
Ù…ØÙ…د یونس، نیو ایج اسلام
(معاون مصنÙ�، اشÙ�اق اللÛ� سیدEssential Message of Islam, Amana Publications, USA, 2009)
نزول قرآن کا ایک مختصر تعارÙ�
قرآن ساتویں صدی عیسوی Ú©Û’ ایک ایسے زمانے میں نازل Û�وا جب اس کائنات کا بیشتر ØØµÛ� جاÛ�لیت Ú©ÛŒ زد میں تھا، (ایک لغوی تشریØ) جاÛ�لیت عربی کا ایک Ù„Ù�ظ Û�ے جس کا استعمال ظلمت Ùˆ تاریکی Ú©ÛŒ صورت ØØ§Ù„ پیش کرنےکے لیے کیا جاتا Û�ے، اور اس زمانے میں عالمی انصاÙ� کا کوئی تصور Ù†Û�یں تھا، ظلم Ùˆ بربریت سے بھری سزائیں متعین Ú©ÛŒ جاتی تھیں، عام لوگوں Ú©Ùˆ ڈرایا اور دھمکایا جاتا تھا، ان پر ظلم کیا جاتا تھا اور ان کا Ø§Ø³ØªØØµØ§Ù„ کیا جانا ایک عا Ù… بات تھی، اس زمانے میں غلامی ایک عام Ø±Ø¬ØØ§Ù† تھا، عورتوں Ú©Û’ ساتھ ایک مال Ùˆ متاع کا سا برتاؤ کیا جاتا تھا اور ان پر ظلم Ùˆ ستم Ú©Û’ Ù¾Û�اڑ توڑے جاتے تھے، ÛŒÛ� اس زمانے Ú©ÛŒ چند بڑی برائیاں تھیں۔ ایسے ماØÙˆÙ„ میں قرآن کا نزول Û�وا اور اس Ú©ÛŒ تعلیمات Ù†Û’ پوری انسانیت Ú©Ùˆ ظلم Ùˆ جاÛ�لیت Ú©Û’ اندھیرے سے علم Ùˆ عرÙ�ان Ú©ÛŒ روشنی میں لا کر کھڑا کر دیا (2:257, 14:1, 57:9)ØŒ اور ان Ú©Û’ کندھوں سے جاÛ�لیت اور تاریکی Ú©Û’ اس بارگراں Ú©Ùˆ Û�ٹا دیا جس کا شکار ÙˆÛ� اسلام Ú©ÛŒ آمد سے Ù¾Û�لے تھے(7:157)Û” چونکÛ� اس زمانے میں غلامی بÛ�ت ساری سماجی برائیوں Ú©ÛŒ جڑ میں شامل تھی اور اس کا خاتمÛ� کیا جانا تھا تاکÛ� اس معاشرے میں مختلÙ� Ù…ØØ§Ø°ÙˆÚº پر Ø§ØµÙ„Ø§Ø Ú©Ø§ کام کیا جا سکے۔
کسی بھی معاشرے Ú©Û’ سماجی رسوم Ùˆ روایات اس Ú©Û’ مختلÙ� Ù¾Û�لوؤں میں سرایت کیے Û�وئے Û�وتے Û�یں اور دÙ�عتاً اس Ú©Ùˆ ختم کرنے میں بمشکل Û�ی کامیابی ØØ§ØµÙ„ Û�و پاتی Û�ے، اسی لیے قرآن کا منصوبÛ� اسلامی Ø§ØµÙ„Ø§ØØ§Øª Ú©Ùˆ بتدریج متعارÙ� کرانا تھا۔ Ù„Û�ٰذا، اسلام Ù†Û’ اپنی سماجی اور اخلاقی Ø§ØµÙ„Ø§ØØ§Øª Ú©Û’ ساتھ متلازمانÛ� طریقے سے غلامی Ú©Û’ خلاÙ� اپنے اØÚ©Ø§Ù…ات Ú©Ùˆ ناÙ�ظ کیا۔ اس Ø·Ø±Ø Ø§Ø³Ù„Ø§Ù… Ù†Û’ مندرجÛ� ذیل آیات میں غلاموں Ú©Ùˆ آزاد کرنے Ú©ÛŒ ایک ÙˆØ§Ø¶Ø Û�دایت دی:
· (90:13-16)Û”ÙˆÛ� (غلامی Ùˆ Ù…ØÚ©ÙˆÙ…ÛŒ Ú©ÛŒ زندگی سے) کسی گردن کا آزاد کرانا Û�ے، یا بھوک والے دن (یعنی Ù‚ØØ· Ùˆ اÙ�Ù�لاس Ú©Û’ دور میں غریبوں اور Ù…ØØ±ÙˆÙ… المعیشت لوگوں Ú©Ùˆ) کھانا کھلانا Û�ے، قرابت دار یتیم کو، یا شدید غربت Ú©Û’ مارے Û�وئے Ù…ØØªØ§Ø¬ Ú©Ùˆ جو Ù…ØØ¶ خاک نشین (اور بے گھر) Û�ے Û”
