certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (31 May 2019 NewAgeIslam.Com)



What Should Be Muslims' Strategy In These Apparently Discouraging Circumstances? ان بظاہر حوصلہ شکن حالات میں مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو؟


مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

31مئی،2019

جب انسان پر کوئی مصیبت اور آزمائش آئے تو ہمار ا کیا رویہ ہونا چاہئے اس سلسلہ میں رب العالمین کے کلام قرآن مجید نے ہماری راہنمائی فرمائی ہے،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

”آپ برائی کو ایسے طریقہ سے دفع کیا کریں جو سب سے بہتر ہو، ہم ان (باتوں) کو خوب جانتے ہیں جو یہ بیان کرتے ہیں۔(المومنون:96)

اللہ تعالیٰ نے ایک او رموقع پر اس جانب بھی متوجہ فرمایاہے کہ یہ بہتر طریقہئ جواب (دفاع بالاحسن) دشمنی کو دوستی میں تبدیل کرتا ہے، یہ صبر آزماہے! لیکن کامیابی کی کلید ہے:

”اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہوسکتے،اور برائی کو بہتر (طریقے)سے دور کیا کرو سو نتیجتاً وہ شخص کہ تمہارے اور جس کے درمیان دشمنی تھی گویا وہ گرم جوش دوست ہوجائے گا۔ اور یہ (خوبی) صرف انہی لوگوں کو عطا کی جاتی ہے جو صبر کرتے ہیں، اور یہ (توفیق) صرف اسی کو ہوتی ہے جو بڑے نصیب والاہوتا ہے۔“ (المومن،34،35)

یہ ”بہتربات“ کیا ہے؟ قرآن ہی نے اس کوان آیات سے پہلے وارد ہونے والی آیت میں بیان فرمایا ہے:

”اور اس شخص سے زیادہ خوش گفتار کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے او رکہے: بے شک میں (اللہ عزوجل اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے) فرمانبردار وں میں سے ہوں۔“ (المومن:32)

یعنی بہتر بات سے ”دعوت الی اللہ“ مراد ہے، دعوت دشمن کو دوست بنا تی ہے، دعوت حق کی علمبردار قوم کو نصیب ور بناتی ہے، البتہ اس کے لئے صبر، قوت برداشت اور حسن تدبیر کی ضرورت ہے۔ صبر کے معنی صرف چوٹ کھا کر خاموش رہنے کے نہیں ہیں: بلکہ صبر بڑے مقصد کے لئے مصیبتوں اور آزمائشوں کو سہنے اور حو صلہ شکن حالات میں بے برداشت ہونے کے بجائے حکمت و تدبیر سے کام لینے کے ہیں۔

اس وقت حالات مسلمانوں کے لئے بظاہر حوصلہ شکن ہیں،اچھی خبروں کے لئے کان ترستے ہیں، خوش کن تنائج کودیکھنے کیلئے آنکھیں سراپا انتظار ہیں، سکون وطمانیت دینے والی اطلاعات کے لئے قلوبے چین ہیں، بظاہر ہر طرف ظلمت کی گھٹائیں اور اندھیرے ہی اندھیرے ہیں: لیکن مومن کا کام یہ ہے کہ وہ ان اندھیروں میں بھی روشنی تلاش کرلے نا امیدیوں کو گھنگھنور گھٹاؤں میں سے بھی امید کی کرنیں اسے نظر آئیں اور خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کایہی طریقہ تھا۔ وہ ناموافق حالات میں بھی ایسے پہلو تلاش کرلیتے تھے، جس سے طمانیت ہو اور جس سے ان کا خدا راضی ہوجائے۔ لو گ انہیں خوف دلاتے، کہ پوری دنیا تمہارے مقابلہ پر جمع ہوگئی ہے او روہ کہتے ہمارے لئے خدا کافی ہے:”حسبنا اللہ ونعم الوکیل“ وحشت انگیز خبروں سے ان کے ایمان میں اضافہ ہی ہوجاتا، لوگ انہیں ان کے رفقاء کی شہادت کا طعنہ دیتے اور وہ اسے اپنے بھائیوں کے لئے انعام تصور کرتے۔

اس وقت حالات بہت بُرے ہیں، لیکن اس میں ایک پہلو خیر کا بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اسلام کو سمجھنے اوراسلام کے بارے میں جاننے کا جو رجحان حالیہ زمانہ میں پیدا ہوا ہے، کم از کم پچھلے سترسال میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف میڈیا کی زہر فشانی اور اس کے نتیجہ میں اسلام کو جاننے کی خواہش کو دیکھتے ہوئے سیرت کا وہ واقعہ یاد آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی اور جب حج کا موسم آتا، یا کوئی بڑا تجارتی میلہ لگتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لوگوں کو برگشتہ کرنے کے لئے اہل مکہ طرح طرح کی باتیں کرتے اور زیادہ تر یہ کہا جاتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جادو گر یا مجنوں ہیں (والعیاذ باللہ) اور ایسا جادو جانتے ہیں، جس کے ذریعہ والدین اور اولاد اور شوہر او ربیوی کے درمیان جدائی ڈال دیتے ہیں۔ لیکن یہی پروپیگنڈہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوگوں کی توجہ کا باعث بن جاتا۔ باہر سے آنے والوں میں ایک کھوج پیدا ہوجاتی کہ آخر یہ کون شخص ہے جس کی مخالفت اس شد و مد کے ساتھ یہ جاری ہے؟ یہی تجسس لوگوں کو بارگاہ نبوت تک لاتا، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متاثر ہوکر اور دامن دل کو ایمان سے بھر کر واپس ہوتے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتی زندگی کا بڑا صبر آزما مرحلہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر بری بات کا جواب ”بہتر بات“ سے یعنی سنجیدہ طریقہ پر دعوت الی اللہ سے دیتے۔ لوگ گالیاں دیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے ایمان کی دعا فرماتے، لوگ بڑا بھلا کہتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہوں میں کانٹے بچھاتے اور آپ ان پر میٹھے بول کے پھول برساتے اور کہتے: ”خدا ئے حقیقی سے اپنا رشتہ جوڑ لو تو تم کامیاب ہوگے۔“ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف زہر افشانی کرتے؟ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے کبھی ان کی ذات کیلئے کوئی تلخ کلمہ بھی نہیں نکلتا، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم شب وروز خدا کی توحید کا اعلان فرماتے، لوگ نفرتوں کی آگ سلگاتے او راس کی آنچ کو تیز تر کرنے کی کوشش کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم محبت کے پھوار سے اسے بجھانے کی راہ اختیار فرماتے۔

