New Age Islam
Tue Jun 09 2026, 05:57 AM

Urdu Section ( 12 Sept 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Gay Rights Vs Human Rights of the Gays ہم جنس پرستوں کے حقوق'بنام 'ہم جنس پرستوں کے انسانی حقوق' قرآن کے آفاقی پیغام میں ایک نئی بصیرت

محمد یونس، نیو ایج اسلام

11ستمبر، 2012

باشتراک اشفاق اللہ سید ، اسلام کا اصل پیغام، آمنہ پبلیکیشن، یو ایس اے  2009

انگریزی  سے ترجمہ،مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام

یہ مضمون رائے براؤن کے مضمون بعنوان : 'او آئی سی (OIC) کو ہم جنس پرستی کے فروغ اور ہم جنس پرستوں  کے انسانی حقوق کے لئے جدو جہد کے درمیان فرق کو سمجھنا چاہیئے' کے رد عمل  میں لکھا گیا ہے۔

 ایک اولین مقدمہ  ، جب تک اس کائنات کے مختلف سماج کے لوگ  نیک اعمال میں ایک دوسرے سےسبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں،قرآن کا پیغام مذہب  اور نظریات  میں رنگا رنگی  کو قبول کرتا ہے  یعنی اسکا معنیٰ یہ ہے کہ وہ ایسی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہوں  جن سے بالواسطہ  یا بلاواسطہ دوسروں کو جسمانی اذیت  پہنچتی ہوں۔ مذہب سے قطع نظر، یہ اصول و ضوابط تمام  انسانیت کے لئے خدا کی جانب سے متعین کردہ انصاف کے معیار کے متعلق  اہم قرآنی آیات  (2:62، 2:112، 4:124، 5:69، 64:9، 65:11) میں محیط ہیں ۔اور اسے ایک اہم اعلان (5:48)  میں  واضح طور پر  بیان کیا گیا ہے ،جو  قرآن کے قانون سازی کے حتمی مرحلے سے تعلق رکھتی ہے :

"بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جو یہودی ہوئے اور (جو) نصاریٰ اور صابی (تھے ان میں سے) جو (بھی) اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اس نے اچھے عمل کئے، تو ان کے لئے ان کے رب کے ہاں ان کا اجر ہے، ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے" (2:62) ۔

 ”ہاں، جس نے اپنا چہرہ اﷲ کے لئے جھکا دیا (یعنی خود کو اﷲ کے سپرد کر دیا) اور وہ صاحبِ اِحسان ہو گیا تو اس کے لئے اس کا اجر اس کے رب کے ہاں ہے اور ایسے لوگوں پر نہ کوئی خوف ہو گا اورنہ وہ رنجیدہ ہوں گے"(2:112) ۔

 ”اور جو کوئی نیک اعمال کرے گا (خواہ) مرد ہو یا عورت درآنحالیکہ وہ مومن ہے پس وہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اوران کی تِل برابر (بھی) حق تلفی نہیں کی جائے گے" (4:124) ۔

 بیشک (خود کو) مسلمان (کہنے والے) اور یہودی اور صابی (یعنی ستارہ پرست) اور نصرانی جو بھی (سچے دل سے تعلیماتِ محمدی کے مطابق) اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے" (5:69)

"بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور ستارہ پرست اور نصارٰی (عیسائی) اور آتش پرست اور جو مشرک ہوئے، یقیناً اﷲ قیامت کے دن ان (سب) کے درمیان فیصلہ فرما دے گا۔ بیشک اﷲ ہر چیز کا مشاہدہ فرما رہا ہے"(22:17)۔

 "جس دن وہ تمہیں جمع ہونے کے دن (میدانِ حشر میں) اکٹھا کرے گا یہ ہار اور نقصان ظاہر ہونے کا دن ہے۔ اور جو شخص اللہ پر ایمان لاتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو (اللہ) اس (کے نامۂ اعمال) سے اس کی خطائیں مٹا دے گا اور اسے جنتوں میں داخل فرما دے گا جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے، یہ بہت بڑی کامیابی ہے"(64:9) ۔

 "اور  رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو (بھی بھیجا ہے) جو تم پر اللہ کی واضح آیات پڑھ کر سناتے ہیں تاکہ اُن لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کرتے ہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے، اور جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے وہ اسے ان جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے نہریں رواں ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، بیشک اللہ نے اُس کے لئے نہایت عمدہ رزق (تیار کر) رکھا ہے"(65:11) ۔