· (4:92) اور جس Ù†Û’ کسی مسلمان Ú©Ùˆ نادانستÛ� قتل کر دیا تو (اس پر) ایک مسلمان غلام / باندی کا آزاد کرنا اور خون بÛ�ا (کا ادا کرنا) جو مقتول Ú©Û’ گھر والوں Ú©Û’ سپرد کیا جائے (لازم Û�ے) مگر ÛŒÛ� Ú©Û� ÙˆÛ� معاÙ� کر دیں، پھر اگر ÙˆÛ� (مقتول) تمÛ�اری دشمن قوم سے Û�و اور ÙˆÛ� مومن (بھی) Û�و تو (صرÙ�) ایک غلام / باندی کا آزاد کرنا (Û�ی لازم) Û�ے اور اگر ÙˆÛ� (مقتول) اس قوم میں سے Û�و Ú©Û� تمÛ�ارے اور ان Ú©Û’ درمیان (ØµÙ„Ø Ú©Ø§) معاÛ�دÛ� Û�ے تو خون بÛ�ا (بھی) جو اس Ú©Û’ گھر والوں Ú©Û’ سپرد کیا جائے اور ایک مسلمان غلام / باندی کا آزاد کرنا (بھی لازم) Û�ے۔
· (5:89) اللÛ� تمÛ�اری بے مقصد (اور غیر سنجیدÛ�) Ù‚Ù�سموں میں تمÛ�اری گرÙ�ت Ù†Û�یں Ù�رماتا لیکن تمÛ�اری ان (سنجیدÛ�) Ù‚Ù�سموں پر گرÙ�ت Ù�رماتا Û�ے جنÛ�یں تم (ارادی طور پر) مضبوط کرلو، (اگر تم ایسی Ù‚Ù�سم Ú©Ùˆ توڑ ڈالو) تو اس کا Ú©Ù�ّارÛ� دس مسکینوں Ú©Ùˆ اوسط (درجÛ� کا) کھانا کھلانا Û�ے جو تم اپنے گھر والوں Ú©Ùˆ کھلاتے Û�و یا (اسی طرØ) ان (مسکینوں) Ú©Ùˆ Ú©Ù¾Ú‘Û’ دینا Û�ے یا ایک گردن (یعنی غلام یا باندی Ú©Ùˆ) آزاد کرنا Û�ے۔
· (2:177) نیکی صرÙ� ÛŒÛ�ی Ù†Û�یں Ú©Û� تم اپنے منÛ� مشرق اور مغرب Ú©ÛŒ طرÙ� پھیر لو بلکÛ� اصل نیکی تو ÛŒÛ� Û�ے Ú©Û� کوئی شخص اﷲ پر اور قیامت Ú©Û’ دن پر اور Ù�رشتوں پر اور (اﷲ Ú©ÛŒ) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے، اور اﷲ Ú©ÛŒ Ù…ØØ¨Øª میں (اپنا) مال قرابت داروں پر اور یتیموں پر اور Ù…ØØªØ§Ø¬ÙˆÚº پر اور مساÙ�روں پر اور مانگنے والوں پر اور (غلاموں Ú©ÛŒ) گردنوں (Ú©Ùˆ آزاد کرانے) میں خرچ کرے۔
· (9:60) بیشک صدقات (زکوٰۃ) Ù…ØØ¶ غریبوں اور Ù…ØØªØ§Ø¬ÙˆÚº اور ان Ú©ÛŒ وصولی پر مقرر کئے گئے کارکنوں اور ایسے لوگوں Ú©Û’ لئے Û�یں جن Ú©Û’ دلوں میں اسلام Ú©ÛŒ الÙ�ت پیدا کرنا مقصود Û�و اور (مزید ÛŒÛ� Ú©Û�) انسانی گردنوں Ú©Ùˆ (غلامی Ú©ÛŒ زندگی سے) آزاد کرانے Ú©Û’ لیے..........Û”
(58:3) جو لوگ اپنی بیویوں سے ظÛ�ار (ایک ایسا عمل جس Ú©Û’ بعد شوÛ�ر بیوی Ú©Û’ تئیں اپنی تمام تر ذمÛ� داریوں اور Ù�رائض سے آزاد Û�و جا تا Û�ے) کر بیٹھیں پھر جو Ú©Û�ا Û�ے اس سے پلٹنا چاÛ�یں تو ایک گردن (غلام یا باندی) کا آزاد کرنا لازم Û�ے قبل اÙ�س Ú©Û’ Ú©Û� ÙˆÛ� ایک دوسرے Ú©Ùˆ Ù…Ù�س کریں، تمÛ�یں اس بات Ú©ÛŒ Ù†ØµÛŒØØª Ú©ÛŒ جاتی Û�ے۔
