New Age Islam
Tue Jun 09 2026, 09:26 AM

Urdu Section ( 1 May 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Are the Anti-Muslim Riots In Myanmar and Sri Lanka A Reaction to Demolition of Bamiyan Buddhas کیا میانمار اور سری لنکا میں مسلم مخالف فسادات، بامیان بدھہ کے انہدام کا ردعمل ہیں؟

 

سید شبیر احمد، نیو ایج اسلام

4 اپریل 2013

گزشتہ سال مسلم مخالف فسادات نے، میانمار کے مسلمانوں کی املاک اور ان کی زندگی کو نا قابل بیان نقصان پہنچایا تھا ۔ بچوں سمیت مسلمانوں کے قتل کی رونگٹے کھڑی کر دینے والی  کہانیوں نے دنیا کو صدمے سے دو چار کر دیا تھا۔ میانمار میں، ایک مدرسے کے طالب علموں سمیت سینکڑوں مسلمانوں کے قتل کے ساتھ پھر سے فسادات برپا  ہو رہے ہیں ۔

سری لنکامیں بھی مسلمانوں کو  فرقہ وارانہ نفرت کا سامنا تھا، اس لئے کہ وہ سنہالی اکثریتی ملک میں بودھ  انتہا پسندوں کے  نشانے پر  تھے۔

مسلم مخالف جذبات برما میں نئے ​​نہیں ہیں ۔مسلمان کئی  دہائیوں سے بدھ مت کے پیروکار وں  کے تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں، لیکن سختی  اور شدت کے لحاظ سے گزشتہ سال کے فسادات سب سے زیادہ شدید تھے ۔

سری لنکامیں بھی مسلمان دہائیوں سے، زندگی کے ہر شعبے میں، حکومت اور عام لوگوں کے فرقہ وارانہ تعصب کا سامنا کر رہے ہیں، تاہم حالیہ فسادات، میانمار اور سری لنکامیں مسلم مخالف فسادات کے درمیان کچھ ربط و ضبط کا پتہ دیتے ہیں، اس لئے کہ دونوں ممالک کی اکثریت  بدھ مت کی پیروکار ہے۔

مسلمانوں پر وحشی اور سفاکانہ حملوں کی مذمت کی جانی چاہئے، اس لئے کہ یہ انسانی اقدار اور تمام مذاہب کی تعلیمات کے خلاف ہے، خاص کر یہ بدھ مت کی تعلیمات کے خلاف ہے،  جو کہ کسی بھی قسم کے تشدد کا مخالف ہے ۔

گزشتہ سال، جب دلائی لامہ نے کہا کہ میانمار میں مسلم مخالف فسادات بامیان بدھ کے انہدام  کا ردعمل میں ہیں تو مسلمانوں نے ان کے بیان کو بدھ فسادات کے دفاع کے لئے ان کے عذر کے طور پر لیا ۔ لیکن جب  ہم  بابری مسجد کی شہادت کے بعد کے اثرات پر غور کرتے ہیں تو ہم یہ محسوس  کر سکتے ہیں کہ وہ غلط نہیں تھے ۔ مسلمان بابری مسجد کے انہدام کے درد اور صدمے کو اس کے انہدام کے 20 سال کے بعد بھی نہیں بھول پائے، یا گجرات فسادات کو ، اس کے دس سال کے بعد بھی۔ ہم کس طرح بدھ مت کے پیروکاروں سے، ان کے مذہبی پیشوا کی مورتی کے انہدام کے  درد کو بھولنے کی توقع کر سکتے ہیں،  جو ان کے لئے نبی کی طرح تھا  ؟

بامیان بدھ، وسطی افغانستان میں بامیان وادی میں گوتم بدھ کے دو عظیم  مجسمے ، بدھ مت کے پیروکاروں کے لئے انتہائی قابل  احترام مقامات میں سے ایک تھے۔ اسلام سے پہلے، بامیان سینکڑوں خانقاہوں اور مجسمے کے ارد گرد رہنے والے راہبوں کے لئے بدھ مت کا مرکز تھا۔ افغانستان، اسلام کی آمد سے پہلے، بدھ مت مذہب اور فلسفے کا مرکز تھا۔ مسلمانوں کی افغانستان آمد کے بعد بھی، مجسمے کسی بھی طرح حملہ آوروں اور مسلم حکمرانوں سے محفوظ رہے ۔ اورنگ زیب کو ان  بادشاہوں میں سے ایک کہا جاتا ہے، جنہوں نے انہیں تباہ کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا ۔ 13ویں صدی میں، چنگیز خان نے بامیان پر حملہ کیا، لیکن اس نے انہیں چھوڑ دیا۔ 18ویں صدی میں فارس کے بادشاہ نادر افشر نے بھی انہیں تباہ کرنے کی کوشش کی۔

