New Age Islam
Tue Jun 09 2026, 09:26 AM

Urdu Section ( 2 Jun 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Dowry: A Social Evil Destroying Families and Dignity جہیز: خاندانی تباہی اور انسانی وقار کا دشمن

غلام غوث صدیقی ، نیو ایج اسلام

2 جون 2026

للِیتا پینیکر کے مضمون کے تناظر میں جہیز کی لعنت کا سماجی، معاشی، اخلاقی اور اسلامی تجزیہ : ایک ایسی فرسودہ رسم جو والدین کو قرض اور اضطراب کی دلدل میں دھکیلتی، بیٹیوں کے خواب کچلتی، خاندانوں کی خوشیاں اجاڑتی اور انسانیت کی اعلیٰ اقدار کو نگلتی جا رہی ہے

چند روز قبل میں نے للیتا پینیکر صاحبہ کا ہندوستان ٹائمز میں شائع ہونے والا مضمون India’s Fight Against Dowry Must Continue پڑھا۔ یہ مضمون محض ایک صحافتی تحریر نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے زخمی ضمیر پر ایک دستک ہے۔ بظاہر ہم اکیسویں صدی میں داخل ہو چکے ہیں، مصنوعی ذہانت، خلائی تحقیقات، ڈیجیٹل معیشت اور خواتین کی تعلیم و ترقی کے دعوے کر رہے ہیں، لیکن دوسری طرف ایک ایسی سماجی بیماری آج بھی زندہ ہے جو ہر سال ہزاروں گھروں کو اجاڑ دیتی ہے۔ یہ بیماری جہیز ہے، جو بسا اوقات ایک رسم کے روپ میں نظر آتی ہے لیکن حقیقت میں ظلم، استحصال، معاشی جبر اور اخلاقی انحطاط کا دوسرا نام ہے۔

للِیتا پینیکر نے اپنے مضمون میں چند ایسے المناک واقعات کا ذکر کیا ہے جن میں بعض نوجوان غیر مسلم خواتین مشکوک حالات میں اپنی جانوں سے محروم ہو گئیں، اور ان سانحات کے پس منظر میں جہیز کے مطالبات، سسرالی دباؤ، مالی لالچ اور سماجی بے حسی کے عناصر نمایاں طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ یہ واقعات محض اخباری خبروں یا چند وقتی سرخیوں کا موضوع نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر پر ثبت ایک ایسا سوال  ہے جس کا جواب پورے معاشرے کو دینا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس لعنت کی آگ صرف کسی ایک طبقے یا برادری تک محدود نہیں رہی بلکہ مسلم معاشرہ بھی اس بیماری سے محفوظ نہیں رہ سکا۔

صد افسوس! جس دین نے نکاح کو آسان بنایا، مہر کو عورت کا حق قرار دیا اور عورت کے احترام کی بنیاد ڈالی تھی ، اسی دین کے ماننے والوں میں بھی بعض لوگ جہیز کے نام پر بیٹیوں کے خاندانوں پر ظالمانہ بوجھ ڈالنے میں کوئی شرم و  عار محسوس نہیں کرتے۔

حقیقت یہ ہے کہ جب ایک ہی سال میں سینکڑوں خواتین جہیز سے متعلق جرائم، ہراسانی، تشدد، خودکشی یا مشتبہ اموات کا شکار ہوں تو مسئلہ چند بگڑے ہوئے افراد یا چند مجرمانہ ذہنیتوں تک محدود نہیں رہتا، بلکہ یہ پورے سماجی ڈھانچے، اجتماعی اخلاقیات اور خاندانی تربیت کے بحران کی علامت بن جاتا ہے۔ ایسے حالات میں سوال صرف یہ نہیں رہ جاتا کہ جرم کس نے کیا، بلکہ یہ بھی پوچھنا پڑتا ہے کہ وہ کون سی معاشرتی سوچ ہے جس نے جرم کرنے والوں کو حوصلہ دیا، ظلم سہنے والوں کو خاموش رکھا اور تماشائی بنے رہنے والوں کے ضمیر کو مطمئن کر دیا۔ جہیز دراصل چند گھروں کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک ایسی اجتماعی بیماری ہے جس نے محبت کو لین دین، نکاح کو تجارت اور بیٹی کو رحمت کے بجائے مالی بوجھ سمجھنے کی خطرناک ذہنیت کو فروغ دیا ہے۔ جب تک اس ذہنیت کا علاج نہیں کیا جاتا، محض قوانین اور وقتی جذباتی ردِعمل اس ناسور کو جڑ سے ختم نہیں کر سکتے۔

