certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (15 Mar 2017 NewAgeIslam.Com)


Muslim Countries Should Follow the Holy Quran اگر اقوام متحدہ کے چارٹر پر نہیں تو مسلم ممالک کو قرآن کریم کے اصولوں پر ضرور عمل کرناچاہئے ۔ جنیوا میں یو این ایچ آر سی سے سلطان شاہین کا خطاب



سلطان شاہین، فاؤنڈنگ ایڈیٹر، نیو ایج اسلام

10 مارچ 2017

یو این ایچ سی آر، جنیوا، بحث عامہ، 9 مارچ 2017

 آئٹم نمبر 3، عنوان: شہری، سیاسی، اقتصادی، سماجی، ثقافتی اور حق ترقی سمیت تمام قسم کے انسانی حقوق کا فروغ اور ان کا تحفظ۔

ایشیائی یوریشین ہیومن رائٹس فورم کی جانب سے سلطان شاہین، فاؤنڈنگ ایڈیٹر، نیو ایج اسلام کا زبانی بیان

 9 مارچ 2017

عزت مآب صدر،

سوچ و فکر اور مذہب کی آزادی کا حق اقوام متحدہ کے قیام کے بعد سے ہی دنیا کے لئے مذہب کا ایک عنوان رہا ہے۔ اور اس کو عملی جامہ عطا کرنے کے لئے اب تک انتھک کوششیں کی گئی ہیں جس کی تازہ ترین مثال 2011 میں قرارداد 18/16 کا شامل کیا جانا ہے۔ اسلامی اور مغربی ممالک کی ایک اتفاق رائے پر مبنی اس قرار داد نے خاص طور پر مسلم ممالک میں اقلیتوں کے لیے امید کی کرن پیدا کی تھی۔ اس میں تجویز یہ پیش کی گئی تھی کہ اب وہ ممالک جو اقوام متحدہ کے رکن ہیں اپنے یہاں توہین رسالت اور دیگر غیر جمہوری، فرقہ وارانہ اور اقلیت مخالف قوانین کو منسوخ کریں گے۔

لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس سے بہت زیادہ تبدیلی پیدا نہیں ہوئی ہے ۔ انڈونیشیا جیسےایک اعتدال پسند مسلم ملک نے قرآن کا حوالہ پیش کرنے کی پاداش میں ایک عیسائی گورنر پر مقدمہ چلایا۔ اسی طرح ایک دوسرے ملک ملیشیا میں عیسائیوں پر خدا کے لیے لفظ اللہ کے استعمال پر پابندی اب تک برقرار ہے۔ مغرب سمیت دنیا بھر کے تمام مدارس میں اجانب بیزاری اور عدم برداشت کی تعلیم اب بھی دی جارہی ہے۔

توہین رسالت کے قوانین اب بھی پاکستانی قانون کی کتابوں میں موجود ہیں۔ پنجاب کے لبرل گورنر سلمان تاثیر کو محض اس لیے موت کے گھاٹ اتار دیا گیاکہ اس نے ایک ایسی عیسائی خاتون کے لیے ہمدردی کا مظاہرہ کیا جسے غلط طریقے سے توہین رسالت کا ملزم بنایا گیا تھااور اس نے توہین رسالت کے قانون کی منسوخی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس قانون کی بنیاد پرجبراً مذہبی اقلیتوں پر توہین رسالت کا الزام عائد کیا جا سکتا ہے اور اس الزام کو بنیاد بنا کر مشتعل عوام یا عدلیہ انہیں موت کے گھاٹ اتار سکتی ہے۔اور اس کے لیے کسی ثبوت کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے اس لیے کہ یہ مبینہ طور پر الزام لگانے والے کو دوبارہ توہین رسالت پر آمادہ کرنے کے مترادف ہو گا۔ اسی طرح اقلیتی ہندو، عیسائی، شیعہ اور احمدیوں پر مختلف قوانین کی بنیاد پرحملوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ پاکستانی قوانین میں اپنی شناخت مسلمان بتانے پر احمدیوں پر پابندی ہے۔

