New Age Islam
Thu Mar 05 2026, 10:35 AM

Urdu Section ( 10 Feb 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Abolition of Slavery, Including Sex Slavery in Islam (The Qur’an) اسلام (قرآن) میں غلامی اور جنسی غلامی کی ممانعت

  

محمد یونس، نیو ایج اسلام

(معاون مصنÙ�، اشÙ�اق اللÛ� سیدEssential Message of Islam, Amana Publications, USA, 2009)

نزول قرآن کا ایک مختصر تعارÙ�

قرآن ساتویں صدی عیسوی Ú©Û’ ایک ایسے زمانے میں نازل Û�وا جب اس کائنات کا بیشتر حصÛ� جاÛ�لیت Ú©ÛŒ زد میں تھا، (ایک لغوی تشریح) جاÛ�لیت عربی کا ایک Ù„Ù�ظ Û�ے جس کا استعمال ظلمت Ùˆ تاریکی Ú©ÛŒ صورت حال پیش کرنےکے لیے کیا جاتا Û�ے، اور اس زمانے میں عالمی انصاÙ� کا کوئی تصور Ù†Û�یں تھا، ظلم Ùˆ بربریت سے بھری سزائیں متعین Ú©ÛŒ جاتی تھیں، عام لوگوں Ú©Ùˆ ڈرایا اور دھمکایا جاتا تھا، ان پر ظلم کیا جاتا تھا اور ان کا استحصال کیا جانا ایک عا Ù… بات تھی، اس زمانے میں غلامی ایک عام رجحان تھا، عورتوں Ú©Û’ ساتھ ایک مال Ùˆ متاع کا سا برتاؤ کیا جاتا تھا اور ان پر ظلم Ùˆ ستم Ú©Û’ Ù¾Û�اڑ توڑے جاتے تھے، ÛŒÛ� اس زمانے Ú©ÛŒ چند بڑی برائیاں تھیں۔ ایسے ماحول میں قرآن کا نزول Û�وا اور اس Ú©ÛŒ تعلیمات Ù†Û’ پوری انسانیت Ú©Ùˆ ظلم Ùˆ جاÛ�لیت Ú©Û’ اندھیرے سے علم Ùˆ عرÙ�ان Ú©ÛŒ روشنی میں لا کر کھڑا کر دیا (2:257, 14:1, 57:9)ØŒ اور ان Ú©Û’ کندھوں سے جاÛ�لیت اور تاریکی Ú©Û’ اس بارگراں Ú©Ùˆ Û�ٹا دیا جس کا شکار ÙˆÛ� اسلام Ú©ÛŒ آمد سے Ù¾Û�لے تھے(7:157)Û” چونکÛ� اس زمانے میں غلامی بÛ�ت ساری سماجی برائیوں Ú©ÛŒ جڑ میں شامل تھی اور اس کا خاتمÛ� کیا جانا تھا تاکÛ� اس معاشرے میں مختلÙ� محاذوں پر اصلاح کا کام کیا جا سکے۔

کسی بھی معاشرے Ú©Û’ سماجی رسوم Ùˆ روایات اس Ú©Û’ مختلÙ� Ù¾Û�لوؤں میں سرایت کیے Û�وئے Û�وتے Û�یں اور دÙ�عتاً اس Ú©Ùˆ ختم کرنے میں بمشکل Û�ی کامیابی حاصل Û�و پاتی Û�ے، اسی لیے قرآن کا منصوبÛ� اسلامی اصلاحات Ú©Ùˆ بتدریج متعارÙ� کرانا تھا۔ Ù„Û�ٰذا، اسلام Ù†Û’ اپنی سماجی اور اخلاقی اصلاحات Ú©Û’ ساتھ متلازمانÛ� طریقے سے غلامی Ú©Û’ خلاÙ� اپنے احکامات Ú©Ùˆ ناÙ�ظ کیا۔ اس طرح اسلام Ù†Û’ مندرجÛ� ذیل آیات میں غلاموں Ú©Ùˆ آزاد کرنے Ú©ÛŒ ایک واضح Û�دایت دی:

·        (90:13-16)Û”ÙˆÛ� (غلامی Ùˆ محکومی Ú©ÛŒ زندگی سے) کسی گردن کا آزاد کرانا Û�ے، یا بھوک والے دن (یعنی قحط Ùˆ اÙ�Ù�لاس Ú©Û’ دور میں غریبوں اور محروم المعیشت لوگوں Ú©Ùˆ) کھانا کھلانا Û�ے، قرابت دار یتیم کو، یا شدید غربت Ú©Û’ مارے Û�وئے محتاج Ú©Ùˆ جو محض خاک نشین (اور بے گھر) Û�ے Û”

