certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (10 Apr 2017 NewAgeIslam.Com)


Triple Talaq, Indian Constitution and Counter-Affidavit Filed by Muslim Personal Law Board طلاق ثلاثہ ، آئین ہند اور مسلم پرسنل لابورڈ کا جوابی حلف نامہ





اے۔ رحمان ، نیو ایج اسلام

2اپریل، 2017

ہندوستان کے چیف جسٹس عزت مآب جگدیش سنگھ کیہر نے حال ہی میں کچھ نہایت مستحسن اور بے نظیر اقدامات کئے ہیں جن میں اہم ترین قدم ہے پندرہ جج صاحبان کی گرمائی تعطیلات میں تخفیف کر کے تین پانچ رکنی بنچوں کا قیام جو قومی سطح کی اہمیت والے تین آئین مسائل کا تصفیہ کریں گی جن کا دوسری صورت میں کئی معلّق رہنا طے مانا جارہا ہے۔ او ران تین معاملات میں سب سے اہم ہے طلاق ثلاثہ، نکاحِ حلالہ اور تعدّدِ ازدواج کے موضوع پر دائر کی گئی عرضداشت بعنوان سائرہ بانو بنام یو نین آف انڈیا جس کے ذریعے یک نشست طلاق ثلاثہ ( ایک وقت میں تین مرتبہ طلاق ، طلاق، طلاق کہہ کر طلاق دے دینا) نکاح حلالہ (مطلقہ فریقین کی دوبارہ آپس میں شادی سے پیشتر عورت کا کسی دوسرے مرد سے نکاح اور خلوت صحیحہ کے بعد طلاق کی شرط) اور تکثیر ازواج ( ایک بیوی کی موجودگی میں زائد شادیاں کرنا) تینوں کی آئینی حیثیت کو دستو ر ہند کی دفعات 14،15،21،اور 25کے تحت چیلنج کیا گیا ہے۔یہ عذر داری آئین ہند کی دفعہ 32کے تحت دائر کی گئی ہے، جس کی رو سے سپریم کورٹ کو پورا اختیار ہے کہ وہ خصوصی فرمان (writ) جاری کر کے کسی بھی معاشرتی ، مذہبی یا قانونی رسم، رواج او رچلن یا معمول کو غیر آئینی قرار دے کر مسترد کردے ۔یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ پورا تنازعہ ’’ اسلام میں عورت کے حقوق‘‘ پر مرکوز ہے اور اس سلسلے میں قرآن و حدیث کے متعلقہ احکامات آئین ہندمیں دی گئی آزادی مذہب اور شہریوں کے بنیادی حقوق خصو صاً قانونی مساوات کی روشنی میں زیر بحث لائے جائیں گے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اس معاملے میں ضروری فریق بننے یعنی (impleadment) کی درخواست گزاری ، جسے سپریم کورٹ نے منظور کرتے ہوئے بورڈ کو جوابی حلف نامہ پیش کرنے کی اجازت دے دی۔ سائرہ بانو کی تینتیس (33) صفحات پر مشتمل عرضی کے جواب میں مسلم پرسنل لا ء بورڈ نے ستر (70) صفحات کا جو جوابی حلف نامہ فائل کیا ہے ، اسے پڑھنے کے بعد آئین ہنداور اسلامی قوانین یا ان میں سے کسی ایک کا علم رکھنے والا شخص سوائے سر پیٹنے اور کفِ افسوس ملنے کے او رکچھ نہیں کرسکتا ۔ بطور قانونی دستاویز یہ حلف نامہ قطعی پھسپھسا اور نا قابل اعتنائے عدالت تو ہے ہی، ایسے متضاد بیانات کا حامل بھی ہے جن کے سلسلے میں عدالت کے ذریعے پوچھے جانے والے ممکنہ سوالات کا کوئی وکیل نہ جواب دے سکے گا اور نہ ہی ان تضادات کی تصریح و توضیح کر پائے گا۔ حلف نامے کے حشو و زوائد کا ذکر کرنے سے پہلے یاد کرنا مناسب ہوگا کہ اسلامی قو انین کے تحت مروجہ یہی تینوں چلن یعنی طلاق ثلاثہ، نکاح حلالہ اور کثرت ازواج ہی ناقدین اسلام کا سب سے زیادہ نشانہ بنتے ہیں ۔ اور ان تینوں چیزوں کے سلسلے میں ہی علمائے دین آج تک نہ تو کوئی تسلّی بخش تشریح کرسکے ہیں او رنہ ان کا کوئی قانونی جواز پیش کرسکے ہیں ۔

