certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (05 Sep 2016 NewAgeIslam.Com)


Islamic Scholars Must Join Ideological War علماء اسلام کا اسلام پسند نظریہ سازوں کے خلاف نظریاتی جنگ میں شامل ہوناضروری

 

 

 

 

 

 

سلطان شاہین، بانی و ایڈیٹر، نیو ایج اسلام

10 جولائی 2016

اس سال عید کے مبارک موقع پر خوشیوں کا نہیں بلکہ کشت و خون کا بازار گرم رہا۔پوری دنیا میں اس سال رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ایک ہزار سے زائد افراد کو داعش کے حکم پر بے رحمی کے ساتھ ہلاک کر دیا گیا۔یہاں تک کہ قتل عام کا یہ سلسلہ عراق اور بنگلہ دیش میں عید کے دن بھی جاری رہا۔ لیکن رمضان کے پورے مہینے میں دہشت کی اس لہر سے داعش کی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کا اشارہ ملا ہے۔ سعودی عرب کے شہروں پر تین حملوں کے ساتھ داعش بھی اپنے خالق کے خلاف قدم اٹھانےکے القائدہ کے طریقہ پر چل چکا ہے۔ اور مدینہ میں مسلمانوں کے دوسرے مقدس ترین مقام مسجد نبوی پر حملے نے مختلف سطح پر اسلام کے اندرایک نظریاتی جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔

آرلینڈو، استنبول، بغداد، ڈھاکہ، جاوا، انڈونیشیا اورمسلم اکثریتی ملک تھائی لینڈ کے جنوبی صوبے پتانی سے لیکر اب سعودی عرب میں مدینہ، جدہ اور قطیف تک ہرجگہ قتل و خون اور تباہیو بربادی کا بازار گرم ہے۔اور ہمیں ہندوستان کے اندر اس حالیہ حملے کی سازش کو بھی نہیں بھولناچاہیے جسے ہماری سیکورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا ہے۔ابھی دنیا اتنے بڑے بڑے حادثات کے غم و اندوہ سے ابھری بھی نہیں تھی کہ بغداد میں صرف ایک ٹرک بم دھماکہ میں 215 افراد ہلاک ہوئے اور 200 افراد زخمی ہوئے۔ڈھاکہ میں حملوں کو انجام دینے والے دہشت گردوں کا تعلق امیر ترین خاندانوں سے تھاجنہیں ملک اور بیرون ملک کے بہترین تعلیمی اداروں میں تعلیم دی گئی ہے۔ انہوں نے کیفے سے بہ حفاظت باہر نکلنے کے لیے یرغمالیوں کو قرآن مجیدکے کچھ اقتباسات کی تلاوت کرنے پر مجبور کر کے قرآن کی بے حرمتی کی، ورنہ انہیں ہلاک کر دیا جاتا۔ ان میں سے کم از کم دو نوجوان براہ راست ہندوستانی اسلام پسند مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک سے متاثر تھے۔ اسلامی دہشت گردی کی اس لہر نے ایک بڑے پیمانے پر پوری دنیا کو غم میں ڈبا دیا ہے۔

یہ تمام وحشت ناک دہشت گرد سرگرمیاں رمضان کے مقدس مہینے میں اور خاص طور پر اس کے آخری عشرہ میں انجام دی گئیں ہیں جسے اس مقدس مہینےکا مقدس ترین عشرہ تصور کیا جاتا ہے۔اگر مسلمان اس مہینے سے پہلے کسی جنگ میں مصروف تھے تو انہوں نے روایتی طور پر اس مقدس مہینے میں جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ اس عشرہ میں انجام دیے جانے والے نیک اعمال کا دوگنا ثواب ہے۔ بظاہر دہشت گرد اپنی سرگرمیوں کوایسا"نیک عمل" گردانتے ہیں جو انہیں جنت لے جائے گا جہاں خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حوروں کی ایک جماعت ان کے استقبال میں کھڑی ہے۔ان تما م واقعات و حادثات کا محرک نام نہاد اسلامی ریاست کے ترجمان ابو محمد العدنانی کا وہ بیان معلوم ہوتا ہے جس میں اس نے اپنے پیروکاروں کو خاص طور پر رمضان کے مقدس اسلامی مہینےمیں امریکہ اور یورپ پر حملے کرنےکی دعوت دی ہے۔خاص طور پر یورپ اور امریکہ میں خلافت کے جنگجوؤں اور حامیوں کے لیے اپنے پیغام میں اس نے کہا تھا کہ "فتح اور جہاد کے مہینہ رمضان کو ہر جگہ کے غیر مومنوں کے لئے آفت و مصیبت کا مہینہ بنانے کے لئے تیار ہو جاؤ........... "۔