·        (4:92) اور جس Ù†Û’ کسی مسلمان Ú©Ùˆ نادانستÛ� قتل کر دیا تو (اس پر) ایک مسلمان غلام / باندی کا آزاد کرنا اور خون بÛ�ا (کا ادا کرنا) جو مقتول Ú©Û’ گھر والوں Ú©Û’ سپرد کیا جائے (لازم Û�ے) مگر ÛŒÛ� Ú©Û� ÙˆÛ� معاÙ� کر دیں، پھر اگر ÙˆÛ� (مقتول) تمÛ�اری دشمن قوم سے Û�و اور ÙˆÛ� مومن (بھی) Û�و تو (صرÙ�) ایک غلام / باندی کا آزاد کرنا (Û�ی لازم) Û�ے اور اگر ÙˆÛ� (مقتول) اس قوم میں سے Û�و Ú©Û� تمÛ�ارے اور ان Ú©Û’ درمیان (صلح کا) معاÛ�دÛ� Û�ے تو خون بÛ�ا (بھی) جو اس Ú©Û’ گھر والوں Ú©Û’ سپرد کیا جائے اور ایک مسلمان غلام / باندی کا آزاد کرنا (بھی لازم) Û�ے۔

·        (5:89) اللÛ� تمÛ�اری بے مقصد (اور غیر سنجیدÛ�) Ù‚Ù�سموں میں تمÛ�اری گرÙ�ت Ù†Û�یں Ù�رماتا لیکن تمÛ�اری ان (سنجیدÛ�) Ù‚Ù�سموں پر گرÙ�ت Ù�رماتا Û�ے جنÛ�یں تم (ارادی طور پر) مضبوط کرلو، (اگر تم ایسی Ù‚Ù�سم Ú©Ùˆ توڑ ڈالو) تو اس کا Ú©Ù�ّارÛ� دس مسکینوں Ú©Ùˆ اوسط (درجÛ� کا) کھانا کھلانا Û�ے جو تم اپنے گھر والوں Ú©Ùˆ کھلاتے Û�و یا (اسی طرح) ان (مسکینوں) Ú©Ùˆ Ú©Ù¾Ú‘Û’ دینا Û�ے یا ایک گردن (یعنی غلام یا باندی Ú©Ùˆ) آزاد کرنا Û�ے۔

·        (2:177) نیکی صرÙ� ÛŒÛ�ی Ù†Û�یں Ú©Û� تم اپنے منÛ� مشرق اور مغرب Ú©ÛŒ طرÙ� پھیر لو بلکÛ� اصل نیکی تو ÛŒÛ� Û�ے Ú©Û� کوئی شخص اﷲ پر اور قیامت Ú©Û’ دن پر اور Ù�رشتوں پر اور (اﷲ Ú©ÛŒ) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے، اور اﷲ Ú©ÛŒ محبت میں (اپنا) مال قرابت داروں پر اور یتیموں پر اور محتاجوں پر اور مساÙ�روں پر اور مانگنے والوں پر اور (غلاموں Ú©ÛŒ) گردنوں (Ú©Ùˆ آزاد کرانے) میں خرچ کرے۔

·        (9:60) بیشک صدقات (زکوٰۃ) محض غریبوں اور محتاجوں اور ان Ú©ÛŒ وصولی پر مقرر کئے گئے کارکنوں اور ایسے لوگوں Ú©Û’ لئے Û�یں جن Ú©Û’ دلوں میں اسلام Ú©ÛŒ الÙ�ت پیدا کرنا مقصود Û�و اور (مزید ÛŒÛ� Ú©Û�) انسانی گردنوں Ú©Ùˆ (غلامی Ú©ÛŒ زندگی سے) آزاد کرانے Ú©Û’ لیے..........Û”

(58:3) جو لوگ اپنی بیویوں سے ظÛ�ار (ایک ایسا عمل جس Ú©Û’ بعد شوÛ�ر بیوی Ú©Û’ تئیں اپنی تمام تر ذمÛ� داریوں اور Ù�رائض سے آزاد Û�و جا تا Û�ے) کر بیٹھیں پھر جو Ú©Û�ا Û�ے اس سے پلٹنا چاÛ�یں تو ایک گردن (غلام یا باندی) کا آزاد کرنا لازم Û�ے قبل اÙ�س Ú©Û’ Ú©Û� ÙˆÛ� ایک دوسرے Ú©Ùˆ Ù…Ù�س کریں، تمÛ�یں اس بات Ú©ÛŒ نصیحت Ú©ÛŒ جاتی Û�ے۔

