certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (09 Nov 2019 NewAgeIslam.Com)



Some Necessary Reformation on the Sacred Occasion of Milad al-Nabi میلاد النبی کے مبارک موقعہ پر اصلاح طلب امور


کنیز فاطمہ نیو ایج اسلام 

09 November 2019

میلاد النبی پر خوشی کا اظہار کرنا اور سال کے تمام ایام میں عموما اور ربیع الاول کے مہینے میں خصوصا آپ کی ولادت کا تذکرہ کرنا ، آپ کے فضائل ومناقب  اور آپ کے اسوہ حسنہ کو مجالس ومحافل میں بیان کرنا جائز ومستحب ہے ۔ میلاد النبی کے موقعہ پر صدقات وخیرات کرنا ، ایصال ثواب کرنا اہل اسلام اور بزرگان دین وصوفیائے کرام کا معمول رہا ہے ۔

قرآن کریم میں حضرت موسی ، حضرت عیسی ، حضرت یحیی اور دیگر انبیاء علیہم السلام کے فضائل وخصائل کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد اور آپ کے محامد ومحاسن کا بھی بکثرت ذکر ملتا ہے ۔تلاوت قرآن کی دولت سے سرفراز ہونے والے پر یہ بات مخفی نہیں کہ اللہ تعالی نے فرمایا : (قُل بِفَضلِ اللّٰهِ وَبِرَحمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَليَفرَحُوا  )یعنی  آپ فرما دیجئے کہ یہ سب اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کی وجہ سے ہے لہٰذا اس کی وجہ سے مسلمان خوشی منائے۔(سورہ یونس : آیت ۵۸)

اور یہ بھی ارشاد فرمایا: (واما بنعمتک ربک فحدث ) یعنی اپنے رب کی نعمت کا بیان کیجیے  (سورہ ضحی : آیت ۱۱)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی نعمت بھی ہیں اور رحمت بھی ، اسی طرح آپ کی ولادت بھی اللہ تعالی کی نعمت اور رحمت ہے ، آپ کے خصائل ومحامد بھی اللہ تعالی کی رحمت اور نعمت ہیں ، اس لیے آپ کی ولادت اور آپ کے محاسن کا تذکرہ کرنا اور ان پر خوشی منانا عین حکم قرآن کے مطابق ہے ۔

میلاد شریف سال کے بارہ میں مہینوں میں کیا جا سکتا ہے لیکن ربیع الاول کے مہینہ اور بارہ تاریخ کی خصوصیت اس لیے ہے کہ آپ کی ولادت اسی ماہ اور اسی تاریخ کو ہوئی ۔  اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں انبیاء کرام علیہم السلام کے میلاد کا ذکر کیا۔ میلاد کہتے ہیں ولادت کو اور جس دن نبی کی ولادت ہوئی وہ یوم میلاد ہے۔ سورہ مریم کو پڑھیں حضرت یحییٰ علیہ السلام کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَسَلٰمٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوْتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا. (مريم،19: 15) یعنی   ‘‘اور یحییٰ پر سلام ہو ان کے میلاد کے دن اور انکی وفات کے دن اور جس دن وہ زندہ اٹھائے جائیں گے’’۔

اللہ تعالی اپنے نبی پر ہر روز سلامتی بھیجتا ہے لیکن مذکورہ آیت کریمہ میں تین دنوں کاانتخاب ان دنوں کی خصوصیت کی وجہ سے کیا اور ان میں سے ایک ان کی ولادت ہے ۔

بعض حضرات میلاد  اعتراض کرتے ہیں کہ Birthday تو انگریز مناتے ہیں ، اسلام میں اس کی کیا اہمیت ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ولادت کے دن کی اہمیت تو خود اللہ تعالی نے مقرر کی ہے ، جیسے قرآن کریم میں ایک اور مقام پر ارشاد ہوا   ‘‘سلام علیہ یوم ولد‘‘ سلام ہو میرا اس دن جس دن (یحییٰ علیہ السلام) کا میلاد ہوا۔’’