اصل سوال یہ ہے کہ سخت قوانین، تعلیمی ترقی، خواتین کی بیداری اور مسلسل مہمات کے باوجود جہیز کیوں ختم نہیں ہو رہا؟ اس کا جواب صرف قانونی کمزوری میں نہیں بلکہ اس نفسیاتی اور اخلاقی بحران میں پوشیدہ ہے جس نے ہماری اجتماعی سوچ کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ ہم نے نکاح جیسے مقدس رشتے کو بھی معاشی لین دین کے پیمانے پر ناپنا شروع کر دیا ہے۔ چنانچہ ایک نوجوان کی تعلیم، ملازمت، بیرونِ ملک رہائش یا سرکاری عہدہ اس کی انسانی قدر کا معیار نہیں رہتا بلکہ اس کی "بازاری قیمت" بن جاتا ہے۔ گویا شادی دو انسانوں کے درمیان عہدِ محبت نہیں بلکہ ایک خاموش نیلامی بن جاتی ہے۔

جہیز کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ عورت کی عزتِ نفس کو مجروح کرتا ہے۔ اس کے پس منظر میں یہ تصور چھپا ہوتا ہے کہ لڑکی اپنے وجود میں اتنی قیمتی نہیں کہ اسے بغیر مالی معاوضے کے قبول کیا جائے۔ گویا اس کے والدین کو اپنی بیٹی کے ساتھ کچھ دولت بھی دینی ہوگی تاکہ وہ سسرال میں جگہ پا سکے۔ یہ تصور نہ صرف عورت کی توہین ہے بلکہ مرد کی شخصیت اور خودداری کے خلاف بھی ایک سنگین سوال ہے۔ آخر ایک تعلیم یافتہ اور خود کفیل نوجوان کو اپنی ازدواجی زندگی کے آغاز کے لیے کسی غریب باپ کی عمر بھر کی جمع پونجی کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟

معاشیات کے ماہرین اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جہیز دراصل دولت کی غیر منصفانہ منتقلی Unjust Transfer of Wealth کی ایک شکل ہے۔ اس رسم کے نتیجے میں ہزاروں خاندان قرضوں میں ڈوب جاتے ہیں، اپنی زمینیں بیچ دیتے ہیں، زندگی بھر کی بچت ختم کر دیتے ہیں اور بعض اوقات صرف ایک شادی کی خاطر معاشی تباہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یوں جہیز نہ صرف ایک اخلاقی برائی بلکہ غربت اور معاشی عدم مساوات کو بڑھانے والا ایک سماجی عنصر بھی بن جاتا ہے۔

