certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (17 Oct 2019 NewAgeIslam.Com)



Status of Prophets in the Eyes of Quran and Hadith قرآن اور حدیث کی نظر میں انبیاء کا رتبہ


سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

میرے مضمو ن ”انبیاء کی فضلیت“ پر غلام غوث صدیقی صاحب کو کچھ اعتراضات ہیں۔ ایک اعتراض یہ ہے کہ تمام انبیاء کو (قرآن کے حوالے سے) برابر ٹھہرایا ہے۔ میں نے یہ لکھا تھا کہ وہ الگ الگ خصوصیات اور معجزوں کی بنیاد پر منفرد اور ممتاز ہیں جس طرح کوئی فٹبال کا اچھا کھلاڑی ہوتاہے تو کوئی کرکٹ کا، کوئی ریاضی پر دسترس رکھتا ہے تو کوئی طبعیات پر۔ میرے اس بیان میں بھی انہیں تضاد نظر آیا۔شاید وہ لفظ منفرد اور ممتاز کامعنی نہیں جانتے۔ ممتاز کامعنی سب سے افضل نہیں ہوتاہے۔ ثانیہ مرزا اور شعیب ملک شوہر اور بیوی ہیں مگر اپنے اپنے شعبے میں ممتاز ہیں۔ انہوں نے جو دلائل دیئے ہیں وہ غیر منطقی ہیں۔ وہ کہتے ہیں۔

”پوری امت، صحابہ کرام، تابعین و تبع تابعین اس بات پر متفق ہیں کہ آخری نبی افضل الانبیاء ہیں۔“

یہاں انہوں نے اس بار ”اپنے کلاسیکی علماء“ کا حوالہ نہیں دیا۔ انہوں نے افضل الانبیاء کا لفظ استعمال کیا ہے۔ یہ لفظ قرآن میں کہیں ہے تو اس سورۃ اور آیت کا حوالہ دیں۔ ہاں“خاتم النبین“ کا ذکر ہے۔ انہوں نے کنیز فاطمہ کے مضمون میں منقول اس حدیث کا بھی حوالہ نہیں دیا جس میں کہا گیا ہے کہ کسی نبی کو چھوٹا مت سمجھو۔ انہوں نے قرآن کریم کی ایک آیت کا حوالہ دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بعض رُسل کو بعض پر فضیلت دی گئی۔ وہ لکھتے ہیں۔

”یعنی بعض رُسل بعض سے افضل ہوئے تو جب افضل ہوئے تو افضل کیوں نہیں کہہ سکتے۔“

میں وہ آیت یہاں نقل کرتا ہوں۔

”یہ سب رسول فضلیت دی ہم نے ان میں بعض کو بعض سے۔ کوئی تو وہ ہے کہ کلام فرمایا اس سے اللہ نے اور بلند کئے بعضوں کے درجے اور دیئے ہم نے عیسیٰ مریم کے بیٹے کو معجزے صریح اور قوت دی اس کو روح القدس سے۔“ (البقرہ:253)

اس آیت میں دو رسولوں کی فضلیت کا ذکر ہے۔ حضرت موسی علیہ اسلام کو یوں فضیلت دی کہ ان سے اللہ نے کلام فرمانے کا شرف بخشا اور حضرت عیسی علیہ السلام کو اس طرح فضیلت دی کہ انہیں صریح معجزے دیئے اور انہیں روح القدس سے قوت دی۔ ان دونوں کے علاوہ بھی بعض دوسرے انبیاء کے بھی درجے بلند کئے۔

غلام غوث صدیقی صاحب بتائیں کہ اس آیت میں کس نبی پر کس نبی کو برتری حاصل ہے۔ حضرت عیسی علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام پر یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حضرت موسی علیہ السلام پر؟ قرآن نے تو یہ کہا کہ ہم نے دونوں کو الگ الگ طور پر فضیلت دی۔ وہ کسی کو دوسرے پر فوقیت نہیں دیتا۔