تاہم، 2001 میں، طالبان نے آخر کار ان دو مجسموں کو، ہندوستان، مسلم ممالک، پاکستان، سوئٹزرلینڈ، جاپان کی تمام درخواستوں کو مستردکرتے ہوئے  تباہ کر دیا۔ بدھا کے مجسموں کی تباہی بدھ مت کے پیروکاروں کے لئے ایک بہت بڑا مذہبی دھچکا تھا۔ یہ وہی تھا ، جو ہندتوا فورسز کے ذریعہ  ہندوستان  میں بابری مسجد کی شہادت پر مسلمانوں کےساتھ ہوا تھا۔ بدھا کے مجسمے بدھ مت کی علامت تھے۔ اس نے  بدھ مت کے پیروکاروں کے جذبات کو ٹھیس پہنچایا، اور راتوں رات مسلمانوں کے بارے میں ان  کے خیال کو تبدیل کر دیا۔

گزشتہ سال، جب دلائی لامہ نے کہا کہ میانمار میں مسلم مخالف فسادات بامیان بدھ کی تباہی کے ردعمل میں ہیں تو مسلمانوں نے ان کے بیان کو بدھ فسادات کے دفاع کے لئے، ان کے عذر کے طور پر لیا ۔ لیکن جب  ہم  بابری مسجد کی شہادت کے بعد کے اثرات پر غور کرتے ہیں تو ہم یہ محسوس  کر سکتے ہیں کہ وہ غلط نہیں تھے ۔ مسلمان بابری مسجد کے انہدام کے درد اور صدمے کو اس کے انہدام کے 20 سال کے بعد بھی نہیں بھول پائے، یا گجرات فسادات کو ، اس کے دس سال کے بعد بھی۔ ہم کس طرح بدھ مت کے پیروکاروں سے، ان کے اس دیوتا کی مورتی کے انہدام کے  درد کو بھولنے کی توقع کر سکتے ہیں،  جو ان کے لئے نبی کی طرح تھا  ؟

سری لنکااور میانمار میں مسلمانوں کے تئیں نفرت کی بڑھتی ہوئی شدت کو ، بجا طور پر بدھ کے مجسمے کے انہدام سے منسوب کیا جا سکتا ہے، اس لئے کہ مسلمانوں کے تئیں ان کی بڑھتی ہوئی نفرت کی کوئی دوسری وجہ ظاہر نہیں ہوتی ۔

لہذا، مسلمانوں کے لئے، اس حقیقت کا تجزیہ کرنے کا وقت آ چکا  ہے، جو  آہستہ آہستہ دنیا بھر میں انہیں ایک ناپسندیدہ کمیونٹی، اور ایک ایسی کمیونٹی میں ،تبدیل کر رہی ہے، جو رواداری اور انسانی اقدار سے تہی دست ہے ۔ پاکستان سے مصر تک، مسلمانوں نے  اسلامی حکومت قائم کرنے اور شریعت کے نفاذ کے نام پر، اقلیتوں کی زندگی کو جہنم بنا دیا ہے ۔

میانمار میں مسلمان مردوں اور عورتوں، اور وہاں ایک مدرسے میں مسلمان بچوں کے قتل کی وسیع پیمانے پر مذمت کی جا رہی ہے۔ اس میں، کوئی شک نہیں کہ، یہ ایک قابل مذمت عمل ہے، اس لئے کہ کوئی بھی  مذہب، کسی جرم کے بغیر، بے گناہ لوگوں کے قتل کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ،  کیا  مسلمانوں کو، میانمار اور سری لنکاکے بدھ مت کے پیروکاروں سے، اپنے ملک میں مسلمانوں کو ایذا رسانی روکنے کے مطالبہ کا کوئی اخلاقی حق ہے؟ جواب نفی میں ہے۔

پاکستان ایک ایسا ملک رہا ہے، جہاںمسلمانوں کی  اکثریت، غیر مسلموں، مثلاً احمدیہ، عیسائی، ہندو، اور بدھ کمیونٹی کے ممبران  کو ہلاک کر  رہی ہے ، اور انہیں اپنے ظلم  کا نشانہ بنا رہی ہے، انہوں نے  ان شیعوں اور احمدیوں کو کافر قرار دیا ہے۔ وہ کافر ہوں تب بھی، اگر وہ، عامل قانون کی زندگی گزارتے  ہیں، تو اسلام ان کے قتل کو پسند نہیں کرتا ۔ لیکن وہ باقاعدگی سے انہیں مار رہے ہیں ۔