للِیتا پینیکر نے ایک نہایت اہم اور تلخ حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ بعض اوقات والدین بھی، اگرچہ غیر ارادی طور پر، اس ظلم کے تسلسل کا حصہ بن جاتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کی بیٹی سسرال میں ظلم، تحقیر، ذہنی اذیت اور مسلسل مطالبات کا شکار ہے، اس کی عزتِ نفس مجروح کی جا رہی ہے اور اس کی زندگی سکون کے بجائے خوف اور اضطراب میں گزر رہی ہے، لیکن معاشرتی دباؤ، بدنامی کے اندیشے اور نام نہاد خاندانی عزت کے تحفظ کے نام پر وہ اسے بار بار اسی ماحول میں واپس بھیج دیتے ہیں۔ ایسی خاموشی اور بے عملی بعض اوقات ظالموں کے لیے سب سے بڑی طاقت اور حوصلہ بن جاتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی مہذب اور باوقار معاشرے میں خاندان کی مصنوعی عزت سے زیادہ اہم ایک انسان کی جان، اس کا وقار اور اس کی ذہنی و جسمانی سلامتی ہوتی ہے۔ افسوس کہ "لوگ کیا کہیں گے؟"، "رشتہ ٹوٹ گیا تو خاندان کی ناک کٹ جائے گی"، "معاشرہ کیا سوچے گا؟" اور "عورت کو ہر حال میں برداشت کرنا چاہیے" جیسی سوچیں بعض اوقات والدین کو بھی ایسے فیصلوں پر آمادہ کر دیتی ہیں جو ان کی اپنی بیٹی کے حق میں نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔

بسا اوقات یہی خوف اور سماجی دباؤ والدین سے اپنی بیٹی کی خوشیوں، عزت اور تحفظ پر سمجھوتہ کروا دیتا ہے۔ یوں وہ انجانے میں اپنی بیٹی کے خوابوں اور آرزوؤں کا جنازہ خود نکال دیتے ہیں۔ نتیجتاً بہت سی بیٹیاں اپنی خواہشات، خوشیوں اور بعض اوقات اپنی پوری زندگی کو خاموشی سے قربان کرتی رہتی ہیں۔ وہ زندہ تو رہتی ہیں، مگر خوف، ذلت اور محرومی کے ایسے حصار میں کہ ان کی مسکراہٹیں، اعتماد اور زندگی کی رونق آہستہ آہستہ دم توڑ دیتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ والدین معاشرتی تبصروں سے زیادہ اپنی بیٹی کی جان، عزت اور خوشی کو اہمیت دیں، کیونکہ کسی بھی عزت کی بنیاد ظلم پر قائم نہیں ہو سکتی، اور کوئی بھی سماجی روایت ایک انسان کی زندگی سے زیادہ قیمتی نہیں ہو سکتی۔

اسلامی تعلیمات کے تناظر میں دیکھا جائے تو جہیز کی موجودہ شکل اسلام کے مزاج اور اس کے معاشرتی فلسفے سے صریح متصادم ہے۔ اسلام نے نکاح کو آسان بنانے اور معاشرے میں عفت و پاکیزگی کو فروغ دینے کے لیے ایسے تمام بوجھ ختم کیے جو شادی کو مشکل بناتے تھے۔ قرآن مجید نے واضح حکم دیا:"اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی کے ساتھ ادا کرو"۔

 غور کیجیے کہ اسلام نے عورت سے لینے کا نہیں بلکہ عورت کو دینے کا حکم دیا۔ دنیا کے بہت سے قدیم معاشروں میں عورت کو مالی بوجھ سمجھا جاتا تھا، لیکن اسلام نے اسے مالی حق کا مالک بنایا، وراثت میں حصہ دیا، مہر کا حق دیا اور شوہر کو اس کی کفالت کا ذمہ دار قرار دیا۔

بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں ایک عجیب تضاد پیدا ہو گیا ہے۔ مہر کو محض رسمی رقم بنا دیا گیا ہے جبکہ جہیز کو غیر رسمی فرض کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ شریعت نے جس چیز کو عورت کا حق قرار دیا تھا اسے نظر انداز کر دیا گیا، اور جس چیز کا کوئی شرعی وجود نہیں تھا اسے سماجی ضرورت بنا لیا گیا۔ یہ صرف ایک سماجی خرابی نہیں بلکہ اسلامی اصولِ عدل سے انحراف بھی ہے۔