اب وہ وقت آ چکا ہے کہ کونسل کوئی ایسا راستہ تلاش کرے جس یہ معلوم ہو سکے کہ جن ممالک نے اس کونسل کے عہد سے اتفاق کیا ہے وہ اس پر عمل بھی کرتے ہیں۔

ایسی اقلیت مخالف قانون سازی سے صرف اقوام متحدہ کی قرارداد کی ہی نہیں بلکہ اسلام کی بنیادی مقدس کتاب قرآن کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ قرآن مجید توہین رسالت کے لئے کوئی سزا تجویز نہیں کرتا۔ اور نہ ہی یہ دوسروں کو کافر بنانے کی اجازت دیتا ہے۔ قرآن میں اللہ کا فرمان بڑا وضح ہے: ‘‘لا اکراہ فی الدین’’، (دین میں جبر کی کوئی گنجائش نہیں ہے)۔ (سورۃ البقر: آیت 256)۔

اگر اقوام متحدہ کے چارٹر نہیں تو مسلم ممالک کو کم از کم اپنی بنیادی کتاب قرآن مجید پر عمل کرنا چاہئے۔

قرارداد 18/16 کو انسانی حقوق کونسل نے خاص طور پر تشدد، منفی دقیانوسی تصورات، امتیازی سلوک،تشدد بھڑکانے اور مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر کسی کے خلاف تشدد کے فروغ کو روکنے کے لئے منظور کیا تھا۔ اسے کونسل کے دو بلاکوں نے اتفاق رائے کے اقدام کی صورت میں پیش کیا تھا جن کی نمائندگی OIC (او آئی سی)، مغربی یورپ اور دیگر ریاستوں کے گروپ کرتے ہیں۔ 2000 کے بعد سے او آئی سی ادیان کی توہین پر قدغن لگانے والے ایک قرارداد کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ مغربی ممالک اس کی مخالفت میں ہیں اور اظہار رائے کی مکمل آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

پاکستان میں قرارداد18/16 کے انطباق میں نہ صرف توہین رسالت کے قانون کی منسوخی بلکہ اس قانون کی منسوخی بھی شامل ہوگی جس کی بنیاد پر احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔ ایک ایسی سیکولر، جمہوری حکومت جس نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور قرارداد 18/16سمیت مختلف دیگر معاہدوں پر دستخط بھی کیا ہو اس کے پاس اس بات کا تعین کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ کس کا تعلق کس مذہب سے ہے اور کس کا تعلق کس مذہب سے نہیں ہے۔ ضروری ہے کہ یہ مکمل طور پر انفرادی یا کمیونٹی کا استحقاق ہو۔

قرآن پاک کی سورۃ 49 اور آیت 14 میں ان خانہ بدوش دیہاتی عربوں کا ذکر ہے جو فتح مکہ کے بعد مذہب اسلام کو قبول کرنے کا دعویٰ کر رہے تھے۔ قرآن نے ان سے کہا تھا کہ ایمان تو ہنوز تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا ہےلیکن پھر بھی تمہیں تمہارے اچھے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اگر چہ خود خدا نے اس بات کی گواہی دی تھی کہ ایمان ابھی تک ان کے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا ہے لیکن کسی بھی طرح انہیں اسلام پر عمل کرنے سے روکا نہیں گیا تھا ۔ اور پاکستان کا حال یہ ہے کہ ایک پوری کمیونٹی کو جو کہ ایمان بھی رکھتی ہے اور ان کا عمل بھی مسلمانوں والا ہے، لیکن انہیں اپنا مذہب اختیار کرنے کے ایک لازمی حق سے محروم کیا جا رہا ہے، اور اس کی بنیاد محض چند معمولی فقہی اختلافات ہیں۔ پاکستانی حکومت کو یہ فیصلہ کرنے کا حق کس نے دیا ہے کہ کون مسلمان ہے اور کون مسلمان نہیں ہے؟ کیا ایک حکومت کا کام یہی ہے؟ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ متفقہ قرارداد 18/16 اور پاکستان کے اس پر اتفاق نے بھی اس کے طرز عمل میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی ہے۔

