certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (28 Dec 2013 NewAgeIslam.Com)



90 percent of Muslims Do not Support the Policies of the Saudi Government 90 فیصد مسلمان آلِ سعود کی حکومت کی پالسیوں کی تائید نہیں کرتے اس لئے جمعیتہ علماء ہند اور جمعیتہ اہل حدیث کا دعویٰ بغیر دلیل کا ہے

 

خادمِ حر مینِ شریفین کی نقاب کشائی

اخبار مشرق کا نظریہ

26دسمبر، 2013

صدر جمیعتہ علماء ہند سید ارشد مدنی و استاذ حدیث دارالعلو م دیو بند کی طرف سے زیادہ تر اُردو اخباروں میں ایک اشتہار شائع کیا گیا ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اشتہار میں لکھی ہوئی باتوں کی تائید دارالعلوم دیوبند اور اُس سے وا بستہ بے شمار ادارے بھی کرتے ہیں۔ اس اشتہار میں خادمِ حرمین شریفین ملک عبد اللہ کی ذات اور پالسیوں پر بعض لوگوں کے ذریعہ اُٹھائے گئے سوالات کے جوابات دینے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ حالانکہ سعودی عرب کی دولت کے ذریعہ پھیلائی جا رہی وہابی نجدی، سلفی، اہل حدیث، دیوبندی فکر سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد پوری دنیا میں مشکل سے ۱۰ فیصد ہے اورباقی سُنّی اور شیعہ مسلمانوں کی تعداد ۹۰ فیصد ہے جو سعودی عرب کے ذریعہ پھیلائی جا رہی وہابی نجدی، سلفی، اہل حدیث اور دیوبندی فکر کے مخالف ہیں اور یہ بات روز روشن کی طرح سب پر عیاں ہے اور اسی وجہ سے اس وضاہتی بیان میں کسی بھی سنّی یا شیعہ ادارے کا کوئی نام موجود نہیں ہے ۔ جس کی وجہ سے اپنے آپ اس بات کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ تقریباََ ۹۰ فیصد لوگ آلِ سعود کی حکومت کی پالسیوں کی تائید نہیں کرتے اس لئے اشتہار دینے والے اداروں کا دعویٰ بغیر دلیل کا ہے۔ اس وضاحتی اشتہار میں تین نکات پر بہت زور دیا گیا ہے ۔

 

حر مین شریفین کی خدمت ، حجاّج کرام کی سہولت، اور حرمین شریفین میں امن بحال رکھنااور ان تین باتوں کو ہی آڑ بنا کر ملک عبد اللہ کی قصیدہ خوانی کی گئی ہے اور سنّی اور شیعہ دونوں فرقوں کو خفیہ طور سے ہدف تنقید بنا یا جا رہا ہے اور اُنھیں یہ دھمکی بھی دی گئی ہے کہ وہ سعودی عرب کی حکومت کے خلاف کسی طرح کی آواز بلند نہ کریں بلکہ خاموش رہ کر اُن کی غلط پالسیوں کی تائید کریں ،ورنہ اُن کے اس اقدام کو مقاماتِ مقدسہ کی عظمت پر داغ لگانے سے تشبیہ دے دیا جائے گا۔میں ان اشتہار دینے والوں کویہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ بنی امیّہ یا بنی عبّاس کا دور نہیں ہے اور نہ ہی ہندوستان میں القائدہ اور طالبان کی حکومت ہے کہ جہا ں پر حق کہنے والوں کو طرح طرح کی سزاوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، یہ ہندوستان ہے اور یہاں ہر کسی کو اپنی اپنی رائے رکھنے کا قانونی حق ہے۔

