھ ہیں، اور انہیں برمی زبان میں "زیربادی برمیز " کہاجاتا ہے یعنی برمی اور دوسری کسی قوم سے مخلوط نسل، اور یہ زیربادی برمیز دوسرے درجے کے شہری ہیں، اگر ان کے بدھسٹ رشتہ دار کسی پوسٹ پہ موجود ہیں تو ان کے لئے بھی کافی آسانیاں ہیں،
    لیکن ان کے بلمقابل روہنجا قوم کو برما میں صدیوں سے آباد ہونے کے باوجود مکمل خارجی اور اجنبی سمجھا اور کہا جاتا ہے!

    روہنجا قوم کےدوستوں کے دعوے کے مطابق وہ اراکان کے صوبہ میں نویں صدی عیسوی یعنی تیسری صدی ہجری سے آباد ہیں، اور ان کا تعلق عرب نسل سے ہے۔
    ان کے دعوے کے مطابق وہ تیسری صدی ہجری میں برما کے ساحلی علاقوں میں سمندری راستے سےاسلام کی تبلیغ کے لئے آنے والے ان عرب مبلغین کی اولاد ہیں، جو اپنے خاندانوں سمیت یہاں تبلیغ کے لئے آئے، اور یہیں رچ بس گئے!
    لیکن برمیز گورنمنٹ کے مطابق روہنجا قوم کا 1824 سے قبل برما میں دستاویزی دلائل کے ساتھ وجود ثابت نہیں برمیز گورنمنٹ کے مطابق برما( موجودہ میانمار ) پر انگریزوں نے 1824 میں قبضہ کیا تھا، اور 1824 تا 1948 برما برٹش انڈیا کا ایک صوبہ رہا ہے، اسی عرصہ کے دوران برٹش انڈیا کے مختلف علاقوں سے بے شمار لوگ پیسہ کمانے کی خاطر برما آئے، رنگون اور اس کے گرد و نواح میں صوبہ گجرات کی مختلف اقوام آئیں، اور اراکان صوبہ میں بنگال کے مختلف علاقوں خصوصاً چٹاگانگ کے علاقہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ آئے، وہ اپنے دعوے کے ثبوت میں یہ دلیل پیش کرتے ہیں، کہ روہنجن مسلمانوں کی شکلیں، زبان، کلچر، عادات بود و باش اور لب و لہجہ بہت حد تک بنگالی زبان سے ملتا جلتا ہے، اور ان کی رشتہ داریاں بھی زیادہ تر بنگالیوں کے ساتھ ہیں، حالانکہ یہ کوئی دلیل نہیں، کوئی بھی قوم جب تھوڑی تعداد میں اپنے علاقہ سے مائگریٹ کرکے دوسرے علاقوں میں آکے بستی ہے، تو ان کی زبان رسم رواج کلچر بھی اپناتی ہے اور ان سے رفتہ رفتہ رشتہ داریاں بھی کرلیتی ہے۔

    برما میں 1982 میں برمیز سٹیزن شپ قوانین بنائے گئے، جن کی رو سے 1823 کے بعد برما میں رہائش یا کاروبار کے لئے آنے والوں اور ان کی اولادوں کو 160 سال برما میں رہنے کے بعد بھی غیر قانونی امیگرینٹس کا اسٹیٹس دیتے ہوئےان کے لئے برمی شھریت کا حصول ناقابل حصول بنادیاگیا، بنیادی طور پہ یہ قانون بنایا ہی صرف مسلمانوں کے لئے کیا گیا تھا، کیونکہ برما میں رہنے والی دیگر اقوام، مثلا ہندو، عیسائی وغیرہ نے تو اپنی رشتہ داریاں بدھسٹ کے ساتھ بہت پہلے سے کرلی تھیں، ایک مسلمان ہی واحد قوم تھی، چاہے وہ روہنجا تھے، انڈین گجراتی تھے یا بنگالی، انہوں نے اپنےمذہب کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا، اور اپنے اسلامی کلچر اور رسم و رواج سے بھی بندھے رہے، ہزاروں میں کسی ایک کے علاوہ اکثریت نے اپنی اور اپنے بچوں کی شادیاں مسلمانوں ہی میں کیں، یوں وہ ایک ایسے ملک میں جہاں کے مجموعی قومی اعداد و شمار میں تمام مسلمانوں کی مجموعی تعداد 4.3 فیصد سے زائد نہیں تھی، اپنا مذہبی تشخص صدیوں تک برقرار رکھنے میں کامیاب رہے، حالانکہ اسی ملک میں کرسچئنز کی تعداد 6.2 فیصد ہے، لیکن جو پابندیاں مسلمانوں پہ ہیں، وہ ان پہ نہیں، بلکہ انہیں برمیز یعنی پہلے درجہ کے شہری کی مراعات حاصل ہیں، 