دوسرا اعتراض یہ ہوتا ہے کہ چلو میلاد کا ثبوت مان لیتے ہیں لیکن وفات کا دن بھی مناتے ہو؟ اللہ تعالی نے اس کا بھی جواب قرآن میں دے دیا ہے جیسے فرمایا: ’’یوم یموت‘‘ (اور اس دن بھی سلام ہو جس دن ان کی وفات ہوئی)۔ گویا اللہ والوں کے لئے دو دن خاص ہوگئے۔ ایک میلاد کا دن ایک وفات کا دن۔

حضرت عیسی علیہ السلام کے حوالے سے قرآن کریم کا ارشاد ہے :  وَ السَّلٰمُ عَلَيَ يَوْمَ وُلِدْتُّ وَيَوْمَ اَمُوْتُ وَيَوْمَ اُبْعَثُ حَيًّا. (مريم، 19: 33) یعنی ’’اور مجھ پر سلام ہو میرے میلاد کے دن، اور میری وفات کے دن، اور جس دن میں زندہ اٹھایا جاؤں گا‘‘۔

ان مذکورہ بالا دونوں آیتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی کے میلاد کے دن سلام پڑھنا  خود اللہ تعالی کی سنت ہے کیونکہ اللہ تعالی نے خود سلام بھیجا ہے ، اب جوکام اللہ تعالی کرے اسے بدعت کہنا ہرگز مناسب نہیں ۔

بےشک اسلام خوشی اور مسرت کا مذہب ہے اس کے بانی یعنی محبوب لا ثانی کے بارے میں حضرت جریر رضی اللہ عنہ جو حضور کے صحابی ہیں فرماتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو میں ان سے ملنے گیا جب پہلے دن میں حضور سے ملا تو نبی اکرم صلی علیہ وسلم مسکرا رہے تھے اور اسی طرح میں دس سال تک حضور سے ملتا رہا یہاں تک کہ حضور کی وصال سے پہلے بھی میں نے اپنے آقا کو اسی حالت میں دیکھا ۔ اسی خوبصورت مسکراہٹ کی طرح اشارہ کرتے ہوئے  اعلی حضرت اپنے ایک شعر میں فرماتے ہیں:

جس کی تسکیں سے روتے ہوئے ہنس پڑیں

اس تبسم کی عادت پے لاکھوں سلام

بفضل الله تعالی جب رسول اللہ کی ولادت مبارک ہوئی تو کائنات کی ہر شے نے وجد و مستی میں آکر اپنی فرحت و مسرت کا اظہار کیا۔ یہاں تک کہ موجودات کی بڑی بڑی چیز یں بلکہ ننھی چڑیوں نے بھی آمد مصطفی  پر اپنی خوشی کا اظہار کیا اور پھر حوران فلک اور ملائکہ نے اجتماعی صورت میں جائے ولادت پر حاضری کا شرف حاصل کیا۔لہٰذا آمد مصطفیٰ کی خوشی میں اجتماعی شکل میں بھی خوشی ومسرت کا اظہار کرنا  سنت ملائکہ ہے ۔

یہاں بات بھی قابل ملحوظ رہے کہ ہر اچھے کام میں کچھ لوگ  بعض برائی اور فسق وفجور کے پہلو نکال لیتے ہیں ، مثلا عید الفطر اور عید الاضحی مسلمانوں کی اجتماعی عبادات اور خوشی کے ایام ہیں لیکن ان ایام کو میلہ کی شکل دے دی گئی ہے اور پارکوں ، تفریح گاہوں میں متعدد خلاف شرع کاموں میں کچھ لوگ مصروف نظر آتے ہیں، بعض جگہوں پر تو فحش وخرافات اور ڈانس وغیرہ کا اہتمام ہوتا ہے ،  لیکن ان ناجائز کاموں کی بنیاد پر کوئی مسلمان یہ نہیں کہہ سکتا کہ عیدین کی نماز بند کر دی جائے ، یا عید کے دن خوشیاں نہ منایا جائے ،  مثلا  نکاح میں کچھ لوگ  بالعموم اکثر غیر شرعی امور کا ارتکاب کرتے ہیں لیکن اس کی بنا پر نکاح کو مذموم یا ممنوع کہا جا سکتا ، اس لیے بعض جگہوں پر محافل میلاد کے موقعہ پر چند لوگوں کے اندر کوئی خرابی ہوتی ہے تو اس سے محفل میلاد بند نہیں کیا جائے گا، لہذا اس خراب عادت کی اصلاح کی جائے گی ۔

