certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (11 Apr 2019 NewAgeIslam.Com)



Taqwa- What Does it Mean?-Part-1 تقوی- اسلامی تعلیمات کا ایک وسیع ترین پہلو


مصباح الہدیٰ قادری ، نیو ایج اسلام

6 اپریل 2019

اس امر میں کسی اہل ایمان کو شک نہیں کہ بنی نوع انسانی کی ہدایت کا عظیم ترین سرچشمہ قرآن مقدس ہے ۔ یہ وہی زندہ و تابندہ کتاب ہے جس کے ذمہ اللہ نے قیامت تک کے لئے انسانوں کی رشد و ہدایت کا کام سونپا ہے ۔ جیسے جیسے انسانی عقل بالیدگی کی طرف بڑھتی جائے گی انسان اس کتاب ہدایت کو حیرت و استعجاب کی نظروں سے دیکھتا جائے گا ۔  جوں جوں انسان سائنس اور ٹکنالوجی کی دنیا میں ترقی کے مراحل طے کرتا جائے گا قرآن کی معجزانہ خوبیوں کے سامنے خود کو کوتاہ قد پائے گا۔  یہ تو قرآن کی ایک ایسی ذاتی خوبی ہے جس کا مشاہدہ انسان چودہ سو سالوں سے کرتا آ رہا ہے لیکن ہمارا موضوع یہ ہے کہ قرآن کا اصل عنوان کیا ہے؟

 اگر چہ اس میں نکاح ، طلاق ، بیع و شراء ، نماز، روزہ، حج و زکاۃ، قربانی ، سود  وتجارت، ہوا و فضا ، شمس و قمر ، ستارے اور کہکشاں ، برگ و ثمر ، شجر  وحجر، رعد و برق، آسمان و زمین ، فلک و سیارگان، لیل و نہاراور معاشرتی ، سماجی، سیاسی اور اقتصادی مسائل سے متعلق اصول و قوانین بھی بیان کئے گئے لیکن اسے قانون کی کتاب کہنا درست نہیں۔ اگر چہ اس میں کتاب مبین میں کہیں اجمال تو کہیں تفصیل کے ساتھ گزشتہ انبیائے کرام کے حالات و خدمات اور ان کی امتوں کے عبرت آمیز انجاموں کا بھی ذکر ہے لیکن اسے محض قصے کہانیوں کی کتاب قرار دینادرست نہیں ۔  اور اسی طرح اگر چہ اس کتاب میں حشر و نشر ، بعث بعد  الموت، قیامت ، جنت و دوزخ، عذاب و ثواب ، جن و ملائک اور بے شمار مغیبات کی خبریں واضح طور پر بیان کی گئی ہیں لیکن اسے                  محض غیب کی خبریں بتانے والی کتاب قرار دینا بھی درست نہیں ہے۔ کیوں کہ اس کتاب مقدس کا بنیادی مقصد کفر و ظلمت کی تیرگی میں جینے والے انسانوں کو رشد و ہدایت کی روشنی عطا کرنا ہے ۔

ہدایت کن کے لئے ہے؟

ویسے تو قرآن ایک کھلی ہوئی کتاب ہے۔ لوگ اپنے اپنے  زاویہ نگاہ سے  اس کا مطالعہ کرتے ہیں اور اپنے مفادات اور نقطہ ہائے نظر کے مطابق اس کی آیتوں سے نتائج اخذ کرتے ہیں ۔لیکن کچھ لوگ استدلال اور ہدایت درمیان فرق کرنا بھول جاتے ہیں  جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ان باتوں کو بھی ہدایت تصور کر لیتے ہیں جو ہدایت کی منشا کے بالکل خلاف ہیں۔ کیوں کہ قرآن مقدس سے ہدایت اخذ کرنا موقوف ہے تقویٰ پر ۔ اور قرآن کا یہ پیغام بڑا واضح ہے کہ یہ متقین کے لئے ہی ہدایت کا سامان فراہم کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس کی ذات میں تقویٰ کا نور ہوگا قرآن اس کے لئے ہدایت ہی ہدایت ہےاور جس کی انکھوں پر جہالت اور تعصب و تنگ نظری کا پردہ پڑا ہوا ہو وہ مکمل قرآن پڑھ کر بھی ہدایت سے دور ہے۔