    اراکان میں رہنے والے روہنجا مسلمان نہ تو سرکاری ملازمت حاصل کرسکتے ہیں، اور نہ ہی اسٹیٹ کے فری اسکولز میں اپنے بچوں کو داخل کرواسکتے ہیں، اور نہ ہی ان کی نوے فیصد سے زیادہ اکثریت نے آج تک اپنے ملک کے دارالحکومت کا تو کیا، اپنے ہی صوبہ میں اپنے ضلع کے علاوہ بقیہ چار اضلاع کا منہ دیکھا ہے، کیونکہ انہیں ایک مقام سے دوسرے مقام تک جانے کے لئے سفری اجازت نامہ بھی کسی بدھسٹ کی سفارش اور بھاری رشوت کے حصول کے بعد جاری کیا جاتا ہے، اور یہ دونوں کام ان کے مسلمان ہونے اور غریب ہونے کی وجہ سے مشکل نہیں ناممکن ہوتے ہیں۔

    روہنجا مسلمانوں کے علاقہ اراکان میں جب 1950 میں علیحدگی کی تحریک چلی تو اس تحریک کے سرخیل بدھسٹ تھے، اور مسلمان عام ورکر!
    رفتہ رفتہ مرکزی گورنمنٹ نے بدھسٹوں کو تو مراعات دے کے اپنے ساتھ ملالیا، اور ان لیڈروں نے بھی مسلمانوں کو استعمال شدہ ٹشو پیپر سمجھ کے پھینک دیا، تو مرکزی گورنمنٹ نے ان پہ پابندیاں لگانا شروع کردیں، شناختی کارڈ کی پابندی تو 1962 کے مارشل لاء کے بعد لگی، لیکن سفری پابندیاں حصول تعلیم میں رکاوٹ، سرکاری ملازمتوں پہ پابندی 1951 میں شروع کردی گئی، جن تھوڑے سےلوگوں کے پاس کچھ دولت موجود تھی، وہ حالات کو بھانپ گئے، اور اسی زمانہ میں سعودی عرب، مشرقی پاکستان( موجودہ بنگلہ دیش ) اور مغربی پاکستان ( موجودہ پاکستان ) منتقل ہونا شروع ہوگئے، مثال کے طور پہ ایک روہنجا مسلمان محمد یوسف بن سلیمان کا تذکرہ کرنا چاہونگا، انہوں نےآنے والے حالات کی نزاکت کو بروقت بھانپا اور 1951 میں اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ اراکان سے بذریعہ کشتی مشرقی پاکستان، وہاں سے کراچی اور پھر کراچی سے پاکستانی پاسپورٹ پہ سعودی عرب چلے گئے، وہاں مکہ مکرمہ میں رہائش اختیار کی، وہیں 1952 میں الله تعالی نے انہیں ایک بیٹے سے نوازا، جس کا نام انہوں نے محمد ایوب رکھا، اس بچے محمد ایوب نے 1965 میں وزارت اوقاف سعودی عرب کے زیرسرپرستی جاری شعبہ تحفیظ القرآن’’ مسجد بن لادن‘‘ میں شیخ خلیل بن عبدالرحمن کے پاس 12 برس کی عمر میں حفظ قرآن کی تکمیل کی۔اس کے بعد متوسطہ وثانویہ تک تعلیم ’’معھد المدینہ العلمی‘‘ میں حاصل کی، پھرجامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے شریعة کالج میں داخل ہوئے اور بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ 1976 سے لے کر 1978 تک کلیة القرآن میں معاون استاد کی حیثیت سے خدمت انجام دی اور ساتھ ہی تدریسی کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے بھی کام کرتے رہے۔اس کے بعد جامعہ اسلامیہ ہی سے تفسیر اور علوم تفسیر میں ماسٹر (M.A) اور پی ایچ ڈی کی اعلیٰ ڈگری حاصل کی۔اور دونوں مرحلوں میں ’’تفسیر سعید بن جبیرکی روایات ‘‘ پر گرانقدر کام کیا ۔ اور دونوں مرحلے 1978 سے لے کر 1988 پر مشتمل ہیں،
    اس کے بعد تدریسی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ تقریبا 11 سال مدینہ منورہ کی مختلف مساجد میں امامت و خطابت کرنے کے بعد حرم نبوی میں معاون امام مقرر ہوئے اور پورے سات سال حرم مدنی شریف میں معاون امام رہے، بعد ازاں مسجد قبا کے امام مقرر ہوئے جہاں اپنی وفات تک مختلف نمازوں کی امامت کے ساتھ ساتھ نماز تراویح اور قیام الیل کی امامت بھی ان کے ذمہ تھی، 
    سن 2016 میں ان کا انتقال ہوا اور یہ جنت البقیع میں دفن ہوئے!

