New Age Islam
Tue Jun 09 2026, 03:25 PM

Urdu Section ( 27 Jun 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Islamic Imam of Turkey ترکی کے اسلامی امام کے پوری دنیا میں اسکول اور ان کے لاکھوں طالب علم رواداری، بین العقائد مکالمہ اور تعلیم حاصل کرنے کی ان کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں۔

غلام محی الدین ، نیو ایج اسلام

14 جون، 2012

(انگریزی سے ترجمہ سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام)

ترکی کے اسلامی امام فتح اللہ گولین ایک مقبول اور ابھرتی ہوئی تحریک کے مرکز میں ہیں ۔ ان کے لاکھوں کی تعداد میں شاگرد ہیں جو  رواداری، بین العقائد مکالمے اور تعلیم کی ان کی تعلیمات پر عمل پیرا  ہیں۔ ان میں سے کچھ نے امریکہ اور کچھ دیگر ممالک میں   کامیاب  اورمعیاری اسکولوں کا قیام کیا ہے۔ ان اسکولوں  میں ریاضی اور سائنس پر زور دیا جاتا ہے۔  اس کے باوجود بھی گولین  نا معلوم شے بنے ہوئے ہیں۔

 گزشتہ دہائی میں  پورےامریکہ اور دیگر ممالک میں بہت سے  معیاری اسکول  قائم ہوئے ہیں اور  ان تمام اسکولوں میں  کچھ خصوصیات یکساں ہیں۔  ان میں سے زیادہ تر تعلیمی اعتبار سے کامیاب ہیں، ان میں ریاضی اور سائنس پر زور دیا جاتا ہے، اور ایک اور بات پر زور دیا جاتا ہے : ان  کا  قیام اور ان میں سے زیادہ تر کا نظم ترکی کے تارکین وطن کرتے ہیں۔

فتح اللہ گولین مسلم دنیا میں تیزی سے ابھرتی ہوئی  اور با اثر طاقت  کے روحانی رہنما ہیں جسے 'گولین تحریک' کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اور  لاکھوں کی تعداد میں شاگرد ان کا موازنہ  گاندھی اور مارٹن لوتھر کنگ سے کرتے ہیں۔ گولین  رواداری، بین المذاہب مکالمہ کو فروغ دیتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر  وہ تعلیم کو فروغ دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہیوسٹن میں ایک ہارمنی اسکول ہے جو  ٹیکساس میں 36 چارٹر اسکولوں کا تیزی سے توسیع  ہوتی  ہوئی چین کا حصہ ہے۔  یہ اسکول زیادہ تر  سماج کے محروم طبقے کے طالب علموں کی خدمت کرتا ہے اور ان میں  سب کے سب ریاضی اور سائنس پر زور دیتے ہیں۔ ان اسکولوں میں تعلیم کا معیار بہت اچھا ہے کیونکہ  طالب علموں کو جدید ٹکنالوجی کی مدد اور  ہر ایک ظالب علم پر خصوصی توجہہ دی جاتی ہے۔ ہارمنی اسکول میں 20  ہزار طالب علم ہیں اور داخلہ لینے کے لءے انتظار کرنے والوں کی فہرست میں مزید 30 ہزار لوگ ہیں۔ ان اسکولوں میں بہت سے اساتزہ ترکی کے ہیں۔

 مجموعی طور پر امریکہ کے 26 صوبوں میں  ہارمنی کے جیسے ہی  130 اسکول ہیں ۔  ان کا قیام  اور  نظم  ترکی کے تارکین وطن کے تاجر اور  تعلیمی شعبہ میں کام کرنے والے طبقے کی جانب سے کیا جاتا ہے۔ امام فتح اللہ گولین اپنے پیروکاروں کو بتاتے ہیں کہ متقی مسلمان ہونے کے لئے انہیں مساجد کی تعمیر نہیں کرانی  چاہئے بلکہ انہیں اسکولوں کی تعمیر کرانا چاہئے، اور مذہب کی تعلیم نہ دے کر سائنس کی تعلیم دینی  چاہئے۔  ویب سائٹ پر اپنے خطبات میں  وہ  اصل میں کہتے ہیں: " طبیعیات، ریاضی اور کیمسٹری کا مطالعہ خدا کی عبادت ہے۔"  لہذا گولین کے پیروکاروں نے ترکی سے ٹوگو اور تائیوان سے ٹیکساس تک  دنیا بھر کے دیگر مقامات پر  ایک ہزار سے بھی زائد اسکولوں کا قیام کیا ہے۔ ان کا پیغام یہ ہے کہ اگر آپ طویل مدت کے لئے کسی بھی سماجی مسئلہ کو حل کرنا چاہتے ہیں، تو حل تعلیم کے ذریعے ہی آنا ہے۔