چونکÛ� غلامی اور عصمت Ù�روشی ایک ساتھ پائی جاتی تھی، اسی لیے قرآن کا مقصد شادی Ú©Û’ قانون Ú©Û’ ذریعÛ� مرد اور عورت غلاموں Ú©Ùˆ آزاد کر Ú©Û’ غلامی Ú©Ùˆ ختم کرنا تھا۔قرآن کا ÛŒÛ� Ø­Ú©Ù… Û�ے Ú©Û� ‘‘ان مسلمان کنیزوں سے نکاح کرلے جو (شرعاً) تمÛ�اری ملکیت میں Û�یں’’ (4:25)ØŒ ‘‘اور تم اپنے مردوں اور عورتوں میں سے ان کا نکاح کر دیا کرو جو (عمرÙ� نکاح Ú©Û’ باوجود) بغیر ازدواجی زندگی Ú©Û’ (رÛ� رÛ�ے) Û�وں اور اپنے باصلاحیت غلاموں اور باندیوں کا بھی (نکاح کر دیا کرو) (24:32)ØŒ اور تمÛ�ارے زیردست (غلاموں اور باندیوں) میں سے جو مکاتب (Ú©Ú†Ú¾ مال کما کر دینے Ú©ÛŒ شرط پر آزاد) Û�ونا چاÛ�یں تو انÛ�یں مکاتب (مذکورÛ� شرط پر آزاد) کر دو (24:33)Û”

‘‘اور تم میں سے جو کوئی (اتنی) استطاعت Ù†Û� رکھتا Û�و Ú©Û� آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کر سکے تو ان مسلمان کنیزوں سے نکاح کرلے جو (شرعاً) تمÛ�اری ملکیت میں Û�یں، اور اللÛ� تمÛ�ارے ایمان (Ú©ÛŒ Ú©ÛŒÙ�یت) Ú©Ùˆ خوب جانتا Û�ے، تم (سب) ایک دوسرے Ú©ÛŒ جنس میں سے Û�ی Û�و، پس ان (کنیزوں) سے ان Ú©Û’ مالکوں Ú©ÛŒ اجازت Ú©Û’ ساتھ نکاح کرو اور انÛ�یں ان Ú©Û’ Ù…Ù�Û�ر حسبÙ� دستور ادا کرو درآنحالیکÛ� ÙˆÛ� (عÙ�ت قائم رکھتے Û�وئے) قیدÙ� نکاح میں آنے والی Û�وں Ù†Û� بدکاری کرنے والی Û�وں اور Ù†Û� درپردÛ� آشنائی کرنے والی Û�وں.....’’ (4:25)Û”

‘‘اور ایسے لوگوں Ú©Ùˆ پاک دامنی اختیار کرنا چاÛ�ئے جو نکاح (Ú©ÛŒ استطاعت) Ù†Û�یں پاتے ÛŒÛ�اں تک Ú©Û� اللÛ� انÛ�یں اپنے Ù�ضل سے غنی Ù�رما دے، اور تمÛ�ارے زیردست (غلاموں اور باندیوں) میں سے جو مکاتب (Ú©Ú†Ú¾ مال کما کر دینے Ú©ÛŒ شرط پر آزاد) Û�ونا چاÛ�یں تو انÛ�یں مکاتب (مذکورÛ� شرط پر آزاد) کر دو اگر تم ان میں بھلائی جانتے Û�و، اور تم (خود بھی) انÛ�یں اللÛ� Ú©Û’ مال میں سے (آزاد Û�ونے Ú©Û’ لئے) دے دو جو اس Ù†Û’ تمÛ�یں عطا Ù�رمایا Û�ے، اور تم اپنی باندیوں Ú©Ùˆ دنیوی زندگی کا Ù�ائدÛ� حاصل کرنے Ú©Û’ لئے بدکاری پر مجبور Ù†Û� کرو جبکÛ� ÙˆÛ� پاک دامن (یا Ø­Ù�اطتÙ� نکاح میں) رÛ�نا چاÛ�تی Û�یں، اور جو شخص انÛ�یں مجبور کرے گا تو اللÛ� ان Ú©Û’ مجبور Û�و جانے Ú©Û’ بعد (بھی) بڑا بخشنے والا Ù…Û�ربان Û�ے’’ (24:33)Û”