مصر میں انقلاب کے بعد، جب سے وہاں اسلامی حکومت قائم کی گئی ہے، عیسائی مسلم انتہا پسند طبقوں کا  ہدف بنے ہوئے ہیں ۔ ان کے گرجا گھروں کو تباہ کر دیا گیا ہے، اور نوجوان لڑکیوں کو باقاعدگی سے اغوا، اور انہیں زبردستی اسلام قبول کروایا جا رہا ہے۔ گزشتہ ماہ مسلمانوں نے پاکستان میں ایک عیسائی علاقے کو  جلا دیا، اور عیسائی شہریوں کو محفوظ مقامات پر بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ لیکن حکومت اور غالب مسلم اکثریت نے  غیر مسلموں کی حالت زار پر، بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاموشی کو برقرار رکھا ۔

بنگلہ دیش میں، ہندو اور دیگر اقلیتوں پر باقاعدہ طور پر  اسلام پسندوں کے ذریعہ  ظلم کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں، جنگی مجرموں کے خلاف شاہ باغ  احتجاج میں شامل ہونے پر ، اسلام پسندوں کے ذریعہ  غیر مسلموں کے گھروں پر حملہ کیا گیا ۔ بنگلہ دیش میں جن  پر حملہ کیا گیا،  ان  میں ضرور کچھ بدھ مت کے بھی پیروکار ہوں گے۔

اگر مسلم ممالک میں، مسلمان غیر مسلموں کو مارتے ہیں ، اور وسیع تر مسلم کمیونٹی اس کے خلاف آواز بلند نہیں کرتی ہے، اور حکومتیں قتال پر خاموش تماشائی بنیں رہیں، تو مسلمانوں کو، مسلمانوں کے قتل کی مذمت کا اخلاقی حق نہیں ہے، اور وہ غیر مسلم ممالک میں، اپنے بھائیوں کے لئے منصفانہ برتاؤ کی توقع نہیں رکھ سکتے۔ جو  لوگ میانمار میں مدرسہ کے طالب علموں کے قتل عام کی مذمت کر رہے ہیں، انہیں یہ بھی یاد کرنا چاہئے کہ پاکستان اور مصر میں مسلمان باقاعدہ طور پر مساجد، مزارات اور اسکولوں میں مارے جاتے ہیں ۔ بدھ مت کے پیروکاروں کے ذریعہ ، میانمار میں مدرسہ کے طالب علموں کے قتل کو روکے جانے  کا مطالبہ کرنے کے لئے، انہوں نے کیا ترجیح مقرر کی ہیں؟

حال ہی میں، ایک ایم پی اور صحافی، مولانا اسرار الحق قاسمی نے، ایک مضمون میں لکھا،  کہ مصر کی ایک مسجد میں وہ بم دھماکہ، جس میں  اسد نواز عالم البوتی  ہلاک کر دئے گئے، ہو سکتا ہے کہ، وہاں  شیعہ اور سنیوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کے لئے، غیر ملکیوں کی ایک سازش ہو ۔ تو ان کے پاس، پاکستان کے  مزاروں، بازاروں اور مساجد میں،  تقریبا ہر روز ہونے والے ان حملوں کے لئے کیا دلیل ہے،جس میں درجنوں مسلمان مارے جاتے ہیں ؟

جب تک مسلمان، مسلم اکثریت والے ممالک میں غیر مسلموں کے قتل کے خلاف اٹھ کھڑے نہیں ہوں گے، اور انتہا پسند طاقتوں کو غیر مسلموں کے قتل عام سے  نہیں روکیں گے ، اس وقت تک ان کے خلاف، اس طرح کے واقعات کو روکا نہیں جا سکتا، اور بدتر صورت حال یہ ہو گی ، کہ ان ممالک میں بے گناہ مسلمانوں کی موت پر نالاں اور رنجیدہ خاطر ہونے  کے علاوہ، ہمارے پاس ان کی مذمت کے لئےکوئی اخلاقی حق نہیں ہو گا ۔ کوئی یہ تصور کر سکتا ہےکہ مسلم اقلیتی ممالک میں، مسلمانوں کا انجام کیا ہوگا، اگر دیگر مذاہب کے پیروکار مسلمانوں کو ملحد، اور  واجب القتل قرار دیں ۔

 

URLhttps://newageislam.com/islam-terrorism-jihad/are-anti-muslim-riots-myanmar/d/10997

URL for this article

https://newageislam.com/urdu-section/are-anti-muslim-riots-myanmar/d/11366

 

Loading..

Loading..