certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (04 Jun 2019 NewAgeIslam.Com)



Social and Religious Significance of Eid-ul-Fitr عید الفطر کی سماجی اور مذہبی اہمیت


 مصباح الہدیٰ قادری، نیو ایج اسلام

1 جون 2019

عید کی وجہ تسمیہ

حضور سیدنا غوث اعظم جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی شہرہ آفاق تصنیف لطیف ’’الغنیہ لطالب طریق الحق‘‘ میں ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’عید کو عید اس لئے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف اس دن فرحت و شادمانی کو بار بار لاتا ہے یعنی عید اور عود ہم معنیٰ ہیں ، بعض علما کا قول ہے کہ عید کے دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندہ کو منافع ، احسانات اور انعامات حاصل ہوتے ہیں یعنی عید عوائد سے مشتق ہے اور عوائد کے معنیٰ ہیں منافع کے۔ یا عید کے دن بندہ چونکہ گریہ و زاری کی طرف لوٹتا ہے اور اس کے عوض اللہ تعالیٰ بخشش و عطا کی جانب رجوع فرماتا ہے۔ بعض علما کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ بندہ اطاعت الٰہی سے اطاعت رسول کی طرف رجوع کرتا ہے اور فرض سے سنت کی طرف لوٹتا ہے ، (یعنی) ماہ رمضان کے روزے رکھنے کے بعد ماہ شوال کے چھ روزوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے اس لئے اس کو عید کہتے ہیں۔  (الغنیہ لطالب طریق الحق– صفحہ ۳۷۱- اردو ترجمہ از شمس بریلوی۔ ناشر فرید بکڈپو ۴۲۲ مٹیا محل جامع مسجد ، دہلی ۶)

عید کی رات (چاند رات)

ماہ رمضان کے اختتام پر جو عید الفطر کی رات یعنی چاند رات ہوتی ہےاس کا نام"لیلة الجائزة" یعنی انعام کی رات ہے۔ اور جب عید کا فجر طلوع ہوتا ہے تو اللہ رب العزت اپنے فرشتوں کو اس دنیا کے ہر خطے میں اتار دیتا ہے اور وہ زمین میں پھیل کر تمام گلیوں، سڑکوں اور چوراہوں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور ایسی آواز میں کہ جسے جن و انس کے علاوہ پوری مخلوق سنتی ہے یہ ندا دیتے ہیں: اے امتِ محمدیہ ! اُس رب کریم کی طرف چلو جو کثرت کے ساتھ عطا کرنے والا ہے اور بڑے سے بڑے گناہوں کو معاف فرمانے والا ہے۔اور جب لوگ عید گاہ کی طرف نکلتے ہیں تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرشتوں سے دریافتفرماتا ہے:اس مزدور کی اجرت کیا ہے جو اپنا کام پورا کر چکا ہو؟فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اےہمارے رب! اس کا بدلہ یہ ہے کہ اسے اس کی مزدوری پوری ادا کر دی جائے،اس پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:'' فرشتو! تم سب گواہ ہو جاؤ کہ میں نے انہیں رمضان کے روزے اور تراویح کے بدلہ میں اپنی رضاء اور مغفرت سے نواز دیا ہے۔''

اس کے بعد اللہ تعالیٰ سبحانہ اپنے بندوں سے یوں خطاب فرماتا ہے:

اے میرے بندو ! مانگو کیا مانگتے ہو ؟ میری عزت و جلال کی قسم ! آج کے دن اس نماز عید کے اجتماع میں اپنی آخرت کے بارے میں جو کچھ سوال کرو گے میں وہ پورا کروں گا اور جو کچھ دنیا کے بارے میں مجھ سے مانگو گے اس میں تمہاری بھلائی کی طرف نظر فرماؤں گا۔ میری عزت و جلال کی قسم ! جب تک تم میرا لحاظ رکھو گے میں بھی تمہاری خطاؤں پر پردہ پوشی فرماتا رہوں گا، میری عزت و جلال کی قسم ! میں تمہیں حد سے بڑھنے والوں (مجرموں) کے ساتھ رسوا نہ کروں گا، بس اپنے گھروں کی طرف مغفرت پاکرلوٹ جاؤ ، تم نے مجھے راضی کر لیا اورمیں بھی تم سے راضی ہو گیا۔" ( الترغیب و الترہیب)