قرآن میں جÛ�اں ایک غلام Ú©Û’ لیے Ù�تاۃ، رقاب اور عبد کا استعمال کیا گیا Û�ے، جنÛ�یں تاریخی تناظر میں باندی Ú©Û�ا جاتا Û�ے ÙˆÛ�یں غلاموں اور باندیوں Ú©Û’ لیے ما ملکت ایمان جیسے معزز Ùˆ محترم لقب کا بھی استعمال کیا گیا Û�ے اسی لیے اس سے Û�ر ÙˆÛ� شخص مراد Û�و گا جو کسی Ú©ÛŒ شرعی ملکیت میں Û�و۔ اکثر علماء ‘ما ملکت ایمان’ کا لغوی ترجمÛ� ‘‘جو تمÛ�اری ملکیت میں Û�یں’’ کرتے Û�یں اور اس Ú©Û’ معنیٰ Ú©Ùˆ صرÙ� مؤنث قیدیوں، باندیوں اور غلاموں تک Û�ی محدود رکھتے Û�یں۔ جبکÛ� ایسی کوئی بھی تشریح غلط اور بے بنیاد Û�ے۔ اس کا سب سے قریبی لغوی معنیٰ ÛŒÛ� Û�و گا Ú©Û� جو شرعاً تمÛ�اری ملکیت میں Û�وں، تاÛ�م قرآن Ù†Û’ ‘ایمان’ Ú©Û’ اس Ù„Ù�ظ کومجازاً ایک مثبت شرعی حالت Ú©Ùˆ بیان کرنے Ú©Û’ لیے کیا Û�ے، مثلاً کسی ‘عظیم المرتبت’ Ú©Û’ رÙ�قاء اور اللÛ� کا ‘داÛ�نا Û�اتھ’۔ Ù„Û�ٰذا اس جملے کا بÛ�تر ترجمÛ� اس طرح کیا جا سکتا Û�ے Ú©Û� ‘‘ جو (شرعاً) تمÛ�اری ملکیت میں Û�یں۔’’ حکمت Ùˆ دانائی سےبھرے ان الÙ�اظ Ú©Û’ ذریعÛ� قرآن غلاموں اور باندیوں Ú©Ùˆ ایک پر وقار مرتبÛ� عطا کرتا Û�ے جنÛ�یں تاریخی طور پر معاشرتی نظام کا ایک سب سے نچلا طبقÛ� قرار دیا گیا تھا۔ ان سے Ù†Ù�رت Ú©ÛŒ جاتی تھی، انÛ�یں حقیر گرداناجاتا تھا، ان پر ظلم Ùˆ ستم Ú©Û’ Ù¾Û�اڑ توڑے جاتے تھے اور ان پر سخت ترین پابندیاں عائد کر Ú©Û’ انÛ�یں Û�ر قسم Ú©ÛŒ آزادیوں سے محروم رکھا جاتا تھا اور اس کا شکار ان Ú©ÛŒ کئی کئی نسلیں Û�وا کرتی تھیں۔

قرآنی جملÛ� ملکت ایمان (واحد ملک یمین) کوئی مجاز Ù†Û�یں Û�ے یا محض کوئی حسن تعبیر بھی Ù†Û�یں Û�ے۔ دور نبوت میں جنگی قیدیوں Ú©Ùˆ ان Ú©Û’ تحÙ�ظ Ú©Û’ لیےمدنی مسلمانوں Ú©Û’ درمیان تقسیم کر دیا جاتا تھا۔ جنگی قیدی خواÛ� مرد Û�وں یا عورت ÙˆÛ� بظاÛ�ر ‘غلام Û�وا کرتے تھے لیکن انÛ�یں ملک یمین سمجھا جاتا تھا اور ان Ú©Û’ محاÙ�ظین اسی Ú©Û’ مطابق ان Ú©Û’ ساتھ Û�مدردی اور غور Ùˆ Ù�کر Ú©Û’ ساتھ پیش آتے تھے۔ نبی صلی اللÛ� علیÛ� وسلم Ú©Û’ سوانح نگاروں کا ایک سب سے بڑا دشمن ایک قیدی Ú©Û’ حوالے سے ÛŒÛ� اقتباس نقل کرتا Û�ے: ‘‘مدینے Ú©Û’ لوگ خود پیدل چلتے اور Û�میں سواری Ù�راÛ�م کرتے، کھانے Ú©ÛŒ قلت Ú©Û’ وقت میں بھی انÛ�وں Ù†Û’ Û�میں گندم Ú©ÛŒ روٹی دی، جبکÛ� خود انÛ�وں Ù†Û’ صرÙ� کھجور پر Û�ی اکتÙ�اء کیا’’ [1]Û”

ایک دوسری سطح پر، اسلام سے Ù¾Û�لے، صدیوں تک دوسرے قانونی دÙ�عات Ú©Û’ برخلاÙ� قرآن سول قوانین اور غلاموں Ú©Û’ لیے قوانین میں کوئی خط امتیاز Ù†Û�یں کھینچتا۔ قرآن ماضی یا موجودÛ� روایات Ú©Û’ تناظر میں بھی غلامی کا حوالÛ� پیش کرتا Û�ے، لیکن اس Ú©Û’ سول، کمرشیل، وراثت اور خاندانی قوانین آزاد یا غلام Ú©Û’ کسی بھی حوالÛ� سے قطع نظر تمام مسلمانوں Ú©Û’ لیے یکساں Û�یں۔

