New Age Islam
Tue Jun 09 2026, 09:31 AM

Urdu Section ( 23 May 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

In Islamic Egypt, Women Are Left Alone To Defend Their Modesty and Dignity اسلامی مصر میں خواتین کو ان کی شرم و حياء اور وقار کا دفاع کرنے کے لئے تنہا چھوڑ دیا گیا ہے

 

سید شبیر احمد، نیو ایج اسلام

25 مارچ، 2013

( انگریزی سے ترجمہ : نیو ایج اسلام  )

25 جنوری، 2013، اسلامی شریعت پر مبنی ملک مصرکی تاریخ میں سب سے برا دن تھا۔ اس دن 19 خواتین مظاہرین کی احتجاج مخالف گروپوں کے ذریعہ اجتماعی عصمت دری کی گئی تھی، اور ان پر جنسی تشدد کیا گیا تھا، جنہیں مبینہ طور پر صدر مورسی کی سربراہی میں اخوان المسلمین کے ذریعہ رقم ادا کی گئی تھی ۔ اس دن خواتین تحریر اسکوائر میں ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی بے دخلی کی دوسری برسی کے موقع پر جمع ہوئی تھیں، لیکن انہیں زندگی بھر کے لئے ذلت اور بدنامی حاصل ہوئی۔

اخوان المسلمین کی اپوزیشن جماعت، اخوان المسلمین حکومت کے خلاف یہ الزام لگاتے ہوئے، احتجاج کر رہی ہے کہ ، مرسی اور اخوان المسلمین نے سارے  اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لئے ہیں اور  جبکہ شریعت پر مبنی آئین کے حق میں صرف ایک  اقلیتی  طبقے نے ووٹ دیا تھا۔ لیکن اخوان المسلمین نے مظاہرین کے خلاف، جس میں خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے، ایک جارحانہ رویہ اختیار کر لیا ۔

مصر میں، سڑکوں پر عورتوں کی جنسی  ہراسانی ہمیشہ ایک سماجی برائی رہی ہے، یہا ں تک کہ حسنی مبارک کے دور اقتدار میں بھی، لیکن مرسی  کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ ایک وبائی مرض بن گئی ہے، اور بظاہر اسے مرسی حکومت کی حمایت حاصل ہے۔ اپوزیشن نے الزام لگایا ہے کہ اخوان المسلمون نے قصورواروں کو خواتین مظاہرین کو تحریر اسکوائر سے بھگانے کے لئے ، عصمت دری کے لئے ، روپئے  دئیے ۔

اس کے بعدایک سلفی عالم ، ابو اسلام کے ذریعہ ، عصمت دری کے جرم کو درست قرار دیا  گیا تھا، اس نے خواتین مظاہرین کی عصمت دری اور ان کو ایذا رسانی اور مرد مظاہرین کے قتل کے  بھی جواز کا اعلان کیا تھا   بعد میں اسے گرفتار کر لیا  گیا ۔

بڑے پیمانے پر حکومت، پولیس اور سول سوسائٹی اس  سنگین جرم پر خاموش تماشائی  بنی رہی ہے، جسے اسلام منع کرتا ہے، وہ بھی ایک ایسے ملک میں جو اپنی اسلامی بنیادوں پر نازاں ہو۔ آج، سڑکوں پر عورتوں کو تنہا، بے یار و مددگار  چھوڑ دئے جانے کا احساس ہوتا ہے، جیسے ہی وہ سڑکوں پر نکلتی ہیں۔ ایک سروے کے مطابق، 83 فی صد خواتین کو سڑکوں پر ہراساں ہونے کا تجربہ ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ صرف مصر کی خواتین کو ہی ہراساں کیاس جا رہا ہے،اور ان کی عصمت دری کی جا رہی ہے ۔ یہاں تک کہ غیر ملکیوں اور غیر ملکی صحافیوں نے مقامی نوجوانوں سے بوڑھے لوگوں تک، ٹیکسی ڈرائیور سے پولیس اور فوجی اہلکاروں تک کے ذریعہ خواتین کے ساتھ دست درازی اور ایذا رسانی کی  خبر دی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہاں کوئی قانون نہیں ہے ۔

لہٰذا، خواتین کی مایوسی بڑھ رہی تھی اس لئے کہ حکومت اور پولیس نے آنکھیں موند رکھی تھیں۔ اسی چیز نے  انہیں اپنے وقار کا دفاع کرنے کے لئے ، اپنے طریقہ سے سوچنے پر مجبور کیا ۔ اور فیس بک نے ان کی مدد کی۔

ایذا رسانی  کے ایک شکار کو  اس حملہ سے لڑنے کے لئے، فیس بک پیج  بنانے کا خیال آیا جب ایک بزرگ ڈرائیور نے زبانی طور پر اسے تکلیف پہنچائی۔ اس نے اس کی تصویر لی اور‘افزاہ متہرش  (پریشان کرنے والوں کو بے نقاب کریں)’ نام کے فیس بک صفحے پر اسےپوسٹ کیا ۔ اس نے اس بات کی بھی تفصیلات پوسٹ کیں کہ کس طرح اس نے اس کے ساتھ زیادتی کی۔ وہ پیج عورتوں کے درمیان بہت مقبول ہو گیا، اور اس کی ممبر شب  8000 تک پہنچ چکی ہے۔ متاثرین نے تکلیف پہونچانے والوں کی تصاویر لے کر  یا ان کی ویڈیو کلپس  لے کر  اس کی تفصیلات کے ساتھ پوسٹ کر دیا ۔ اس نے سڑکوں پر، تکلیف پہونچانے والوں کے خلاف،  کھڑے ہونے کی طاقت دی ہے۔