اللہ کا فرمان ہے:

ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ (2) الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ (3) وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ (4) أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (2:5)

ترجمہ: وہ بلند رتبہ کتاب (قرآن) کوئی شک کی جگہ نہیں، اس میں ہدایت ہے ڈر والوں کو - وہ جو بے دیکھے ایمان لائیں اور نماز قائم رکھیں اور ہماری دی ہوئی روزی میں سے ہماری راہ میں اٹھائیں - اور وہ کہ ایمان لائیں اس پر جو اے محبوب تمہاری طرف اترا اور جو تم سے پہلے اترا اور آخرت پر یقین رکھیں - وہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور وہی مراد کو پہنچنے والے۔ کنز الایمان

دعوت فکر

کیا ہم نے کبھی اس امر پر غور کیا ہے کہ قرآن نے ہدایت کے لئے تقویٰ کو اولین شرط کے طور پر پیش کیا ہے ۔ اور ایمان بالغیب، نماز، انفاق فی سبیل اللہ، قرآن ، سابقہ کتب سماویہ اور آخرت پر ایمانا  کو تقویٰ کی بنیاد قرار دیا ہے!

اب تک تو ہم یہ جان چکے کہ قرآن محض علم و عقل والوں کے لئے نہیں بلکہ تقویٰ والوں کے لئے ہدایت ہے،  اور ایمان بالغیب، نماز، انفاق فی سبیل اللہ، قرآن ، سابقہ کتب سماویہ اور آخرت پر ایمانا تقویٰ کے بنیادی عناصر میں سے ہیں ۔ جو ان بنیادی باتوں سے محروم ہے وہ ہدایت اور تقویٰ دونوں کے نور سے محروم ہے۔

تقویٰ کا وسیع ترین تصور

تقویٰ کے بنیادی عناصر تو مذکورہ بالا امور  ہیں ہی لیکن قرآن کریم کے مطالعہ سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ تقویٰ ایک وسیع ترین تصور ہے اور اس کا انحصار محض چند باتوں میں نہیں کیا جا سکتا۔

مثلاً  اللہ نے نقد یا ادھار پر لین دین یا تجارت کرنے کی صورت میں اپنے احکام و ہدایت کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا اور اس میں تقویٰ کے پہلو کو بھی نمایاں کیا، ملاحظہ ہو:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيْنٍ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوهُ ۚ وَلْيَكْتُب بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ ۚ وَلَا يَأْبَ كَاتِبٌ أَن يَكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللَّهُ ۚ فَلْيَكْتُبْ وَلْيُمْلِلِ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ وَلْيَتَّقِ اللَّهَ رَبَّهُ وَلَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْئًا ۚ فَإِن كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيهًا أَوْ ضَعِيفًا أَوْ لَا يَسْتَطِيعُ أَن يُمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ ۚ وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِن رِّجَالِكُمْ ۖ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَن تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَىٰ ۚ وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا ۚ وَلَا تَسْأَمُوا أَن تَكْتُبُوهُ صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا إِلَىٰ أَجَلِهِ ۚ ذَٰلِكُمْ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ وَأَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَأَدْنَىٰ أَلَّا تَرْتَابُوا ۖ إِلَّا أَن تَكُونَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيرُونَهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَلَّا تَكْتُبُوهَا ۗ وَأَشْهِدُوا إِذَا تَبَايَعْتُمْ ۚ وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ ۚ وَإِن تَفْعَلُوا فَإِنَّهُ فُسُوقٌ بِكُمْ ۗ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ وَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (2:282)