بعض مقامات پر بہت عمدہ طریقے سے میلاد النبی کو Peace day  کے طور پر منایا جاتا ہے ، یہ بہت عمدہ ہے ۔ لیکن بعض جگہوں پر اس مبارک دن پر کچھ بچے ، جوان حتی کے عمردراز لوگ بھی بعض خرافات کاموں مصروف نظر آتے ہیں، جو کہ درست نہیں۔ڈی جے وغیرہ کے ساونڈ سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے اسے ترک کیا جائے۔  ضرورت اس امر کی ہے کہ محافل میلاد میں ساری توجہات سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم  سننے سنانے  ، صدقات وخیرات کرنے ، تلاوت قرآن کرنے وغیرہ جیسے امور حسنہ پر دی جائے  ۔ عوام کو سیرت رسول کی معاشرتی حیثیت ، سیرت رسول کی اجتماعی حیثیت ، سیرت رسول کی معاشی اہمیت ، سیرت رسول کی اخلاقی اہمیت  وغیرہ سے واقف کرایا جائے اور اس طرح اس مبارک دن کے برکات وفیوض سے مستفیض ہونے کی سعادت حاصل کی جائے ۔

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/کنیز-فاطمہ،-نیو-ایج-اسلام/some-necessary-reformation-on-the-sacred-occasion-of-milad-al-nabi--میلاد-النبی-کے-مبارک-موقعہ-پر-اصلاح-طلب-امور/d/120219

 




TOTAL COMMENTS:-   11


  • To copy other book, stories tradition and culture is old method of Muslims, like copied and twisted stories of Quran form other faith and than to say it's original is nothing new.
    You haters of all non-Muslim heroes cannot, respect, honour and celebrate the Ram, Krishan of this land so you haters have to invent Nabi-e-Milad, 
    Islam does not have Nabi-e-Milad, pure copy of Hinduism, if you Muslims had believed in truth than have not copied this.

    By Aayina - 11/12/2019 9:07:12 PM



  • Nice article! I have also written a piece on this subject in English. 
    By Ghulam Ghaus Siddiqi - 11/11/2019 10:45:09 PM



  • Kaniz Fatima ka mazmun a hha hai magar unhone comment me apne maslaki tarze fikr ka Izhar kardiya. Islam me Kai maamlat me ikhtelafe Rai hai usse musalman ke bunyadi aqide par farq nahi padta. Inteha pasandi dono firqe me hai. Kam az Kam writers ko is me nahi padna chahiye. 
    By Arshad - 11/11/2019 3:43:46 AM



  • درج ذیل کچھ آڈیو ہیں انہیں بھی دیکھیں اور یہ خیال دور کریں کہ جشن میلاد عرب میں نہیں منایا جاتا ۔
    Jasne e Eid Milad Un Nabi ( Yaman )
    .youtube.com/watch?v=ta71CeG6738
    milad shareef in different countries, world wide,Egypt, Bosnia, Indonesia,
    youtube.com/watch?v=jypvSKKVK00
    AUR YE SPEECH BHI SUN LEN TO MAALUMAT ME IZAFA HOGA
    MILAD: Mufti Menk & Tauseef | Zakir Naik | Tahir ul Qadri | Javed Ghamdi | Saqib Shami | Peer Naseer
    youtube.com/watch?v=OoO_uamFXe
    By Kaniz Fatma - 11/10/2019 11:09:56 PM



