New Age Islam
Tue Jun 09 2026, 05:20 PM

Urdu Section ( 9 Jun 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Bait ul Muqaddas بیت المقدس: قرآنی تعلیمات کے برعکس ہم مسلمان کیوں اس کے قبلہ اول ہونے میں الجھے ہوئے ہیں؟

سلطان شاہین' ایڈیٹر،  نیو ایج اسلام

June 9, 2012

ہم دیوبند مدرسہ کے مولانا ندیم الوجدی کے اردو اخبارات میں وسیع پیمانے پر شائع مضمون کا  اردو کے اتھ ہی  انگریزی اور ہندی ترجمہ شائع کر رہے ہیں۔ اس مضمون میں مولانا نے  حرم الشریف بیت المقدس اور مسجد اقصٰی کے لئے مسلمانوں کی محبت اور دعووں کی تفصیل پیش کی ہے، جسے یروشلم میں ٹیمپل مائونٹ اور سولومنس ٹیمپل یا فرسٹ ٹیمپل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ پوری دنیا میں مسلم پریس مشرقی یروشلم پر اسرائیلی قبضے کے بعد سے ہی بیت المقدس اور مسجد اقصی پر مکمل کنٹرول میں ناکامی پر  مسلسل مسلمانوں کے ماتم سے بھرا رہتا ہے۔ قبضے کے خلاف لڑ ائی ایک بات ہے۔ دنیا میں تمام انصاف پسند لوگ اس معاملے پر فلسطینیوں کے ساتھ ہیں۔ لیکن یہ دوسری بات ہے کہ  دنیا کی مسلمان کمیونٹی، ایک عمارت پر نظریاتی دعوی کرتی ہے جبکہ اللہ نے ہمیں بتایا ہے کہ یہ اہل کتاب یہودیوں اور عیسائیوں سے تعلق رکھتی ہے۔

مسلمان ان عمارتوں کا احترام قبلہ اوّل کے طور پر کرتے ہیں ، کیونکہ اسلام کے ابتدائی مرحلے میں پیغمبر  صلی اللہ علیہ وسلم یہودیوں اور عیسائیوں سے مصالحت اور کتاب مقدس والے  پیغمبر کے طور پر  قبولیت کی امید کر رہے تھے۔ اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور  مکّہ کے دیگر لوگ ہمیشہ کعبہ شریف کو  اپنے قبلہ کے طور پر  استعمال کرنا چاہتے تھے، خدا کی ہدایت کے مطابق یہی وہ رعایت تھی جو وہ لوگ مقدس کتاب والے دوسرے علاقے کے لوگوں کی وسیع تر قبولیت  کے مفاد میں دینے کو راضی تھے۔ تاہم، جب یہ تمام کوششیں ناکام رہیں اور یہودیوں کو  جنگ کے اوقات میں انکی غداری کی وجہ سے  نکال دیا جانا تھا۔   نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مکہ کے مسلمانوں نے  قبلہ کو  بیت المقدس سے کعبہ شریف تبدیل کرنے کی اجازت کے لئے آسمان کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔

ایک علیحدہ قبلہ کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش کو دیکھتے ہوئے، اس طرح خدا نے جواب دیا: سورۃ بکرہ 2: 144۔ " (اے حبیب!) ہم بار بار آپ کے رُخِ انور کا آسمان کی طرف پلٹنا دیکھ رہے ہیں، سو ہم ضرور بالضرور آپ کو اسی قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس پر آپ راضی ہیں، پس آپ اپنا رخ ابھی مسجدِ حرام کی طرف پھیر لیجئے، اور (اے مسلمانو!) تم جہاں کہیں بھی ہو پس اپنے چہرے اسی کی طرف پھیر لو، اور وہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی ہے ضرور جانتے ہیں کہ یہ (تحویلِ قبلہ کا حکم) ان کے رب کی طرف سے حق ہے، اور اﷲ ان کاموں سے بے خبر نہیں جو وہ انجام دے رہے ہیں"۔

اسی آیت کو زیادہ تر مسلمان یاد رکھتے  ہیں  اور اسی پر عمل کرتے ہیں۔ لیکن اگلی ہی آیت میں  ان کے لئے وضاحت کی گئی ہے کہ بیت المقدس،  یہودیوں اور عیسائیوں کے لئے قبلہ تھا،  جسے مسلمان بھول گئے ہیں۔ اور اپنی نظر میں خود  پرہیز گار  ہمارے علماء کو بے شک  ان قرآنی آیات کو نظر انداز کرنے کی عادت پڑ گئی ہے  جو ان کے لئے غیر مناسب ہیں جو ان کے قزاق،  اپنی راست مندی، مردوں کو افضل بتانے اور اسلام فوقیت والے رویہ کی حمایت نہیں کرتی ہیں۔ آیئے اس آیت کو پڑھیں اور  سمجھیں کہ یہ کیا کہتی ہے:

 سورۃ بکرہ: 2:145 : " اوراگر آپ اہلِ کتاب کے پاس ہر ایک نشانی (بھی) لے آئیں تب بھی وہ آپ کے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے اور نہ آپ ہی ان کے قبلہ کی پیروی کرنے والے ہیں اور وہ آپس میں بھی ایک دوسرے کے قبلہ کی پیروی نہیں کرتے، (امت کی تعلیم کے لئے فرمایا:) اور اگر (بفرضِ محال) آپ نے (بھی) اپنے پاس علم آجانے کے بعد ان کی خواہشات کی پیروی کی تو بیشک آپ (اپنی جان پر) زیادتی کرنے والوں میں سے ہو جائیں گے"۔

اس تجویز کو سہارا دینے کے لئے، آیئے اس سلسلے میں مستند سعودی ترجمہ کی تفسیر سے رجوع کریں۔ یہ کہتی ہے: "قبلہ اور اس سے منسلک اہمیت کے معاملے میں ایک قدیمی یہودی عمل  کی بہت واضح جھلک ڈینیل کی کتاب، جلد 1 ۔ 10 میں پایا جاتا ہے۔ ڈینیل شاہی خاندان کا ایک پرہیز گار شخص تھا اور عیسٰی سے قبل -538   606  کے زمانے میں تھا۔ آشور سلطان نیبو چیڈ نظار اسے اپنے ساتھ بابل لے گیا لیکن وہ آشور سلطنت کے میڈیا اور فارس کے لوگوں کے ذریعہ خاتمے کے بعد بھی وہیں رہا۔ یہودیوں کی "قید" کے باوجود بھی ڈینیل بابل کے سب سے اعلی دفاتر میں برقرار رہا لیکن وہ ہمیشہ یروشلم کا احترام کرتا تھا۔ اس کے دشمنوں (فارس کے بادشاہ کی قیادت میں) نے ان لوگوں کے خلاف تعزیری قانون منظور کر لیا جو  فارسی شاہ کے سوائے "30 دنوں کے لئے کسی معبود یا آدمی سے گزارش کرتا ہے"۔  لیکن ڈینیل نے یروشلیم کا احترام کرنا جاری رکھا۔ اس کے دفتر کے کمرے کی کھڑکی اسی سمت میں کھلتی تھی اور  وہ دن میں تین بار  بار گاہ خدا میں سجدہ کرتا تھا اور  پہلے کی طرح  خدا کا شکر ادا کرتا تھا۔

اگر ہم نے اس طرح  قبلہ کے معاملے پر پوری قرآنی نصیحتوں کو پڑھا ہوتا تو ہم  کبھی بھی  اہل کتاب کے درمیان تنازعہ کے مزید گہرے دلدل میں نہ پھنسے ہوتے۔ ہم اپنی روایتوں کے مطابق یروشلم میں مقدس مقامات کا احترام کرنا جاری رکھ سکتے ہیں اور ساتھ ہی یروشلم میں یہودی عیسائی مذہبی طبقے کے قبلہ کے بارے میں ان کے حقوق کے متعلق خدا کے حکم کو تسلیم کر سکتے ہیں۔ بالکل اسی طرح  جیساحکم   مکہ مکرمہ میں ہمارے لئے ہے۔  ایک بار ہم ان کے قبلہ کے بارے میں خدا کے عطا کردہ حق کو تسلیم کر لیں تو  ہمارے اصل قبلہ کے لئے ہمارا احترام کیا شکل اختیار کرتا ہے؟  کیا ہمیں وہاں جانے کی اجازت ملتی ہے؟  وہاں کب اور کتنے وقفے پر جا سکتے ہیں؟  ان مسائل  پر  پرامن طریقے سے اور آسانی سے بات چیت کی جاسکتی ہے۔

اس دوران خدا کے ایک اور  احکام کو یاد کرنے کی کوشش کریں جو ہمیں ہمارے قبلہ کے تعین سے باہر آنے میں مدد کرے گا۔

سورۃ بکرہ: 2:115 " اور مشرق و مغرب (سب) اللہ ہی کا ہے، پس تم جدھر بھی رخ کرو ادھر ہی اللہ کی توجہ ہے (یعنی ہر سمت ہی اللہ کی ذات جلوہ گر ہے)، بیشک اللہ بڑی وسعت والا سب کچھ جاننے والا ہے"۔

URL From the Desk of Editor: http://www.newageislam.com/from-the-desk-of-editor/sultan-shahin,-editor,-new-age-islam/baitul-muqaddas--why-are-we-muslims-so-obsessed-with-it-as-our-qiibla-e-awwal-contrary-to-qur’anic-teachings?/d/7574

URL: https://newageislam.com/urdu-section/bait-ul-muqaddas-/d/7582

Loading..

Loading..