"اور (اے نبئ مکرّم!) ہم نے آپ کی طرف (بھی) سچائی کے ساتھ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے پہلے کی کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے اور اس (کے اصل احکام و مضامین) پر نگہبان ہے، پس آپ ان کے درمیان ان (احکام) کے مطابق فیصلہ فرمائیں جو اﷲ نے نازل فرمائے ہیں اور آپ ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں، اس حق سے دور ہو کر جو آپ کے پاس آچکا ہے۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے الگ شریعت اور کشادہ راہِ عمل بنائی ہے، اور اگر اﷲ چاہتا تو تم سب کو (ایک شریعت پر متفق) ایک ہی امّت بنا دیتا لیکن وہ تمہیں ان (الگ الگ احکام) میں آزمانا چاہتا ہے جو اس نے تمہیں (تمہارے حسبِ حال) دیئے ہیں، سو تم نیکیوں میں جلدی کرو۔ اﷲ ہی کی طرف تم سب کو پلٹنا ہے، پھر وہ تمہیں ان (سب باتوں میں حق و باطل) سے آگاہ فرمادے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہتے تھے"(5:48)۔

تکرار کے ساتھ ان  واضح بیانات کا آنا ،اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ الہی منصوبہ بندی، جسمانی طور سے ان تمام سرگر میوں  (عمل)اورحرکات و سکنات،جن سےانسانیت کا بھلا ہوتا ہے ان کو پسند کرنا ، اور  وہ سر گرمیاں  جو انسانیت کے لئے اذ یت ناک ہیں انہیں ناپسند کرنا  ہے۔ اسی مطابقت سے  قرآن اپنے  پیغام کے مختلف حقائق  پر زور دینے کے ساتھ ہی،خصوصیت کے ساتھ معاشرتی  برائیاں (اعمال  بد اور برے کارنامے) مثلاً غلامی، (قانونی طور پر جنسی تعلقات )زنا، غریبوں کا مالی استحصال،  غبن، رشوت، سود خوری، شہریوں پر جنگ  میں قیدی بنائے جا نے  کا خطرہ، انفرادی  طور پر اور رشتہ ازدواج میں  خواتین پر ظلم و ستم  کرنا اور انہیں محکوم بنانا، انصاف کا مسخ شدہ تصور، غیر انسانی قبائلی طور طریقے، معاشرے  اوروسیع تر انسانیت سے بے توجہی،وغیرہ جو نزول وحی کے زمانے میں موجود تھیں۔ لیکن پھر بھی  تہذیب کے عروج و ارتقاءکے باوجود، فطرت انسانی اسی فرسودہ  حیوانی ہیئت  پر  ہی برقرار رہی، جیسا کہ دورحاضر  کی برائیوں اور  نا انصافیوں سے ظاہر ہے ۔ مثلاً مدمقابل تہذیبوں کے درمیان بڑھتی ہوئی نفرت، پیسے کے لئے بڑھتی ہوئی لالچ، خرچ  کرنےکے لئے طاقت اور اقتدار کی بڑھتی ہوئی  بھوک،دہشت گردی کی سر گرمیوں کا خوف ، فرقہ وارانہ اور  نسلی تشدد، نسل کشی، آمدنی اور اخراجات  کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج،  جنگ اور خونریزی کے سبب  زبردست نقصانات کودوسروں کی تکلیف سمجھ کر نظر انداز کرنا اور ان عام مثالوں کاحوالہ روزانہ کی خبر کے طور پر دینا۔  لہذا، مسلمانوں کے لئےقرآنی پیغامات کی جتنی اہمیت ہے، اتنی ہی اہمیت آج وسیع تر انسانیت کے لئے بھی ہے۔ اس کے ساتھ ہی  ہم نے  مضمون کے عنوان میں مذکورہ مسئلہ کی تحقیق کی۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ قرآن ،کھلے عام ہم جنس پرستی کے مظاہرے  کی  مذمت کرتا ہے۔ پیغمبر لوط علیہ السلام  (15:58-77, 26:160-175, 27:54-58, 29:28-35) کے امتیوں کا قرآن میں بیان ، جو اپنی بستیوں سمیت ہلاک ہوگئے۔   لیکن جس سوال کا جواب  دئے جانے کی آج ضرورت ہے وہ یہ کہ کیا  21ویں صدی میں دو بالغ غیر شادی شدہ افراد کے درمیان آپسی اتفاق سے ہم جنسی تعلقات 'برا یا شیطانی  کام' ہے ،یا ایک جرم ہےاور کیااس کے مجرمین  کو سزادینے کی ضرورت ہے یا  ان کے  ساتھ امتیاز ی اور تشدد  کا برتائو کئے جانے کی ضرورت ہے یا بغیر کسی مخالفت  کے  ان کو اپنی زندگی جینے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

اس موضوع پر معافی کی ایک شک کے ساتھ قرآن کا ایک بہت عام لیکن مبہم اور غیر واضح  بیان ہے:" اور تم میں سے جو بھی کوئی بدکاری کا ارتکاب کریں تو ان دونوں کو ایذا پہنچاؤ، پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور (اپنی) اصلاح کر لیں تو انہیں سزا دینے سے گریز کرو، بیشک اللہ بڑا توبہ قبول فرمانے والا مہربان ہے (16)۔ اللہ نے صرف انہی لوگوں کی توبہ قبول کرنے کا وعدہ فرمایا ہے جو نادانی کے باعث برائی کر بیٹھیں پھر جلد ہی توبہ کر لیں پس اللہ ایسے لوگوں پر اپنی رحمت کے ساتھ رجوع فرمائے گا، اور اللہ بڑے علم بڑی حکمت والا ہے "(4:17)۔