لوگ صرف ان کے وحشت ناک مظالم ہی نہیں بلکہ ان سب کی ظاہری نامعقولیت سے بھی مبہوت ہو چکے ہیں۔داعش بظاہر ان غیر حقیقی سرگرمیوں سے کیا حاصل کرنےکی کوشش کر رہا ہے؟ اس کے نتیجے میں اسلام صرف ذلت و رسوائی کا ہی شکار ہو رہا ہےاورآہستہ آہستہ دین اسلام دہشت گردی کادوسرا نام بنتا جا رہا ہے۔حالآنکہ اسلام ایک ایسادین ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ پوری انسانیت کے لئے ایک نعمت کے طور پر آسمان سے نازل کیا گیا ہے۔اسلام عرب سے شروع ہوکر جنگل کی آگ کی طرح ایک ہی صدی کے اندرافریقہ سے لیکر ہندوستان، انڈونیشیا،اسپین اور یہاں تک کہ چین تک تین براعظموں میں پھیل گیا۔کیا داعش اس وحشت ناک خونریزی کے ذریعے مسلمانوں کے دل و دماغ جیتنے کی کوشش کر سکتا ہے؟ کیا مدینہ میں مسجد نبوی پر حملے عالمی مسلم قیادت حاصل کرنے کا طریقہ ہیں؟ یہ دنیا کی سب سے پہلی مسجد ہے اور اسے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تعمیر کیا تھا۔

خود ساختہ خلیفہ ابوبکر البغدادی نے تو چندسالوں پہلے کعبہ میں نصب سنگ اسود کو بھی تباہ کرنے کی بات کی تھی۔داعش رہنما نے کہا تھا کہ "مشرکانہ عبادت" کی یادگاروں کو تباہ کرنا ہر مسلم کا "مذہبی فریضہ ہے"،جو کہ اللہ کے سب سے متبرک اور مقدس گھرکعبہ کا حصہ ہے۔ حجراسودپتھر کی قدی معمارت کعبہ کے مشرقی گوشے میں نصب کیا گیا ہے۔کیا اسلام کے دوسرے مقدس ترین مقام پر حملہ مکہ میں خانہ کعبہ پر تباہ کن حملے کا ایک نقیب ہو سکتا ہے؟

اتفاق کی بات یہ ہے کہ یہ صرف البغدادیہی نہیں بلکہ یہ کسی بھی سلفی وہابی انتہا پسندوں کا کوئی نیا مطالبہ نہیں ہے۔ اس سے قبل ایک کویتی وہابی مبلغ ابراہیم القنداری نے بھی اس پتھر کو تباہ و برباد کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ۔"حجراسود کو قدیم کافرانہرسم اور تصاویر کی مشرکانہ عبادت کا خاتمہ کرنے کے لئے تباہ کر دیا جانا چاہئے"۔مدینہ میں حملے کے بعد فطری طور پر پوری دنیا کے مسلم مذہبی رہنمااس خدشہ کا شکار ہیں کہ داعش مکہ کے مقدس مقامات پر بھی حملہ کر سکتاہے۔یہ پہلے ہی الحضر ، النمرود‎‎اور دور شروكين کے آثار قدیمہ اور مقدس مقامات کو تباہ کر چکے ہیں، جیسے سلفی وہابی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے دیوبندی مدارس کی پیداوار طالبان نے افغانستان میں بامیان بدھا کو تباہ کر دیا تھا۔