حلف نامہ کسی محمد فضل عبدالرحیم کی طرف سے پیش کیا گیا ہے ، جو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری ہیں او رحلف نامہ پیش کرنے کا محض یہ جواز دیتے ہیں کہ انہوں نے عرضداشت او راس کے منسلکات پڑھ لئے ہیں اور بورڈ کی جانب سے انہیں یہ حلف نامہ فائل کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ ایسے نازک اور پیچیدہ معاملات میں حلف نامہ دینے کا اختیار عموماً ایسے شخص کو دیا جاتاہے جو اس موضوع یا مضمو ن کا ماہر سمجھا جاتا ہو اوراس بنیاد پر اپنی اہلیت ثابت کرے۔ حلف نامے میں یہ بھی کہیں نہیں کہا گیا کہ اس کو جیّد علمائے دین کے مشوروں او رہدایات کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے، جو اس معاملے میں نہایت ضروری تھا۔ جو اب دہندہ کے سلسلے میں کسی قانونی علم یا مہارت کا دعویٰ بھی نہیں کیا گیا۔ سادہ الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ قرآن و حدیث کے مسائل پر مبنی اس قانونی جواب پر کسی مستند عالم دین کی مہر تصدیق ثبت نہیں ہے، بلکہ اہم قانونی نکات پر عدالتی نظیروں کوہی بنیاد بنایا گیا ہے۔

اس کی ایک مثال تو جواب کے دوسرے پیرا گراف میں ہی موجود ہے جس میں کہا گیا ہے کہ زیر غور معاملات پر سپریم کورٹ فلاں فلاں مقدمات میں یہ فیصلہ صادر کر چکی ہے کہ یہ مسائل عدالت کے دائرۂ غور سے خارج سمجھے جائیں، لہٰذا یہ ایک مختصر اور اسی نکتے تک محدود حلف نامہ ہے۔ اگر ضرورت ہوئی یا عدالت نے حکم دیا تو مفصل اضافی جواب پیش کردیا جائے گا۔ طلاق ثلاثہ کے مسئلے پر تو ایک نہایت عجیب او ر متضاد جواب دیا گیا ہے۔ پیرا گراف نمبر 6میں کہا گیا ہے کہ عرضی گزار کی عرضی غلط او رقابل اعتنانہ ہونے کی بنا پر خارج کردینی چاہئے کیونکہ طلاق ثلاثہ کے نکتے پر سپریم کورٹ نے 2002میں شمیم آرا بنام اسٹیٹ آف یوپی مقدمے میں جو فیصلہ دیا تھا وہ مطلق اور فیصلہ کن نظیر ہے۔ حالانکہ دوسرے ہی جملے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شمیم آرا کے مقدمے میں سپریم کورٹ کے ذریعے دیا گیا فیصلہ شرعی قانون کی صحیح عکاسی نہیں کرتا۔ ( اس مقدمے میں مسلم پرسنل لا ء بورڈ فریق نہیں تھا جس کا اعتراف بھی حلف نامہ میں کیا گیا ہے ) نیز یہ کہ شمیم آراء کے مقدمے میں دیئے گئے فیصلے کو چیلنج کرنے اوراس کی درستگی کا حق بحق مسلم پرسنل لاء بورڈ محفوظ ہے۔ ( کب تک محفوظ رہے گا؟) حد تو یہ ہے کہ اگلے پیرا گراف میں یہ تک کہا گیا ہے کہ عرضی گزار یعنی سائرہ بانو نے شمیم آرا کیس میں سپریم کورٹ کے ذریعے طے شدہ اصولوں کے تحت اپنی طلاق کو چیلنج کیوں نہیں کیا ۔ یہ تضاد در تضاد کی بد ترین مثال ہے۔ اور تو اور اتنے نازک مسئلے پر حلف نامہ کہتا ہے کہ سائرہ بانو کو ’’ مسلم خواتین ( تحفظ حقوق بعد طلاق) 1986اور انسداد خانگی تشدّد قانون 2005کا سہارا لینا چاہئے تھا ۔