جہیز کا مسئلہ صرف شادی تک محدود نہیں رہتا بلکہ عورت کے دیگر حقوق کو بھی متاثر کرتا ہے۔ مثال کے طور پر بہت سے خاندانوں میں بیٹیوں کو وراثت سے محروم کر دیا جاتا ہے اور اس ظلم کو یہ کہہ کر جائز قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ انہیں جہیز دے دیا گیا تھا۔ حالانکہ فقہی اور شرعی اعتبار سے جہیز وراثت کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ وراثت اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ حق ہے جبکہ جہیز ایک سماجی رسم ہے۔ افسوس کہ ہمارے معاشرے میں غیر شرعی رسم کو باقی رکھا گیا اور شرعی حق کو عملی طور پر  فراموش کر دیا گیا۔

نفسیاتی اعتبار سے دیکھا جائے تو جہیز دراصل لالچ کی اجتماعی شکل ہے۔ یہ وہ بیماری ہے جس میں انسان اپنی معاشرتی حیثیت کو اخلاقی کردار سے نہیں بلکہ دوسروں کے مال پر قبضہ کرنے کی صلاحیت سے ماپنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہیز کا تعلق صرف غربت یا امارت سے نہیں بلکہ ذہنیت سے ہے۔ تعلیم یافتہ اور خوشحال طبقوں میں بھی یہ رسم اسی شدت سے موجود ہے جس طرح کم تعلیم یافتہ طبقات میں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جہیز جہالت کا نہیں بلکہ اخلاقی انحطاط کا مسئلہ ہے۔

اس لعنت کے خاتمے کے لیے صرف قوانین کا وجود کافی نہیں ہوگا، کیونکہ قانون جرم کو سزا دے سکتا ہے لیکن دلوں سے لالچ، خود غرضی اور مادہ پرستی کو نہیں نکال سکتا۔ جہیز کے خلاف حقیقی کامیابی اس وقت حاصل ہوگی جب سماجی شعور بیدار ہوگا، دینی تعلیمات کو سنجیدگی سے اپنایا جائے گا، خاندانی تربیت کو مضبوط بنایا جائے گا اور پورا معاشرہ اجتماعی طور پر اس برائی کے خلاف کھڑا ہوگا۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی خودداری اور کردار کی عظمت کا ثبوت دیتے ہوئے جہیز لینے سے صاف انکار کریں، والدین کو چاہیے کہ وہ جہیز کے مطالبات کرنے والے خاندانوں کو عزت و شرافت کا معیار سمجھنے کے بجائے ایسے رشتوں کو مسترد کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔ علمائے کرام یقیناً اپنے خطابات، دروس اور وعظ و نصیحت میں جہیز کی قباحت کو بیان کرتے رہے ہیں، لیکن موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ اس موضوع کو مزید وسعت، تسلسل اور شدت کے ساتھ اجاگر کیا جائے، تاکہ عوام کے ذہنوں میں یہ حقیقت راسخ ہو جائے کہ جہیز صرف ایک سماجی برائی نہیں بلکہ ظلم، استحصال اور اخلاقی انحطاط کی علامت ہے۔ اسی طرح معاشرے کو بھی اپنے پیمانے بدلنے ہوں گے۔ جو شخص جہیز لے کر اپنی دولت میں اضافہ کرتا ہے، اسے کامیاب، بااثر یا قابلِ فخر نہیں بلکہ اخلاقی اعتبار سے ناکام اور انسانی اقدار سے محروم سمجھا جانا چاہیے۔ جس دن سماج کی نگاہ میں جہیز لینے والا عزت کے بجائے شرمندگی کا مستحق قرار پائے گا، اسی دن اس لعنت کے خاتمے کی حقیقی بنیاد رکھ دی جائے گی۔

حقیقت یہ ہے کہ جہیز صرف چند دلہنوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے اخلاقی مستقبل کا مسئلہ ہے۔ جس معاشرے میں بیٹی کو بوجھ اور شادی کو کاروبار سمجھا جانے لگے، وہاں محبت، رحمت اور خاندانی استحکام کمزور پڑ جاتے ہیں۔ للِیتا پینیکر بجا طور پر کہتی ہیں کہ جہیز کے خلاف جدوجہد جاری رہنی چاہیے، لیکن یہ جدوجہد صرف عدالتوں اور تھانوں میں نہیں جیتی جائے گی بلکہ گھروں، ذہنوں اور دلوں میں جیتی جائے گی۔