چونکÛ� غلامی اور عصمت Ù�روشی ایک ساتھ پائی جاتی تھی، اسی لیے قرآن کا مقصد شادی Ú©Û’ قانون Ú©Û’ ذریعÛ� مرد اور عورت غلاموں Ú©Ùˆ آزاد کر Ú©Û’ غلامی Ú©Ùˆ ختم کرنا تھا۔قرآن کا ÛŒÛ� ØÚ©Ù… Û�ے Ú©Û� ‘‘ان مسلمان کنیزوں سے Ù†Ú©Ø§Ø Ú©Ø±Ù„Û’ جو (شرعاً) تمÛ�اری ملکیت میں Û�یں’’ (4:25)ØŒ ‘‘اور تم اپنے مردوں اور عورتوں میں سے ان کا Ù†Ú©Ø§Ø Ú©Ø± دیا کرو جو (عمرÙ� Ù†Ú©Ø§Ø Ú©Û’ باوجود) بغیر ازدواجی زندگی Ú©Û’ (رÛ� رÛ�ے) Û�وں اور اپنے باصلاØÛŒØª غلاموں اور باندیوں کا بھی (Ù†Ú©Ø§Ø Ú©Ø± دیا کرو) (24:32)ØŒ اور تمÛ�ارے زیردست (غلاموں اور باندیوں) میں سے جو مکاتب (Ú©Ú†Ú¾ مال کما کر دینے Ú©ÛŒ شرط پر آزاد) Û�ونا چاÛ�یں تو انÛ�یں مکاتب (مذکورÛ� شرط پر آزاد) کر دو (24:33)Û”
‘‘اور تم میں سے جو کوئی (اتنی) استطاعت Ù†Û� رکھتا Û�و Ú©Û� آزاد مسلمان عورتوں سے Ù†Ú©Ø§Ø Ú©Ø± سکے تو ان مسلمان کنیزوں سے Ù†Ú©Ø§Ø Ú©Ø±Ù„Û’ جو (شرعاً) تمÛ�اری ملکیت میں Û�یں، اور اللÛ� تمÛ�ارے ایمان (Ú©ÛŒ Ú©ÛŒÙ�یت) Ú©Ùˆ خوب جانتا Û�ے، تم (سب) ایک دوسرے Ú©ÛŒ جنس میں سے Û�ی Û�و، پس ان (کنیزوں) سے ان Ú©Û’ مالکوں Ú©ÛŒ اجازت Ú©Û’ ساتھ Ù†Ú©Ø§Ø Ú©Ø±Ùˆ اور انÛ�یں ان Ú©Û’ Ù…Ù�Û�ر ØØ³Ø¨Ù� دستور ادا کرو Ø¯Ø±Ø¢Ù†ØØ§Ù„یکÛ� ÙˆÛ� (عÙ�ت قائم رکھتے Û�وئے) قیدÙ� Ù†Ú©Ø§Ø Ù…ÛŒÚº آنے والی Û�وں Ù†Û� بدکاری کرنے والی Û�وں اور Ù†Û� درپردÛ� آشنائی کرنے والی Û�وں.....’’ (4:25)Û”
‘‘اور ایسے لوگوں Ú©Ùˆ پاک دامنی اختیار کرنا چاÛ�ئے جو Ù†Ú©Ø§Ø (Ú©ÛŒ استطاعت) Ù†Û�یں پاتے ÛŒÛ�اں تک Ú©Û� اللÛ� انÛ�یں اپنے Ù�ضل سے غنی Ù�رما دے، اور تمÛ�ارے زیردست (غلاموں اور باندیوں) میں سے جو مکاتب (Ú©Ú†Ú¾ مال کما کر دینے Ú©ÛŒ شرط پر آزاد) Û�ونا چاÛ�یں تو انÛ�یں مکاتب (مذکورÛ� شرط پر آزاد) کر دو اگر تم ان میں بھلائی جانتے Û�و، اور تم (خود بھی) انÛ�یں اللÛ� Ú©Û’ مال میں سے (آزاد Û�ونے Ú©Û’ لئے) دے دو جو اس Ù†Û’ تمÛ�یں عطا Ù�رمایا Û�ے، اور تم اپنی باندیوں Ú©Ùˆ دنیوی زندگی کا Ù�ائدÛ� ØØ§ØµÙ„ کرنے Ú©Û’ لئے بدکاری پر مجبور Ù†Û� کرو جبکÛ� ÙˆÛ� پاک دامن (یا ØÙ�اطتÙ� Ù†Ú©Ø§Ø Ù…ÛŒÚº) رÛ�نا چاÛ�تی Û�یں، اور جو شخص انÛ�یں مجبور کرے گا تو اللÛ� ان Ú©Û’ مجبور Û�و جانے Ú©Û’ بعد (بھی) بڑا بخشنے والا Ù…Û�ربان Û�ے’’ (24:33)Û”
قرآن میں جÛ�اں ایک غلام Ú©Û’ لیے Ù�تاۃ، رقاب اور عبد کا استعمال کیا گیا Û�ے، جنÛ�یں تاریخی تناظر میں باندی Ú©Û�ا جاتا Û�ے ÙˆÛ�یں غلاموں اور باندیوں Ú©Û’ لیے ما ملکت ایمان جیسے معزز Ùˆ Ù…ØØªØ±Ù… لقب کا بھی استعمال کیا گیا Û�ے اسی لیے اس سے Û�ر ÙˆÛ� شخص مراد Û�و گا جو کسی Ú©ÛŒ شرعی ملکیت میں Û�و۔ اکثر علماء ‘ما ملکت ایمان’ کا لغوی ترجمÛ� ‘‘جو تمÛ�اری ملکیت میں Û�یں’’ کرتے Û�یں اور اس Ú©Û’ معنیٰ Ú©Ùˆ صرÙ� مؤنث قیدیوں، باندیوں اور غلاموں تک Û�ی Ù…ØØ¯ÙˆØ¯ رکھتے Û�یں۔ جبکÛ� ایسی کوئی بھی ØªØ´Ø±ÛŒØ ØºÙ„Ø· اور بے بنیاد Û�ے۔ اس کا سب سے قریبی لغوی معنیٰ ÛŒÛ� Û�و گا Ú©Û� جو شرعاً تمÛ�اری ملکیت میں Û�وں، تاÛ�م قرآن Ù†Û’ ‘ایمان’ Ú©Û’ اس Ù„Ù�ظ کومجازاً ایک مثبت شرعی ØØ§Ù„ت Ú©Ùˆ بیان کرنے Ú©Û’ لیے کیا Û�ے، مثلاً کسی ‘عظیم المرتبت’ Ú©Û’ رÙ�قاء اور اللÛ� کا ‘داÛ�نا Û�اتھ’۔ Ù„Û�ٰذا اس جملے کا بÛ�تر ترجمÛ� اس Ø·Ø±Ø Ú©ÛŒØ§ جا سکتا Û�ے Ú©Û� ‘‘ جو (شرعاً) تمÛ�اری ملکیت میں Û�یں۔’’ ØÚ©Ù…ت Ùˆ دانائی سےبھرے ان الÙ�اظ Ú©Û’ ذریعÛ� قرآن غلاموں اور باندیوں Ú©Ùˆ ایک پر وقار مرتبÛ� عطا کرتا Û�ے جنÛ�یں تاریخی طور پر معاشرتی نظام کا ایک سب سے نچلا طبقÛ� قرار دیا گیا تھا۔ ان سے Ù†Ù�رت Ú©ÛŒ جاتی تھی، انÛ�یں ØÙ‚یر گرداناجاتا تھا، ان پر ظلم Ùˆ ستم Ú©Û’ Ù¾Û�اڑ توڑے جاتے تھے اور ان پر سخت ترین پابندیاں عائد کر Ú©Û’ انÛ�یں Û�ر قسم Ú©ÛŒ آزادیوں سے Ù…ØØ±ÙˆÙ… رکھا جاتا تھا اور اس کا شکار ان Ú©ÛŒ کئی کئی نسلیں Û�وا کرتی تھیں۔
قرآنی جملÛ� ملکت ایمان (ÙˆØ§ØØ¯ ملک یمین) کوئی مجاز Ù†Û�یں Û�ے یا Ù…ØØ¶ کوئی ØØ³Ù† تعبیر بھی Ù†Û�یں Û�ے۔ دور نبوت میں جنگی قیدیوں Ú©Ùˆ ان Ú©Û’ تØÙ�ظ Ú©Û’ لیےمدنی مسلمانوں Ú©Û’ درمیان تقسیم کر دیا جاتا تھا۔ جنگی قیدی خواÛ� مرد Û�وں یا عورت ÙˆÛ� بظاÛ�ر ‘غلام Û�وا کرتے تھے لیکن انÛ�یں ملک یمین سمجھا جاتا تھا اور ان Ú©Û’ Ù…ØØ§Ù�ظین اسی Ú©Û’ مطابق ان Ú©Û’ ساتھ Û�مدردی اور غور Ùˆ Ù�کر Ú©Û’ ساتھ پیش آتے تھے۔ نبی صلی اللÛ� علیÛ� وسلم Ú©Û’ Ø³ÙˆØ§Ù†Ø Ù†Ú¯Ø§Ø±ÙˆÚº کا ایک سب سے بڑا دشمن ایک قیدی Ú©Û’ ØÙˆØ§Ù„Û’ سے ÛŒÛ� اقتباس نقل کرتا Û�ے: ‘‘مدینے Ú©Û’ لوگ خود پیدل چلتے اور Û�میں سواری Ù�راÛ�م کرتے، کھانے Ú©ÛŒ قلت Ú©Û’ وقت میں بھی انÛ�وں Ù†Û’ Û�میں گندم Ú©ÛŒ روٹی دی، جبکÛ� خود انÛ�وں Ù†Û’ صرÙ� کھجور پر Û�ی اکتÙ�اء کیا’’ [1]Û”
ایک دوسری Ø³Ø·Ø Ù¾Ø±ØŒ اسلام سے Ù¾Û�لے، صدیوں تک دوسرے قانونی دÙ�عات Ú©Û’ برخلاÙ� قرآن سول قوانین اور غلاموں Ú©Û’ لیے قوانین میں کوئی خط امتیاز Ù†Û�یں کھینچتا۔ قرآن ماضی یا موجودÛ� روایات Ú©Û’ تناظر میں بھی غلامی کا ØÙˆØ§Ù„Û� پیش کرتا Û�ے، لیکن اس Ú©Û’ سول، کمرشیل، وراثت اور خاندانی قوانین آزاد یا غلام Ú©Û’ کسی بھی ØÙˆØ§Ù„Û� سے قطع نظر تمام مسلمانوں Ú©Û’ لیے یکساں Û�یں۔
