certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (18 Jun 2018 NewAgeIslam.Com)


Understanding Pranab Mukherjee’s Speech as an Answer to Mohan Bhagwat is Wrong پرنب مکھرجی کی تقریر کو موہن بھاگوت کا جواب سمجھنا غلط ہے

 

 

 

 

ارشد عالم ، نیو ایج اسلام

09 جون 2018

کانگریس پارٹی کو اب بہت زیادہ راحت ملی ہو گی۔ آر ایس ایس کی الوداعی تقریب میں پرنب مکھرجی جیسے ایک قد آور کانگریسی کی تقریر سے کانگریس پارٹی کافی بےاعتمادی کا شکار ہوئی ہوگی ، اور معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ تاہم، تقریر کے مواد نے آر ایس ایس کے ساتھ پرنب مکھرجی کے نئے رشتے پر بہت سے لوگوں کی تشویش اور اندیشوں کو ختم کر دیا ہے۔ اگرچہ ان کی تقریر سار سنگھ چالک موہن بھاگوت جیسی شاندار تو نہیں تھی لیکن انہوں نے رواداری اور تکثیریت پسندی کی ضرورت پر اپنی تقریر میں کافی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہی دو باتیں ہندوستانی قوم پرستی کا طرہ امتیاز ہیں۔ انہوں نے بالکل واضح طور پر ہمیں یہ بتایا کہ مختلف نظریات اور متنوع شناخت آج ہندوستانی قوم کے بنیادی عناصر ہیں۔ انہوں نے گاندھی، نہرو اور ٹیگور جیسے جن مفکرین کا حوالہ پیش کیا ان کے نظریات ہندوستانی قوم پرستی کے حوالے سے آر ایس ایس کے خیالات کے مقابلے میں کافی مختلف ہیں۔ اپنی پوری تقریر میں پرنب مکھرجی نے رنگا رنگی اور تکثیریت پسندی کی اہمیت پر زور دیا اور انہیں ہندوستانی قوم پرستی کی منفرد خصوصیت قرار دیا۔

کیا آر ایس ایس کو اس بات کا خطرہ ہونا چاہئے کہ جس شخص کو انہوں نے مدعو کیا اسی نے ان کی نظریاتی تردید کر دی اور جس مقصد کے پیش نظر انہیں بلایا گیا تھا وہ مقصد فوت ہو گیا؟ بہت سے تبصرہ نگاروں نے بھی یہی سمجھا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی فرق تلاش کیا جائے تو جو آر ایس ایس کے سربراہ نے کہا اور جو پرنب مکھرجی نے کہا ان دونوں کے درمیان بہت ادنیٰ فرق ہے۔ بلاشبہ ان دونوں کا تعلق مختلف سیاسی نظریات سے ہے لیکن جب قوم پرستی کی بات آتی ہے تو ان تمام کے بیان سے ایک وسیع پیمانے پر اتفاق رائے کا اظہار ہوتا ہے۔ اب ہم اس نقطہ نظر کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔

ایسا محسوس ہوا کہ دونوں نے صرف قدیم بھارت کی کامیابیوں پر ہی روشنی ڈالی۔ یہ بالکل واضح بات ہے کہ قدیم بھارت ہندو بھارت کے مترادف ہے اور اسی وجہ سے یہ ہندوستانی تہذیب و ثقافت کا نمونہ سمجھا جاتا ہے۔ پرنب مکھرجی نے مختلف سلطنتوں اور تکشیلا جیسی مختلف یونیورسٹیوں کے ذریعے قدیم ہندوستانی ثقافت کی کامیابیوں کے بارے میں بات کی۔ جب قرون وسطی کی بات آئی جو کہ مسلم دور حکومت کا دوسرا نام ہے ، تو وہ اسے صرف 'مسلم حملہ آوروں' کا دور کہہ کر آگے نکل گئے۔ آر ایس ایس کو یہ سن کر بڑی خوشی ہوئی ہو گی۔ آخر کار ایک سینئر کانگریسی لیڈر ہندوستان کی تاریخ کے بارے میں ان کا نقطہ نظر پیش کر رہا تھا۔ مسلمانوں کے بارے میں کوئی بات نہ کر کے ان دونوں کی تقریروں سے مسلمانوں کو غائب کر دیا گیا تھا۔

