New Age Islam
Tue Jun 09 2026, 05:30 AM

Urdu Section ( 16 Aug 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Religious justification of Niqab and Burqa چہرے کے پردے(برقع اور نقاب) کے بارے میں مذہبی جواز اور اس کے مفروضات پر مختصر غور و فکر

ڈاکٹرادس ددریجا، نیو ایج اسلام

2اپریل، 2012

(انگریزی سے ترجمہ سمیع الرحمٰن،  نیو ایج اسلام)

حالیہ دنوں میں  مسلم خواتین کے ذریعہ برقع اور نقاب پہننے  کے مسئلے پر مغربی ملکوں کی اعتدال پسند جمہوریتوں میں بڑی تعداد میں  گرما گرم بحث ابھر کر سامنے آئی ہے۔ اس چھوٹے سے مضمون میں میں  برقع اور نقاب پہننے کی روایت کے پیچھے دئے جانے والی مذہبی جوا ز پر مختصر غور  وفکر پیش کروں گا اور جو لوگ  اسے مذہبی طور پر لازمی قرار دیتے ہیں  ان کی  دلیل میں شامل  تشریحی اور دیگر مفروضات کو پیش کروں گا۔

 اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ لوگ جو  چہرے کے پردے کو  لازمی قرار دیتے ہیں وہ اپنی بات کی حمایت میں کئی مستند (صحیح)  حدیث (روایت میں جسے  مسلمہ طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کیا جاتا ہے) اور قرآن کی آیت (33:53 دیگر آیات جیسے کہ 33:59 کو بھی استعمال کیا جاتا ہے لیکن بنیادی طور پر بالوں سمیت  جسم کو ڈھانکنے نہ کہ چہرے کو ڈھانکنے کی دلیل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے)  جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے گھر پر آنے والے مہمانوں  کو مخاطب کرتی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی ازواج مطہرات کے سامنے کیسے پیش آئیں، لیکن اس کی تشریح 'تمام مومنین کی مائوں کے طور پر' ان کے مثالی کردار  کی بنیاد پر اسے    تمام مسلم خواتین پر اطلاق ہونے والی کی طور پر تشریح کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ وہ لوگ جو چہرہ کے  پردہ کومذہبی اعتبار سے  لازمی کردار کے طور پر دلیل دیتے ہیں  وہ  مرد اور خواتین کی جنسیت کی مخصوص تفہیم کی بنیاد پر اس کا جواز پیش کرتے ہیں  اور جو  قرآن میں تو نہیں ہے لیکن کچھ 'صحیح' یا مستند حدیث میں ہے۔  ان لوگوں نے   قانونی کہاوت  blocking the means کی بنیاد پر  برقع اور نقاب کے مذہبی معیاری  کردار کو  بھی اپنایا ہے جسے اسلامی  قانون کے اصول اور اس کے اہم لٹریچر  میں  بھی  تلاش کیا جا  سکتا ہے، جو دلیل دیتے ہیں کہ  کچھ بھی  اخلاقی طور پر  ناپسندیدہ  نتائج کی جانب جا  سکتا ہے یعنی حرام اپنے آپ میں ہی حرام ہے۔

چہرے کے پردے کے معاملے میں  ایک سوال جو اکثر  بڑی تعداد میں ہونے والے  تجزیے میں نہیں پوچھا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ  کتنی خواتین چہرے کا پردہ کرنے کا انتخاب کریں گی (یا کتنے مرد اس کے لئے  عورتوں کو کہیں گے/ ایسا کرنے کے لئے  عورتوں کومجبور کریں گے ) اگر وہ نہیں سوچتے ہیں کہ  یہ  مذہبی اعتبار سے  ضرورت /  لازمی یا یہاں تک کہ  پسندیدہ ہوگا؟ یہ خاص طور ایسا ہے اگر ایک متبادل اور 'مستند' (اور میرے خیال میں قائل کرنے والی تشریح) قدیم تشریحی اور  علمیات سے متعلق فریم ورک کے تحت ہو، اسے مندرجہ ذیل خطوط پر پیش کرنے کے لئے کیا گیا تھا۔

1۔ صحیح' حدیث جن کا ذکر کیا گیا ہے وہ اکیلی حدیث (احد) ہیں اور  قدیم  اسلامی قانونی اصول کے مطابق علمیت کو  قانون  کے ذرائع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتاہے۔