    اراکان میں علیحدگی کی تحریک سے بدھسٹوں اور مسلمانوں کو جدا کرنے کے بعد جب مسلمانوں پہ عرصۂ حیات تنگ کردیا گیا، تو مسلمانوں نے ہلکا پھلکا احتجاج کا سلسلہ شروع کیا، لیکن 1962 کے مارشل لاء کے بعد پورا ملک ایک جیل خانہ میں تبدیل ہوگیا تھا، اور پھر اس جیل کے اندر ایک اوع جیل تھی جس کے قیدی صرف مسلمان تھے، چاہے وہ اراکان میں تھے، رنگون میں تھے، یا ملک کے دیگر حصوں میں، ان پہ روزگار اور تعلیم کے مواقع مکمل بند کردئے گئے، کچھ عرصہ بعد رنگون اور دیگر صوبوں میں حصول تعلیم کے لئے کچھ چھوٹ دے دی گئی، لیکن اراکان میں مسلمانوں کی اکثریت چونکہ انتہائ غریب تھی، اکثریت کھیتی باڑی، ریڑھی، ٹھیلا، اور ماہی گیری کے کاموں سے منسلک تھی، انہیں کسی بھی چھوٹ کے قابل نہ سمجھا گیا، عام بدھسٹ عوام تو ان معاملات سے لاتعلق رہے، لیکن سرکاری اتھارٹیز یعنی فوج، پولیس، اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ظلم و ستم کا وہ بازار گرم کئے رکھا کہ الامان الحفیظ!
    اگر کوئی شخص کسی ناروا سلوک یا ظلم وستم پہ ذرا سی آواز بھی بلند کرتا تو اس کے پورے خاندان کو صفحۂ ہستی سے غائب کردیا جاتا، مارشل لاء سے قبل جو تھوڑی بہت چھوٹ تھی مارشل لاء کے بعد اتنی ہی زیادہ سختی کردی گئی، 
    لاوا اندر ہی اندر پکتا گیا، 
    پہلی بار 1978 میں چند لوگوں نے اس ظلم و ستم کے خلاف احتجاج کیا، تو روہنجا مسلمانوں کے علاقوں پہ پہلی بار ملٹری کریک ڈاؤن کیا گیا، سینکڑوں کو ماراگیا، ہزاروں کو جیلوں میں بھردیاگیا، ہزاروں لاپتہ ہوگئے، اور دو لاکھ سے زائد لوگ سمندری راستہ سے بنگلہ دیش میں داخل ہوئے، بہت تھوڑے لوگ بنگلہ دیش میں رکے زیادہ تر بنگلہ دیش سے پاکستان، سعودیہ، تھائی لینڈ، ملائشیا، انڈونیشیا اور دیگر ممالک میں جابسے!
    اس زمانہ میں نہ تو کسی غیر ملکی کو اراکان صوبہ میں داخلہ کی اجازت تھی، اور نہ ہی کوئی روہنجا مسلمان اپنے ضلع کے صدر مقام کے علاوہ کہیں آجا سکتا تھااور وہ بھی خصوصی اجازت کے ساتھ! اور نہ ہی کسی انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا کا کوئی تصور موجود تھا!
     اس زمانہ میں انٹرنیشنل خبروں کے لئے وائس آف امریکہ یا بی بی سی لندن کی ریڈیو سروسز ہی دو ذرائع تھے، لیکن ان کی توجہ اور دلچسپی کے لئے اس وقت اور بہت سے معاملات تھے، خصوصاً افغانستان میں روس کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور شہنشاہ ایران کے ایران میں کروٹیں لیتی انقلاب کے نام پہ بغاوت!
    اس لئے ان دونوں ریڈیو اسٹیشنز کی توجہ سے روہنجا مسلمانوں کا قتل عام اور دربدری محروم رہی، اور نام نھاد امن کے پرچارک بدھسٹ ظلم و بربریت کا ناچ ناچتے رہے اور انسانیت ان کے امن کے پھولوں سے لہولہان ہوتی رہی!
    پہلے ملٹری کریک ڈاؤن کے بعد 1991 تک چھوٹے موٹے اکادکا واقعات کے علاوہ سکون رہا، لیکن 1991 اور پھر چند ماہ بعد 1992 کا ملٹری کریک ڈاؤن برمی آرمی کی طرف سے ایک یکطرفہ جنگ تھی، جو نہتے اور کمزور مسلمانوں کے خلاف لڑی گئی؛ 
    دوسرا اور آخری حصہ شام کو ان شاءالله 
    تحریر؛ صاحبزادہ ضیاءالرحمٰن ناصر

    By Shahid Habib شاہد حبیب - 9/30/2017 8:13:32 AM



  • ڈار جاوید، قریشی محمد صادق، محمد عباس ڈار، محمد یعقوب، ایف فہد اور محمد یونس صاحبان سے بس ایک ہی سوال کرنے کا جی چاہتا ہے :


    اگر روہنگیائی مسلمانوں کے بیچ سے علیحدگی پسندی کی صدائیں آ رہی تھی تو ان صداؤں کے لگانے والوں کو گرفتار کر کے  کھلی عدالت کے ذریعے سزا دی جانی چاہئے تھی جیسا کہ ہر مہذب ملک کرتاہے یا اس ایک بہانے کے نام پر پوری قوم کی نسل کشی شروع کردینی چاہیئے تھی؟ زیادہ بہتر طریقہ آپ کو کون سا لگ رہا ہے؟ اگر ایسا ہوا ہوتا تو پوری دنیا کی، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے بشمول،  میانمار کی سر کار کو ہمدردی حاصل ہوئی ہوتی نا کہ روہنگیائی مسلمانوں کو.

    کیا اب بھی آپ
     ساتوں لوگوں کو لگتا ہے کہ میانمار سرکار حق بجانب ہے؟

    تو لیجئے روہنگیائی مسلمانوں کی زبانی ان کی اصل داستان سنیئے......