جس دن ہم یہ سمجھ لیں گے کہ بیٹی کوئی معاشی بوجھ نہیں بلکہ خاندان کی رحمت ہے، جس دن ہم مہر کو حق اور جہیز کو ظلم سمجھنے لگیں گے، اور جس دن ہم دولت کے بجائے کردار کو رشتوں کا معیار بنا لیں گے، اسی دن جہیز کی یہ تاریک روایت اپنے انجام کی طرف بڑھنا شروع ہو جائے گی۔

بیٹیاں سامان نہیں ہوتیں، امانت ہوتی ہیں اور امانتوں کی قیمت نہیں لگائی جاتی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جہیز کی لعنت نے ہمارے معاشرے کی سوچ کو اس قدر مسخ کر دیا ہے کہ اب اس برائی کا اثر صرف لینے والوں تک محدود نہیں رہا بلکہ بعض اوقات دینے والوں کے ذہن بھی اسی ذہنیت کے اسیر بن چکے ہیں۔

میں خود ایک ایسے واقعے کا گواہ ہوں جہاں ایک نوجوان کے والد نے ایک خاندان سے رشتے کی بات کرتے ہوئے نہایت سادگی سے کہا کہ انہیں صرف ایک نیک سیرت، بااخلاق اور صالح لڑکی کی تلاش ہے، جہیز یا کسی قسم کے مالی مطالبے سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ حیرت انگیز طور پر اس بات پر خوش ہونے، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور اسے ایک نیک اور باوقار سوچ سمجھنے کے بجائے لڑکی کے والدین کے ذہن میں فوراً یہ خیال آیا کہ شاید لڑکے میں کوئی عیب، نقص یا کمی ہوگی، ورنہ آج کے زمانے میں کون ایسا ہے جو جہیز کا مطالبہ نہ کرے۔

یہ واقعہ دراصل ایک فرد کی سوچ نہیں بلکہ ایک بیمار معاشرتی نفسیات کی عکاسی کرتا ہے۔ جب کوئی برائی طویل عرصے تک معاشرے میں رائج رہے تو وہ آہستہ آہستہ معمولNorm بن جاتی ہے، یہاں تک کہ نیکی غیر معمولی اور مشکوک دکھائی دینے لگتی ہے۔ آج ہماری حالت بھی کچھ ایسی ہی ہو چکی ہے۔ جہیز کی لعنت اس قدر عام ہو گئی ہے کہ اگر کوئی شخص اس سے انکار کرے تو بعض لوگ اسے شرافت، دیانت اور دینی مزاج پر محمول کرنے کے بجائے کسی پوشیدہ خامی کی علامت سمجھنے لگتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ بہت سے معاشروں میں نوجوان کی تعلیم، ملازمت، عہدہ، بیرونِ ملک رہائش یا معاشی حیثیت کے مطابق اس کی ایک غیر اعلانیہ "قیمت" مقرر کر دی جاتی ہے۔ گویا لڑکا ایک انسان نہیں بلکہ ایک قابلِ فروخت شے بن جاتا ہے جس کی بولی لگائی جاتی ہے۔ یہ سوچ نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ انسانی شرافت اور اخلاقی اقدار کے بھی منافی ہے۔ ایک مہذب معاشرے میں کسی نوجوان کی قدر و قیمت اس کے کردار، امانت داری، دیانت، علم، اخلاق اور انسانی خوبیوں سے متعین ہونی چاہیے، نہ کہ اس بنیاد پر کہ وہ اپنے نکاح کے بدلے کتنی رقم، گاڑی، زیورات یا سامان وصول کر سکتا ہے۔