2۔ آیت لفظ 'حجاب' نہ کہ  نقاب/ برقعہ کا استعمال کرتی ہے اور اسے ایک ایسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تناظر میں دیکھا جانا  چاہئے جن کی شخصیت بہت زیادہ عوامی تھی   اور جن کی اپنی بیویوں سمیت عملی طور پر بہت کم يا کوئی نجی زندگی نہیں تھی۔ بہت سے لوگ اپنی مرضی سے آپ صلی  اللہ علیہ وسلم کےگھر پر  آتے اور جاتے تھے۔  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں آج کی طرح دروازے نہیں تھے۔   اس کے علاوہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا  گھر  اور ان کی  بیویوں کے کمرے بڑی 'مسجد' کے احاطے کا ہی حصہ تھے۔  اس طرح یہ  ایک بہت ہی  مصروف ترین جگہ تھی۔  شاید یہ مشابہت یہاں مناسب ہو گی۔ مثال کے طور پر، ایسے والدین جن کے بچے ہیں اور جو سن بلوغت کو پہنچ چکے ہیں، وہ اپنے بچوں سے یہ ضرور کہیں گے کہ  والدین کے کمرے کے دروازے کو نہ کھولیں جب وہ اندر ہوں، جب تک کہ انہیں ایسا کرنے کے لئے والدین کی طرف سے اجازت نہ دے دی جائے۔

لہذا آیت کی منشاء  پر  اس تناظر میں  غور کرنا چاہئے۔  واقعی میں حدیث نے اس کی تصدیق کی ہے کہ قدیم اسلامی روایت  رسمی طور پر  ان آیت سے منسلک ہیں جن پر سوال کھڑے کئے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر ، وحی کے نزول کےتناظر  میں  نئے شادی شدہ جوڑے کی خواب گاہ (یعنی پیغمبر  صلی اللہ علیہ وسلم  اور ان کی بیوی حضرت زینب رضی اللہ عنہا) ہے اور مقصد ان کی  بے تکلفی  کی حفاظت کرنا اور تیسرے شخص  (حضرت انس رضی اللہ عنہا نام کے صحابی) کو خارج کرنا تھا۔  اس معاملے پر موجود حدیث  کی تحریروں سے  (بڑی تعداد میں مختلف ورژن) معلوم چلتا ہے کہ مختصراً وحی کے نزول کے  پیچھے موقع یہ تھا کہ  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شادی کی رات کو کچھ بے تکے مہمانوں سے الگ  نہیں کر سکے کیونکہ وہ   شادی کے بعد کے کھانے  کے دوران اور اس کے بعد گفتگو میں کھوئے ہوئے تھے، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب کے ساتھ اپنی شادی  کی پہلی رات  اکیلے رہنا چاہتے تھے۔  بالواسطہ طور پر  ان لوگوں کو بتانے کی کئی کوششوں کے بعد  وہ یہ سمجھ جائیں کہ اب ان کے جانے کا وقت ہو گیا ہے اور وہ ان کے گھر سے نکل کر ان کے  صحن میں  چلے جائیں   ۔  اس واقعہ کے گواہ حضرت  انس ابن ملک رضی اللہ عنہ  کے مطابق  تب اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے  وہ آیت تلاوت فرمائی جس پر ہم سوال کر رہے ہیں۔  33:53 "اے ایمان والو! نبیِ (مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو سوائے اس کے کہ تمہیں کھانے کے لئے اجازت دی جائے (پھر وقت سے پہلے پہنچ کر) کھانا پکنے کا انتظار کرنے والے نہ بنا کرو، ہاں جب تم بلائے جاؤ تو (اس وقت) اندر آیا کرو پھر جب کھانا کھا چکو تو (وہاں سے اُٹھ کر) فوراً منتشر ہوجایا کرو اور وہاں باتوں میں دل لگا کر بیٹھے رہنے والے نہ بنو۔ یقیناً تمہارا ایسے (دیر تک بیٹھے) رہنا نبیِ (اکرم) کو تکلیف دیتا ہے اور وہ تم سے (اُٹھ جانے کا کہتے ہوئے) شرماتے ہیں اور اللہ حق (بات کہنے) سے نہیں شرماتا، اور جب تم اُن (اَزواجِ مطّہرات) سے کوئی سامان مانگو تو اُن سے پسِ پردہ پوچھا کرو، یہ (ادب) تمہارے دلوں کے لئے اور ان کے دلوں کے لئے بڑی طہارت کا سبب ہے، اور تمہارے لئے (ہرگز جائز) نہیں کہ تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف پہنچاؤ اور نہ یہ (جائز) ہے کہ تم اُن کے بعد ابَد تک اُن کی اَزواجِ (مطّہرات) سے نکاح کرو، بیشک یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا (گناہ) ہے،"۔  اس آیت کی تلاوت کے بعد  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے  (اور اپنی بیوی حضرت زینب رضی اللہ عنہا)اور  حضرت انس رضی اللہ عنہ کے درمیان پردہ کر لیا (حدیث قرآن کے لفظ حجاب  جس کے معنی پردا کے ہیں اس کے  متبادل کے طور پر  استعمال کرتا ہے)۔