مختصر ÛŒÛ� Ú©Û� غلاموں Ú©Ùˆ آزاد کرنے پر قرآن Ú©ÛŒ پر زور تاکید، ان Ú©ÛŒ دیکھ بھال کرنے،انÛ�یں آزاد کرنے اور ان سے شادی کرنے Ú©Û’ واضح احکامات، غلاموں، لونڈیوں اور جنگی قیدیوں Ú©Û’ لیے اس Ú©Û’ مؤقر الÙ�اظ اور سماجی اور سول قوانین میں آزاد ار غلام Ú©Û’ درمیان کسی بھی طرح Ú©ÛŒ تÙ�ریق سے اس کا گریزاں Û�ونا ان تمام حقائق سے ÛŒÛ� واضح Û�وتا Û�ے Ú©Û� قرآن کا مقصد غلامی Ú©Ùˆ جڑ سے اکھاڑ پھینکنا Û�ے۔ اسی طرح خلیÙ�Û� حضرت ابو بکر Ù†Û’ عرب Ú©Û’ آبائی باشندوں Ú©Û’ درمیان غلامی Ú©Ùˆ کالعدم قرار دیا تھا۔ انÛ�وں Ù†Û’ قرآنی تائید Ú©Û’ ساتھ اپنے اعلٰی Ù�وجی عÛ�دیداروں Ú©Ùˆ ÛŒÛ� Ø­Ú©Ù… بھی دے رکھا تھا Ú©Û� ÙˆÛ� Ù…Ù�توح اقوام Ú©Û’ عام لوگوں Ú©Ùˆ غلام Ù†Û� بنائیں [2]Û” حالانکÛ� اس پر انÛ�یں اپنے بÛ�ت سارے Ù�وجی جنرلوں Ú©ÛŒ سخت مخالÙ�توں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اور ان Ú©ÛŒ اس پالیسی Ú©Ùˆ ان Ú©ÛŒ ÙˆÙ�ات (24 Û�جری) Ú©Û’ بعد دو دÛ�ائیوں سے بھی Ú©Ù… میں Ù¾Û�لی اسلامی حکومت Ú©Û’ قیام (40 Û�جری) Ú©Û’ ساتھ Û�ی موقوÙ� کر دیا گیا۔ Ù„Û�ٰذا نبی صلی اللÛ� علیÛ� وسلم Ú©Û’ انتقال Ú©Û’ بمشکل تیس سالوں Ú©Û’ بعد Û�ی اسلامی ممالک میں خود بخود Û�ی پھر سے غلامی کا آغاز Û�وا غلاموں Ú©ÛŒ تجارت کرنے والوں اور ذاتی Ù…Ù�ادات سے وابستÛ� لوگوں Ù†Û’ اس شعبÛ� Ú©Ùˆ زور Ùˆ شور Ú©Û’ ساتھ صدیوں تک جاری رکھا۔

غلام سے آزاد معاشرے کا تصور لوگوں Ú©Û’ ذÛ�نوں میں نبی صلی اللÛ� علیÛ� وسلم Ú©ÛŒ ÙˆÙ�ات Ú©Û’ تقریباً بارÛ� سو سالوں سے زیادÛ� Ú©Û’ بعد بیدار Û�وا، ÙˆÛ� بھی اسلامی ممالک میں Ù†Û�یں۔ امریکÛ� Ú©Û’ 16Û�ویں صدر ابراÛ�م لنکن (1861-1865) Ù†Û’ تنسیخ غلامی Ú©Ùˆ اعلان حریت ‘‘mancipationProclamation’’ (1جنوری1863) Ú©Û’ ذریعÛ� قانونی Ø´Ú©Ù„ عطا کیا۔ لیکن حیرانی Ú©ÛŒ بات ÛŒÛ� Û�ے Ú©Û� کلاسیکی اسلامی شریعت Ù†Û’ Ú©Û� جس Ú©ÛŒ تدوین Ùˆ ترتیب نبی صلی اللÛ� علیÛ� وسلم Ú©Û’ انتقال Ú©Û’ ایک Û�زار سالوں سے زیادÛ� Ú©Û’ بعد عمل میں آئی، غلامی پر توجÛ� دیا؛ اور غلام، باندیاں اورداشتائیں بÛ�ت سارے مسلم ممالک میں اسلامی تÛ�ذیب Ùˆ ثقاÙ�ت Ú©Û’ سماجی نظام میں ایک جزو لاینÙ�ک Ú©ÛŒ Ø´Ú©Ù„ اختیار کر گئیں۔ چند بنیاد پرست مسلم Ù…Ù�کر اور عالم جو Û�و سکتا Û�ے Ú©Û� دور نبی صلی اللÛ� علیÛ� وسلم Ú©Û’ مناÙ�قوں اور عربی دÛ�قانیوں Ú©Û’ Û�م پلÛ� Û�وں جو Ú©Û� Ú©Ù�ر Ùˆ Ù†Ù�اق میں سخت تھے [3] قبل از اسلام Ú©Û’ اس معمول Ú©ÛŒ وکالت کرتے Û�یں لیکن ÛŒÛ� قرآن Ú©Û’ پیغام Ú©Û’ خلاÙ� Û�ے۔ تاÛ�م اس Ú©Û’ لیے قرآنی Û�دایات Ùˆ احکامات Ú©ÛŒ جنسی جانبداری سے آزاد ایک تÙ�سیر Ùˆ تشریح Ú©ÛŒ ضرورت Û�ے جیسا Ú©Û� اس کا اظÛ�ار مندرجÛ� ذیل متصل قرآنی آیات سے Û�وتا Û�ے۔