افسوس کہ ہم اس مقام تک پہنچ چکے ہیں جہاں جہیز نہ لینے والا بعض اوقات مشکوک اور جہیز لینے والا "قابلِ قدر" سمجھا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ جس دن معاشرہ اس الٹی سوچ کو سیدھا کر لے گا اور کردار کو دولت پر، انسانیت کو لالچ پر اور شرافت کو رسم و رواج پر ترجیح دینا سیکھ لے گا، اسی دن جہیز کی اس لعنت کے خاتمے کی راہ ہموار ہونا شروع ہو جائے گی۔

یہ بات ہمیشہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جہیز کا مطالبہ محض ایک وقتی خواہش یا محدود مالی ضرورت کا نام نہیں، بلکہ یہ ایسی لالچ ہے جس کی کوئی انتہا نہیں ہوتی۔ جو ذہن ایک مرتبہ رشتوں کو محبت، اخلاص اور انسانی قدروں کے بجائے مالی مفادات کی نگاہ سے دیکھنے لگے، اس کی خواہشات عموماً جہیز مل جانے پر بھی ختم نہیں ہوتیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ شادی سے پہلے جو مطالبات کیے گئے تھے، شادی کے بعد ان کی جگہ نئے مطالبات لے لیتے ہیں۔ کبھی نقدی کی خواہش، کبھی گاڑی کی فرمائش، کبھی گھر کے سامان کا تقاضا اور کبھی کسی اور مالی منفعت کی طلب سامنے آ جاتی ہے۔

یوں جہیز کا معاملہ ایک مستقل دباؤ، ذہنی اذیت اور بلیک میلنگ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ دلہن، جو محبت، احترام اور سکون کی امید لے کر نئے گھر میں قدم رکھتی ہے، رفتہ رفتہ مطالبات، طعنوں، موازنوں اور تحقیر آمیز رویوں کا نشانہ بننے لگتی ہے۔ اس کے والدین کی مالی حیثیت کو بار بار موضوعِ گفتگو بنایا جاتا ہے اور اس کی عزتِ نفس کو مجروح کیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جس گھر کی بنیاد محبت، رحمت اور باہمی اعتماد پر قائم ہونی چاہیے تھی، وہاں بدگمانی، ناراضی، کشیدگی اور نفرت جنم لینے لگتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ لالچ کے ساتھ قائم ہونے والے رشتے محبت پیدا نہیں کرتے، بلکہ محبت کو کھا جاتے ہیں۔ جب انسان کی نگاہ شخصیت اور کردار کے بجائے مال و دولت پر مرکوز ہو جائے تو رشتوں کی روح مرنے لگتی ہے۔ پھر نکاح ایک مقدس بندھن کے بجائے مالی مفادات کا معاہدہ بن جاتا ہے اور آہستہ آہستہ وہ محبت، شفقت اور سکون بھی ختم ہو جاتا ہے جس کے لیے خاندان وجود میں آتے ہیں۔ اسی لیے جہیز صرف ایک سماجی برائی نہیں بلکہ خاندانی خوشیوں، ازدواجی استحکام اور انسانی رشتوں کی پاکیزگی کا خاموش قاتل بھی ہے۔

Referenced Article link: https://www.hindustantimes.com/opinion/indias-fight-against-dowry-must-continue-101780157842377.html

------

غلام غوث صدیقی ایک اسلامی اسکالر، مترجم اور نیو ایج اسلام کے انگریزی، عربی و اردو رائٹر و کالم نگار ہیں۔ ان کے سیکڑوں مضامین اور تراجم مختلف زبانوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ سماجی اصلاح، امن و رواداری، عدل و انصاف، انسانی حقوق اور اسلام سے متعلق اعتراضات و شبہات کا علمی و تحقیقی جواب دینا ان کی تحریروں کے نمایاں موضوعات ہیں۔

-----

URL:  https://newageislam.com/urdu-section/dowry-social-evil-destroying-families-dignity/d/140236

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..