اسی طرح، نفرت و عداوت کی تعلیمات پر مبنی کتابیں بشمول مغرب کے، دنیا بھر میں مسلم ممالک کے مدارس اور اسکولوں میں اب بھی پڑھائی جا رہی ہیں۔ سعودی سلفی نصابی کتابیں اب بھی دنیا بھر میں مسلم طالب علموں کو اجانب بیزاری کی تعلیم دے رہی ہیں۔ مثال کے طور پر، انہیں یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ اگر دوسرے راستے موجود ہوں تو کسی غیر مسلم کو نہ تو ملازمت دینی چاہئے اور نہ ہی ان کے یہاں ملازمت اختیار کرنی چاہئے۔ سعودی درسی کتابوں کے مطابق غیر مسلم کی اصطلاح میں تمام غیر سلفی، غیر وہابی، دیگر فرقوں کے مسلمان اور خاص طور پر صوفی مسلمان بھی شامل ہیں۔ صوفی مزارات پر حملے –جیسا کہ ابھی حال ہی میں سندھ پاکستان میں انجام دیا گیا جس میں تقریبا ایک سو زائرین جاں بحق ہوئے اور 250 زخمی، براہ راست ایسی ہی تعلیمات کا فطری نتیجہ ہیں۔

تاہم، اس کا الزام مکمل طور پر سلفی وہابی نظریہ پر ڈالنا غلط ہو گا –اگر چہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ اسلامی تعلیمات کی ایک انتہا پسند تشریح فراہم کرتا ہے اور دنیا بھر میں اس کی ترویج و اشاعت پر اربوں اور کھربوں پیٹرو ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ اس لیے کہ یہ بھی حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ گورنر سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کا تعلق ایک غیر وہابی بریلوی فرقے سے تھا، اور اسے ایک بریلوی عالم حنیف قریشی نے اس کے قتل پر ابھارا تھا اور اس کے بدلے میں اسے جنت کا وعدہ دیا تھا۔ اب لوگوں نے اپنی جبین نیاز خم کرنے کے لئے اسلام آباد کے مضافات میں اس کا ایک مزار تعمیر کیا ہے۔

بریلویوں کو صوفی مسلمان تصور کیا جاتا ہے اور صوفی مزارات پر سلفی وہابی حملوں کا اصل شکار یہی طبقہ رہا ہے۔ قاتل ممتاز قادری کے جنازے میں شامل ہونے والے پانچ لاکھ لوگوں اور اس کے نام نہاد مزار پر حاضری دینے والے ہزاروں لوگ بریلوی فرقے سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔ وہ گورنر سلمان تاثیر کو ایک گستاخ رسول اور اس کے قاتل کو ایک عاشق رسول سمجھتے ہیں۔ اس قانون کی بنیاد پرجبراً مذہبی اقلیتوں پر توہین رسالت کا الزام عائد کیا جا سکتا ہے اور اس الزام کو بنیاد بنا کر مشتعل عوام یا عدلیہ انہیں موت کے گھاٹ اتار سکتی ہے۔اور اس کے لیے کسی ثبوت کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔اس لیے کہ جب ان سے شواہد فراہم کرنے کو کہا جاتا ہے تو الزام لگانے والے یا گواہ یہ پوجھتے ہیں کہ کیا ملزم کی توہین رسالت کو دہرا کر انہیں نبی کی توہین کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔ لہذا، اس معاملے میں مجرم کا فیصلہ سنانے کے لئے –جو کہ یقینی طور پر موت کی سزا ہے، نہ کسی الزام، نہ کسی بحث و مباحثہ اور نہ ہی کسی ثبوت کی ضرورت ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 1986 سے لیکر جب جنرل ضیاء الحق نے اس قانون کو آئین میں شامل کیا تھا 2010 تک 1،274 لوگوں کو پاکستان میں توہین رسالت کے قانون کے تحت ملزم بنایا جا چکا ہے۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے مطابق فی الحال پاکستان میں کم از کم 17 لوگوں پر توہین رسالت کا مقدمہ چل رہا ہے،جبکہ 19 لوگ اسی جرم میں عمر قید کاٹ رہے ہیں۔ اور کئی لوگ اسی الزام کے تحت حراست میں جان گنواں چکے ہیں یا اپنی سزائے موت کی تکمیل کے انتظار میں ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بہت سے اسلامی فرقوں کے اندر طرح طرح کی انتہاپسندی موجود ہے اور پوری دنیامیں اسلام کے نام پر انتہا پسند ظلم و تشدد کے ارتکاب میں بڑے پیمانے پر سلفی وہابی مکتبہ فکر کے ماننے والوں کے ملوث ہونے کے باوجود موجودہ حالات کے لئے مکمل طور پر کسی ایک خاص فرقے کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