پھر دوسرا نکتہ یہ ہے کہ قرآن کہتا ہے ”بعض کو بعض پر فضیلت دی۔ یہ تو کہیں نہیں کہا گیا“ ایک کو تمام پر فضیلت دی۔ صرف ایک آیت (البقرہ:253) کا حوالہ دیا جس میں آپ کے مطلب کی بات تھی یا آپ کی آئیڈیولوجی کو جواز ملتا ہے مگر ان دو آیتوں پر آپ کی نظر نہیں گئی جن میں کہا گیا ہے کہ مومن نبیوں میں امتیاز نہیں کرتا۔

”مان لیارسول پر جو کچھ اترا اس پر اس کے رب کی طرف سے اور مسلمانوں نے بھی سب نے مانا اللہ کو اور اس کے فرشتوں کو اور اس کی کتابوں کو اور اس کے رسولوں کو کہتے ہیں کہ ہم فرق نہیں کرتے اس کے پیغمبروں میں۔ (البقرہ:285)

”او رتم کہہ دو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور جو اترا ہم پر اور جو اترا ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب او راس کی اولاد پر اور جو ملا موسی علیہ السلام کو اور عیسیٰ علیہ السلام کو او رملا دوسرے پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے۔ ہم فرق نہیں کرتے ان سب میں سے کسی ایک میں بھی۔“ (البقرہ: 136)

مندرجہ بالا دونوں آیتوں میں مسلمانوں کا طرز عمل یہ بتایا گیا ہے کہ وہ نبیوں میں امتیاز نہیں کرتے۔ اور آپ جب کسی کو سب سے افضل کہتے ہیں تو پھر دوسروں کو کم تر بھی بتاتے ہیں جب کہ قرآن کہتا ہے کہ مسلمان نبیوں میں امتیاز نہیں کرتے۔

یہود اپنے نبی کو افضل مانتے تھے اور عیسائی اپنے نبی کو افضل مانتے تھے او ران کے اس عقیدے کا رد قرآن نے یہ کہہ کر کردیا ہے۔

”یہود یوں نے کہا کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں توعیسائیوں نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں مگر یہ سب محض ان کے منہ کی باتیں ہیں جو وہ گزشتہ زمانے کے مفکروں کی نقل میں کرتے ہیں۔“ (30:9)

ان قوموں کے عقائد ہمارے لئے نظیر یا مثال نہیں بن سکتے جب کہ اس معاملے میں قرآن او رحدیث ہمارے لئے طرز عمل متعین کر چکے ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کی قسم قرآن بھی کہتا ہے اور ان کی عظمت سے کسی کافر کو ہی انکار ہوسکتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی قرآن دیگر تمام انبیاء کرام کی عظمت کا بھی ذکر کرنا ہے۔ مثال کے طور پر قرآن مسلمانوں سے کہتاہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجو۔ اس کے ساتھ ہی وہ دیگر انبیاء پر بھی سلام بھجتا ہے۔

”سلام علیٰ موسیٰ و ہارون“ (الصّٰفّٰت:130)

”سلام علیٰ اِل یاسین۔(الصّٰفّٰت:130)

”سلام علیٰ ابراہیم“ (الصّٰفّٰت:109)

”سلام علیٰ نوح فی العالمین (الصّٰفّٰت:79)

ان پر قرآن سلام بھیجتا ہے اور ہر روز لاکھوں مسلمان قرآن کی تلاوت کرتے وقت ان تمام انبیا ء پر سلام بھیجتے ہیں۔ اس میں خدا کی مصلحت یہ ہے کہ اگر قرآن ان انبیاء پر سلام نہ بھیجتا توہم جیسے تنگ ذہن مسلمان یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح صرف اپنے نبی پر سلام بھیجتے اورانہیں کم تر سمجھ کر ان پر سلام نہ بھیجتے۔بغیر سند کے تو ہمارا طرزعمل یہ ہے اگر قرآن نے سند دے دی ہوتی تو ہم کھل کر دوسرے انبیاء کو کم تر کہتے اور گناہ کے مرتکب ہوتے۔

میرا خیال ہے کہ عربی کے جملے ”فضّلنا“ کا ہم نے وہ مفہوم نہیں لیا ہے جو قرآن کا ہے۔”ہم نے فضل کیا  اور ”ہم نے افضل بنایا “ دو الگ الگ مفہوم رکھتے ہیں۔ ”فضّلنا“ کا کون سا ترجمہ قرآن کے مفہوم اور اس کی اسپرٹ سے زیادہ قریب ہے یہ دیگر آیتوں کے تناظر میں سمجھنا ہوگا۔ خود غلام غوث صدیقی عربی زبان کے عالم ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ عربی میں ایک لفظ کے 20معنی ہوسکتے ہیں۔ تو پھر ایک ہی معنی سے چمٹ جانا کہاں کی دانش مندی ہے؟