صدقہ فطر کی سماجی اہمیت

معزز قارئین! اسلام ایک ایسا ہمہ گیر، انسانیت نواز اور اخوت پسند مذہب ہے جس نے حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی ادائیگی کا ایک ایسا متوازی نظام قائم کیا ہے جو اپنی مثال خود آپ ہے۔ اگر ہم اس زاویہ نظر سے عید کے تہوار کو دیکھیں تو یہ پائیں گے کہ عید کا تہوار حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی ادائیگی کا ایک عظیم الشان سنگم ہے۔ اس لیے کہ اسلام نے اپنے پیروکاروں کے لئے عید کے دن صدقہ فطر کا ایک ایسا انوکھا نظام عطا کیا ہے کہ اگر تمام مسلمان اس پر عمل پیرا ہو جائیں اور اپنی اپنی استطاعت کے مطابق تمام افراد صدقہ فطر کی ادائیگی وقت پر اس کے مستحقین کو کرنے لگیں تو امت کے ہر غریب طبقے کی کفالت پوری خوش اسلوبی کے ساتھ ہو جائے گی اور کوئی طبقہ عید کی خوشیوں اور اس کی نعمتوں سے محروم بھی نہیں رہے گا۔

صدقہ فطر کی مذہبی اہمیت

’’وکیع بن جراح نے فرمایا رمضان کے لئے صدقہ فطر کی وہ حیثیت ہے جو نماز کے لئے سجدہ سہو کی ۔ رسول اللہ ﷺ نے روزہ دار کو یاوہ گوئی سے باز رکھنے کے لئے صدقہ فطر کو واجب قرار دیا ہے یعنی روزہ دار کے روزہ میں یاوہ گوئی ، دروغ ، چوری ، چغلخوری، مشتبہ روزی اور حسین عورتوں کی طرف نگاہ کرنے سے جو خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں صدقہ فطر مذکورہ گناہوں کا کفارہ ، روزوں کا تکملہ اور روزوں کے نقص کی تلافی کا ذریعہ ہے جس طرح گناہوں کے لئے توبہ و استغفار ہے اور نماز میں سہو کے لئے سجدہ ہے ، شیطان ہی نماز میں سہو پیدا کرتا ہے پس سجدہ سہو شیطان کو ذلیل و خوار کرتا رہتا ہے، اسی طرح روزہ میں بیہودہ گوئی اور لغزشیں بھی شیطان ہی کے باعث ہوتی ہیں پس گناہوں سے توبہ اور رمضان کے روزوں کی خرابیاں دور کرنے کے لئے صدقہ فطر بھی شیطان کو ذلیل و خوار کرنےکا ایک ذریعہ ہے‘‘ ۔ (الغنیہ لطالب طریق الحق– صفحہ ۳۷۱- اردو ترجمہ از شمس بریلوی۔ ناشر فرید بکڈپو ۴۲۲ مٹیا محل جامع مسجد ، دہلی ۶)