مختصر ÛŒÛ� Ú©Û� غلاموں Ú©Ùˆ آزاد کرنے پر قرآن Ú©ÛŒ پر زور تاکید، ان Ú©ÛŒ دیکھ بھال کرنے،انÛ�یں آزاد کرنے اور ان سے شادی کرنے Ú©Û’ ÙˆØ§Ø¶Ø Ø§ØÚ©Ø§Ù…ات، غلاموں، لونڈیوں اور جنگی قیدیوں Ú©Û’ لیے اس Ú©Û’ مؤقر الÙ�اظ اور سماجی اور سول قوانین میں آزاد ار غلام Ú©Û’ درمیان کسی بھی Ø·Ø±Ø Ú©ÛŒ تÙ�ریق سے اس کا گریزاں Û�ونا ان تمام ØÙ‚ائق سے ÛŒÛ� ÙˆØ§Ø¶Ø Û�وتا Û�ے Ú©Û� قرآن کا مقصد غلامی Ú©Ùˆ جڑ سے اکھاڑ پھینکنا Û�ے۔ اسی Ø·Ø±Ø Ø®Ù„ÛŒÙ�Û� ØØ¶Ø±Øª ابو بکر Ù†Û’ عرب Ú©Û’ آبائی باشندوں Ú©Û’ درمیان غلامی Ú©Ùˆ کالعدم قرار دیا تھا۔ انÛ�وں Ù†Û’ قرآنی تائید Ú©Û’ ساتھ اپنے اعلٰی Ù�وجی عÛ�دیداروں Ú©Ùˆ ÛŒÛ� ØÚ©Ù… بھی دے رکھا تھا Ú©Û� ÙˆÛ� Ù…Ùï¿½ØªÙˆØ Ø§Ù‚ÙˆØ§Ù… Ú©Û’ عام لوگوں Ú©Ùˆ غلام Ù†Û� بنائیں [2]Û” ØØ§Ù„انکÛ� اس پر انÛ�یں اپنے بÛ�ت سارے Ù�وجی جنرلوں Ú©ÛŒ سخت مخالÙ�توں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اور ان Ú©ÛŒ اس پالیسی Ú©Ùˆ ان Ú©ÛŒ ÙˆÙ�ات (24 Û�جری) Ú©Û’ بعد دو دÛ�ائیوں سے بھی Ú©Ù… میں Ù¾Û�لی اسلامی ØÚ©ÙˆÙ…ت Ú©Û’ قیام (40 Û�جری) Ú©Û’ ساتھ Û�ی موقوÙ� کر دیا گیا۔ Ù„Û�ٰذا نبی صلی اللÛ� علیÛ� وسلم Ú©Û’ انتقال Ú©Û’ بمشکل تیس سالوں Ú©Û’ بعد Û�ی اسلامی ممالک میں خود بخود Û�ی پھر سے غلامی کا آغاز Û�وا غلاموں Ú©ÛŒ تجارت کرنے والوں اور ذاتی Ù…Ù�ادات سے وابستÛ� لوگوں Ù†Û’ اس شعبÛ� Ú©Ùˆ زور Ùˆ شور Ú©Û’ ساتھ صدیوں تک جاری رکھا۔
غلام سے آزاد معاشرے کا تصور لوگوں Ú©Û’ ذÛ�نوں میں نبی صلی اللÛ� علیÛ� وسلم Ú©ÛŒ ÙˆÙ�ات Ú©Û’ تقریباً بارÛ� سو سالوں سے زیادÛ� Ú©Û’ بعد بیدار Û�وا، ÙˆÛ� بھی اسلامی ممالک میں Ù†Û�یں۔ امریکÛ� Ú©Û’ 16Û�ویں صدر ابراÛ�م لنکن (1861-1865) Ù†Û’ تنسیخ غلامی Ú©Ùˆ اعلان ØØ±ÛŒØª ‘‘mancipationProclamation’’ (1جنوری1863) Ú©Û’ ذریعÛ� قانونی Ø´Ú©Ù„ عطا کیا۔ لیکن ØÛŒØ±Ø§Ù†ÛŒ Ú©ÛŒ بات ÛŒÛ� Û�ے Ú©Û� کلاسیکی اسلامی شریعت Ù†Û’ Ú©Û� جس Ú©ÛŒ تدوین Ùˆ ترتیب نبی صلی اللÛ� علیÛ� وسلم Ú©Û’ انتقال Ú©Û’ ایک Û�زار سالوں سے زیادÛ� Ú©Û’ بعد عمل میں آئی، غلامی پر توجÛ� دیا؛ اور غلام، باندیاں اورداشتائیں بÛ�ت سارے مسلم ممالک میں اسلامی تÛ�ذیب Ùˆ ثقاÙ�ت Ú©Û’ سماجی نظام میں ایک جزو لاینÙ�ک Ú©ÛŒ Ø´Ú©Ù„ اختیار کر گئیں۔ چند بنیاد پرست مسلم Ù…Ù�کر اور عالم جو Û�و سکتا Û�ے Ú©Û� دور نبی صلی اللÛ� علیÛ� وسلم Ú©Û’ مناÙ�قوں اور عربی دÛ�قانیوں Ú©Û’ Û�م پلÛ� Û�وں جو Ú©Û� Ú©Ù�ر Ùˆ Ù†Ù�اق میں سخت تھے [3] قبل از اسلام Ú©Û’ اس معمول Ú©ÛŒ وکالت کرتے Û�یں لیکن ÛŒÛ� قرآن Ú©Û’ پیغام Ú©Û’ خلاÙ� Û�ے۔ تاÛ�م اس Ú©Û’ لیے قرآنی Û�دایات Ùˆ اØÚ©Ø§Ù…ات Ú©ÛŒ جنسی جانبداری سے آزاد ایک تÙ�سیر Ùˆ ØªØ´Ø±ÛŒØ Ú©ÛŒ ضرورت Û�ے جیسا Ú©Û� اس کا اظÛ�ار مندرجÛ� ذیل متصل قرآنی آیات سے Û�وتا Û�ے۔