اللہ نے حضرت داؤد پر فضل کیا اور انہیں زبور عطا کیا۔اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر فضل کیا اور ان سے کلام فرمایا۔ اللہ نے صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فضل کیا اور نہیں صریح معجزے دیئے۔ اللہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر فضل کیا اور انہیں معراج عطا کیا۔ سبھوں کو ایک دوسرے سے الگ  بنایا کیا اس طرح سے نہیں پڑھ سکتے؟

انجم صاحب، مجھے اعتراف ہے کہ میرا قرآن کریم کامطالعہ کمزور ہے۔ پھر بھی قرآن سے یہ میری انسیت ہے کہ اپنی کند ذہنی کے باوجود اسے سمجھنے کی ناکام کوشش کرتا ہوں۔ دعا کی درخواست ہے۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islam-and-pluralism/s-arshad,-new-age-islam/quran-and-hadith-accord-equal-status-to-all-prophets/d/120008

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/s-arshad,-new-age-islam/status-of-prophets-in-the-eyes-of-quran-and-hadith---قرآن-اور-حدیث-کی-نظر-میں-انبیاء-کا-رتبہ/d/120013

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism





TOTAL COMMENTS:-   11


  • Akhir me phir wohi apni Rai. Hatmi daleel pesh kijye tarjume ki Jo taweel aapney pesh ki hai wo to aapki apni Rai hai. Koi dusra us aayat ki apney taur par taweel pesh kar sakta hai. Akhir me Jo aapney natija nikala wo aapka apna hai.wo dalayl SE sabit nahi hai. Wo sirf aapki Rai hai. Quran aur Hadith SE ek tafseeli mazmun likhkar sabit kijye jis tarahMaine likha. Agar salahiyat ho.. Bazahum ala baz wali ayat hi apke liye kafi hai. Aap bhi to ek ko Sab SE juda kartey Hain.Aap unsey kaisey mukhtalif Hain. Pura Quran padh jaiye aapko koi aayat nahin milegi jisme kisi nabi ko Kam ahmiyat di gayi ho.  Chahe Hadaharat Maryamakaazaiakar ho ya Hadhrat Musa ka ya Hadhrat Isa ka ya deegar paighambaron ka.
    By Arshad - 10/17/2019 11:15:27 AM



  • Aapki nazar me sarey tarjume ghalat Hain pata nahin aapko apni ilmiyat par itna ghurur kaise aagaya.Usule fiqh, usule tafseer, qawaid usule tarjuma aap Sab jante Hain magar us ilm ka koi mazahra abhi Tak AAP nahi kar paye. Siwai mobalgha aarayi aur boghz aur hasad ke Izhar ke.
    By Arshad - 10/17/2019 10:17:19 AM



  • Main kisi ka bhi tarjama uthaleta Hun to AAP hi mustanad trajuma kyun nahi pesh kar sakey. Aap hi apna tarjuma pesh kijye magar dalayl SE baat kar ke to dikhaiye. Salman Nadvi sb SE puchhye ke Arabi janney ke bawajud unhoney IS ko support kyun Kiya? Aap apne daawey ke support me hawala laiye. Abhi Tak AAP ney hawala kyun nahi pesh Kiya. Agar sabit hai to Kahan sabit hai.kisney farmaya kis ney likha? Hawala pesh kijye. Quran SE nahi to classical scholars ka hi hawala pesh kijye. Frustration me aul faul bakney se koi fayda nahi hoga.aur na degree ka dhons chalega. Aap jaisey degree Waley bahut ghumtey Hain.
    By Arshad - 10/17/2019 10:09:55 AM



  • Aap me salahiat hai to Meri baton ko dalail was barahin se katye. Degree ka dhauns Kam nahi aayega.
    By Arshad - 10/17/2019 10:01:18 AM