    ہمیں مکمل طور پر مٹانے کی کوششیں ہورہی ہیں:برمی مسلمان
    برما کے بے چارہ مسلمانوں سے ایک ملاقات
    An Interview with Burmese Muslims

    Interview by: Abdus Saboor Nadvi عبدالصبور ندوي

    مسلمانوں پربرما کی فوجی حکومت اور بدھسٹوں کے دل دہلا دینے والے مظالم اور انکی نسل کشی کے دوران خون آشام وارداتوں نے انکی زندگیوں کو مسلسل عذاب سے دوچار کر رکھا ہے،جون ۲۰۱۲ء سے تا حال پچاس ہزار مسلمانوں کے مقتل کا گواہ بنی ارکان کی زمین دنیا بھر کے عدل گستروں اور انسانی حقوق کے محافظوں پر طمانچے رسید کر رہی ہے، اور پکار پکار کر کہہ رہی ہے ظالمو! خون مسلم کی ارزانی کا تماشہ دیکھنا ہو تو آکے دیکھ لو۔ مایوسیت کے سائے میں جی رہے برما کے مسلمانوں کو کوئی کمک ،رسد و مدد نہیں پہنچی ،حالات ہر دن ابتر ہورہے ہیں، ظالم بودھسٹوں سے نپٹنے کے لئے ان کے پاس کچھ بھی نہیں، ان کی زندگی کا پیہہ کرب وآہ میں جام ہو کر رہ گیا ہے، آئیے آپ کو وہاں کے احوال سناتے ہیں انہی کی زبانی، سعودی فرمانروا خادم الحرمین الشریفین شاہ عبد اللہ کی دعوت پر حج کی سعادت حاصل کرنے والے برما کے بعض ائمہ مساجد اور دعاۃ سے منیٰ (مکہ مکرمہ) میں گفتگو کا موقع ملا ، پیش ہے گفتگو کے بعض نکات: 
    س: آپ چونکہ منبر و محراب اور درس و تدریس سے وابستہ ہیں اس لئے میرا پہلا سوال ہے کہ برما میں مدارس و مساجد کی صورتحال کیا ہے؟
    ج: اس وقت پورے ملک میں بشمول ارکان سو سے زائد ایسے مدرسے ہیں جہاں درس نظامی کا نصاب رائج ہے اور فارغ التحصیل طلبہ کو عالم و فاضل کی ڈگریاں دی جاتی ہیں راجدھانی رنگون میں دس مدرسے اس طرح کا کورس چلا رہے ہیں،مگر سرکاری یونیورسٹیاں اس کورس کو تسلیم نہیں کرتیں، جہاں تک مساجد کی بات ہے تو اکثر مدرسے مسجد اور اس سے ملحقہ کمروں میں ہی چلائے جارہے ہیں، علحدہ بلڈنگ بنانے کی اجازت نہیں ہے، خطہ ارکان سمیت پورے دیش میں ۲۰۰۰ سے زائد مساجد ہیں، لیکن صد افسوس ان میں اضافہ کی بجائے لگاتار کمی واقع ہورہی ہے، بودھ مت کے سرکاری دہشت گرد ارکان میں ۱۵۰، اور راجدھانی رنگون میں ۱۱، مسجدیں جبرا وقہرا ڈھا چکے ہیں ، دوسرے شہروں کے اعداد و شمار نا گفتہ بہ ہیں۔
    س: کیا حکومت منہدم کی گئی مسجدوں کی از سرنو تعمیر کرتی ہے یا اسکے دو بارہ تعمیر کی اجازت دیتی ہے؟
    ج: ہر گز نہیں، سرکاری ظلم کا اندازہ صرف اس بات سے لگا لیں کہ جب ہمیں اپنی آباد مسجدوں کی معمولی مرمت کی حاجت ہوتی ہے تو اس کی اجازت کے لئے سرکاری اداروں کو رشوت دینی پڑتی ہے، فوجی حکومت پورے طور پہ ہماری جڑیں اکھاڑنے کے در پے ہے، ہمارا وجود انہیں برداشت نہیں۔
    س: مدارس اسلامیہ کو سرکار سے کبھی کسی طرح کی کوئی مدد؟
    ج: برما میں رہتے ہوئے ہم سوچ بھی نہیں سکتے، ہاں! ہمیں مدارس کے قیام اجازت دی گئی، لیکن اب نئے مدرسوں کے قیام کی اجازت نہیں مل رہی ہے، طلبہ کو کوئی وظیفہ نہیں ملتا، بس اللہ کے فضل اور اصحاب خیر کے تعاون سے دینی تعلیم کا فروغ جاری ہے۔
    س: ماشاء اللہ آپ حضرات اُردو بہت روانی سے بولتے ہیں، کیا اس کی وجہ آپ لوگوں کا بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش میں تعلیم کا نتیجہ ہے؟