جنسی جانبداری سے آزاد متصل قرآنی آیات Ú©ÛŒ 23:5/6, 70:29/30 تÙ�سیر
قرآن Ú©ÛŒ آیات 23:1-11اور 70:19-35میں مذکور ان متصل آیات کا ترجمÛ� پیش Û�ے، جن Ú©Û’ معانی Ùˆ Ù…Ù�اÛ�م تقریباً ایک Û�ی جیسے Û�یں:
‘‘اور جو اپنی شرمگاÛ�وں Ú©ÛŒ ØÙ�اظت کرتے Û�یں، (23:5) سوائے اپنی بیویوں Ú©Û’ یا ان باندیوں Ú©Û’ جو ان Ú©Û’ Û�اتھوں Ú©ÛŒ مملوک Û�یں، بیشک (اØÚ©Ø§Ù…Ù� شریعت Ú©Û’ مطابق ان Ú©Û’ پاس جانے سے) ان پر کوئی ملامت Ù†Û�یں (23:6)’’۔
‘‘اور جو اپنی شرمگاÛ�وں Ú©ÛŒ ØÙ�اظت کرتے Û�یں، (70:29) مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے Ú©Û� (ان Ú©Û’ پاس جانے پر) انÛ�یں Ú©Ú†Ú¾ ملامت Ù†Û�یں (70:30)’’۔
بریکٹ میں مندرج ابتدائی نکات سے اس بیان کا جواز ثابت Û�وتا Û�ےاور ان کا مصدر سابقÛ� پیراگراÙ� Û�یں۔
اس امر Ú©Û’ پیش نظر Ú©Û� آیت 23:6میں مؤمن، انسان اور 70:29میں ازواج Ú©Û’ لیے استعمال کیے گئے تمام Ú©Û’ تمام الÙ�اظ کا تعلق جنس مشترک سے Û�ے۔ اور ان قرآنی آیات کا زیادÛ� بÛ�تر ترجمÛ� اس Ø·Ø±Ø Ú©ÛŒØ§ جا سکتا Û�ے:
‘‘اور (ایمان والے) (دائماً) اپنی شرم گاÛ�وں Ú©ÛŒ ØÙ�اظت کرتے رÛ�تے Û�یں، (23:5) سوائے اپنی بیویوں Ú©Û’ یا ان باندیوں Ú©Û’ جو ان Ú©Û’ Û�اتھوں Ú©ÛŒ مملوک Û�یں، بیشک (اØÚ©Ø§Ù…Ù� شریعت Ú©Û’ مطابق ان Ú©Û’ پاس جانے سے) ان پر کوئی ملامت Ù†Û�یں (23:6)’’۔
‘‘اور (ایمان والے) (دائماً) اپنی شرم گاÛ�وں Ú©ÛŒ ØÙ�اظت کرتے رÛ�تے Û�یں، (70:29) سوائے اپنی بیویوں Ú©Û’ یا ان باندیوں Ú©Û’ جو ان Ú©Û’ Û�اتھوں Ú©ÛŒ مملوک Û�یں، بیشک (اØÚ©Ø§Ù…Ù� شریعت Ú©Û’ مطابق ان Ú©Û’ پاس جانے سے) ان پر کوئی ملامت Ù†Û�یں (70:30)’’۔
سچائی ÛŒÛ� Û�ے Ú©Û� ان آیات میں روایتی طور پر جنسی جانبداری Ú©ÛŒ چھاپ مندرجÛ� ذیل بنیادوں پر پائی جاتی Û�ے:
· ان آیات کا تعلق ان ابتدائی Ù…Ú©ÛŒ آیات سے Û�ے جب مسلمانوں Ú©ÛŒ تعداد بÛ�ت Ú©Ù… تھی اور ÙˆÛ� اس روئے زمین پر کمزور Ùˆ ناتواں اور بے یار Ùˆ مددگار تھے جنÛ�یں Û�میشÛ� اس بات کا خوÙ� لگا رÛ�تا تھا Ú©Û� Ú©Û�یں ایسا Ù†Û� Û�و Ú©Û� ان Ú©Û’ دشمن ان پر مظالم ڈھائیں یا ان کا اغوا کر لیں (8:26)Û” اسی Ø·Ø±Ø Ù‚Ø±Ø¢Ù† Ú©ÛŒ Ù…Ú©ÛŒ آیتیں مسلمانوں Ú©Û’ لیے صبر اور ضبط Ù†Ù�س Ú©ÛŒ تلقین سے بھری Û�وئی Û�یں اور ایسا لگتا Û�ے Ú©Û� اس زمانے میں قرآن Ù†Û’ صرÙ� اس عمل Ú©ÛŒ اجازت دیتے Û�وئے جنسی لائسنس Ù�راÛ�م کیا Û�ے جو Ú©Û� اس زمانے میں ایک عام رویÛ� تھا، جس وقت شادی Ú©Û’ متعلق قوانین کا کوئی تصور Ù†Û�یں تھا۔