حلف نامہ کھلے الفاظ میں کہتا ہے کہ طلاق بدعہ ( ایک نشست تین طلاق) قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ اس پر پرنٹ اور سوشل میڈیا نے مسلم پرسنل لاء بورڈ کی سخت الفاظ میں تنقید کی ہے اور فرسٹ پوسٹ جیسی ویب سائٹ نے تو بورڈ کو قرآن مخالف جماعت تک قرار دیا ہے۔ یہ بھی قابل غور ہے کہ اہل تشیع او راہل حدیث دونوں مسلکوں میں طلاقِ بدعت حرام سمجھی جاتی ہے۔ خود بورڈ کے کئی اراکین اہل حدیث ہیں اس کے باوجود اس بات کا حلف نامے میں کوئی ذکر نہیں ۔ امیر علی سے لے کر فیضی تک اور ہدایت اللہ سے لے کر پروفیسر طاہر محمود تک مسلم قوانین کے ماہرین نے طلاق ثلاثہ کوغیر اسلامی قرار دیا ہے۔ فی زمانہ پچیس مسلم ممالک میں اس قسم کی طلاق ممنوع قرار دی جاچکی ہے۔ پاکستانی سپریم کورٹ نے بھی اپنے ایک فیصلے میں تین طلاق کے عمل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے قطعی مسترد اور خارج از آئین کردیا ہے۔ تاریخ سے ثابت ہے ( او راس پر علماء میں کوئی اختلاف نہیں ) کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تین طلاق ایک نشست میں دینے والوں پر حد جاری کی تھی، یعنی کوڑے لگائے جاتے تھے۔ طلاق تو مسترد ہوتی ہی تھی ۔

سائرہ بانو کی عرضی او راس کے جواب میں پرسنل لا بورڈ کے حلف نامے کا مکمل جائزہ اور قانونی تجزیہ کرنا اس مضمون میں ممکن نہیں ، کیونکہ اس کے لیے کتاب کی ضخامت درکار ہے۔ لیکن وہ خاص نکتے جو حلف نامے کے کھوکھلے پن اور پرسنل لاء بورڈ کے عدم خلوص او رذہنی دیوالیہ پن کا ثبوت کہے جاسکتے ہیں ذیل میں درج ہیں:

سب سے پہلے تو یہ ملحوظ رکھناہی پڑے گا کہ سپریم کورٹ کی جن نظیروں کا حوالہ حلف نامے میں دیا گیا ان میں سے ایک بھی مقدمے میں پرسنل لاء بورڈ نے مداخلت کرنے یا فریق بننے کی کوشش نہیں کی لہٰذا ان میں طے شدہ اصولوں اور قانونی ہدایات کو بورڈ کے ذریعے تسلیم شدہ سمجھا جائے گا۔ عدالت یہ سوال کرسکتی ہے کہ طلاق، طلاق سے پہلے تحکیم او رمطلقہّ کا نان نفقہ جیسے معاملات پر دیے گئے بے شمار فیصلوں پر مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کبھی اعتراض نہیں اٹھایا تو اب جب کہ سپریم کورٹ ان فیصلوں پرمبنی قانونی سند دینا چاہتا ہے تو بورڈ کو اعتراض کیوں ہے۔ اس کا کوئی جواب بورڈ کے پاس نہیں ہے۔ اب حلف نامے میں اٹھائے گئے نکات پر نظر ڈالئے ۔

(1) (سائرہ بانو کی ) پٹیشن میں درج معاملات کا تعلق عدالت سے نہیں قانون ساز پالیسی سے ہے۔ ( اس سے کیا مطلب نکالا جائے صاف نہیں ہے ۔ ویسے سپریم کورٹ کو قانون ساز پالیسی پر نظر ثانی کا بھی اختیار ہے )