ترجمہ: اے ایمان والو! جب تم ایک مقرر مدت تک کسی دین کا لین دین کرو تو اسے لکھ لو اور چاہئے کہ تمہارے درمیان کوئی لکھنے والا ٹھیک ٹھیک لکھے اور لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے جیسا کہ اسے اللہ نے سکھایا ہے تو اسے لکھ دینا چاہئے اور جس بات پر حق آتا ہے وہ لکھا تا جائے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور حق میں سے کچھ رکھ نہ چھوڑے پھر جس پر حق آتا ہے اگر بے عقل یا ناتواں ہو یا لکھا نہ سکے تو اس کا ولی انصاف سے لکھائے، اور دو گواہ کرلو اپنے مردوں میں سے پھر اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ایسے گواہ جن کو پسند کرو کہ کہیں ان میں ایک عورت بھولے تو اس کو دوسری یاد دلادے، اور گواہ جب بلائے جائیں تو آنے سے انکار نہ کریں اور اسے بھاری نہ جانو کہ دین چھوٹا ہو یا بڑا اس کی میعاد تک لکھت کرلو یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے اس میں گواہی خوب ٹھیک رہے گی اور یہ اس سے قریب ہے کہ تمہیں شبہ نہ پڑے مگر یہ کہ کوئی سردست کا سودا دست بدست ہو تو اس کے نہ لکھنے کا تم پر گناہ نہیں اور جب خرید و فروخت کرو تو گواہ کرلو اور نہ کسی لکھنے والے کو ضَرر دیا جائے، نہ گواہ کو (یا، نہ لکھنے والا ضَرر دے نہ گواہ) اور جو تم ایسا کرو تو یہ تمہارا فسق ہوگا، اور اللہ سے ڈرو اور اللہ تمہیں سکھاتا ہے، اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔ کنز االایمان

(جاری)

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/taqwa--what-does-it-mean?-part-1--تقوی--اسلامی-تعلیمات-کا-ایک-وسیع-ترین-پہلو/d/118287

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism





TOTAL COMMENTS:-   20


  • Instead of continuing to use language that only debases you and shows you to be a liar and a smearer, can you point out where you have indicated that a muttaqi can think for himself.


    By Ghulam Mohiyuddin - 6/7/2019 10:30:51 AM



  • The discussion is about the meaning of Muttaqi, Perfection and the Perfect Muttaqi. Has GM sb contributed anything to the understanding of any of the terms? Can he produce one sentence from his idiotic babble which is meaningful?

    He says my definition of a perfect Muttaqi that he is "a person who has trained himself to like what Allah likes and dislike what Allah dislikes" makes the person a brainless automaton! Is it not the apostate in him speaking? Does he have a better definition? There can be no better definition of a perfect Muttaqi except one "who is in complete resonance with the Deen of Allah and for whom it is pleasurable to follow the Deen in the best possible manner and distressful not to do so".

    GM sb being an apostate and not a follower of the Deen of Islam obviously does not think much of a perfect Muttaqi. He thinks he is very clever and wise in his apostasy and rebellion against many of the tenets of the religion. It comes as no surprise therefore, that he disparages the perfect Muttaqi as a brainless automaton.

    Perfection is doing the right thing in the best possible way instinctively and this definition covers perfection in every field whether it be becoming a perfect Muttaqi or a sports champion or gaining a high level of perfection in your profession.

    In all his babbling has GM sb  said anything sensible?He is the low bred vile apostate from the gutters who stinks like a skunk and a compulsive contradictionist. He has made it a habit to contradict anything that I say and being brainless, ends up making a fool of himself but the experience does not cure him of his disease.  

    By Naseer Ahmed - 6/7/2019 6:05:54 AM



  • Naseer sb. has no response to give so he resorts again to his habitual ill-bred and low level abusive techniques!


    By Ghulam Mohiyuddin - 6/6/2019 1:39:42 PM



  • That you are the babbling idiot is very clear from all your comments.