    ج: ایک سبب ہو سکتا ہے کہ ہمارے اکثر علماء نے بر صغیر میں تعلیم و تربیت پائی، لیکن ہمارے نصاب تعلیم کا ایک لازمی جزو ہے اُردو، جسے برمی اور عربی کے ساتھ پڑھایا جا تا ہے، اس لئے برما میں اہل اُردو کو کبھی اجنبیت کا احساس نہیں ہوگا۔
    س: برما میں مسلمانوں کی تعداد اور اہم شہر جہاں ان کی آبادی کسی حد تک ٹھیک ٹھاک ہے؟
    ج: برما میں مسلمان ۱۲ ؍فیصد(یعنی ۷۵؍لاکھ آبادی ) ہیں جب کہ ۷۰ فیصدی بودھ مت کے پیروکار ہیں،ملک کی مجموعی آبادی ساڑھے چھ کروڑ ہے، اہم شہر جیسے: رنگون، نیبرو، منڈلے، مالمین، اکیاب (Sit Way)،بوٹپیدانگ، ماؤنڈو ،وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
    س: خبرملی ہے کہ اس بار بقرعید کے موقع پر پورے دیش میں کہیں قربانی نہیں کی گئی،آخر کیا وجہ رہی؟
    ج: عید الأضحیٰ سے قبل بودھ مت کی مذہبی جماعتوں نے مسلمانوں کو وارننگ دی تھی کہ اگر ہم جانور ذبح کریں گے تو وہ ہمیں ذبح کردیں گے(شاید بودھسٹوں کا نیا مذہبی اصول یہی ہے کہ جانوروں کے بدلے انسانوں کا خون بہانے میں کوئی گناہ نہیں)، ہم یہ جانتے ہیں کہ ان کی دھمکیاں حقیقت کا روپ دھار لیتی ہیں، ہم حکومت سے ہمیشہ سیکورٹی کی اپیل کرتے ہیں ، مگر نہ وہ سیکورٹی فراہم کرتے ہیں اور نہ دہشت پسند جماعتوں پر کوئی قدغن لگاتے ہیں،بلکہ ان کی پشت پناہی کرتے ہیں، اسی خوف کے سبب تمام مسلمانوں نے قربانی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
    س:بنگلہ دیش کی سرحد سے متصل صوبہ ارکان(راکھینے) میں مسلمانوں کی کیا حالت ہے؟
    ج: ارکان میں بسنے والے مسلمانوں کی اکثریت روہنجا نسل سے ہے، اس صوبہ میں ۹۰؍فیصد مسلمان ہیں جب کہ ۱۰؍ فیصد مونک (یکھائی) نسل کے بودھسٹ ہیں، وہاں کے مواضعات اور شہروں میں فوجی آمریت کے بوٹے دندناتے ہیں، ۱۰؍ فیصدی مونک پورے طور پہ مجبور و مقہور مسلمانوں پر حاوی ہیں،حالانکہ یہ مونک بھی برمی حکومت کے مخالف ہیں،لیکن فوج انہیں ہتھیار فراہم کر کے مسلمانوں کے خلاف اکساتی ہے تا کہ مسلمان برما چھوڑ کر بھاگ جائیں، اس طرح یہ مونک مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑتے ہیں، جون ۲۰۱۲ء سے تا حال تقریبا پچاس ہزار مسلمان مردوں،عورتوں اور بچوں کو قتل کردیا گیا، ۷۰۰؍ سے زائد مسلم بستیوں کو جلا کر راکھ کر دیا گیا،مگر ارباب اقتدار پر جوں بھی نہیں رینگی، اور نہ ہی مونک دہشت گردوں کا کچھ بگڑا، اور یہ سلسلہ برابر جاری ہے، اس قیامت خیز مقتل سے گھبرا کر مسلمانوں نے ہجرت کرنا شروع کر دیا تھا، لیکن اب انہوں نے عزم مصصم کیا ہے کہ ہم ہجرت نہیں کریں گے بلکہ یہیں لڑ کر دفن ہو جائیں گے، فوجی جوانوں کے مسلسل چھاپوں سے مسلمان بہت عاجز ہیں، جب کہ ان کے پاس کوئی اسلحہ نہیں ہے، اس صوبے کا قانون ہی الگ ہے، کوئی بھی ارکان سے برما کے دوسرے صوبوں کا سفر نہیں کر سکتا،ستم بالائے ستم یہ کہ بیٹی کو باپ کے گھر (مائیکہ)جانے کے لئے حکومت سے تحریری اجازت لینی ہوتی ہے، مسلمانوں کو نہ تو شہریت دی گئی ہے اور ہی ان کے حقوق، مسلمانوں کی آبادی پر کنٹرول کے لئے قانون بنایا گیا ہے کہ شادی کے لئے لڑکی کی عمر ۲۵؍ سے اوپر اور لڑکے کی عمر ۳۰؍سے اوپر ہونی چاہئے، نیز شادی کے لئے سرکاری پرمٹ ضروری ہے جس کے حصول میں سال بھر لگ جاتا ہے،روہنجا مسلمان ایک دو نہیں سیکڑوں مصیبتوں کے شکار ہیں، بس اللہ ان پر رحم فرمائے۔
