certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (26 Jul 2018 NewAgeIslam.Com)



Sufi discourse: Taqwah is an Antidote to Haughtiness—Part-5 بزبانِ تصوف: تقویٰ غرور و تکبر کا نشہ توڑتا ہے

 

 

 

مصباح الہدیٰ قادری ، نیو ایج اسلام

21 جولائی 2018

امام قشری فرماتے ہیں کہ تقویٰ کے متعدد درجات ہیں ۔ شرک و کفر اور معاصی سے بچنا عوام کا تقویٰ ہے، اپنے اعمال صالحہ بھول جانا اولیائے کرام کا تقویٰ ہے اور اللہ کے سامنے اپنی ہستی کو نیستی تصور کرنا اور اپنے محاسن و کمالات کو اللہ سے منسوب کرنا انبیائے کرام کا تقویٰ ہے۔ جس طرح ہر اچھی شئی کی ایک اپنی خوبصورتی ہوتی ہے اسی طرح اسلام کا حسن تقویٰ میں ہے۔ اور تقویٰ کیا ہے ؟ تقویٰ ہر اس شئی کو ہر اس فعل کو اور ہر اس عمل کو ترک کر دینے کا نام ہے جو معرفت خداوندی کے حصول میں سدراہ بنے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ،‘‘ہم (از راہ تقویٰ) ایک فعلِ حرام کے ارتکاب کے خوف سے (احتیاطاً) ستر حلال کاموں سے گریز کرتے تھے’’۔ جب انسان کے ظاہری اعمال و افعال اور حرکات و سکنات درست ہو جائیں تو اسے ظاہری تقویٰ کہا جاتا ہے اور جب انسان کا قلب ما سویٰ اللہ تمام مخلوقات سے خالی ہو جائے تو یہ باطنی تقویٰ ہے۔ اور اس کا انعام یہ ہے کہ جس طرح اس دنیا میں سرداری سخی اور مالدار لوگوں کو حاصل ہوتی ہے اس طرح آخرت میں اتقیاء اور صلحاء کو جنتیوں کی سرداری کا تاج پہنایا جائے گا۔

حضرت مخدوم الملک شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

‘‘تقویٰ ملک عظیم است منازعت نپذیرد و دین غیور است شرکت بر ندارد نہاد ۔ خواجہ ثقلی عظیم دارد سدِّ راہِ تقویٰ شدہ است۔ تا این سدِّ بی دولتی را پست نکنی از تقویٰ متقیان ہر چہ گوئی از تو مسلم نیست ۔ ہر چند با خویشتن آشنا تر میشوے آن سدِّ بدبختی و بند بیدولتی محکم تر میشود ۔ و تا باخود آشنائی ازوی بیگانۂ ،از خود بیگانہ شو تا باو آشنا گردی۔ ہر کہ در او راہ سدِّ خوشتن ماند گو خواہ مرقع پوش و سجادہ برگیر و خواہ قبا بربند و تیغ بردارد ہر دو یکی ، و سدِّ بد بختی جز در سایۂ دولتِ پیرِ پختہ پست نتوان کرد، و این بادیۂ خونخوار را جز ببدرقۂ صاحبدولتی نتوان برید –اینست کہ گفت،

زنہار تا نیائی بی مردی اندرین رہ        *      زیراکہ این بیابان خونخوار می نماید