بندہ مؤمن کی عید

حضور سرکار سیدنا غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی اسی کتاب میں فرماتے ہیں کہ ’’کافر بھی (اپنی) عید کی خوشی مناتا ہے اور مؤمن بھی لیکن کافر کی عید شیطان کی خوشنودی کے لئے ہے اور مؤمن کی عید اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہے۔ مؤمن عید کے لئے (عید گاہ) جاتا ہے تو اس کے سر پر ہدایت کا تاج (مزین) ہوتا ہے، حیا اور شرم کی علامتیں آنکھوں سے نمایا ہوتی ہیں اور کان حق سننے کی طرف راغب ہوتے ہیں ۔ زبان پر توحید کی شہادت اور دل میں معرفت و یقین ہوتا ہے۔ اس کے شانوں پر اسلام کی چادر اور کمر میں طاعت الٰہی کا پٹکا ہوتا ہے اور اس کا مقام اور منزل مسجد اور خانقاہ ہوتی ہے اس کا معبود بندوں اور ساری مخلوق کا رب ہوتا ہے وہ اسی کے سامنے گڑگڑاتا ہے اور اسی سے منگتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عطا اور بخشش اس کی پذیرائی کرتی ہے اللہ تعالیٰ اسے مقام عزت اور جنت میں داخل فرما دے گا‘‘۔  (الغنیہ لطالب طریق الحق– صفحہ ۳۷۶- اردو ترجمہ از شمس بریلوی۔ ناشر فرید بکڈپو ۴۲۲ مٹیا محل جامع مسجد ، دہلی ۶)

مؤمن کی عید کے انداز اور ثمرات

حضور سرکار سیدنا غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ مزید فرماتے ہیں ’’عید میں عمدہ اور اچھا لباس پہننے ، عمدہ اور لذیذ کھانا کھانے ، حسین عورتوں سے معانقہ کرنے اور لذت و شہوت سے لطف اندوز ہونے سے عید نہیں ہوتی ہے، بلکہ مسلمان کی عید ہوتی ہے طاعت و بندگی کی علامات کے ظاہر ہونے سے ، گناہوں اور خطاؤں سے دوری سے ، سیات کے عوض حسنات کے حصول سے، درجات کی بلندی کی بشارت ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے خلعتیں ، بخششیں اور کرامتیں حاصل ہونے سے نور ایمان سے سینہ کی روشنی ، قوت یقین اور دوسری نمایاں علامات کے سبب دل میں سکون پیدا ہو جانے سے، علوم و فنون اور حکمتوں کا دل کے اتھاہ   سمندر سے نکل کر زبان پر رواں ہو جانے سے عید کی حقیقی مسرتیں حاصل ہوتی ہیں‘‘۔  (الغنیہ لطالب طریق الحق– صفحہ ۳۷۷- اردو ترجمہ از شمس بریلوی۔ ناشر فرید بکڈپو ۴۲۲ مٹیا محل جامع مسجد ، دہلی ۶)

عید کے مستحبات

عید کے دن یہ امور مستحب ہیں:۔

(1) حجامت بنوانا۔ (2) ناخن تراشوانا۔ (3) غسل کرنا۔ (4) مسواک کرنا۔ (5) اچھے کپڑے پہننا، نئے کپڑے ہوں تو نئے ورنہ دھلے ہوئے۔ (6) خوشبو لگانا۔ (7) انگوٹھی پہننا۔ (8) عید الفطر کی نماز کو جانے سے پہلے طاق عدد میں چند کھجوریں کھا لینا اور اگر کھجور نہ ہو تو کچھ بھی میٹھی چیز کھا لینا۔ (9) نماز عید، عید گاہ میں ہی ادا کرنا۔ (10) پیدل عید گاہ جانا۔ (11) عید کی نماز کے لئے ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا۔ (12) عدل کی نماز سے پہلے صدقہء فطر ادا کرنا۔ (13) خوشی و مسرت کا اظہار کرنا۔ (14) کثرت کے ساتھ صدقہ دینا۔ (15) نگاہیں نیچے کر کے عید گاہ کی طرف نکلنا۔ ( 16 ) آپس میں ایک دوسرے کو مبارک باد دینا۔ (17) بعد نماز عید صافحہ اور معانقہ کرنا۔ (18) عید گاہ کی طرف جاتے ہوئے راستے میں آہستہ آہستہ تکبیر کہتے ہوئے جانا تکبیر کے الفاظ یہ ہیں اللہ اکبر اللہ اکبر لاالہ الااللہ واللہ اکبر واللہ اکبر وللہ الحمد۔ (کتب عامہ)

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/social-and-religious-significance-of-eid-ul-fitr--عید-الفطر-کی-سماجی-اور-مذہبی-اہمیت/d/118790

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism





TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content