جنسی جانبداری سے آزاد متصل قرآنی آیات Ú©ÛŒ 23:5/6, 70:29/30 تÙ�سیر

قرآن Ú©ÛŒ آیات 23:1-11اور 70:19-35میں مذکور ان متصل آیات کا ترجمÛ� پیش Û�ے، جن Ú©Û’ معانی Ùˆ Ù…Ù�اÛ�م تقریباً ایک Û�ی جیسے Û�یں:

‘‘اور جو اپنی شرمگاÛ�وں Ú©ÛŒ Ø­Ù�اظت کرتے Û�یں، (23:5) سوائے اپنی بیویوں Ú©Û’ یا ان باندیوں Ú©Û’ جو ان Ú©Û’ Û�اتھوں Ú©ÛŒ مملوک Û�یں، بیشک (احکامÙ� شریعت Ú©Û’ مطابق ان Ú©Û’ پاس جانے سے) ان پر کوئی ملامت Ù†Û�یں (23:6)’’۔

‘‘اور جو اپنی شرمگاÛ�وں Ú©ÛŒ Ø­Ù�اظت کرتے Û�یں، (70:29) مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے Ú©Û� (ان Ú©Û’ پاس جانے پر) انÛ�یں Ú©Ú†Ú¾ ملامت Ù†Û�یں (70:30)’’۔

بریکٹ میں مندرج ابتدائی نکات سے اس بیان کا جواز ثابت Û�وتا Û�ےاور ان کا مصدر سابقÛ� پیراگراÙ� Û�یں۔

اس امر Ú©Û’ پیش نظر Ú©Û� آیت 23:6میں مؤمن، انسان اور 70:29میں ازواج Ú©Û’ لیے استعمال کیے گئے تمام Ú©Û’ تمام الÙ�اظ کا تعلق جنس مشترک سے Û�ے۔ اور ان قرآنی آیات کا زیادÛ� بÛ�تر ترجمÛ� اس طرح کیا جا سکتا Û�ے:

‘‘اور (ایمان والے) (دائماً) اپنی شرم گاÛ�وں Ú©ÛŒ Ø­Ù�اظت کرتے رÛ�تے Û�یں، (23:5) سوائے اپنی بیویوں Ú©Û’ یا ان باندیوں Ú©Û’ جو ان Ú©Û’ Û�اتھوں Ú©ÛŒ مملوک Û�یں، بیشک (احکامÙ� شریعت Ú©Û’ مطابق ان Ú©Û’ پاس جانے سے) ان پر کوئی ملامت Ù†Û�یں (23:6)’’۔

‘‘اور (ایمان والے) (دائماً) اپنی شرم گاÛ�وں Ú©ÛŒ Ø­Ù�اظت کرتے رÛ�تے Û�یں، (70:29) سوائے اپنی بیویوں Ú©Û’ یا ان باندیوں Ú©Û’ جو ان Ú©Û’ Û�اتھوں Ú©ÛŒ مملوک Û�یں، بیشک (احکامÙ� شریعت Ú©Û’ مطابق ان Ú©Û’ پاس جانے سے) ان پر کوئی ملامت Ù†Û�یں (70:30)’’۔

سچائی ÛŒÛ� Û�ے Ú©Û� ان آیات میں روایتی طور پر جنسی جانبداری Ú©ÛŒ چھاپ مندرجÛ� ذیل بنیادوں پر پائی جاتی Û�ے:

·        ان آیات کا تعلق ان ابتدائی Ù…Ú©ÛŒ آیات سے Û�ے جب مسلمانوں Ú©ÛŒ تعداد بÛ�ت Ú©Ù… تھی اور ÙˆÛ� اس روئے زمین پر کمزور Ùˆ ناتواں اور بے یار Ùˆ مددگار تھے جنÛ�یں Û�میشÛ� اس بات کا خوÙ� لگا رÛ�تا تھا Ú©Û� Ú©Û�یں ایسا Ù†Û� Û�و Ú©Û� ان Ú©Û’ دشمن ان پر مظالم ڈھائیں یا ان کا اغوا کر لیں (8:26)Û” اسی طرح قرآن Ú©ÛŒ Ù…Ú©ÛŒ آیتیں مسلمانوں Ú©Û’ لیے صبر اور ضبط Ù†Ù�س Ú©ÛŒ تلقین سے بھری Û�وئی Û�یں اور ایسا لگتا Û�ے Ú©Û� اس زمانے میں قرآن Ù†Û’ صرÙ� اس عمل Ú©ÛŒ اجازت دیتے Û�وئے جنسی لائسنس Ù�راÛ�م کیا Û�ے جو Ú©Û� اس زمانے میں ایک عام رویÛ� تھا، جس وقت شادی Ú©Û’ متعلق قوانین کا کوئی تصور Ù†Û�یں تھا۔