  • مولوی عبد الحی لکھنوی صاحب لکھتے ہیں : ‘‘اکثر مشائخ طریقت رحمہم اللہ نے حضور سرور کائنات علیہ السلام کو خواب میں دیکھا کہ محفل میلاد سے راضی ا ور خوش ہیں ۔پس وہ چیز ضرور اچھی ہے جس سے آپ خوش ہیں ’’ (مجموعۃ الفتاوی ، ج ۲ ، ص ۲۸۳)

    دیوبندی مولدی کوثر نیازی صاحب لکھتے ہیں :

    ‘‘قرون اولی سے اکابر علمائے اسلام یوم ولادت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیر وبرکت کا دن مانتے ہیں اور اسے عید سعید کی طرح مناتے چلے آ رہے ہیں ۔ان اکابر میں وہ زعمائے ملت بھی داخل ہیں ارتکاب بدعت کا تصور بھی نہیں کر سکتے ’’ (ذکر رسول ، ص ۲۵)


    By Kaniz Fatma - 11/10/2019 11:03:51 PM



  • تضاد بیانیاں پر حیرت ہوتی ہے کہ ایک طرف مخالفین میلاد النبی کو ناجائز وبدعت بلکہ شرک کہتے ہیں لیکن دوسری طرف سلف کی عبارتوں کی تشریحات کرتے وقت مجبورا میلاد کا جواز بھی خواہی نہ خواہی دیتے  ہیں :

    مثلا شیخ عبد اللہ نجدی لکھتے ہیں : ‘‘ محدث ابن جوزی علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ شب میلاد کی خوشی کی وجہ سے ابو لہب جیسے کافر کا یہ حال ہے کہ اس کے عذاب میں تخفیف کر دی جاتی ہے جس کی مذمت قرآن میں آئی ہے تو اس مسلمان موحد کا کیا حال ہوگا جو حضور علیہ السلام کی محبت میں جشن میلاد کرتا ہے اور محبت وفرحت کا اظہار کرتا ہے ’’

    اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آج سے ۸۰۰ سال قبل کے محدثین بھی محفل میلادمنعقد کرتے تھے اور کرنے والوں کو داد تحسین دیا کرتے تھے ۔یہ بھی ثابت ہوا کہ منکرین میلاد بعد کی پیداوار ہیں اگر معاندین کے نزدیک  واقعۃ میلاد بدعت ہے تو ہمت کریں اور ابن جوزی علیہ الرحمہ جیسے عظیم محدث پر فتوی صادر کریں ۔اگر یہاں ان کا قلم وزبان چپ ہے تو پھر موجودہ مسلمانوں پر اپنی زبانیں اور قلم وقرطاس کیوں صاف کرتے ہیں ؟؟؟


    By Kaniz Fatma - 11/10/2019 10:59:12 PM



  • ذکر میلاد مصطفی از اقوال صحابہ واکابرین

    صحابہ کرام بھی اپنے اپنے انداز میں اپنے پیارے محبوب جناب سید دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت کا تذکرہ کرتے تھے ، جیساکہ مستند دیوبندی وہابی اکابر کی کتابیں بھی اس پر شاہد ہیں ۔کمال تو اس میں ہے کہ مخالفین بھی کرے اس کا اعتراف !