ابھی تو یہ امر واضح ہےکہ اسلامی ریاست کی دلچسپی عام مسلمانوں کے دل و دماغ کو جیتنے میں نہیں ہے، جن کی غالب اکثریت کو وہ مرتد سمجھتی ہے۔مجھےیاد ہے کہ نوٹنگھم میں ایک مسلم نوجوانوں نے جو کہ ایک یونیورسٹی کا طالب علم تھا مجھ سے کہا کہ سلفی وہابیت کی سب سے زیادہ بنیاد پرست ذیلی فرقے سے تعلق رکھنے والے صرف اہل حدیث ہی سچے مسلمان ہیں۔میں نے جب ان سے پوچھا کہ ان 99 فیصد مسلمانوں کے بارے تمہاری کیا رائے ہے جو اس وقت اہل حدیثی نہیں ہیں؟ تو اس نے کہا کہ:"وہ اسلام کے سب سے بڑے دشمن ہیں"۔ اس پر جب میں نے اس سے پوچھاکہ اہل حدیثیوں کا ان ’’اسلام کے دشمنوں" کے ساتھ سلوک کیسا ہوگا؟ تو اس نے بڑی آسانی کے ساتھ یہ کہا کہ: "انہیں مار دیا جائے"۔یہ1987 کے اوائل کی بات تھی۔اس وقت مغربی ممالک کی خارجہ پالیسی میں مسلمانوں کو متاثر کرنے والی افغانستان، عراق، وغیرہ جیسی کوئی فاش غلطی سرزد نہیں ہوئی تھی۔میں نے اس سے اپنی گفتگو جاری رکھی اور تفتیش و تحقیق کے بعد میں نے یہ پایا کہ جماعت ’المہاجرون‘ کے بانی عمر بکری اوراسامہ بن لادن جیسے آتش بیان مقرروں کی تقریروں سے متاثر ہو کر1987میں ہی برطانیہ میں رہنے والے مسلم نوجوانوں کی ایک بڑی اکثریت برطانیہ کے مرکزی دھارے کے معاشرے سے خود کو الگ کر چکی تھی۔

مرکزی دھارے کے اسلام پر اس حملے کی بنیادی وجہ محمد ابن عبد الوہاب کی وہ بنیادی تعلیمات ہیں جن کے مطابق ایک مسلمان غیر وہابی مسلمانوں سمیت غیر مسلموں کے ساتھ کسی بھی طرح کا کوئی تعلق نہیں رکھ سکتا۔ الوہاب کا کہنا ہے کہ: "اگر چہ کوئی مسلمان شرک سےبچنے والا موحد ہی کیوں نہ ہو لیکن وہ اس وقت تک کامل مسلمان نہیں ہو سکتا کہ جب تک اس کے کردار اور گفتار سے غیر مسلموں کے خلاف دشمنی اور نفرت کا مظاہرہ نہ ہو۔ (مجموعۃ الرسائل و المسائل النجدیۃ4/291)

لہذا، ان تمام مسلمانوں سے نفرت کیا جانا اور انہیں دشمن سمجھنا ضروری ہے جو غیر وہابی مسلمانوں سمیت جنہیں مرتد تصور کیا جاتا ہے غیر مسلموں کے ساتھ کسی بھی طرح کا کوئی تعلق رکھتے ہیں۔ترکی، عراق، پاکستان، بنگلہ دیش، انڈونیشیا کی تو بات ہی چھوڑ دیں اس میں فطری طور پر سعودی عرب بھی شامل ہے جو کہ دنیا بھر میں وہابی نظریات کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔ مرکزی دھارے کی ہر مسلم حکومت دنیا کے غیر مسلموں کے ساتھ تعلق رکھنے کی پابند ہے۔لہٰذا، ایسے تمام ممالک اور ان کے تمام باشندے ان کا ہدف ہیں۔