· آیات 70:21-35اور 23:1-11جن میں مذکورÛ� آیتیں شامل Ú©ÛŒ گئی Û�یں سچے مسلمانوں Ú©ÛŒ Ú©Ú†Ú¾ صÙ�ات بیان کرتی Û�یں۔ Ù„Û�ٰذا، اگر اس میں جنگی قیدیوں اور باندیوں Ú©Û’ ساتھ غیر ازدواجی جنسی تعلقات بھی شامل Û�وتے تو قرآن جنگی قیدیوں اور باندیوں Ú©Ùˆ یا ان Ú©ÛŒ اولاد Ú©Ùˆ وراثت Ú©Û’ قوانین میں جگÛ� دیتا جو Ú©Û� تمام قسموں Ú©Û’ تعلقات یا رشتوں کا Ø§ØØ§Ø·Û� کرتے Û�یں (4:33)Û” جبکÛ� ØÙ‚یقت ÛŒÛ� Û�ے Ú©Û� جائداد Ú©Û’ وارثین میں ما ملکت ایمان یا ان Ú©ÛŒ اولاد کا کوئی ذکر Ù†Û�یں ملتا۔
· اگر پیغمبر اسلام صلی اللÛ� علیÛ� وسلم یا قرآن Ù†Û’ غیر ازدواجی جنسی تعلقات کا کوئی بھی قانونی جواز Ù�راÛ�م کیا Û�وتا تو Ú©Ù�ار عرب Ù†Û’ بلا شبÛ� نبی صلی اللÛ� علیÛ� وسلم پر اس کا الزام لگایا Û�وتا۔ انÛ�وں Ù†Û’ نبی صلی اللÛ� علیÛ� وسلم Ú©Ùˆ جھوٹا Ú©Û�ا (30:58)ØŒ مجنون اور دیوانÛ� Ú©Û�ا (44:1ØŒ68:51) اور انÛ�یں مجنون شاعر Ú©Û�ا (37:36)Û” انÛ�وں Ù†Û’ نبی صلی اللÛ� علیÛ� وسلم پر دروغ گوئی اور جادوگری کا الزام لگایا (34:43, 38:4)ØŒ اللÛ� Ú©Û’ خلاÙ� جھوٹ بولنے والا اور جعل سازی اور قصے Ú©Û�انیاں بیان کرنے والا Ú©Û�ا (11:13, 32:3, 38:7, 46:8)ØŒ مجنون Ú©Û�ا (21:3, 43:30, 74:24)ØŒ ان Ú©ÛŒ باتوں Ú©Ùˆ ÙˆØ§Ø¶Ø Ø¬Ø§Ø¯Ùˆ جو Ú©Û� بÛ�کا دینے والی Û�ے Ú©Û�ا (10:2, 37:15, 46:7) ÛŒÛ�ی Ù†Û�یں بلکÛ� Ú©Ù�ار عرب Ù†Û’ انÛ�یں ایک ایسا شخص قرار دیا Û�ے جو کسی جنّ Ú©Û’ اثرات سے متأثر Û�ے (17:47, 23:70, 34:8)Û” اور انÛ�وں Ù†Û’ قرآن Ú©Ùˆ غیر مانوس اور نا قابل یقین بھی مانا (38:5, 50:2)ØŒ اور انÛ�وں Ù†Û’ ÙˆØÛŒ الٰÛ�ی Ú©ÛŒ اس Ø·Ø±Ø Ù…Ø°Ù…Øª Ú©ÛŒ Ú¯Ùˆ Ú©Û� ÙˆÛ� پرانے زمانے Ú©Û’ قصے اور Ú©Û�انیاں Û�وں (6:25, 23:83, 27:68, 46:17, 68:15, 83:13)Û” لیکن ان تمام Ù†Û’ ایک بھی Ù„Ù�ظ ایسا Ù†Û�یں Ú©Û�ا Ú©Û� جس سے دور دور تک بھی ÛŒÛ� پتÛ� چلتا Û�و Ú©Û� نبی صلی اللÛ� علیÛ� وسلم Ù†Û’ غیر ازدواجی جنسی تعلقات Ú©ÛŒ کسی بھی Ø´Ú©Ù„ Ú©Ùˆ جائز قرار دیا Û�ے۔
· ما ملکت ایمان Ú©ÛŒ روایتی ØªØ´Ø±ÛŒØ Ø³Û’ غلامی Ú©Û’ ادارے اور آئین کا ایک مطالبÛ� پیدا Û�وتا Û�ےجو Ú©Û� قرآنی اور تاریخی تناظر میں یکسر غلط Û�ے جیسا Ú©Û� اس Ú©ÛŒ ذکر اس مضمون Ú©Û’ مرکزی ØØµÛ� میں Û�و چکا Û�ے۔