·        آیات 70:21-35اور 23:1-11جن میں مذکورÛ� آیتیں شامل Ú©ÛŒ گئی Û�یں سچے مسلمانوں Ú©ÛŒ Ú©Ú†Ú¾ صÙ�ات بیان کرتی Û�یں۔ Ù„Û�ٰذا، اگر اس میں جنگی قیدیوں اور باندیوں Ú©Û’ ساتھ غیر ازدواجی جنسی تعلقات بھی شامل Û�وتے تو قرآن جنگی قیدیوں اور باندیوں Ú©Ùˆ یا ان Ú©ÛŒ اولاد Ú©Ùˆ وراثت Ú©Û’ قوانین میں جگÛ� دیتا جو Ú©Û� تمام قسموں Ú©Û’ تعلقات یا رشتوں کا احاطÛ� کرتے Û�یں (4:33)Û” جبکÛ� حقیقت ÛŒÛ� Û�ے Ú©Û� جائداد Ú©Û’ وارثین میں ما ملکت ایمان یا ان Ú©ÛŒ اولاد کا کوئی ذکر Ù†Û�یں ملتا۔

·        اگر پیغمبر اسلام صلی اللÛ� علیÛ� وسلم یا قرآن Ù†Û’ غیر ازدواجی جنسی تعلقات کا کوئی بھی قانونی جواز Ù�راÛ�م کیا Û�وتا تو Ú©Ù�ار عرب Ù†Û’ بلا شبÛ� نبی صلی اللÛ� علیÛ� وسلم پر اس کا الزام لگایا Û�وتا۔ انÛ�وں Ù†Û’ نبی صلی اللÛ� علیÛ� وسلم Ú©Ùˆ جھوٹا Ú©Û�ا (30:58)ØŒ مجنون اور دیوانÛ� Ú©Û�ا (44:1ØŒ68:51) اور انÛ�یں مجنون شاعر Ú©Û�ا (37:36)Û” انÛ�وں Ù†Û’ نبی صلی اللÛ� علیÛ� وسلم پر دروغ گوئی اور جادوگری کا الزام لگایا (34:43, 38:4)ØŒ اللÛ� Ú©Û’ خلاÙ� جھوٹ بولنے والا اور جعل سازی اور قصے Ú©Û�انیاں بیان کرنے والا Ú©Û�ا (11:13, 32:3, 38:7, 46:8)ØŒ مجنون Ú©Û�ا (21:3, 43:30, 74:24)ØŒ ان Ú©ÛŒ باتوں Ú©Ùˆ واضح جادو جو Ú©Û� بÛ�کا دینے والی Û�ے Ú©Û�ا (10:2, 37:15, 46:7) ÛŒÛ�ی Ù†Û�یں بلکÛ� Ú©Ù�ار عرب Ù†Û’ انÛ�یں ایک ایسا شخص قرار دیا Û�ے جو کسی جنّ Ú©Û’ اثرات سے متأثر Û�ے (17:47, 23:70, 34:8)Û” اور انÛ�وں Ù†Û’ قرآن Ú©Ùˆ غیر مانوس اور نا قابل یقین بھی مانا (38:5, 50:2)ØŒ اور انÛ�وں Ù†Û’ وحی الٰÛ�ی Ú©ÛŒ اس طرح مذمت Ú©ÛŒ Ú¯Ùˆ Ú©Û� ÙˆÛ� پرانے زمانے Ú©Û’ قصے اور Ú©Û�انیاں Û�وں (6:25, 23:83, 27:68, 46:17, 68:15, 83:13)Û” لیکن ان تمام Ù†Û’ ایک بھی Ù„Ù�ظ ایسا Ù†Û�یں Ú©Û�ا Ú©Û� جس سے دور دور تک بھی ÛŒÛ� پتÛ� چلتا Û�و Ú©Û� نبی صلی اللÛ� علیÛ� وسلم Ù†Û’ غیر ازدواجی جنسی تعلقات Ú©ÛŒ کسی بھی Ø´Ú©Ù„ Ú©Ùˆ جائز قرار دیا Û�ے۔

 

