certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (06 Aug 2018 NewAgeIslam.Com)



The Myth of Jahiliyyah ایام جاہلیت کا افسانہ

 

 

 

 

ارشد عالم، نیو ایج اسلام

1 اگست 2018

بحیثیت مسلم ہمیں اکثر یہی بتایا گیا ہے کہ قبل از اسلام زندگی وحشت، ظلم تاریکی اور بربریت میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ اسلام کے ظہور سے قبل دنیا کے اس خطے میں جسے عرب کہا جاتا ہے بچیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا، مرد اپنی مرضی کے مطابق جتنی چاہیں بیویاں رکھ سکتے تھے اور عورتوں کی حالت عرب معاشرے میں بالعموم انتہائی پسماندہ تھی۔ اس معاشرے میں قانون کا کوئی پاس و لحاظ نہ تھا، وہ اسلام ہی ہے جس نے ایسے منتشر، جہالت اور تاریکی میں ڈوبے ہوئے معاشرے کے اندر ایک انسانیت پسند نظام قائم کیا۔ اور قبل از اسلام عرب معاشرے کی یہ شبیہ ایک متوسط مسلمان کے ذہن میں اس طرح گھر کرچکی ہے کے اب اس افسانے کے خلاف ثبوت اور شواہد ملنے کے باوجود اسے سوالات کے دائرے میں لانا انتہائی مشکل ترین امرہوچکا ہے۔

قبل از اسلام کا وہ دور جیسا کہ اسے ایام جاہلیت کہا جاتا ہے ویسا ہی ہے جیسا دنیا کے دیگر خطوں میں تاریکی کا ایک دور رہ چکا ہے۔ اور جس طرح روشن خیالی نے یوروپ کو تاریک دور سے نکال کر جدیدیت کی دہلیز پر لاکر کھڑا کر دیا اسی طرح اسلام نے بھی اس خطہ عرب اور اس کے باشندوں کو ظلم، جہالت ، بربریت اور وحشت کی تاریکی سے نکال کر انسانیت، علم و فکر، تہذیب و تمدن، اور روشن خیالی کی ایک نئی صبح سے آشنا کیا۔ اسلام کی جدید تاریخ میں سید قطب اور مودودی کے مطابق اب بھی اس دنیا کے بیشتر حصے جاہلیت کی تاریکی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور اپنی اس خودساختہ جاہلیت کی تاریکی سے آزاد ہونے کے لئے اب بھی اسلام کا منھ تک رہے ہیں۔ جس طرح یوروپ نے ہمیں یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ استعماریت کا دور ہمارے لیے بہتر تھا اسی طرح اسلام پرست یہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں کے اسلام پوری دنیا کے حق میں بہتر ہوگا۔ اور ان کے اس دعوے کی بنیاد اس امرپر ہے کہ ہم نے اہل عرب کو انسانیت کی تعلیم دی اور اسلام کی اس انسانیت پسندی کاایک اقدام اسلام کا عورتوں کے ساتھ حسن سلوک ہے۔

لیکن ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ یہ افسانہ کس حد تک درست ہے؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر قابل تعریف بات کو اسلام سے منسوب کرنے کے اپنے دھن میں ہم نے اپنی تاریخ کو جھوٹ کا پلندہ بنادیا ہے اور خاص طور پر عربوں نے اپنے ماضی کو کافی محدود کر دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قبل از اسلام کے بعض قوانین اور روایت و معمولات کو اسلام کے دور میں بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ مثال کے طور پر اسلام آنے کے بعد بھی ہر سال حج بیت اللہ اس وجہ سے ممکن ہوسکا کیونکہ قبل از اسلام کے ان قبائلی قوانین کو برقرار رکھا گیا تھا جن کے مطابق ایام حج کے دوران قتل و قتال ممنوع تھا۔ مذہب اسلام کی جانب سے سفر بیت اللہ کو حج قرار دیے جانے سے قبل اس زمانے میں عرب معاشرے نے ایسے کچھ قوانین وضع کیے تھے جن پر اہل عرب عمل پیرا تھے۔ اگر قبل از اسلام عرب معاشرے میں اتنی ہی انارکی اور ظلم و بربریت کا دور دورہ تھا جیسا کہ مسلمان دعویٰ کرتے ہیں تو یقینا سفر بیت اللہ جسے بعد میں حج قرار دیا گیا قطعی ممکن نہ ہوتا۔جب پیغمبر اسلام نے اسلام کا اعلان کیا اور حج ادا فرمایا تو انہیں لوگوں کے قبائلی اقدار کے ذریعے آپ صلی علیہ وسلم کو تحفظ فراہم کیا گیا جو نہ صرف یہ کہ مسلمان نہ تھے بلکہ اس نئے دن کے دشمن بھی تھے۔

یہ درست ہے کہ اسلام سے قبل اسی تنازعات اور اختلافات کو حل کرنے کا ایک واحد طریقہ قتل و قتال اور جنگ و جدال تھا۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ سلام نے ان میں سے چند تنازعات کو کنٹرول کرنے کی بھی کوشش کی۔ لیکن اس زمانے میں قبائلی معاشرے کے اندرقتل و قتال اور کشت و خون کے ذریعے اختلافات کا حل کیا جانا ایک عمومی طریقہ تھا۔ مزید براں یہ کہ اسلام بھی کئی نسلوں کو محیط جنگ و جدال اور قتل و غارت گری پر مکمل طور سے قدغن نہیں لگا سکا۔ پیغمبر اسلام صلی علیہ سلم کے انتقال کے فورا بعد مسلمانوں کے تشدد پر اتر آنے کو تنازعات اور اختلافات حل کرنے کے وہی پرانے طریقے پر لوٹ انا ہی مانا جا سکتا ہے۔