    س: راجدھانی رنگون میں مسلمانوں کی کیا پوزیشن ہے؟
    ج: الحمد للہ مسلم ممالک کے سفارتخانوں کے سبب یہاں کے مسلمان بہت حد تک محفوظ ہیں اور اپنے سارے کام آسانی کے ساتھ کرتے ہیں، جب کہ دوسرے شہروں میں حالات اچھے نہیں ہیں۔
    س: کیا آپ ارکان کے مسلمانوں کی مدد کرتے ہیں؟
    ج: جی! اگر کوئی چھپ چھپا کر رنگون پہنچ جا تا ہے تو ہم اس کی ہر طرح سے مدد کرتے ہیں، لیکن ارکان جا کر ان کی مدد کرنے سے ہم معذور ہیں، حکومت کی نگاہیں ہم پر بہت تیز ہیں، ہاں! وہاں کے حالات مسلم ممالک کے سفارتخانوں تک پہنچاتے ہیں اور وہ کبھی کبھار انکی غذائی و طبی امداد کرتے ہیں، اس ضمن میں سعودی عرب اور ترکی نے اپنا دست تعاون خوب دراز کیا ہے۔
    س: اسلامی شعائر کے اظہار و ادائیگی میں کوئی پریشانی؟
    ج: الحمد للہ ارکان کو چھوڑ کر دوسرے شہروں میں مسلمان اپنی شناخت اور شعار اپنانے میں آزاد ہیں، خواتین مکمل نقاب کا استعمال کرتی ہیں، بعض اسکارف پہنتی ہیں، مگر کوئی اعتراض نہیں کرتا،اسی طرح مائک پر اذان دینے کی آزادی ہے،اور اس قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہے۔
    س: تعلیم و ملازمت کے میدان میں کیا مسلمانوں کو تعصب کا شکار ہونا پڑتا ہے؟
    ج: بہت زیادہ، مسلمان اگر اپنی صلاحیت کے بل بوتے کوئی انٹرویو،مقابلہ یا امتحان پاس کرتے ہیں اور رینک میں ان سے نیچے کوئی برمی نسل کا بدھسٹ ہے، تو اس کو آگے بڑھا دیا جائے گا، اور مسلمان اپنی کنفرم سیٹ سے محروم ہو جائیں گے، بھلے برمی بدھسٹوں کے نمبرات کم ہوں مگر انہیں ترجیحی بنیاد پر سیٹ اور ملازمت دی جائے گی، جب سیٹیں بچ جائیں گی تو مسلمانوں کو ملیں گی۔
    س: سیاسی میدان میں مسلمانوں کی پیش رفت؟
    ج: بہت پیچھے ہیں، پارلیمنٹ کی ۴۰۰؍ نشستوں میں صرف ۴؍ممبر پارلیمنٹ ہیں، اور وہ بھی لبرل مائنڈکے، مسلمان آنگ سانگ سوچی کی حمایت کرتے ہیں، لیکن اس نے کبھی بھی مسلمانوں کے حق میں آواز بلند نہیں کی، ہم پر طرح طرح کے مظالم ہوتے رہے مگر اس نے مذمتی الفاظ بھی نہیں کہے، شاید اُسے بدھسٹ ووٹ بینک کاخوف ستا رہا ہے۔
    س:دعوتی میدان میں علماء و دعاۃ کا کردار؟
    ج: نہایت محدود ہے،مسلمانوں کے درمیان وعظ و نصیحت کا پروگرام ہوتا رہتا ہے، مگر غیر مسلموں کے درمیان اسلام کی دعوت بالکل صفر ہے، سرکاری طور پر ممنوع ہے،کئی علاقوں میں دینی بیداری اور شعور نہ پائے جانے کی وجہ سے مسلمان لڑکے اور لڑکیاں بودھسٹوں سے شادی کی خاطر مرتد ہوگئیں، اور حکومت نے انہیں گلے لگایا، لیکن اگر کوئی بودھسٹ لڑکی مسلمان لڑکے سے محبت کر بیٹھی ہے تو اُسے مسلمان سے شادی اور تبدیلئ مذہب کی اجازت ہر گز نہیں ہوتی، یہ برمی سماج کا نہایت افسوسناک پہلو ہے۔
    س: کیا برما میں مسلمان صحافتی اور میڈیائی بے اعتنائی کا شکار ہیں؟