·        ما ملکت ایمان Ú©ÛŒ روایتی تشریح سے غلامی Ú©Û’ ادارے اور آئین کا ایک مطالبÛ� پیدا Û�وتا Û�ےجو Ú©Û� قرآنی اور تاریخی تناظر میں یکسر غلط Û�ے جیسا Ú©Û� اس Ú©ÛŒ ذکر اس مضمون Ú©Û’ مرکزی حصÛ� میں Û�و چکا Û�ے۔

قرآن بÛ�ت سارے معاملوں میں اسی طرح Ú©Û’ ‘حقوق اور ذمÛ� داریوں’ Ú©ÛŒ تصدیق مرد اور عورت دونوں Ú©Û’ لیے کرتا Û�ےاور ایک سماجی معیار Ú©Û’ طور پر یک زوجگی Ú©Û’ ساتھ دونوں پر مناسب اور متوازن ‘حقوق اور ذمÛ� داریوں’ Ú©Ùˆ ناÙ�ذ کرتا Û�ے۔ Ù„Û�ٰذا، اگر جنگ میں قید Ú©ÛŒ گئی عورتیں، غلاموں اور باندیوں Ú©Û’ ساتھ مردوں Ú©Ùˆ بے حد Ùˆ حساب جنسی تعلقات قائم کرنے Ú©ÛŒ آزادی دینے Ú©Û’ لیے آیات 23:5/6, 70:29/30Ú©ÛŒ تشریح یا ان کا ترجمÛ� ایسے انداز میں Ú©ÛŒ جائے جس پر جنسی جانبداری Ú©ÛŒ چھاپ Û�و تو ÛŒÛ� ایک Ù�اش غلطی Û�و گی۔ مزید ÛŒÛ� Ú©Û� جیسے جیسے نزول آیات کا سلسلÛ� بڑھتا گیا قرآن Ù†Û’ اس Ú©ÛŒ وضاحت خود Û�ی کر دی۔ Ù„Û�ٰذا، محمد اسد Ù†Û’ الراضی اور الطبری کا حوالÛ� پیش کرتے Û�وئے ÛŒÛ� Ú©Û�ا Û�ے Ú©Û� ایک شرعی بیوی Ú©Û’ علاوÛ� کسی اور عورت Ú©Û’ ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے Ú©Ùˆ قرآن Ù†Û’ ممنوع قرار دیا Û�ے Û” [4]

Ù„Û�ذا، غلامی یا جنسی غلامی کا کوئی بھی تصور قرآنی پیغامات Ú©Û’ خلاÙ� Û�ے۔

نوٹس:

1.      رÙ�یق زکریا، محمد اور قرآن، لندن 1992ØŒ صÙ�حÛ� 408Û”

2.      شبلی نعمانی، الÙ�اروق، دÛ�لی 1898ØŒ طباعت دوم 1991 کراچی، صÙ�حÛ� 258Û”

3.       The Qur’an Prescribes Monogamy Is The Social Norm For Humanity

4.       http://www.newageislam.com/islamic-sharia-laws/the-qur’an-prescribes-monogamy,-the-social-norm-for-humanity/d/6172

5.      محمد اسد، Message of the Qur’an, Gibraltar, 1980ØŒ باب 4ØŒ نوٹ 26Û”

(انگریزی سے ترجمÛ� : مصباح الÛ�دیٰ، نیو ایج اسلام)

محمد یونس Ù†Û’ آئی آئی Ù¹ÛŒ سے کیمیکل انجینئرنگ Ú©ÛŒ تعلیم حاصل Ú©ÛŒ Û�ے اور کارپوریٹ اکزیکیوٹیو Ú©Û’ عÛ�دے سے سبکدوش Û�و Ú†Ú©Û’ Û�یں اور90Ú©ÛŒ دÛ�ائی سے قرآن Ú©Û’ عمیق مطالعÛ� اور اس Ú©Û’ حقیقی پیغام Ú©Ùˆ سمجھنے Ú©ÛŒ کوشش کر رÛ�ے Û�یں۔ ان Ú©ÛŒ کتاب اسلام کا اصل پیغام Ú©Ùˆ 2002میں الاظÛ�ر الشریÙ�،قاÛ�رÛ� Ú©ÛŒ منظوری حاصل Û�و گئی تھی اور اور اس کتاب Ú©Ùˆ یو سی ایل اے Ú©Û’ ڈاکٹر خالد ابو الÙ�ضل Ú©ÛŒ حمایت اور توثیق بھی حاصل Û�ے اور محمد یونس Ú©ÛŒ کتاب اسلام کا اصل پیغام Ú©Ùˆ آمنÛ� پبلیکیشن،میری لینڈ ،امریکÛ� Ù†Û’ØŒ2009میں شائع کیا Û�ے۔

URL for English article:

https://www.newageislam.com/islam-human-rights/abolition-slavery-including-sex-slavery/d/35148

URL for this article:

 https://newageislam.com/urdu-section/abolition-slavery,-including-sex-slavery/d/35667

 

Loading..

Loading..