(2) دستور کی دفعہ 44جس میں یونیفارم کوڈ کا ذکر آیا ہے، اس کی حیثیت رہنما اصول کی ہے جسے قانون کے ذریعے نافذ نہیں کیا جاسکتا ہے ( یہاں یونیفارم سول کورڈ کا ذکر بے محل ہے کیونکہ پٹیشن کا اس سے کوئی تعلق نہیں )

(3) پٹیشن میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جن معاملوں کو زیر غور لایا جارہا ہے انہیں دستور ہند کی دفعات 25،28اور 29کا تحفظ حاصل ہے۔ ( یہ دستور سے ناواقفیت کو ظاہر کرتا ہے ۔ دفعہ 25کی ذیلی دفعہ (1) کہتی ہے ، ’’ مذہب کی آزادی امنِ عامّہ ، اخلاقیات او رصحت عامۃ سے مشروط ہے۔ اسی کی ذیلی دفعہ (2) میں کہا گیا ہے ، ’’ آزادی مذہب ریاست کو فلاحِ عام کے لئے کوئی قانون بنانے میں مزاحم نہیں ہوگی۔

(4) مذہبی الہامی کتابوں کو ہندوستان کے قانونی اور ثقافتی نظام میں غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔ ( یہ کوئی قانونی دلیل نہیں ہے۔ دوسرا مذاہب بشمول ہندو ازم کے کئے رواجوں ، رسموں اور روایتوں کو مسترد قرار دے کر ان کے خلاف قوانین بنائے گئے ہیں )

(5) مسلم پرسنل لاء بورڈ میں شادی طلاق او رنان نفقہ سے متعلق تمام ضوابطہ موجود ہیں جو قرآن اور حدیث کے مآخذات پر مبنی ہیں ۔ ( لیکن ان معاملات پر عدالتوں نے درجنوں ایسی فیصلے دئے ہیں جو مسلم پرسنل لا ء بورڈ سے مختلف ہیں اور ان کو بورڈ نے کبھی چیلنج نہیں کیا)

حلف نامے کے پیرا گراف 17میں مسلم پرسنل لاء بورڈ نفاذ شریعت قانون 1937ء کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس قانون کے تحت تمام مخالف رسوم و روایات کے باوصف مسلمانوں پر شریعت کے قانون اطلاق کردیا گیا تھا۔ لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ وہ کون سی او رکس مسلک کی شریعت تھی اس کی کوئی توضیح نہیں کی گئی تھی جس کی وجہ سے بے شمار مسائل پیدا ہوئے۔

اس کے علاوہ جن علماء کے مشوروں پر انگریزی حکومت نے وہ قانون بنایا او رنافذ کیا ان کے علمی تبحر ( یا ذاتی کردار) کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے بیٹی کو زرعی زمین میں وراثت کے حق سے محروم قرار کردیا تھا او رجس کی درستگی کے سلسلے میں پرسنل لاء بورڈ کئی بے نتیجہ سیمنار کر چکا ہے ۔ ایک افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت جو ایک سنجیدہ اور پر خلوص ادارہ سمجھا جاتاہے، اس حلف نامے کے سلسلے میں خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے حالانکہ مجلسوں اور محفلوں میں اس موضوع پر باقاعدہ بحثیں ہورہی ہیں۔ یہ مجلس مشاورت ہی تھی جس نے مسلم پرسنل لاء بورڈ قائم کیا تھا ۔

لہٰذااب اس اکابرین کا فرض ہے کہ وہ ان نازک معاملات پر خاموشی اختیار کرنے کے بجائے مسلم پرسنل لاء بورڈ اور اس کے کچھ مولویوں کے ذریعے کی جارہی سیاست کا سدِ باب کر کے ملّت کو صحیح راستے پر گامزن کریں ۔ اس کے علاوہ اس دورِ جدید میں جس میں مسلمان اتنا ہی پسماندہ ہے جتنا پچاس سال پیشتر تھا، مسلم دانشور سامنے آکر زمامِ کار سنبھالیں اور دقیانوسی سے معاشرے کو آزاد کریں ورنہ : ع

ہماری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں (جاری)


URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/a-rahman/triple-talaq,-indian-constitution-and-counter-affidavit-filed-by-muslim-personal-law-board--طلاق-ثلاثہ-،-آئین-ہند-اور-مسلم-پرسنل-لابورڈ-کا-جوابی-حلف-نامہ/d/110701