  • Aap Kya Maulana Salman Hasani Nadvi SE zyada Arabi jante Hain. Unhone ISIS aur deegar terror organisations ka open support Kiya. Quran ki khilafwarzi usi elaqe me zyada ho rahi hai Jahan ke logon ki madri zaban hi Arabi hai. ISIS, Al Qaida aur Taliban ke intehapasandon ki Madrid zuban Arabi hai to phir aap ki nazar me woh Deen aap SE zyada jantey honge aur AAP Dil se snhey support kartey honge. Uper Dil se refutation likhtey Hain kyunkey apko yahan rupay kamana hai. 
    By Arshad - 10/17/2019 9:57:50 AM



  • Aap to .ujhse hi debate nahi kar parahe Hain. To kisi Salim SE Kya baat karenge. Aap Quran ke hawalon se bahut bidakte Hain. Hadith ko.bhi nahi mante to phir apni atkal pachchu baten zabardasti manwaiyega? Aap to daleel me sath jawab Dene ki ahliyat nahi rakhte
    By Arshad - 10/17/2019 8:36:16 AM



  • Teen comment me hi frustration nikal Gaya? Teenon me koi dalil ta hawala nahin hai sirf degree ka dhauns aur ilmiyyat ke khokhle dawaey Hain  aurmobalgha arayi hai.Maine Jo kuchh bhi likhaa uske support me Quran aur Hadith ka hawala Diya hai. Aap Quran aur Hadith ki ghalat thahra rahe hain. p
    By Arshad - 10/17/2019 8:32:04 AM



  • قرآن کریم میں ہے : لا نفرق بين أحد من رسله

    مومن کا کہنا ہے کہ ہم اللہ تعالی کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے ، جیسے یہود اور نصاری نے فرق کیا کہ وہ بعض پر ایمان لائے اور بعض کا انکار کر بیٹھے ۔ یہی اس کا شان نزول ہے ۔ اسی پس منظر میں یہ آیت کریمہ کا نزول ہوا ۔

    اس سے ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ فضائل میں سب برابر ہیں بلکہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ جس طرح یہود اور نصاری بعض انبیاء پر ایمان لانے میں فرق کرتے  اس طرح مومن فرق نہیں کرتے بلکہ مومن تمام انبیاء ورسل پر ایمان رکھتے ہیں ۔

    دوسری آیت کریمہ جہاں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا : تلک الرسل فضلنا بعضھم علی بعض ۔۔۔وہاں یہ مفہوم ہے کہ اللہ تعالی نے بعض رسل کو بعض پر فضیلت عطا کی ۔۔۔علی بعض سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ بعض کو بعض پر فضیلت ہے ۔

    فضل یفضل باب تفضیل سے ہے ۔معنوی اعتبار سے اس کے کئی مترادفات ہو سکتے ہیں لیکن معنا کوئی فرق نہیں چاہیں آپ ممتاز کرنا، فضیلت دینا ، افضل بنانا ترجمہ کر لیں ۔ اصل مسئلہ ہے بعض کو بعض پر ممتاز بنانا ، یا بعض پر فضیلت دینا ، یا بعض کو افضل بنانا ۔۔۔سب ایک ہی معنی کے مصداق ہیں۔

    علی بعض پر غور کریں ۔

    اس آیت میں اجمالا ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بعض کو بعض پر فضیلت ہے لیکن یہاں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کون بعض ہیں جن کو بعض پر فضیلت ہے تو  تفصیلا جاننے کے لیے پورے قرآن کا مطالعہ کریں، ساری خوبیوں کو جمع کر لیں ، پھر تمام احادیث کو جمع کر لیں پھر ان سب میں غور کریں ۔سب  سے یہی بخوبی واضح علی الاطلاق ہوتا ہے کہ آخری نبی علیہ السلام افضل الانیباء ہیں ۔


    By Ghulam Ghaus Siddiqi غلام غوث الصديقي - 10/17/2019 5:31:57 AM



  • صرف ایک بات جان لیں آپ کے لیے کافی ہوگا کہ اگر افضل الانبیا ء کے  فضائل بیان کئے جائیں تو پوری زندگی ختم ہو جائے گی لیکن فضائل ختم نہ ہوں گے ۔