یہ امر انتہائی واضح ہے کہ ایک عظیم نظریاتی جنگ خود مسلم ممالک کے اندر جاری ہے۔در اصل یہ شاید میری خام خیالی ہے۔اس لیے کہ مرکزی دھارے کا اسلام اوریہاں تک کہ مسلم حکومتیں یا علماء اب تک اس نظریاتی جنگ میں شامل نہیں ہوئے ہیں۔یہ مرکزی دھارے کے اسلام اور ان مسلمانوں پر ایک بڑی حد تک یک طرفہ حملہ ہے جوقرآن مجید میں تکثیریت پسندی پر مبنی واضح ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ایک پرامن زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں اوردوسروں کے ساتھ بقائے باہمی کا ارادہ رکھتےہیں۔ قرآن کے مطابق تمام سابقہ انبیاء پر ایمان لانا، خواہ انہیں کسی بھی نام سے یاد کیا جاتا ہو اور انہیں مقام و مرتبہ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے برابرسمجھنااور ان کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم کرنا جو کہ سب سے زیادہ قریبی رشتہ ہے، اور ان کے پیروکاروں کے ساتھ معاملات اور تعلقات استوار کرنا ایمان کا ایک بنیادی جز ہے۔ لیکن علماء ہمارے مذہب کے اس پہلو پر بالکل ہی زور نہیں دیتے ہیں۔در اصل ہندوستانی علماء وید، اپنشد، گیتا، سرییوگاوسشٹھاجیسی بے شمار ایسی قدیم روحانی کتابوں کے باوجود جو دنیا میں کہیں بھی نہیں مل سکتیں،ہندوؤں کو اہل کتاب ماننے سے انکارکرتے ہیں۔ حتّیٰ کہ سندھ کے سب سے پہلے عرب فاتح محمد بن قاسم نےآٹھویں صدی کے اوائل میں علماء عرب کے مشورے پر ہندو کتابوں کی تقدیس کو تسلیم کیا تھا۔ علماءکی بات کیا کی جائےیہاں تک کہ متاثرہ حکومتیں محض آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔کسی ایک حکومت نے بھی بامعنی طریقے سے نظریاتی جنگ میں نہ تو شمولیت اختیار کی ہے اور نہ ہی اس کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

یقیناًچند ترقی پسند افراد ایک جوابی حکمت عملی تیار کرنےکی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن ان کے پاس وسائل بہت کم ہیں۔جبکہ دوسری طرف ڈاکٹر ذاکر نائیک کی طرح وہابی اور اہل حدیثی مبلغین کو تمام تر مالی اور میڈیائی وسائل ممکنہ حد تک دستیاب ہیں۔حال ہی میں ذاکر نائیک کو"اسلام کی خدمات"کے لیےسعودی عرب کے سب سےبڑے شہریاعزاز شاہ فیصل ایوارڈ اور2،00،000 امریکی ڈالراور سونے کے تمغہ سے نوازا گیا ہے۔یہ وہی مبلغ ہیں جن کے یوٹیوب ویڈیو نے ڈھاکہ میں ان حملوں کو انجام دینے والے دہشت گردوں کے دلوں میں بنیاد پرستی کی بیج بوئی تھی جس میں20افراد ہلاک ہوئے تھے۔انڈین مجاہدین اور دیگر عالمی دہشت گردوں کے پیچھے بھی محرک انہیں کی تعلیمات ہیں۔