 ترکی میں  ہر جگہ گولین کے اسکول ہیں اور سب سے بہتر سمجھے جاتے ہیں۔  جہاں  لاکھوں ڈالر کی  ہائی ٹیک سہولیات ہیں اور جہاں لڑکیاں لڑکوں کے برابر ہیں اور انگریزی پہلی جماعت میں ہی پڑھانا شروع کیاجاتا ہے۔  گولین نے صرف  تعلیمی شعبہ کو ہی متاثر نہیں  کیا ہے۔  ایک نوجوان امام  کے طور پر  60 کی دہائی میں شروعات کرتے ہوئے انہوں نے متوسط  طبقے کے ترکوں کے پر زور دیا کہ وہ مغرب سے سیکھیں اور اس کے اقدار کو گلے لگائیں۔  جن میں سے ایک غیر متوقع طور پر پیسہ کمانا بھی شامل تھا۔  اپنے انٹرنیٹ پر دئے خطبہ میں بھی انہوں نے اپنے پیروکاروں کو بتایا کہ: "اگر آپ امیر ہونے کے  طریقوں کی تلاش میں نہیں ... تو خدا کی نظر میں یہ  ایک گناہ ہے۔" اس طرح ترکی میں ان کے شاگرد کامیاب تاجر بن گئے اور لاکھوں ڈالر کی  گولین سلطنت کو قائم کیا ہے جس میں اسکول کے علاوہ  ٹی وی اسٹیشنز، ایک بڑا بینک، ترکی کی سب سے بڑی تجارتی ایسوسی ایشن، اور سب سے بڑا اخبار شامل ہے۔

 گولین ا پنے پیروکاروں  دیگر عقائد کے لوگوں سے مکالمہ کے لئے کہتے ہیں۔ رواداری ان کے پیغام کا ایک بہت اہم حصہ ہے۔  گولین  روایتی مرکزی دھارے کے اسلام کے اناطولی ورژن کی ترغیب دیتے ہیں  جسے انہوں نے سعید نورسی کی تعلیمات سے لیا ہے اور انہیں جدید بناتے ہیں۔ اپنے  پیروکاروں کے لئے گولین  ایک زندہ نبی کی طرح ہیں، اور انہوں نے اپنے اثر  کا  استعمال ترکی کی سیاست کوتبدیل کرنے کے لئے کیا ہے۔ گولین نے  ترکی کے سیاسی نظام کو اعتدال پسند اسلامی جمہوریت بنانے میں مدد کی ہے۔

 بہت کم لوگ نے گولین کو بذات خود دیکھا ہوگا۔  وہ ایک الگ تھلگ اور  قیاس نہ کئے جاسکنے والے اپنے عبادت کے کمرے سے  ویب کاسٹ کے ذریعہ خطاب کرتے ہیں۔  1999 میں وہ امریکہ آئے۔ ایک دہائی سے بھی زیادہ سے  خود مسلط جلا وطنی میں وہ  پنسلوانیا میں رہ رہے ہیں۔ ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ  اگر وہ ترکی واپس گئے تو وہاں شور و غوغا ہوگا اور  کچھ لوگ انہیں بہت طاقتور ہوتے دیکھنا پسند نہیں کرتے ہیں۔ بہت طاقتور، ایسا اس لئے لگتا ہے کیونک ان کے  پیروکار ترک حکومت اور پولیس میں اہم عہدوں پر فائزہیں۔

 امیگریشن فراڈ پر سوالات اٹھائے گئے لیکن  ٹیکساس چارٹر اسکولوں کے ایسوسی ایشن کے ڈیوڈ ڈن کا کہنا ہے کہ اہل امریکیوں کے خسارہ کی وجہ سے اسکول کو ترکی سے ریاضی اور سائنس کے اساتذہ لانے کی اجازت دی جاتی ہے۔  ان اسکولوں میں اسلام کی تعلیم نہیں دی جاتی ہے۔  ایسا کرنا غیر قانونی ہو گا کیونکہ یہ  پبلک اسکول ہیں اور اگر یہ  خود کو کسی بھی مذہبی وابستگی سے جوڑتے ہیں تو یہ اپنے راستے سے بھٹکیں گے۔  کلاس رومز میں نتائج زیادہ اہم ہیں۔  کیا بچے اعلی سطح پر  ریاضی، سائنس، پڑھنا اور لکھنا سیکھ رہے ہیں؟ اور واضح طور پر ان اسکولوں میں یہ ہو رہا ہے۔ نیوز ویک نے امریکہ کے 10 سب سے بہترین اسکولوں میں  ہارمنی کے  دو اسکولوں کو  شامل کیا ہے۔   ہر سال ملک بھر میں یہ اسکول مزید کھل رہے ہیں اور  انتظار کرنے والوں کی  فہرست مزید لمبی ہوتی جا رہی ہے۔

 (سی بی ایس ٹیلی ویژن  کے پروگرام  "60 منٹ" پر مبنی)

غلام محی الدین ہندوستانی  نژاد  ریٹائرڈ ڈاکٹر ہیں اور امریکہ میں مقیم ہیں۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/ijtihad,-rethinking-islam/turkish-islamic-imam’s-worldwide-schools-and-millions-of-disciples-follow-his-teachings-of-tolerance,-interfaith-dialogue,-and-education/d/7615

URL: https://newageislam.com/urdu-section/islamic-imam-turkey-/d/7757

Loading..

Loading..