گر مرد رہ نۂ تو بر بوئے گل چہ بوئی      *      رو باز گرد کین رہ پرخار می نماید*

ترجمہ: تقویٰ (طاعت و بندگی کی) ایک عظیم سلطنت ہے جس میں نافرمانی و سرکشی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اور اللہ کا دین بڑا غیرت مند ثابت ہوا ہے (اسی لئے) اس میں شرکتِ غیر (بے دینی) کا کوئی کام نہیں۔ یہ جو تمہارے سر پر (گناہوں کا) اتنا بھاری بھرکم بوجھ ہے در اصل وہی تقویٰ کی راہ میں تیری رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ جب تک تو راستے کے اس پتھر کو ریزہ ریزہ نہیں کر دیتا تب تک تیری زبان پر نیکی اور تقویٰ کی بات زیبا نہیں دیتی۔ جب تک تو خود بینی اور نفس پروری میں مشغول رہے گا بد بختی اور خسران و محرومی کے سائے تیرے اوپر دراز تر ہوتے جائیں گے۔ جب تک تو اپنے نفس میں مشغول رہے گا معرفت حق سے محروم رہے گا ، اور (یقین جان کہ) تو نے خود بینی اور نفس پروری سے کنارہ کشی اختیار کی نہیں کہ تجھے (ذات حق) سے آشانائی کی لذت مل گئی۔ اور جو اسی سنگ راہ (خود بینی اور نفس پروری) میں الجھا رہا وہ خواہ خرقہ پوشِ تصوف ہو یا جبہ و دستار باندھے مسند سجادگی پر متمکن کوئی صاحب سجادہ ہو یا ہتھیاروں سے لیس کوئی مسلح سپاہی ہو ، دونوں ایک جیسے ہیں اور ان میں کوئی فرق نہیں۔ اور (تقویٰ کے راستے میں)بدبختی اور محرومی کا یہ بھاری پتھر ایک پختہ (اور واقفِ اسرارِ طریقت) پیر کی مدد کے بغیر نہیں ہٹایا جا سکتا۔ اور (تقویٰ و پرہیزگاری کا) یہ خونخوار سحراء ایک کامل شیخ طریقت کی نگہبانی کے بغیر عبورکرنا ناممکن ہے۔ یہی بات کسی محرمِ راز نے درج ذیل اشعار میں کہی ہے:

زنہار تا نیائی بی مردی اندرین رہ        *      زیراکہ این بیابان خونخوار می نماید

ترجمہ: خبردار!اس راہ (طریقت) میں کبھی کسی (کامل) مرشد کے بغیر قدم نہ رکھنا، کیوں کہ اس راہ میں بڑے خونخوار جنگلات پڑتے ہیں۔

گر مرد رہ نۂ تو بر بوئے گل چہ بوئی      *      رو باز گرد کین رہ پرخار می نماید

ترجمہ: چونکہ تم اس (راہ کی کلفتوں اور اذیتوں) سے ناواقف ہو اسی لئے پھولوں کی مہک پا کر دوڑے چلے آتے ہو، جاؤ اپنی راہ لو کہ یہ راہِ (وفاء) کانٹوں سے بھری پڑی ہے۔

‘‘تقویٰ آنست کہ بہیچ آفریدہ بچشم تہاون ننگری اگر موری راہ بر تو گیرد زہرہ نداری کہ پائے برو نہی۔ در آثار آمدہ است کہ امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ وقتی در راہی میگذشت کنارۂ نعلین او بموری رسید ، مجروح گشت۔ رنج آن مور در دل علی اثر کرد ، دید آن مور را کہ دست و پاء میزند۔ علی بادلِ پر درد پیش آن مور بنشست و میگریست و لرزہ پر اعضاء او اوفتادہ چناکہ بی طاقت گشت۔ آن مور خستہ بحیلتی خود را در سوراخ افگند۔ علی با دل پر درد از آنجا برخاست۔ چون شب در آمد حضرت رسالت ﷺ را در خواب دید کہ بانگ بروی میزند و میگوید ‘‘یا علی چرا گوش بخویشتن نداری کہ امروز در ہفت آسمان مظالم خصومت تو بودہ است، آن مور کہ تو پای بر وی نہادی از صدیقانِ حضرت بود و سرور اجناس خویش بود، ازان روز کہ او را افریدہ اند طرفۃ العینی تسبیح و تمہید وی از حضرت منقطع نہ شدہ است۔ مگر آن روز کہ تو پای بروی نہادی۔ گفت لرزہ از سیاست مہتر بر دلِ من مستولی گشت۔ گفتم یا رسول اللہ تدبیر من چیست و چگونہ بود؟ گفت یا علی بجای خویش باش ودل بجای دار کہ ہمان مور عذر تو از حضرت خداوند باز خواست و گفت الٰہی تو قصد را در کارہامعتبر کردۂ و علی را در آنچہ میرفت ہیچ قصد نبود او را بمن بخش۔ شفاعت آن مور ترا کہ شجاع درگاہ مائ بر فتراک منت او بستند و از تو عفو کردند۔ یا علی اگر شفاعت آن مور نبودی آبروئ تو درین درگاہ ریختہ شدی۔ این دانی چیست از حق خویش درگذرند ، اما از حق دوستانِ خویش درنگذرند۔ ہشیار باش کہ ہیچ ذرہ نیست در آفرینش کہ درو این حدیث بروی گذر نکردہ است چنانکہ گفت:

ہر چہ تو بینی زِ سپید و سیاہ              *      بر سرِ کاریست درین بارگاہ

نگہ کن ذرہ ذرہ گشتہ پویان    *      بہ حمدش نکتہ توحید گویان*

ترجمہ: ‘‘پیارے سنو! تقویٰ (کا تقاضا) تو یہ ہے کہ کسی حقیر سے حقیر تر مخلوق پر بھی تیری نظر حقارت سے نہ اٹھے ۔ اگر تیرے راستے میں چیونٹی بھی آئے تو اس طرح تکبر سے مت اکڑ کہ تیرا پاؤں اس پر بڑ جائے۔ اس لئے کہ حدیثوں میں آیا ہے کہ ‘‘ایک مرتبہ امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہیں تشریف لے جا رہے تھے کہ (لاعلمی) میں آپ کے جوتے کا ایک کنارہ ایک چیونٹی پر پڑ گیا، وہ زخمی ہو گئی۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل میں (اس چیونٹی کے زخمی ہونے کا) بڑا ملال ہوا، (اس چیونٹی پر جب آپ کی نظر پڑی تو) آپ نے دیکھا کہ وہ (درد کی شدت سے) اپنے ہاتھ پاؤں زمین پر مار رہی ہے۔ آپ کا دل بھر آیا اور آپ اس چیونٹی کے قریب جاکر بیٹھ گئے اور گریہ و زاری کرنے لگے ، اور آپ کے جسم پر اس قدر لزرہ طاری ہوا کہ معلوم ہوتا تھا آپ کے اندر کوئی طاقت و قوت ہی نہیں بچی ۔ وہ مجروح اور زخمی چیونٹی بمشکل کسی طرح اپنے سوراخ میں چلی گئی۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ غمگین دل لیکر وہاں سے چل پڑے۔ جب رات ہوئی تو آپ نے خواب میں دیکھا کہ محبوب خدا رسول اکرم ﷺ تشریف لائے ہوئے ہیں اور انہیں ڈانٹ لگارہے ہیں اور یہ فرما رہے ہیں ‘‘ائے علی کیا تم نہیں سنتے کہ آج ساتوں آسمانوں میں جدھر بھی دیکھو تیرے ہی ظلم کا چرچہ ہے! ائے علی تو نے جس چیونٹی پر اپنے پاؤں ڈالے وہ اللہ کی بارگاہ میں صدیقوں میں سے تھی اور اپنے قوم کی سردار بھی تھی۔ اور جب سے وہ پیدا ہوئی تھی پلک جھپکنے کے برابر بھی اللہ کی تسبیح و تہلیل سے غافل نہیں ہوئی تھی حتیّٰ کہ اس دن تم نے اس پر اپنی پاؤں رکھ دی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، ‘‘میں رسول اکرم ﷺ کی یہ باتیں سن کر لرزہ بر اندام ہو گیا اور آقا ﷺ کی بارگاہ میں عرض گذار ہو کہ ‘‘یا رسول اللہ ﷺ اب میں کیا کروں اور کیا اس کا کوئی حل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا، ‘‘علی اپنے دل کو سنبھالوں اور ذرا چین کی سانس لو! اس چیونٹی نے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں تیری جانب سے معذرت طلب کی اور عرض کیا کہ ‘‘ائے اللہ ! تو نے ہر کام میں نیت کو معتبر رکھا ہے اور علی کے معاملے میں جو کچھ بھی ہو گزرا س میں علی کا کوئی قصد اور ارادہ نہ تھا، ائے بار الٰہ! تو میری طرف سے علی کو معاف کر دے’’۔ ائے علی چونکہ تم میری بارگاہ میں شجاعت و بہادری کا نمونہ کامل ہو اور اس چیونٹی نے تمہاری سفارش کا احسان رکھا تو اللہ نے تمہیں اپنے دامن عفو و درگذر میں پناہ عطا کر دیا۔ ائے علی اگر وہ چیونٹی تیرے حق میں سفارشی نہ بنتی تو بارگاہ رب العزت میں تیری رسوائی ہوتی’’۔ کیا تم اب بھی نہیں سمجھے کہ اس کا مطلب کیا ہے! اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے حقوق سے تو درگذر کیا جا سکتا ہے لیکن اپنے دوستوں کے حقوق سے چشم پوشی نہیں کی جاتی۔ میری بات غور سے سن لو اور اچھی طرح یاد رکھو کہ اس کائنات کا ایسا کوئی ذرہ نہیں ہے جسے یہ بات معلوم نہ ہو۔