    By Naseer Ahmed - 6/6/2019 5:55:22 AM



  • Naseer sb.'s babbling is deranged. He is back to his customary abusive language as well as to lying. He lies when he alleges that I   called a perfect Muttaqi  "a brainless automaton." What I said was that your description of a perfect muttaqi was the description of an automaton. Don't you know the difference?


    By Ghulam Mohiyuddin - 6/4/2019 1:05:53 PM



  • It is you who lied by attributing to me what I did not say.
    You are dumb and brainless because you are unable to see that:
    If  a perfect Muttaqi is a brainless automaton as you say, then a sports champion or anyone who is perfect in his field is also a brainless automaton for the very same reasons.
    The problem with you is that the apostate in you hates the perfect Muttaqi but being brainless, you cannot be logical in your disparagement.
    By Naseer Ahmed - 6/4/2019 1:33:29 AM



  • Naseer sb.,
    What I said was, "A perfect Muttaqi, according to Naseer sb., is an automaton who does not need to use his brain at all."
    I was referring to your dumb description of a perfect muttaqi.

    By Ghulam Mohiyuddin - 6/1/2019 1:15:20 PM



  • It is GM sb who is dumb, brainless and lying. 
    No perfectionist is a brainless automaton. If a perfect Muttaqi is described by him as a brainless automaton so can a sports champion  or any other person who has reached a high level of perfection in his field. I have  shown  how dumb, brainless and ridiculous that is.

    By Naseer Ahmed - 6/1/2019 5:33:43 AM



  • Is Naseer sb. dumb or is he just lying? Let me clarify once more. Comparing champions with automatons is brainless.


    By Ghulam Mohiyuddin - 5/30/2019 1:13:40 PM



  • Going by your thinking, all champions are brainless. How ridiculous and brainless!  


    By Naseer Ahmed - 5/30/2019 3:33:45 AM



  • Being an automaton is the same as being brainless, because an automaton carries out activities and routines which have been pre-programmed by the programmers.
     

    By Ghulam Mohiyuddin - 5/28/2019 1:40:31 PM



  • Muscle memory is a form of procedural memory that involves consolidating a specific motor task into memory through repetition, which has been used synonymously with motor learning. When a movement is repeated over time, a long-term muscle memory is created for that task, eventually allowing it to be performed without conscious effort. This process decreases the need for attention and creates maximum efficiency within the motor and memory systems. Examples of muscle memory are found in many everyday activities that become automatic and improve with practice, such as riding a bicycle, typing on a keyboard, entering a PIN, playing a musical instrument, poker,martial arts or even dancing. 

    Those who excel in sports or the  champions  are people who can respond to any situation they encounter in their sport  through muscle memory alone and are never found wanting. The lesser players are found wanting in many situations and therefore fumble or do not respond adequately. 

    Excellence is about training oneself to become an automaton in the chosen field. Such excellence is however rare and most people do not even know what it takes to excel let alone excelling at anything.

    By Naseer Ahmed - 5/28/2019 2:47:15 AM



  • Those sports heroes are not automatons.
    Excessive praise of submission breeds passivity which bars adaptive, corrective and reformative spirits which are so essential to a healthy and living belief system.

    By Ghulam Mohiyuddin - 5/26/2019 10:55:29 AM



  • The Story of Umar’s Conversion

    Umar was a cruel and prominent persecutor of Muslims and a bitter enemy of Islam and Muhammad (pbuh). When the faith kept growing despite the persecution, the leaders among the persecutors decided to assassinate Muhammad. Umar volunteered to do the job.

    Conversion to Islam

    The story of Umar’s conversion is recounted in Ibn Ishaq's Sīrah. On his way to murder Muhammad, Umar met his friend Nua'im bin Abdullah who had secretly converted to Islam. When Umar informed him that he had set out to kill Muhammad, Nua'im said, “why don't you return to your own house and at least set it straight?"