    ج:جس طرح پوری دنیا میں مسلمانوں کو میڈیا میں کوئی حیثیت نہیں دی جاتی، برما میں بھی اخبارات اور دوسرے ذرائع ابلاغ مسلمانوں کے ساتھ سوتیلا سلوک کرتے ہیں، آپ کو یا د ہوگا کہ ارکان میں بدھسٹوں کے ذریعے انجام دی گئی بھیانک خونریزی کی خبریں نہ تو عالمی میڈیا نے نشر کیں اور نہ ہی برما کے ذرائع ابلاغ نے، اللہ بھلا کرے سوشل میڈیا کا، خصوصا فیس بک اور ٹیوٹر نے ہمارے لرزہ خیز حالات کی جم کر نمائندگی کی، کروڑوں مسلمانوں کے مظاہروں اور دعاؤں نے ہماری مدد کی، ہمیں جینے کا حوصلہ بخشا، ہم ان سب کے بیحد شکر گزار ہیں، ہمارے ملک میں مسلمانوں کا کوئی اخبار نہیں ہے، البتہ تین مشہور ماہنامے نکلتے ہیں جن میں سیاسی مواد یا خبریں بالکل نہیں ہوتیں، برمی زبان میں ’’المیزان‘‘ انٹر نیٹ پر بھی دستیاب ہے، ماہنامہ ’’المفتی‘‘(برمی زبان) اور ماہنامہ ’’سعادت‘‘ (اردو)۔
    س: آپ کے دیش کو کبھی برما اور کبھی میانمار کہا اور لکھا جاتا ہے،ایسا کیوں؟
    ج: چونکہ ہمارے یہاں مختلف نسلی گروپ آباد ہیں، اور ان میں برمی نسل کے لوگ سب سے زیادہ ہیں، وہی حکومت کرتے ہیں، اس لئے اس دیش کو برما کہا جاتا ہے، میانمار کا مطلب ہے : بہت ساری نسلوں اور طبقات کا دیش، یہ نام نیا ہے، لیکن برمی لوگوں کو پسند نہیں ، اس لئے ابھی حال میں پھر ملک کا نام ’’برما‘‘ کردیا گیا ہے، ہمارے یہاں برمی نسل کے 68% ،شان نسل کے 9%، کارین نسل کے 7%، راکھینے (روہنجا)نسل کے 5%،چینی نسل کے 3%، ہندی نسل کے 2%، فیصد لوگ آباد ہیں۔
    س: ارکان میں مسلمانوں پرحالیہ دلدوز مظالم کے بعد تنظیم برائے اسلامی کانفرنس
     (O.I.C) نے وہاں اپنادفترکھولنے کی بات کہی تھی، کیا حکومت نے انہیں اجازت دی؟
    ج: جی! انہیں حکومت نے اجازت دیدی ہے، لیکن دوسری طرف بدھسٹوں کو مشتعل کر رکھا ہے، تا کہ وہ اپنا دفتر نہ کھول پائیں، حکومت کی اجازت کے بعد دہشت پسند بدھسٹوں کا آفس کے قیام کے خلاف احتجاج جاری ہے، جس کی وجہ سے فی الحال ممکن نہیں ہو پارہا ہے۔
    س: اخیر میں یہ جاننا چاہوں گا کہ برما کا جو پیش منظر ہے اس کے متعلق آپ کے خدشات؟
    ج: ہمیں مٹانے کی ہر دن کوشش ہورہی ہے، ہم اللہ کی ذات سے مایوس ہر گز نہیں، لیکن نجانے کیوں لگتا ہے کہ حالات مزید ابتر ہو جائیں گے، اور ہمیں ہجرت پر مجبور ہونا پڑے گا یا دوسرا آپشن بے سروسامانی کی حالت میں جہاد۔۔۔(اتنا کہہ کر سب رو پڑے)
    کچھ دیر کے بعد میں نے انہیں دلاسہ دیا کہ کوئی آپ کی مدد کر ے نہ کرے، اللہ ضرور آپ کی مدد کرے گا۔ان سے جدا ہوتے وقت انہی کی زبان میں انکا شکریہ ادا کیا:’’چیزو تیمباٹے‘‘ انہوں نے جوابا خوش آمدید اپنی زبان میں کہا:’’ مینگلابہ‘‘، میں ان سے مصافحہ کرتے ہوئے رخصت ہو رہا تھا اور میری زبان پر ان کے لئے صبر و ثبات کی دعائیں جاری تھیں۔۔۔۔۔۔
    برما کے پریشاں حال مسلمان حجاج جو اس گفتگو میں شریک تھے، مصلحتا ان کی تفصیل نہ دے کر صرف نام پر اکتفاء کیا جارہا ہے:
    مولانا محمد اسحاق، مولانا رحمت اللہ، مولانا عبد القادر،مولانا عبد الجبار، مولانا محمد عارف،مولانا امیر حسین صاحبان حفظہم اللہ من کل سوء و مکروہ
    منقول
    ایک سوال خود نیو ایج اسلام کے ایڈیٹر صاحب سے، اگر آپ نے مولانا وحید الدین خان صاحب کے مضمون کو شائع کر کے نام نہاد وسعت قلبی کا مظاہرہ کیا ہے تو کیا اس مضمون کو بھی شائع کرنے کی زحمت گوارا کریں گے؟ شکریہ
    By Shahid Habib شاہد حبیب - 9/30/2017 8:11:12 AM