ایک اور اہم دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اسلام نے عرب معاشرے میں عورتوں کی حالت کو بہتر کیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس زمانے میں بچیوں کو قتل کر دیا جاتا ہوں۔ لیکن یہ عمل اس خطے کے لیے کسی بھی طرح نیا اور انوکھا نہیں تھا۔ متعدد قبائلی اور غیر قبائلی معاشرے اس معمول پر عمل پیرا تھے اور ان میں سے اکثر معاشروں کو اس انسانیت سوزعمل کو ختم کرنے کے لیے اسلام کی ضرورت نہیں تھی۔ بلکہ حیوانیت پر مبنی یہ عمل خود بخود دم توڑ گیا۔

لہذا اسلام کے اس خاص امتیازکی کوئی بنیاد نہیں ملتی جس کی وجہ سے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ بچیوں کو درگور کر دینے کا وحشتناک عمل ختم ہوا۔ اسی طرح یہ دلیل بھی جھوٹی معلوم ہوتی ہے کہ قبل از اسلام مرد جتنی چاہتے بیویاں رکھ سکتے تھے۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ قبل از اسلام کے دور میں جنسی ملاپ کے متعدد طریقے مروج تھے۔ اسلام کا خاص کارنامہ یہ ہے کے اسلام نے شادیوں کے لیے ایک نیا سماجی معیار قائم کیا جیسے نکاح کا نام دیا گیا۔ شادیوں کے ایک معیاری شکل کے طور پر نکاح کو پیش کر کے اسلام نے شادیوں کے ان متعدد طریقوں کو ختم کر دیا جنہیں اسلام سے قبل جنسی ملاپ کا ایک مقبول طریقہ مانا جاتا تھا۔

یہ دعوی بھی مبالغہ آرائی پر مبنی ہے کہ اسلام نے عورتوں کو بلند مقام عطا کیا ہے۔ مسلم دانشوران اکثر یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی شریکہ حیات حضرت خدیجہ الکبریٰ ایک بڑی کامیاب کاروباری خاتون تھیں ، جس سے یہ دلیل اخذ کی جاتی ہے کہ قبول اسلام نے عورتوں کو بااختیار بنایا ہے۔ لیکن اس موقع پر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صل اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجہ کا نکاح ظہورِ اسلام سے قبل ہوا تھا۔ لہذا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ اسلام کی وجہ سے ایک کامیاب کاروباری خاتون نہیں تھیں۔ اس کے علاوہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ کو وراثت میں دولت بھی حاصل ہوئی تھی جس سے اسلام پسندوں کی اس دلیل کی بھی تردید ہوتی ہے کہ اسلام نے عورتوں کو جائیداد کا حق عطاء کیا ہے۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰ کی اس مثال سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قبل از اسلام کے دور میں بھی عورتوں کے لئے جائیداد کا حق موجود تھا، اسلام نے صرف اس معمول کو برقرار رکھا ہے۔ یہاں میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ کے نکاح کا پیغام پیغمبر اسلام صلی علیہ و سلم کو خود حضرت خدیجۃالکبریٰ نے ہی دیا تھا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلام سے پہلے بھی عرب میں عورتیں آزاد اور خودمختار تھی اور اہم فیصلے لینے کے لیے وہ مردوں پر منحصر نہیں تھیں۔

یہ یاد رہے کہ جب تک حضرت خدیجۃ الکبریٰ با حیات رہیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرا نکاح نہیں کیا۔ اگرچہ اسے حضرت خدیجۃ الکبریٰ کے لیے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے تعبیر کیا جاتا ہے لیکن اسے ایک دوسرے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ شادیوں میں معاہدے کا ہونا اسلام کا کوئی خاص کارنامہ نہیں ہے بلکہ یہ اسلام سے پہلے بھی موجود تھا۔ معاہدہ نکاح میں شرائط وضع کرنے کے لیے عورتیں آزاد تھیں اور ایک غالب قوت کے طور پر ابھرنے کے بعد اسلام نے اس معمول کو برقرار رکھا۔ لہذا یہ بات بعید از قیاس نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی کسی معاہدے کے پابند ہوں جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت خدیجۃ الکبریٰ کے زندہ رہنے تک دوسرا نکاح کرنے سے روکے رکھا تھا۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ اپنی پہلی شریکہ حیات حضرت خدیجۃ الکبریٰ کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد شادیاں کیں اور وہ تمام شادیاں سیاسی اتحاد قائم کرنے کے لیے نہیں تھیں جیسا کہ اکثر مسلم عذر خواہ ہمیں بتاتے ہیں۔

لہذا، ہم جسے ایام جاہلیت کہتے ہیں ممکن ہے کہ وہ تاریک دور نہ ہو۔ اس لئے کہ اس دور میں بھی کسی بھی دوسرے معاشرے کی طرح مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والی عورتوں کو مختلف حقوق اور حیثیتیں حاصل تھیں۔ بلکہ معاملہ اس کے برعکس معلوم ہوتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اسلام نے سب کے لیے ایک معیاری قانون بنانے کے عمل میں خواتین کو ان حقوق سے محروم کر دیا جوانہیں اسلام سے قبل حاصل تھے۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-society/arshad-alam,-new-age-islam/the-myth-of-jahiliyyah/d/116003

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/arshad-alam,-new-age-islam/the-myth-of-jahiliyyah--ایام-جاہلیت-کا-افسانہ/d/116044

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content