قرآن بÛ�ت سارے معاملوں میں اسی Ø·Ø±Ø Ú©Û’ ‘ØÙ‚وق اور ذمÛ� داریوں’ Ú©ÛŒ تصدیق مرد اور عورت دونوں Ú©Û’ لیے کرتا Û�ےاور ایک سماجی معیار Ú©Û’ طور پر یک زوجگی Ú©Û’ ساتھ دونوں پر مناسب اور متوازن ‘ØÙ‚وق اور ذمÛ� داریوں’ Ú©Ùˆ ناÙ�ذ کرتا Û�ے۔ Ù„Û�ٰذا، اگر جنگ میں قید Ú©ÛŒ گئی عورتیں، غلاموں اور باندیوں Ú©Û’ ساتھ مردوں Ú©Ùˆ بے ØØ¯ Ùˆ ØØ³Ø§Ø¨ جنسی تعلقات قائم کرنے Ú©ÛŒ آزادی دینے Ú©Û’ لیے آیات 23:5/6, 70:29/30Ú©ÛŒ ØªØ´Ø±ÛŒØ ÛŒØ§ ان کا ترجمÛ� ایسے انداز میں Ú©ÛŒ جائے جس پر جنسی جانبداری Ú©ÛŒ چھاپ Û�و تو ÛŒÛ� ایک Ù�اش غلطی Û�و گی۔ مزید ÛŒÛ� Ú©Û� جیسے جیسے نزول آیات کا سلسلÛ� بڑھتا گیا قرآن Ù†Û’ اس Ú©ÛŒ ÙˆØ¶Ø§ØØª خود Û�ی کر دی۔ Ù„Û�ٰذا، Ù…ØÙ…د اسد Ù†Û’ الراضی اور الطبری کا ØÙˆØ§Ù„Û� پیش کرتے Û�وئے ÛŒÛ� Ú©Û�ا Û�ے Ú©Û� ایک شرعی بیوی Ú©Û’ علاوÛ� کسی اور عورت Ú©Û’ ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے Ú©Ùˆ قرآن Ù†Û’ ممنوع قرار دیا Û�ے Û” [4]
Ù„Û�ذا، غلامی یا جنسی غلامی کا کوئی بھی تصور قرآنی پیغامات Ú©Û’ خلاÙ� Û�ے۔
نوٹس:
1. رÙ�یق زکریا، Ù…ØÙ…د اور قرآن، لندن 1992ØŒ صÙ�ØÛ� 408Û”
2. شبلی نعمانی، الÙ�اروق، دÛ�لی 1898ØŒ طباعت دوم 1991 کراچی، صÙ�ØÛ� 258Û”
3. The Qur’an Prescribes Monogamy Is The Social Norm For Humanity
5. Ù…ØÙ…د اسد، Message of the Qur’an, Gibraltar, 1980ØŒ باب 4ØŒ نوٹ 26Û”
(انگریزی سے ترجمÛ� : Ù…ØµØ¨Ø§Ø Ø§Ù„Û�دیٰ، نیو ایج اسلام)
Ù…ØÙ…د یونس Ù†Û’ آئی آئی Ù¹ÛŒ سے کیمیکل انجینئرنگ Ú©ÛŒ تعلیم ØØ§ØµÙ„ Ú©ÛŒ Û�ے اور کارپوریٹ اکزیکیوٹیو Ú©Û’ عÛ�دے سے سبکدوش Û�و Ú†Ú©Û’ Û�یں اور90Ú©ÛŒ دÛ�ائی سے قرآن Ú©Û’ عمیق مطالعÛ� اور اس Ú©Û’ ØÙ‚یقی پیغام Ú©Ùˆ سمجھنے Ú©ÛŒ کوشش کر رÛ�ے Û�یں۔ ان Ú©ÛŒ کتاب اسلام کا اصل پیغام Ú©Ùˆ 2002میں الاظÛ�ر الشریÙ�،قاÛ�رÛ� Ú©ÛŒ منظوری ØØ§ØµÙ„ Û�و گئی تھی اور اور اس کتاب Ú©Ùˆ یو سی ایل اے Ú©Û’ ڈاکٹر خالد ابو الÙ�ضل Ú©ÛŒ ØÙ…ایت اور توثیق بھی ØØ§ØµÙ„ Û�ے اور Ù…ØÙ…د یونس Ú©ÛŒ کتاب اسلام کا اصل پیغام Ú©Ùˆ آمنÛ� پبلیکیشن،میری لینڈ ،امریکÛ� Ù†Û’ØŒ2009میں شائع کیا Û�ے۔
URL for English article:
https://www.newageislam.com/islam-human-rights/abolition-slavery-including-sex-slavery/d/35148
URL for this article:
https://newageislam.com/urdu-section/abolition-slavery,-including-sex-slavery/d/35667