    دیوبندیوں کے مجدد وحکیم اشرف علی تھانوی رقمطراز ہیں:

    ‘‘جب آپ غزوہ تبوک سے مدینہ طیبہ میں واپس تشریف لائے تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھ کو اجازت دیجیے کہ کچھ آپ کی مدح کروں (چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح خود طاعت ہے اس لیے ) آپ نے ارشاد فرمایا کہ کہو اللہ تعالی تمہارے منہ کو سالم رکھے ۔انہوں نے یہ اشعار آپ کے سامنے پڑھے ، ان میں سے آخری دو شعر یہ ہیں :

    انت لما ولدت اشرقت

    الارض وضاء ت بنور الافق

    فنحن  فی ذالک الضیاء وفی النور

    سبل الرشاد نخترق

    اب اس کا ترجمہ نواب صدق اہل حدیث سے ہی ملاحظہ فرمائیں : ‘‘حضور کی ولادت سے زمین چمک اٹھی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے افق تابدار ہوا ۔ہم اس نور کی روشنی میں ہدایت کا راستہ اختیار کرتے ہیں’’(نشر الطیب ، ص ۱۶ ، لاہور ، الشمامۃ العنبریہ ص ۱۰، مختصر سیرۃ رسول اردو ص ۱۳۰)

    حضرت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ جب یہ اشعار  بارگاہ رسالت میں کہے تو وہاں پر ہزاروں صحابہ کرام کا اجتماع تھا ۔اس اجتماع کثیر میں انہوں نے حضور کی ولادت باسعادت کا تذکرہ کیا ۔آپ کی نورانیت کا ذکر کیا اور فضائل ومناقب کو بیان کیا ۔تو اسی طرح کی محافل مبارکہ کو آج میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم  کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ۔اس سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ موجودہ دور میں محافل کا انعقاد کرنا موجودہ دور کی اختراع نہیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے چلی آرہی ہے ۔اور ذکر ولادت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی سماعتوں کو جلا بخشنا اور قلب واذہان کو محبت رسول سے روشنی دینا نجوم ہدایت (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ) کی سنت مبارکہ ہے


    By Kaniz Fatma - 11/10/2019 10:49:35 PM



  • غیر مقلد ین وہابی حضرات محفل میلاد کو حرام اور شرک کہتے ہیں جیساکہ ان کی عبارتوں سے ظاہر ہے ۔مولوی عبد الستار دہلوی اہل حدیث رقمطراز ہیں  ‘‘مروجہ ہیئت کے ساتھ مجلس میلاد کا انعقاد از روئے کتاب وسنت قطعا حرام اور بدعت بلکہ داخل فی الشرک ہے ’’ (فتاوی ستاریہ ، ج ۱ ، ص ۵۷ )

    شیخ عبد العزیز بن باز اہل حدیث  کے بقول میلاد بدعت ہے (الانصاف فیما قیل فی المولد من الغلووالاحجاف ، ص ۶، سعودی عرب)

    حسین احمد مدنی لکھتے ہیں  ‘‘وہابیہ نفس ذکر ولادت حضور سرور کائنات علیہ السلام کو قبیح وبدعت کہتے ہیں ’’ (الشھاب الثاقب ، ص ۶۷، دیوبند)

    مفتی عبد اللہ بن باز لکھتے ہیں کہ محفل میلاد کا کام دین کا کام نہیں یعنی نئی ایجاد کردہ بدعات میں سے ہے اور یہود ونصاری کی نقل ہے  (بدعات مروجہ ص ۱۵، مکتبہ سلفیہ لاہور )

    لیکن حیران ہوں کہ دوسری طرف غیر مقلدین وہابیہ کے امام اور علمائے دیوبند کے ممدوح نواب صدیق حسن بھوپالی صاحب لکھتے ہیں : ‘‘سو جس کو حضرت کے میلاد کا حال سن کر فرحت حاصل نہ ہو اور شکر خدا کا حصول پر اس نعمت کے نہ کرے وہ مسلمان نہیں ’’ (الشمامہ العنبریہ ، ص ۱۲، ۳۰۵ ، بھوپال ، انڈیا)

    اب غیر مقلدین حضرات ہی اس بات کی وضاحت کریں کہ وہ تو محفل میلا دمنعقد کرنے والوں بدعتی ومشرک اور غیر مسلم سمجھتے ہیں جبکہ ان کے مجدد اور پیشوا محفل میلا دنہ کرنے والوں غیر مسلم کہہ رہے ہیں ۔