لیکن ہندوستانی علماء کو ان کے ساتھ بحث و مباحثے میں بالکل ہی مشغول نہیں دیکھا جا تا۔ انہوں نے ان کے ساتھ اس وقت بھی کوئی مکالمہ اور مباحثہ نہیں کیا جب اس نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے پورے خاندان کے قاتل’یزید‘ کو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا اوراس طرح اس پر خدا کی رحمت و برکت بھیجی۔ انہوں نے اس کے ساتھ اس وقت بھی کوئی مکالمہ اور مباحثہ نہیں کیا جب اس نے یہ کہا کہ مسلمان بھیڑ بکریوں کے ساتھ یا جنسی غلاموں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کر سکتے ہیں۔ وہ اس کے ساتھ اس وقت بھی کوئی مکالمہ اور مباحثہ نہیں کرتے ہیں جب وہ اپنے نام نہاد پیس ٹی وی پر علیٰ الاعلان دوسرے مذاہب کی تذلیل و توہین کرتا ہے۔ وہ اس کے ساتھ اس وقت بھی کوئی مکالمہ اور مباحثہ نہیں کرتے ہیں جب اس کے ٹی وی شوز میں ہندوؤں اور عیسائیوں کے ساتھ مکالمہ اور گفتگو سے ملک میں فتنہ و فساد کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ واضح طور پر اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی باتیں ان موجودہ اصول و نظریات پر مبنی ہیں جن پر مسلمانوں کااجماع ہے۔ ذاکر نائک پر تنقید کرنے والے علماء اپنی عادتوں کی بنیاد پر منافقانہ رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر جب سلفیت اور وہابیت پہلی بار ملک میں داخل ہوئی تو دار العلوم دیوبندنے اسکے خلاف فتویٰ جاری کیا تھا۔ اور جب سعودی عرب سے سلفی وہابی علماء ہندوستان آئے تو سب سے پہلے دیوبند کے رہنماؤں نے ان کا خیر مقدم کیااور وہ عظیم الشان استقبالیہ کے لیے ہمیشہ دیوبند گئے جبکہ دیوبند نے وہابیت کے خلاف اپنے فتوے سے باضابطہ طور پر رجوع نہیں کیا ہے۔اور اس بات میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان میں دیوبندی مدارس سعودی عرب کی حمایت سے طالبان کی فوج تیارکر رہے ہیں۔اصل مسئلہ تقریبا تمام مکاتب فکر کے علماء کے درمیان اتفاق رائے کا اسلامی اصول اور قانون ہے۔ ابن تیمیہ اور محمد ابن عبد الوہاب کی سلفی وہابی تعلیمات شیخ سرہندی اور شاہ ولی اللہ وغیرہ جیسے عظیم اور مشہور و معروف فقہا کی تعلیمات سے بہت زیادہ مختلف نہیں ہیں۔یہ سیاسی تسلط حاصل کرنے کے مقصد سے مرتب کیے گئے ایسے اصول و نظریات ہیں جن پر ازسر نو غور کرنا ہوگا۔اسلام کوتصوف، امن اور تکثیریت پسندی پر مبنی ایک نئی فقہ کی ضرورت ہے۔

اس کے لیے وسیع پیمانے پر ایک معنیٰ خیز جد و جہد کرنے کی ضرورت ہے۔ چند ترقی پسند اہل علم کے علاوہ، شاید ہی کوئی روایتی علما اس وقت اس جد و جہد میں شامل ہونے کے لیے تیارمعلوم ہوتے ہیں۔ وہ داعش مخالف فتوے دینے کے لئے تیار ہیں اور وہ قرآن کی مکی آیات کی بنیاد پر یہ کہتے ہیں کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔ لیکن وہ ان عسکریت پسند نظریہ سازوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ دیگر مذاہب کے ساتھ صبر، استقامت، امن، بقائے باہمی،تکثیریت پسندی اور احترام کی تعلیمات پر مبنی مکی آیتیں منسوخ ہو چکی ہیں اور ان کی جگہ جنگ، اجنبیوں سے نفرت اور دوسرے مذاہب کے ساتھ عدم برداشت کی تعلیمات پر مبنی مدنی آیتوں نے لے لی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ دہشت گردی کی موجودہ عالمی لہر مسلم حکومتوں اور علماء کو یہ سوچنے پر آمادہ کرے کہ ان کے پاس اسلام کے اندر لڑی جانے والی جنگ میں شامل ہونے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/radical-islamism-and-jihad/sultan-shahin,-founding-editor,-new-age-islam/ramazan-wave-of-terror--islamic-scholars-must-join-ideological-war-against-islamist-ideologues/d/107909

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/sultan-shahin,-founding-editor,-new-age-islam/islamic-scholars-must-join-ideological-war---علماء-اسلام-کا-اسلام-پسند-نظریہ-سازوں-کے-خلاف-نظریاتی-جنگ-میں-شامل-ہوناضروری/d/108466

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content