انصاف کی بات یہ ہے کہ بھاگوت نے ہندوستانی تہذیب کے ثقافتی تسلسل پر زور دیا لیکن انہوں نے فوراً اس بات کا بھی اشارہ کر دیا کہ یہ تسلسل صرف ہندومت کی اشاعت کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ مکھرجی نے بھی یہی سب کچھ کہا لیکن اس کے بعد انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدیوں تک میل جول کی وجہ سے ہندوستانی ثقافت جامع اور ہمہ گیر بن چکی ہے۔ تاہم، بھاگوت کی ہی طرح انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس ملک کی تکثیریت میں ایک خاص قسم کی وحدت بھی تھی اور یہ وحدت ہندومت سے پیدا ہوئی تھی۔ اس طرح پرنب مکھرجی نے اگر چہ لفظ جامع اور ہمہ گیر کا استعمال کیا ، لیکن انہوں نے اس کے پیچھے کی تاریخ کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا۔ انہوں نے مولانا مدنی اور مولانا آزاد کا کوئی ذکر نہیں کیا جو کہ یہاں کی ایک جامع اور ہمہ گیر قوم پرستی کے تصور کے پیچھے اصل محرک تھے۔ ان دونوں حضرات کی تقریر میں ہندو تمدن ہی ایک بنیاد کی حیثیت سے قائم رہا جس کے ارد گرد ہندوستانی تہذیب فروغ پائی اور اب بھی جاری ہے۔ ہندومت کی ایک غیر تاریخی تفہیم اور قدیم ہندوستان کی حصولیابیوں کی تعریف کافی معمولی بات ہے جو کہ جو اس دور میں غلط ہے۔ دلتوں کے نقطہ نظر سے قدیم ہندوستانی ثقافت میں کوئی خوبی اور قابل ذکر بات نہیں ہے اور اس کی وجہ صاف ہے کہ ان کے ساتھ اس دور میں جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا تھا۔ برہمنوں کے ہاتھوں قتل و غارت گری کا سامنا کرنے والے بدھ مت کے پیروکاروں کے لئے ہندوستانی تاریخ کے اس دور میں کون سا باب شاندار ہے؟ بدھ مت کو اس کی جائے پیدائش تک ہی محدود کر دیا گیا تھا اور خطرناک اور زہریلے برہمن واد کی بدولت یہ تقریباً نیست و نابود کیا جا چکا تھا۔

ان تمام باتوں کا مقصد یہ ہے کہ اس ملک میں اس امر پر ایک غیر ضروری بحث و مباحثے کا دور چل رہا ہے کہ کانگریس اور آر ایس ایس کی قوم پرستی کے درمیان بنیادی فرق ہے۔ بھاگوت اور مکھرجی کی تقریروں میں ایسی بہت ساری باتیں ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان دو سیاسی جماعتوں کے درمیان قوم پرستی کے بارے میں اتفاق رائے ہے۔ فرق صرف نوعیت کا نہیں صرف شکل و صورت کا ہے۔ لہٰذا ٹیلی ویژن کے مباحثوں اور اخبارات کے کالمز میں ان دونوں کے درمیان جو بنیادی فرق ثابت کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں وہ یقینی طور پر بے مطلب اور ان کے نقطہ نظر کو سمجھنے میں تغافل کا نتیجہ ہے۔ خاص طور پر ان کا یہ تغافل خود لبرل ہندو تاریخ کے مفروضات کا نتیجہ بھی ہے۔ کیا یہ صرف اتفاق کی بات ہے کہ آر ایس ایس اتنی آسانی کے ساتھ اندرا گاندھی سے مودی پر آجائے؟ آخر کار اندرا گاندھی کو آر ایس ایس نے درگا کا مقام عطا کیا تھا اور اس وقت کانگریس کو بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ اس بات کا مقصد یہ ہے کہ ہم میں سے بعض لوگ کانگریس اور آر ایس ایس کے مختلف نظریات کے بارے میں ہمیشہ غلط تصور قائم کر لیتے ہیں۔ آر ایس ایس کی کوئی تنقید نہ کر کے پرنب مکھرجی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک حقیقی کانگریسی ہیں۔ جو لوگ ان سے مایوس ہیں انہیں کانگریس پارٹی کی تاریخ کی کوئی سمجھ نہیں ہے۔

اگر پرنب مکھرجی کوئی فرق پیدا کرنا چاہتے تو وہ خاص طور پر مسلمانوں اور دلتوں کے قتل عام کے بارے میں ضرور کوئی بات کرتے۔ آج جو غلط ہے اسے واضح نہ کر کے اور اس بات کا انکشاف نہ کر کے کہ کس طرح ان کا تعلق انتہاپسند ہندو نظریات سے ہے – انہوں نے آر ایس ایس کو ایک مخصوص انداز میں جواز عطا کیا ہے۔ جو دور ہم دیکھ رہے ہیں اس جیسے پریشان کن دور میں برائی کا نام نہ لینا اسے نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ آخر میں ان کی تقریر کو اس کے مواد کے لئے نہیں جانا جائے گا کیونکہ اس میں کوئی اصلی یا نئی بات نہیں تھی۔ بلکہ وہ اس نقطہ نظر کے لئے جانا جائے گا جو اس تقریر نے فراہم کیا ہے۔ بھگوا پرچم لہرانا اور ایک ایسے سینئر کانگریسی لیڈر کی موجودگی میں اسے سلامی پیش کرنا جو کہ سیاست دان ہونے کا دعوی کر سکتا ہے۔ اس پورے تماشے نے صرف ان مناظر کو ایک خیال خام بناتے ہوئے ایک معمولی واقعہ بنا کر پیش کرنے میں ہی مدد کی ہے۔ اور جن لوگوں کا خیال اس کے برعکس وہ صرف خود کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/current-affairs/arshad-alam,-new-age-islam/understanding-pranab-mukherjee’s-speech-as-an-answer-to-mohan-bhagwat-is-wrong/d/115496

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/arshad-alam,-new-age-islam/understanding-pranab-mukherjee’s-speech-as-an-answer-to-mohan-bhagwat-is-wrong--پرنب-مکھرجی-کی-تقریر-کو-موہن-بھاگوت-کا-جواب-سمجھنا-غلط-ہے/d/115563

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content