    پہلےمحبت کرنا سیکھیں پھر فضائل پر نظر کریں ۔ ادب انبیاء پیدا کیجیے پھر خود سمجھ آئے گا ۔علم دین سیکھنے کے لیے تواضع ، انکساری ،گریہ وزاری ، سجدہ میں وقت گزارنا، باری تعالی سے فہم دین کے لیے آنسو بہانا سیکھیں ۔یہ علم دین قلب سے تعلق رکھتا ہے اور جب قلب میں ہی فساد ہو ، عناد وتعصب ہو تو کوئی بات قلب میں نہیں اتر سکتی ۔


    By Ghulam Ghaus Siddiqi غلام غوث الصديقي - 10/17/2019 4:27:33 AM



  • سوال کرنے والے کئی طرح کے ہوتے ہیں : ایک جو محض طعن کا ارادہ رکھتے ہیں ، ایک وہ جو سیکھنے جاننے کا ارادہ رکھتے ہیں ،

    اس کی مثال قرآن کریم میں دیکھیں : ایک ابلیس تھا جس نے اللہ تعالی سے سوال کیا کہ کیا تو ایسے کو خلیفہ بنائے گا جو زمین میں فساد ریزی کرے ، اس کا یہ سوال متکبرانہ تھا ۔کیا نتیجہ ہوا ۔وہ ابلیس بنا۔

    اور فرشتوں نے جو سوال کیا تھا اس میں ادب تھا ، مقصد علم حاصل کرنا تھا، خلوص تھا،  توجب اللہ تعالی نے انہیں بتایا تو وہ جواب سے مطمئن ہوئے حالانکہ ابلیس  استکبر وکان من الکافرین  کا مصداق بن گیا ۔

    آپ کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے آپ کے اندر خوب تکبر ہے ، یہ تکبر بغیر کسی خوبی کے ۔میں اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہوں اور جو کچھ اس نے مجھے بالواسطہ علم وفقہ عطا کی اس میں تواضع کے ساتھ اس کی بارگاہ میں سر بسجود ہوتا ہوں ۔

    آپ کی یہ پرابلم اس وقت باقی رہے گی جب تک عربی زبان وادب نہ سیکھ لیں ۔پھر دوسری پرابلم جو سب سے  بڑے ہے وہ یہ قرآن سیکھنے سمجھنے  کے کچھ اصول وضوابط ہیں ۔اٹکل پچو سے سمجھنا سوائے پر خطر راہ پر چلنے کے کچھ نہیں ۔

    کلاسیکل اسکالر سے جو اس قدر نفرت اور عناد آپ کی تحریر میں نظر آتا ہے معلوم پڑتا ہے اندھی نفرت ہے ۔کیونکہ آپ جانتے ہی  نہیں کلاسیکل اسلامک اسکالر کا کیا اصول اور کیا نظریہ رہا ہے ۔

     


    By Ghulam Ghaus Siddiqi غلام غوث الصديقي - 10/17/2019 4:01:24 AM



  • ‘‘میرے مضمو ن ”انبیاء کی فضلیت“ پر غلام غوث صدیقی صاحب کو کچھ اعتراضات ہیں۔ ایک اعتراض یہ ہے کہ تمام انبیاء کو (قرآن کے حوالے سے) برابر ٹھہرایا ہے’’

    جناب ارشد صاحب !

    کس کا کیا اعتراض ہے؟ نہ سوال سمجھے نہ جواب دے پائے اور مضمون لکھ ڈالے۔

    آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم  افضل الانبیا ہیں یہ تواتر کے ساتھ ثابت ہے ۔اس میں کسی کو کوئی بحث نہیں سوائے آپ کو ۔

    نہ تو عربی آتی ہے نہ قواعد افہام قرآن تو کس نہج سے آپ سے گفتگو کی جائے ؟ اٹکل پچو سے ترجمہ کسی کا بھی اچھا لگتا ہے اٹھا لیتے ہیں  اور مضمون لکھ ڈال دیتے ہیں!!

    اپنی طرف سے کوئی اچھے اسکالر، یا بہترین عالم دین  کو لائیے پھر ڈیبیٹ کرتے ہیں ۔آپ بغیر اصول وضوابط کے کاپی پیسٹ والے قاری محض ہیں ۔م 


    By Ghulam Ghaus Siddiqi غلام غوث الصديقي - 10/17/2019 3:46:36 AM



Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content