یہ انتہائی عجیب بات ہے کہ اس طرح کے نفرت انگیز طرز عمل، اقوام متحدہ کے چارٹر اور یو این ایچ سی آر کی قراردادوں کی واضح خلاف ورزی کرنے والے ان ممالک کا کونسل کے امور میں اب بھی ایک اہم کردار ہے۔

اقوام متحدہ کے رکن ممالک اور وسیع ترین بین الاقوامی برادری کو اس امر کا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا انہوں نے صحیح معنوں میں قرارداد 18/16 کو تسلیم کر لیا ہے جسے انہوں نے اتفاق رائے کے ساتھ منظور کیا تھا۔ اگر وہ اس معاملے میں مخلص ہیں تو انہیں اقوام متحدہ کے ممبر ممالک اور خاص طور پر او آئی سی بلاک کے اس پر عمل پیرا نہ ہونے پر توجہ دینی چاہیے۔ اور کچھ نہیں تو اقوام متحدہ اور یو این ایچ سی آر کے نامہ نگاروں کو ان ممالک کا نام اجاگر کرنا چاہئے اور ان کی مذمت کرنی چاہئے جو اپنی درسگاہوں میں اجانب بیزاری اور نفرت انگیزی کی تعلیم دے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ان کے لیے یہ مشکل نہیں ہے کہ وہ آٹھویں کلاس سے لیکر بارہویں کلاس تک کے طلباء کو پڑھائی جانے والی سعودی درسی کتب کو سامنے لا کر دنیا کو یہ بتائیں کہ نہ صرف سعودی عرب میں بلکہ ان تمام مسلم ممالک میں کیا تعلیم دی جارہی ہے جہاں سعودی عرب مفت میں اپنی کتابیں تقسیم کرتا ہے۔ یہاں تک کہ مغربی ممالک کے اکثر مساجد اور اسلامی مراکز میں بھی سعودی سلفی کتابیں مفت میں تقسیم کی جارہی ہیں۔

 مسلمانوں کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے کہ وہ اپنے اصول و معتقدات پر نظر ثانی کریں اور انہیں اسلام کی روح ، قرآنی نظریات اور 21ویں صدی کی گلوبلائزڈ اور باہم مربوط دنیا میں زندگی کی ضروریات اور مطالبات سے ہم آہنگ کریں۔ ہم مسلمانوں کو امن اور تکثیریت پر مبنی داخلی طور پر مربوط اور معقول اسلامی اصول و معتقدات کی ضرورت ہے۔ ہم تمام مسلمانوں کو یہ قبول کرنا لازمی ہے کہ اسلام ظلم و بربریت پر مبنی اور اس دنیا پر تسلط حاصل کرنے والا کوئی نظریہ نہیں بلکہ نجات کا ایک روحانی راستہ ہےجیسا کہ قرآن مجید نے ہمیں اس کی تعلیم دی ہے۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-ideology/sultan-shahin,-founding-editor,-new-age-islam/if-not-the-un-charter,-muslim-countries-should-at-least-follow-their-own-primary-scripture,-the-holy-quran,-sultan-shahin-tells-unhrc-at-geneva/d/110360

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/sultan-shahin,-founding-editor,-new-age-islam/muslim-countries-should-follow-the-holy-quran--اگر-اقوام-متحدہ-کے-چارٹر-پر-نہیں-تو-مسلم-ممالک-کو-قرآن-کریم-کے-اصولوں-پر-ضرور-عمل-کرناچاہئے-۔-جنیوا-میں-یو-این-ایچ-سی-آر-سے-سلطان-شاہین-کا-خطاب/d/110394

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,





TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content