    Nuaimal Hakim told him to inquire about his own house where his sister and her husband had converted to Islam without Umar’s knowledge. Upon arriving at her house, Umar found his sister and brother-in-law Saeed bin Zaid (Umar's cousin) reciting the verses of the Quran from sura Ta-Ha. He pounced on his brother-in-law and began beating him. When his sister came to rescue her husband, he also hit her. They kept on saying "you may kill us but we will not give up Islam". Upon hearing these words, Umar slapped his sister so hard that she fell to the ground bleeding from her mouth. When he saw what he did to his sister, he calmed down and asked his sister to give him what she was reciting. His sister refused saying "You are unclean, and no unclean person can touch the Scripture." He insisted, but his sister refused and asked him to first purify himself by bathing. Umar did so and then began to read the verses that were: Verily, I am Allah: there is no God but Me; so serve Me (only), and establish regular prayer for My remembrance (Quran 20:14). He wept and declared, "Surely this is the word of Allah.” He then went to Muhammad (pbuh) and accepted Islam.

     How did the reading of a few verses from the Quran become a source of guidance for the violent Umar who was till recently a bitter opponent of the Prophet and Islam? Did he read the verses with the fear of Allah in his heart? No, he simply read it out of bewildered curiosity and the need to know what had transformed his sister. He wanted to better understand so that he could better oppose it. He did not read with the intention of becoming a Muslim. He was however in a heedful state as he very much wanted to understand its appeal to the people who would not give it up even when persecuted. When he read the verses, he was not in a state of fear or awe. After the reading and the reading turning into guidance, he was filled with awe and subsequently fear of Allah when he reflected on his past and the dark deeds he had done in his ignorance of the Deen of Allah.

     The Quran is a guidance to every heedful reader/listener. Who can deny it? It is not a source of guidance for the heedless. Who can deny this? One may read the Quran a thousand times in a heedless state. It will not benefit the reader.

    A person may spend all night reading only one verse in a heedful state reflecting on it and filled with awe about its meaning. Such a reading will transform the reader with one verse alone and in a single reading.

    The Prophet (pbuh) spent all night reading:

    إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

    (5:118) "If Thou dost punish them (the Christians who venerated Jesus as son of God and Mary as Mother of god), they are Thy servant: If Thou dost forgive them, Thou art the Exalted in power, the Wise."

    The verse contains the intercession of Jesus (pbuh) for his Ummat. In the verses that follow, Allah does not reject the intercession. How subtly Allah informs us that even such Christians who worshiped Jesus and Mary in derogation of Allah, can also hope for His forgiveness! The Prophet wept all night reading this verse again and again because this single  verse reflects several of Allah's attributes such as Al Lateef, Al Rahim, Al Rehman, Al Rauf,  Al Karim, Al Ghaffar, Al Qaabidh, Al Halim, Al Hakam, Al Ad'l, Al Ali, Al Kabir, Al Qadeer, Al Muqtadir, Al Hasib, Al Jalil, Al Mujib, Al Hakim, Al Wadud, Al Majeed, Ash Shaheed, Al Wakil, Al Wali, Al Muhsi and Al Hamidu. All of these attributes of Allah are found in a single verse and this is the most beautiful verse of the Quran. However, this verse is beyond the understanding of our Ulema, who consider the Christians as Kafir destined for Hell. They are heedless of the Quran and heedful of the secondary sources which clouds their minds preventing them from understanding.

    As far as turning oneself into an automaton through training is concerned, every champion is such an automaton whether it is Messi or Ronaldo in football or Tiger Woods in golf, or Virat in cricket,  or a Bruce Lee in King Fu etc.


    By Naseer Ahmed - 5/26/2019 1:43:10 AM



  • A perfect Muttaqi, according to Naseer sb., is an automaton who does not need to use his brain at all.


    By Ghulam Mohiyuddin - 5/25/2019 11:56:26 AM



Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content