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,





TOTAL COMMENTS:-   1


  • اے رحمان صاحب   کی بہت ساری باتیں قابل غور ہیں ۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ مسلم پرسنل لا بورڈ میں فقہ حنفی کے پیروکار  یعنی سنی صوفی  ’بریلویکے کسی فرد کو رکنیت نہیں ملی ۔خیر یہ الگ مسئلہ ہے ۔

    اس مضمون میں اے رحمان صاحب نے   ایک مجلس میں ایک کلمہ کے ساتھ یا متعدد کلمات کے ساتھ طلاق ثلاثہ کے   تین واقع ہونے کے متعلق اپنا موقف صریح لفظ سے ظاہر نہیں کیا ، البتہ انہوں نے اس مسئلہ کو اکابرین کے حوالے کر دیا ہے ۔اکابرین سے ان کی کیا مراد ہے ؟  کیا  اس سے علمائے کرام مراد ہیں  یا پھر کوئی اور ؟

    میرے اس کمینٹ کا اصل مقصد صرف ایک مغالطہ کی اصلاح ہے جو اے رحمان صاحب نے کی ہے ۔

    اے رحمان صاحب اس مضمون میں ایک مقام پر لکھتے ہیں:

    ’’تاریخ سے ثابت ہے ( او راس پر علماء میں کوئی اختلاف نہیں ) کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تین طلاق ایک نشست میں دینے والوں پر حد جاری کی تھی، یعنی کوڑے لگائے جاتے تھے۔ طلاق تو مسترد ہوتی ہی تھی‘‘۔

    اے رحمان صاحب کے اس جملہ میں دو باتیں ہیں  : اول یہ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ  نے تین طلاق ایک نشست میں دینے والوں پر حد جاری کی تھی ، یعنی کوڑے لگائے جاتے تھے۔ یہ پہلی بات درست ہے کیونکہ اس سلسلے میں روایات ملتی ہیں ، جن میں سے ایک میں نیچے ذکر کروں گا۔

    لیکن اے رحمان صاحب کی دوسری بات ’’طلاق تو مسترد ہوتی ہی تھی‘‘ درست نہیں ہے ۔

    اول کے درست ہونے اور دوسری بات کے عدم درست ہونے پر یہ دلیل ہے :

    حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس کوئی ایسا شخص لایا جاتا جس نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دی ہوں تو آپ اس کو  کوڑے مارتے تھے اور ان کے درمیان تفریق کر دیتے تھے۔ دیکھئے  (المصنف ج ۵ ص ۱۱)

    اس روایت پر غور و فکر کرنے سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے والے کو کوڑے مارنا ہی  ایک مجلس میں تین طلاقوں کے وقوع ہونے کی دلیل ہے ۔اگر تین طلاقیں ایک مانی جاتیں تو آپ  حد نہیں لگاتے یعنی کوڑے نہیں لگاتے۔

    اے رحمان صاحب کا مغالطہ اس بات سے بآسانی دور کیا جا سکتا ہے کہ اگر تین طلاقیں ایک مان کر مسترد ہو جاتیں تھیں تو پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کوڑے کیوں لگائے ؟ خود اے رحمان صاحب کی دونوں باتوں میں تضاد ہے ۔

    خلاصہ یہ کہ ایک مجلس میں تین طلاقیں دینا بدعت ،ناجائز اور گناہ ہے ، اور اس گناہ کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کوڑے لگائے تھے ۔

    اور آج ہند میں بھی اس عمل کو روکنے کے لئے ہم کوئی ایسی حد یا سزا کا قانون مرتب کر سکتے ہیں ، اور ایسی حد لگانے پر فقہ حنفی کا بھی اتفاق ہوگا،  لیکن تین طلاقوں کو ایک قرار دینا  محض  جہالت اور قرآن و سنت اور آثار صحابہ کرام سے ناواقفیت کی دلیل ہے ۔واللہ اعلم بالصواب 


    By Ghulam Ghaus Siddiqi غلام غوث الصديقي - 4/19/2017 3:20:12 AM



Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content