حال میں، عورتیں اور زیادہ نڈر ہو گئی ہیں۔ انہوں نے ایذا رسانی اور  عصمت دری کے احتجاج میں چھریوں اور ڈنڈوں کو لہراتے ہوئے، اور یہ کہتے ہوئے کہ ایک جلوس نکالا کہ اب وہ نہیں ڈریں گی۔ انہیں  مردوں کے ایک   ایذا مخالف گروپ نے تحفظ فراہم کیا ، جو  ایذا رسانوں پر نظر رکھتے اور جہاں کہیں بھی انہیں عورتوں کے ساتھ چھیڑ خانی کرنے کی کوشش کر تے ہوئے دیکھتے تو ان کا تعاقب  کرتے ۔ تاہم، ایسی صورتحال میںالمیہ یہ ہے کہ پولیس ان ایذا رسانوں  کی مدد کے لئے آتی ہے ، اور ایذا رسا مخالف گروپوں کے چنگل سے رہا کرواتی ہے۔ آہستہ آہستہ، مہم اپنی جڑیں مضبوط کرتی جا رہی ہے، اور زیادہ سے زیادہ بزرگ افراد، والدین، اور کارکنان  ایذا رساں مخالف تحریک میں شامل ہو رہے ہیں۔

خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی اور ان کی عصمت دری، دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر ایک سماجی برائی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق، تمام مہذب معاشرے، اس نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہیں۔ لیکن ایسی آزادی  جس کے ساتھ عصمت دری کرنے والے مصر میں آزاد گھوم رہے ہیں ، اسلامی جمہوریہ کے لئے خطرناک اور شرمناک ہے۔ مسلمانوں کے اخلاقی شعور کو  کیا ہو گیا ہے، یہاں تک کہ، کوئی قانون یا پولیس بھی نہیں ہے؟ میڈیا کے ذریعہ پیش کی گئی تصاویر، مصر میں مسلم اخلاقیات کے افسوس ناک صورت حال کو ظاہر کرتی ہیں ۔ خواتین کو ایک تضحیک کی چیز بنا دیا گیا ہے، اور انہیں کسی بھی وقار اور غیرت سے محروم سمجھا گیا ہے۔ اور اسی طرح وہ  عام مرد اور ملاؤں کے ذریعہ لذت حاصل کرنے کی چیز بن گئیں ہیں۔ یاد کریں  کہ ابو اسلام نے 25 جنوری کو خواتین مظاہرین کے بارے میں ان کی اجتماعی عصمت دری کے بعد کیا کہا تھا ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مسلم خواتین کے لئے ان کے دل میں کتنا احترام ہے:

"وہ آپ سے کہتے ہیں  کہ عورتیں ایک خطرے کی نشان ہیں ۔ وہ آپ سے کہتے ہیں کہ ، وہ ننگی خواتین تحریر اسکوائر پر اس لئے جا رہی ہیں، وہ یہ چاہتی ہیں کہ ان کے ساتھ عصمت دری کی جائے—وہ خطرے کی ایک نشان  ہیں! اور وہ مرسی اور اخوان المسلمین  سے اقتدار چھوڑنے کے لئے کہتی ہیں ! یہ خواتین کارکنان اسکوائر تحریر پر  احتجاج کرنے نہیں بلکہ جنسی زیادتی کے  لئے جا رہی ہیں، وہ یہ چاہتی ہیں کہ ان کے ساتھ عصمت دری کی جائے ۔ انہیں کوئی شرم ، کوئی خوف نہیں ہے اور نہ ہی ان کے اندر نسوانیت ہے۔ اپنی نسوانیت کو عمل میں لاؤ ! تم ایک عورت ہونا تمہارے لئے ایک جائز حق ہے، "انہوں نے کہا ۔ "اور ویسے بھی، ان میں سے 90 فی صد عیسائی مجاہد  یعنی [ عیسائی قبط ] ہیں ، اور باقی 10 فیصد بیوائیں ہیں جنہیں  کنٹرول کرنے والا کوئی نہیں  ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ وہ کس طرح راکھششوں کی طرح بات کرتی ہیں ۔ "

اسلامی جماعتوں کی سیاسی خواہشات نے انہیں سیاسی مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے اسلامی اقدار کو نظر انداز کرنے پر مجبور کیا ہے۔ نوعمر نوجوان لوگوں کو عورتوں اور لڑکیوں کو آزادی کے  ساتھ  سڑکوں پر ہراساں کرنا  اور انہیں پکڑتے ہوئے دیکھنا دل کو توڑ دیتا ہے ، گو کہ وہ کسی  قسم کا  کھیل ہو ۔ گزشتہ سال 16دسمبر کو گینگ ریپ کے بعد نئی دہلی، ہندوستان میں عصمت دری مخالف  احتجاج ہوا تھا ۔ مردوں اور عورتوں ، نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں نے احتجاج کیا، اور انہوں نے  ایک ساتھ مل کر پولیس سے لڑائی کی، لیکن وہاںچھیڑچھاڑ یا عورتوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی کوئی خبر نہیں ملی، اگرچہ مظاہرین میں سے زیادہ تر ہندو تھے۔

یقینی طور پر، اسلامی ممالک کے ثقافتی اور تعلیمی نظام میں کچھ سنگین نقائص ہیں، جہاں سماجی اور اقتصادی بدعنوانی غیر مسلم ممالک سے کہیں زیادہ ہے ۔ اور ان سب کے باوجود مسلمان دعوی کرتے ہیں کہ وہ زمین پر سب سےبہترین کمیونٹی ہیں اور لوگوں کے لئے رحمت ہیں۔

  URL for English article:

 https://newageislam.com/islam-women-feminism/in-islamic-egypt,-women-left/d/10897

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/in-islamic-egypt,-women-left/d/11700

 

Loading..

Loading..