3۔ مرد اور عورت کی جنسیت جو قرآن میں نہیں ہے اس کے بارے میں قدیم  تفہیم اس طرح تھی کہ  جس کے مطابق خواتین کے جسم کو  اخلاقی طور پر  بگاڑ پیدا کرنا والا  (جنسیت کے برعکس) تصور کیا جاتا تھا اور یہ کہ مرد عورتوں کی ناقابل مزاحمت جنسیت  کے خلاف  مخالفت نہیں کر پاتے تھے اور جس کے نتیجے میں  سماجی اور اخلاقی  افرا تفری  (فتنہ) پیدا ہوتی تھی۔  کچھ احادیث میں اس ذہنیت کے کچھ ثبوت ہیں۔  تاہم، مرد/ خواتین کی جنسیت کے بارے میں یہ قول تجربہ  کی بنیاد پر  جھوٹ ہے اور کسی بھی حدیث کا ثبوت جو کہ تجربہ کی بناء پر جھوٹ ہو، یہاں تک کہ قدیم  حدیث سائنس  کے مطابق بھی ، وہ درست نہیں ہو سکتی ہے، اگر یہ  'صحیح' تصور کی جاتی ہوں تب بھی۔  مجھے لگتا ہے کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ اس بات سے متفق ہوں گے کہ  عورتوں کے جسموں کو اخلاقی طور پر بگاڑ  پیدا کرنے والا تجویز کرنا بھی اخلاقی  برائی ہے۔

4 ۔ اسلامی قانونی طریقہ کار کے ادب میں پائی جانے والی قانونی کہاوت ،   blocking the means بھی مبہم ہے کیونکہ یہ صرف عورتیں نہیں ہیں جنہیں اس کا بار  برداشت کرنا ہوگا بلکہ اگر اس طریقہ کار کو منطقی طریقے سے وسعت دی گئی تو یہ سخت ظالمانہ ہوگا اور کوئی بھی اس کی بنیاد پر کسی بھی چیز کا جواز پیش کر دے گا (مثال کے طور پر جیسے سعودی عرب میں خواتین ڈرائیوروں کا معاملہ،  فون پر مخالف جنس کے ایک غیر متعلقہ شخص سے بات کرنے یا اس سے خط و کتابت کرنے کے معاملے میں )۔  آخر میں، مرد/ خواتین کی جنسیت کے بارے میں  قدیم  نقطہ نظر انسانوں کو اخلاقی ترقی کرنے کے قابل نہیں رکھتا ہے،کسی کی اخلاقی ، نظم و ضبط کی  تربیت کے معاملے میں  یہ تجویز دینا کہ کوئی بھی فتنہ  اخلاقی اعتبار سے برے  افعال کی طرف لامحالہ طور پر لے جائے گا۔   اس کے بجائے، مردوں کو  اخلاقی جنسی برائی  کے شکار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور یہ برائی عورتوں سے منسوب کی جاتی ہے۔  اس نظریے  کو ماننے پر کوئی بھی بے توجہی میں خواتین کو  جنسی طور اسی مادّی شکل میں پیش کرتا ہے جیسا کہ اس نظریے کے محرکین  اتنی تیزی سے مغربی تہذیب پر الزام عائد کرتے ہیں۔  کیا یہ  اخلاقی طور پر برا نہیں ہے؟

ایک طرح سے  یہ  مجھے وہ یاد دلاتا ہے، جو حال ہی میں میں نے   بی بی سی ریڈیو پر ملائیشیا کے اسکولوں میں جنسی تعلیم کو متعارف کرانے کے سلسلے میں سنا۔  مثال کے طور پر وہ لوگ جو اس کی مخالفت (قدامت پرست روایتی مسلمان) کرتے ہیں وہ اس   دلیل کا استعمال کرتے ہیں کہ  اسکولوں میں جنسی تعلیم کو متعارف کرانے سے  متعلقہ لوگوں کی جنسی سرگرمی میں  لامحالہ طور پر  اضافہ ہو جائے گا۔  یہ ایک عجیب منطق ہے اور اکثر یہ  خود ہی حقیقت بن جانے والی   پیشن گوئی کے طور پر کام کرتی ہے۔

 ڈاکٹر ادس ددریجا  میلبورن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں ریسرچ ایسوسی ایٹ ہیں اور نیو ایج اسلام کے لئے باقاعدہ کالم لکھتے ہیں۔

URL for English article: https://newageislam.com/islamic-sharia-laws/a-brief-reflection-religious-justification/d/6976

URL for Hindi article: https://newageislam.com/hindi-section/a-brief-reflection-religious-justification/d/8278

URL for this article: https://newageislam.com/urdu-section/religious-justification-niqab-burqa-/d/8302

Loading..

Loading..