کسی عارف نے کیا ہی خوب کہا ہے:

ہر چہ تو بینی زِ سپید و سیاہ              *      بر سرِ کاریست درین بارگاہ

ترجمہ: ‘‘عالم رنگ و بو کی ہر شئی بارگاہِ خداوندی کے کسی نہ کسی کام میں لگی ہوئی ہے’’۔

نگہ کن ذرہ ذرہ گشتہ پویان    *      بہ حمدش نکتہ توحید گویان

ترجمہ: ‘‘نگاہ اٹھا اور دیکھ! کہ اس کائنات کا ایک ایک ذرہ گردش کر رہا ہے اور حمد باری تعالیٰ کی اپنی زبان میں توحید کا ایک راز بیان کر رہا ہے’’۔

جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

* بحوالہ : مکتوبات صدی ۔مطبع علوی محمد علی بخش خان نقشبندی - سن طباعت 1286 ہجری -صفحہ 200۔

URL for Part -1: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/sufi-discourse--piety-enables-us-to-achieve-salvation-–part-1---بزبان-تصوف--تقویٰ-حصول-نجات-کا-ذریعہ-ہے/d/115819

URL for Part-2:  http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/sufi-discourse--piety-urges-us-to-purify-our-soul-and-heart-–-part-2---بزبان-تصوف--تقویٰ-تصفیہ-ٔقلب-و-باطن-کا-داعی/d/115864

URL for Part-3: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/sufi-discourse--piety-goes-beyond-heaven-and-hellfire---part-3---بزبان-تصوف--تقویٰ-جنت-کی-طمع-اور-جہنم-کے-خوف-سے-آزاد-ہے/d/115908

URL for Part-4: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/sufi-discourse--taqwah-cannot-be-pursued-until-our-all-deeds-are-only-for-allah-almighty—part-4---بزبان-تصوف--تقویٰ-کا-تقاضا-ہے-کہ-ہمارے-تمام-اعمال-صرف-اللہ-کے-لئے-ہی-ہوں/d/115919

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/sufi-discourse--taqwah-is-an-antidote-to-haughtiness—part-5---بزبانِ-تصوف--تقویٰ-غرور-و-تکبر-کا-نشہ-توڑتا-ہے/d/115941

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content