  • Molana hamesha sahi baat galat waqt par karney ki aadi hain. Aur unko zalim ki zulm se ziya bada gunah mazloom ki bewaqofi lagti hain.
    By Ilyas - 9/30/2017 3:02:14 AM



  • اس مضمون میں مولانا نہ تو برمی حکومت کی تائید کی ہے اور نہ مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے واقعات کو حق بجانب قرار دیا ہے ـ دقت نظر سے اس مضمون کا مطالعہ کرنے سے یہ بات سمجھ میں آرہی ہے کہ برمی حکومت کو ظالم ثابت کرنے کے لیے ہنگامہ برپا کر کے وقت برباد کرنے کے بجائے، ایک مقامی حل کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ـ وہ یہ کہ علیحدگی پسندگی کے اقدامات سے مقامی مسلمان باز آجائیں ـ امید کہ معاملات میں کچھ بہتری آجائے ـ مولانا کے اس حل سے کوئی اختلاف کرسکتا ہے، مگر ان پر یہ الزام نہیں لگایا جاسکتا ہے کہ وہ برمی حکومت کی موجودہ کارروائیوں کو جسٹیفائی کر رہے ہیں ـ 
    By Muhammad Younus - 9/30/2017 2:42:43 AM



  • جناب مولانا نے بڑےاہم نکات پر روشنی ﮈالی ہے لیکن کیا یہ خطہ زمین کسی انسان کی ملکیت ہے? کیا کسی ملک میں کسی اقلیت کو محض علیحدگی کےمطالبےپر زندہ جلادینا درست ہے?
    علیحدگی بہت بڑا جرم ہے جس کی سزا موت ہونی چاہیۓ?
    کیا آپ کسی ریاست کے حکمران ہوتے تو آپ کسی اقلیت کو علیحدگی کےمطالبے پر روہنگیا مسلمانوں کی طرح ہی روند دیتے?
    آپ اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ روہنگیا مسلم علیحدگی کےمطالبے سے دستبردار ہوجائیں تو انھیں برمی حکومت اپنا شہری جو آپکے بقول ہی عرب تاجروں کی بدولت بیشمار برمی حلقہ اسلام میں داخل ہوۓ کی نسل جسے برماحکومت اپنا شہری ہی نہیں مانتی کو بدھ مت قوم کی طرح ہی حقوق دے گی?
    انھیں نمائیندگی دےگی?
    آپ براہ کرم امت کی اصلاح کے فریضے پر ہی اکتفا کریں نہکہ کسی جابر کو جائز قرار دینے کے فتوے دیں.
    جزاک اللہ خیر
    اللہ کی امان میں رہیں.

    By انوارالحق - 9/29/2017 7:51:25 PM



  • مولانا کا یہ تبصرہ وتجزیہ ان مسلمانوں کے زخم پر نمک پاشی کے مترادف ہے ۔۔
    By Faiz azmi - 9/29/2017 7:20:03 PM



  •   حقیقت یہ ہے کہ علاحدگی پسندی کی سرگرمیاں آج بھی جاری ہیں۔ موجودہ مسئلہ اس وقت شروع ہوا، جب کہ ابتدا میں مسلم علاحدگی پسند لوگوں نے جاکر ملٹری پولیس کیمپوں پر حملہ کیا۔ 

    reuters.com/article/us-myanmar-rohingya/at-least-71-killed-in-myanmar-as-rohingya-insurgents-stage-major-attack-idUSKCN1B507K

    اور جب معاملہ زیادہ ہوا تو پھر وہ جنگ بندی کی بات کر رہے ہیں۔

    bbc.com/urdu/world-41216408?ocid=socialflow_facebook

    By F Ahmad - 9/29/2017 6:51:42 PM



  • اس مضمون میں ان روہنگیا مسلمانوں کے مسائل کا بنیادی سبب اور ان کا حقیقی اور ممکن   حل بتایا گیا ہے۔ جب تک بنیادی سبب دریافت نہ کیا جاے ، مسائل کا حل پانا ممکن نہیں ۔ ان کی مظلومییت کی داستاں سننے، سنانے ، اور پرجوش احتجاج سے یہ مسائل کبھی ختم ہونے والے نہیں۔

    مسلم رہنما صرف موخر الذکر عمل کررہے ہیں اور نتیجہ بھی ہمارے سامنے ہے۔

    میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملہ میں مولانا وحید الدین خان عقلمند خیر خواہ ہیں جبکہ دوسرے رہنما صرف نادان خیر خواہ۔

    By Md Yaqoob - 9/29/2017 6:41:53 PM



  • اللہ سبحانہ و تعالٰی نے آپ کی رسی کافی ڈھیل دے رکھی ہے 
    مجھے ڈر ہے آپ کا حساب بڑا سخت ہوگا

    By شبیر - 9/29/2017 2:25:27 PM



  • مولاناکی معلومات اپنی جگہ صحیح ہوگی لیکن فی الوقت یہ تبصرہ درست نہیں لگتااس قدرظلم وستم جس سے انسانیت شرمشار ہے کیامولانا کونظر نہیں آتا اگروہ باغی بھی ہوں توکیااس قدرظلم وتشددبحیثیت انسان جائز ہے. جب کہ یہ بھی ظاہر ہے کہ اس ظلم کی شروعات بدھشتوں نے کی ہے فوج نے بعد میں ساتھ دیاہے گویایہ جھگڑاسیاسی سے زیادہ ہے یعنی روہنگیاکو مارنے اوربھگانے کی وجہ صرف ان کامسلمان ہونا ہے اور آن سان سوچی کایہ کہناکہ روہنگیامیں ایک شدت پسند جماعت ہے تواس کاثبوت کیوں نہیں دیتی کیوں اس کے لوگوں کو نہیں پکڑی حقیقت یہ ہے کہ یہ سب ایک شازش ہے 
      افسوس مولانا اپنے سابقہ روش کے موافق یہاں بھی مسلمانوں کے تعلق سے اپناقلبی بخارچھپانہ سکے اوربرماکے ظلم پرتوکچھ نہ کہالیکن مظلوم کو ظالم کی صف میں کھڑاکردیا


    By salim anzar - 9/29/2017 11:03:18 AM



  • Mulana k is byan ko un ki hikmat se tablet karta hno
    By Ms ghouri - 9/29/2017 10:47:44 AM



Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content