یوں تو آلِ سعود نے سر زمین حجاز پر قبضہ کر کے کیا کیا ظلم و ستم کیے ہیں اسے دیو بند سے ہی فارغ ہونے والے فرزند علی خاں فاضل دیو بند ی نے اپنی کتاب’’ آلِ سعود کے سیاہ کارنامے‘‘ او ارشد القادری نے’’ تاریخِ نجد و حجاز‘‘ مولانا قطب میاں فرنگی محلی نے’’ آشوبِ نجد‘‘ میں کھُل کر بیان کیا ہے جسے پڑھنے کے بعد آلِ سعود کا اصلی چہرہ پوری دنیا کے سامنے آ چکا ہے اور انٹرنٹ کے اس دور میں تو اب کوئی بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ خادمِ حر مین شریفین کس طرح سے اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف یہود و نصاریٰ کے تلوے چاٹ رہے ہیں اوراُنھیں اپنا سر پرست بنائے ہوئے ہیں اور انھوں نے مقدّس سر زمین پر امریکی اور اسرائیلی فوجوں کے اڈّے قائم کر رکھے ہیں جو ہر وقت اسرائیل کی پوری پوری مدد کرنے کو تیار ہیں۔

آلِ سعود کی حکومت کس طرح سے مسلم ممالک ایران اور سیریا کو ختم کرنے کے لیے امریکا ، برٹین اور اسرائیل کے ساتھ کھڑی ہے اس بات کو ہر ایک باہوش مسلمان اچھی طرح سے جانتا ہے۔ سیریا میں جتنے بھی دہشت گرد مقاماتِ مقدّسہ کو تباہ اور تاراج کر رہے ہیں اُن سب کی ہر طرح سے مدد سعودی عرب ہی کر رہا ہے۔ مسلمانوں کے بدترین دشمن اسرائیل کو ایران پر حملہ کرنے کے لیے اپنی ہوائی پٹّی دینے کے لیے بھی آلِ سعود کی حکومت پوری طرح آمادہ ہے اور اسی وجہ سے وہ پورے خطّہ کے لیے اسرائیل کو خطرہ نہیں مانتی ہے بلکہ وہ ایران کو خطرہ مانتی ہے۔ آلِ سعود کی حکومت یہ بھی چاہتی ہے کہ کسی طرح سے امریکا ، اسرائیل اور برٹین وغیرہ مل جل کر ایران اور سیریا کو جلد سے جلد ختم کر دیں۔

 

مغربی ممالک میں سعودی حکمران کس طرح سے عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیںیہ تمام باتیں انٹر نٹ پر موجود ہیں۔ یہاں تک کہ خود ملک عبد اللہ بھی جارج بُش کے ساتھ کھُل کر شراب پی رہے ہیں۔ جس کا ویڈیو بھی انٹر نٹ پر موجود ہے۔ القائدہ طالبان ، النصریٰ ، الشباب اور نہ جانے کتنی دہشت گرد تنظیموں کی کُھلے عام آلِ سعود کی حکومت لگاتار مدد کر رہی ہے ۔ آج پوری دنیا میں جو بے گناہ انسانوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے اُس کے پیچھے بھی کوئی اور نہیں بلکہ خادم حر مین شریفین کی حکومت ہی کار فرماں ہے۔جس کے مکروہ چہروں کو حجاج کرام کی خدمت ، حرمین شریفین کے انتطامات اور حج کے ایّام میں امن و امان قائم رکھنے کی آڑ میں چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں سے یہ اُمید کی جا رہی ہے کہ وہ خادمِ حر مین شریفین کے خلاف آواز نہ اُٹھائیں بلکہ وہ آلِ سعود حکومت کی قصیدہ خوانی کریں۔ ایسے لوگوں کو چاہئے کہ وہ برائے کرم ان سوالات کے جوابات اُمّت مسلماں کو ضرور دیں :۔

۱۔            کیا سُنّی اور شیعہ حجّاج کرام کو حر مین شریفین میں نجدی فکر سے تعلق رکھنے والے سلام اور  زیارت پڑھنے سے نہیں روکتے ہیں اور اُنھیں طرح طرح کی عزیتیں نہیں دیتے ہیں؟

۲۔           کیا اجداد رسول ؐ آل رسولؐ اور اصحاب رسولؐ کے مزارات کو نجدی حکومت نے نقصان نہیں پہونچایا اور رسولؐ اللہ کی ایک ایک نشانیوں کو مٹانے والے آلِ سعود کی حکومت کے علاوہ کوئی اور ہیں؟

۳۔           کیا آلِ سعود کے ذریعہ پھیلائی جا رہی وہابی فکر کا نتیجہ ہی القائدہ طالبان ، النصریٰ ، الشباب جیسی نہ جانے کتنی دہشت گرد تنظیمیں نہیں ہیں جو انسانی خون سے ہولی کھیل رہی ہیں اور کیا عالمی رابطہ اسلامی کمیٹی میں وہابی اور نجدی فکر کی تائید کرنے والوں کے علاوہ کسی اور کو ممبر بنایا جاتا ہے؟