    بقول شاعر

    وہ باتیں ان کی نگاہیں بتا دیتی ہیں

    جنہیں وہ اپنی زباں سے ادا نہیں کرتے


    By Kaniz Fatma - 11/10/2019 10:33:24 PM



  • اس عالم ہست و بود میں کچھ وہ لوگ ہیں جو کلمہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پڑھتے ہیں اور اپنے آپ کو حضور علیہ السلام کا امتی کہلوانا پسند کرتے ہیں مگر ا سکے باوجود میلاد النبی منانے کو قبیح ، بدعت اور شرک کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ہندوں کے رسومات کے مشابہ ہیں اس طرح وہ اپنی شقاوت قلبی اور تعصب کا اظہار کرتے ہیں ۔ ان کی تحریرں اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں :

    معاندین کے مستند عالم دین خلیل احمد سہارنپوری دیوبندی لکھتے ہیں:

    ‘‘پس ہر روز اعادہ ولادت کا مثل ہندود کے سانگ کنھیا کی ولادت کے ہر سال کرتے ہیں ’’ (براہین قاطعہ ، ص ۱۵۲،دار الاشاعت کراچی)

    اس عبارت میں خلیل احمد صاحب نے اپنی کج روی سے میلاد مصطفی علیہ السلام سے اپنی عداوت کا اظہار کر دیا ۔

    دوسری طرف دیوبندی عالم جناب رشید احمد گنگوہی لکھتے ہیں کہ ‘‘انعقاد مجلس مولود ہر حال میں ناجائز ہے تداعی امر مندوب کے واسطے منع ہے ’’ (فتاوی رشیدیہ ، ص ۱۵۰ ، میر محمد کتب خانہ کراچی )

    اسی طرح مولوی محمد الیاس دیوبندی نے میلاد کو بدعت سے تعبیر کیا ہے (حیات شیخ القرآن ، ص ۱۵۲ )

    لیکن دوسری طرف بعض دیوبندی کی کتابوں سے ہی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ میلاد میں کتنا بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور اپنے لیے نجات اخروی سمجھتے ہیں :

    مولوی خلیل احمد دیوبندی لکھتے ہیں :

    ‘‘حضرت کا ذکر ولادت محبوب تر اور افضل ترین مستحب ہے ’’ (المہند علی المفند ، ص ۶۴ )

    پہلے خلیل احمد صاحب نے خود ہی محفل میلاد کو ہندوں کی کنھیا کے سانگ کی مثل کہا اور اب اس محفل میلاد کو افضل ترین مستحب کہہ کر بقول خود کس زمرے میں جا رہے ہیں ؟

    حاجی امداد اللہ مہاجر مکی صاحب جو کہ دیوبندی علماء کے پیشوا وپیر ومرشد مانے جاتے ہیں انہوں نے محفل میلاد کو ذریعہ برکات سمجھ کر منعقد کرتے تھے  (فیصلہ ہفت مسئلہ ، ص ۸۰)

    آج دیوبند ی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں انہی عبارتوں کی وجہ سے تضاد بیانیاں نظر آتی ہیں ۔

    (جاری )  


    By Kaniz Fatma - 11/10/2019 10:18:17 PM



  • Balke Merry Christmas kahne ki mokhalfst karte hajn
    By Arshad - 11/9/2019 10:26:59 PM



  • Kaniz Fatma me apna moqif Quran SE dalail ki madad se sakha hai Nam nihad Salim degree holder ki tarah alna hujm nahi sunaya hai. Bahar hal., agar milad Quran SE sabit hai to Sahaba ke daur me kyun nahi manai gayi. Kya woh Quran ki in ayato. Se wqif nahin the?Dusri baat Quran Hazrat yahya aur Hazrat Isa ki milad mamnane ko kahta hai. To phir Musalman unki milad bhi kyun nahin manate?
    By Arshad - 11/9/2019 9:31:25 PM



Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content