یہی وہ ”طریقہ احسن“ ہے جس کی قرآن نے دعوت دی ہے اور جس کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ اس کی توفیق ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو صبر کا پیکر ہوں۔موجودہ حالات میں بھی اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم نفرت کا جو اب کلمہ محبت سے دیں،اشتعال دلانے والی باتوں کا جواب سنجیدہ،مدلل اور حقیقت پسندانہ اُسلوب سے دیا کریں، تو اس طرح ہم اسی شر کو اپنے لئے سر چشمہ خیر بنا سکتے ہیں۔

اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ منصوبہ بند پروپیگنڈہ کا جواب منصوبہ بند دعوت سے دیا جائے اور اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم ہر علاقہ اور ہر ملک میں اسلام کا تعارف پیش کریں،اسلام نے امن و آشتی، صلح و رواداری اور محبت کا جو پیغام انسانیت کے لئے دیا ہے اس پیغام کا خوشبو سے ہم پوری دنیا کی فضا اخوت سے جلادینے والی باد سموم نہیں بلکہ انسانیت کو اخوت وبھائی چارہ کی خنگی سے ہمکنار کرنے والی باد نسیم ہے۔

ہم اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قریہ قریہ،شہر شہر، محلہ محلہ ہندوؤ ں اور مسلمانوں کے مشترکہ اجتماعات رکھیں اور قرآن صلح دامن کی جو تعلیم دیتا ہے اس کو خوش اسلوبی سے پیش کریں، ان آیات کے ترجموں پر مشتمل ورقے طبع کرائیں اور اسے برادروطن تک پہنچائیں، مقامی زبان کے اخبارات کا رویہ ایک حد تک غیر حقیقت پسندانہ رہاہے اور یہ شکایت عام ہے کہ اسلام کے خلاف جوبے سروپا باتیں آتی ہیں، انہیں یہ بڑے اہتمام سے شائع کرتے ہیں اور اس کے جواب میں جو کچھ لکھا جاتاہے، اسے بہت کم قابل اعتناء سمجھتے ہیں، لیکن اس میں ہماری کوتاہی کوبھی دخل ہے، ہم اس بات کی کوئی منظم کوشش نہیں کرتے کہ ایسے مضامین اور مراسلات کا سنجیدہ، غیر جذباتی او رمدلل جواب دیں اور انگریزی اخبارات کے ذمہ داروں تک پہنچ کرانہیں مسلمانوں کی شکایت کی طرف متوجہ کریں، ہم اشتعال واحتجاج کرے بجائے انہیں قائل کریں، اس طرح ہم انگریزی اخبارات تک بھی رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔

انٹر نیٹ کے ذریعہ ایک ایسے ذریعہ ابلاغ تک ہمیں رسائی حاصل ہوئی ہے، جس میں اپنی بات، اپنی زبان او راپنے قلم سے پہنچانے کا پورا موقع حاصل ہے، اس میں ہم نہ کسی سہارے کے محتاج ہیں اور نہ کثیر و سائل کے اور اس وقت یہ سمجھدار اور باشعور لوگوں تک رسائی کے لئے نہایت وسیع الاثر ذریعہ ہے، اس کے علاوہ دوسرے ذرائع ابلاغ بھی ہیں، جن کے ذریعہ ہم لوگوں تک اپنی بات پہنچا سکتے ہیں، ضرورت ہے کہ ہم ان وسائل و ذرائع سے استفادہ کریں اور جذبات کے بجائے حکمت و تدبیر اور اشتعال کے بجائے صبر و استقامت کی راہ اختیار کریں، اس طرح ممکن ہے کہ یہی طوفان امت مسلمہ کو ایک نئے ساحل سے ہمکنار کردے، بہ قول شاعر اسلام علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ:

مسلماں کو مسلماں کردیا طوفان مغرب نے

تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی

31مئی،2019  بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/maulana-khalid-saifullah-rahmani/what-should-be-muslims-strategy-in-these-apparently-discouraging-circumstances?--ان-بظاہر-حوصلہ-شکن-حالات-میں-مسلمانوں-کا-لائحہ-عمل-کیا-ہو؟/d/118753

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism





TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content