۴۔           کیاسر زمینِ حجاز کا نام بدل کر سعودی عرب نہیں رکھا گیا ہے ؟ کیا رسولؐ آلِ رسول اور اصحابِ رسولؐ کی نشانیوں کو مٹا کر بڑے بڑے ہوٹل نہیں تیار کیے گئے؟ کیا آلِ سعود کی حکومت نے اپنی عیش و عشرت کے لیے حرم شریف سے ملاکرخانہ کعبہ سے اُنچا محل تیار نہیں کیا گیا ہے؟

۵۔           کیا خانہ کعبہ میں داخل ہونے والے سب سے بڑے دروازہ کا نام اپنے خاندان کے مورثِ اعلا عبد العزیز کے نام پر باب ملک بن عبد العزیز نہیں رکھا گیا ہے؟

۶۔           کیا آلِ سعود کی حکومت نے سُنّی اور شیعہ فرقہ کو بدعتی اور مشرک ثابت کرنے کے لیے حر مین شریفین کی سر زمین پر اپنے ایجنٹ نہیں پھیلا رکھے ہیں جہاں سے کُھلے عام وسیلہ شفاعت اور تعظیم کے قرآنی عقیدہ رکھنے والے مسلمانوں کو مشرک اور بدعتی ثابت کرنے کے لئے طرح طرح کے لٹریچر نہیں تقسیم کیئے جا رہے ہیں تاکہ شرک اور بدعت کی آڑ لے کر دنیا بھر میں مسلمانوں کو ایک دوسرے سے ٹکرا کر ختم کر دیا جائے؟

۷۔           کیا آج تک بیت المقدس کواسرائیل کے پنجوں سے آزاد کرانے کے لیے آلِ سعود کی حکومت نے کوئی عملی اقدام کیا ہے؟ کیا خطہ ء عرب کے جنوب مغرب اور شمعال میں امن و امان کی کے خراب ہونے کی پوری پوری ذمہ داری سعودی عرب کے کاندھوں پر نہیں ہے؟

۸۔           کیا یہ اسلام دشمنی نہیں ہے کہ جس اثاثہ ،تاریخ و آثار کو اسلاف و اصحاب رسول ﷺ نے تعظیم و تحریم کے ساتھ محفوظ رکھا ہو، ان شعائراللہکو تحقیر و توہین کے ساتھ مٹانے میں ان خداموں نے کوئی کسر باقی نہ رکھی ہے؟

۹۔           کیا یہی خدمت ہے کہ جن نشانیوں کی حفاظت رب چاہتا ہو ،اس پر عمل در آمد ہونا مذہب اسلام کا جزء ہو ، اسے توہین آمیز تضحیک کے ساتھ فخریہ تباہ و برباد کیا جائے؟

جب کہ یہ آئنہ کی طرح صاف ہے کہ کسی بھی قوم کی بقاء اور اسکی وفاداری تاریخ کی حفاظت میں ہے نہ کی مذہب اسلام سے محض نام بھر کی وابستگی سے ہے جو بسا اوقات اسی مذہب کی بدنامی کا ضامن بن جاتا ہے۔آج انکی خدمت تباہی کا نمونہ دیکھا جا سکتا ہے۔

(نوٹ):۔ اُوپر لکھے ہوئے سوالات کے جوابات جاننے کے لیے کوئی بھی شخص اگر تھوڑا سا وقت انٹر نٹ پر دے دے تو اُس کے سامنے آلِ سعود کا اصلی چہرہ سامنے آ جائے گا۔

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/akhbar-e-mashriq/90--percent-of-muslims-do-not-support-the-policies-of-the-saudi-government-90-فیصد-مسلمان-آلِ-سعود-کی-حکومت-کی-پالسیوں-کی-تائید-نہیں-کرتے-اس-لئے-جمعیتہ-علماء-ہند-اور-جمعیتہ-اہل-حدیث-کا-دعویٰ-بغیر-دلیل-کا-ہے/d/35035

 

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content