 قرآن نہ تو آیت میں مذکورلفظ 'ان' کی وضاحت کرتا ہے، اور نہ ہی کسی گواہ یا سزا کےروداد کی ہدایت  دیتا  ہے، اور اس میں نہ ہی اس کا بیان ہے کہ 'ان دونوں'  کے خلاف  ہم جنس پرستی کے الزام  کی شروعات کون کرے گا۔ ہم جنس پرستی کے کھلے عام مظاہرے  پر اسلامی قانون  نے مختلف شرائط کے ساتھ  قید سے لے کر  موت تک کی سزا تجویز کی  ہے ،اور فقہا نے اسے  بدکاری کا ہم سر بنا  کر پیش کیا ہے ،لیکن اس طرح کی مشابہت کی بنیادپر اسے بد کاری کہنا  قابل اعتراض ہے۔اس لئے کہ بدکاری میں دھوکہ دہی، جذباتی طور پر تکلیف  پہنچانا اور  اپنے  شریک حیات کے ساتھ کئے گئے معاہدوں  کی خلاف ورزی جیسے اعمال  شامل ہیں ، جبکہ  باہمی رضامندی  سے ہم جنسی تعلقات میں اس طرح کے کوئی  نقصان دہ نتائج برآمد  نہیں ہوتے ۔  اسلامی فقہا کی  رائے بائبل کے بیان  کے مطابق ہے،  "اگر کوئی شخص کسی  آدمی کے ساتھ ایسے  جنسی تعلقات رکھتا ہے جیسا کہ  ایک شخص ایک  عورت کے ساتھ رکھتا ہے توان دونوں کو  موت کی سزا دی جانی چاہئے" (20:13, Levictus

'ہم جنس پرستوں' کے حقوق کےحامیان یہ دلیل دیتے ہیں کہ ہم جنس پرستی  فطری طبعیت (پیدائشی بے ضابطگی) ہے اور اس وجہ سے  اسے  مجرمانہ عمل نہیں سمجھا  جانا چاہئے، بلکہ اسکے ساتھ  پوری طرح معمول کے مطابق رویہ اختیار  کیا جانا چاہئے۔

      حیاتیاتی حقیقت یہ ہے کہ  زندگی میں بہت جلد جنسی شعور بیدار  ہو تا  ہے۔ اگر ہم جنس پرستی کو مکمل طور پر قابل قبول رویہ مان لیا جائے  تو یہ دیگر   عادت کی طرح پرائمری اسکول میں پڑھنے والے  بچوں میں پھیل جائیگا ، پھر وہ  بے حیائی کے ساتھ  اس عادت  پر عمل کرتے ہوئے بالغ ہونگے ،جن کی  وجہ سے سنگین ثقافتی اور آبادیاتی مسائل پیدا ہونگے ، اور سماجی نظام تنزلی کا شکار ہو جائیگا ۔ تاہم، جہاں تک دو ہم جنس  غیر شادی شدہ بالغ افراد کے ذاتی حقوق کا تعلق ہے، توقرآن انکے اس طرح زندگی گذارنے پر  ان کیلئے  سزا کی کوئی واضح بنیاد فراہم نہیں کرتا ہے۔ قرآن سیدھا راستہ احتیار کرنے میں آزاد قوت ارادی کے تصور کو تسلیم کرتا ہے "اور ہم نے اسے (خیر و شر کے) دو نمایاں راستے (بھی) دکھا دیئے" (90:10)  یعنی کسی کام کو انجام دینے یا نہ دینے  کے  انتخاب کی آزادی یا اختیار کردہ  ایسا راستہ یا عمل جو انفرادی طور پر کسی کو جسمانی نقصان پہنچانے کا سبب نہ  بنتا ہو ۔

اس کا مطلب یہ ہو ا کہ  بالغ ہم جنس پرستوں کو اپنے مطابق زندگی گزارنے میں  اسلامی پیغام کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوگی ،اور اس کے  لئے ان کے ساتھ متشدد یا تعصبانہ برتاؤ کئے جانے کی کوئی  ضرورت نہیں ہے۔  ہم جنس پرستی سے نفرت کرنے والے ،ہم جنس پرستوں کے ساتھ دوستی نہ کریں یا ان کی پیروی نہ کریں ،لیکن انہیں اپنا دشمن نہ سمجھیں ، یا  ہم جنس پرست ہونے کی وجہ سے  ان کے ساتھ  امتیازی رویہ اختیار  نہ کریں، اوران کے اس کردار  کو منظور یا اس کی نقل کئے بغیران کے ذاتی انسانی حقوق کا احترام کریں ۔

-----------

محمد یونس نے آئی آئی ٹی سے کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے اور کارپوریٹ اکزی کیوٹیو کے عہدے سے سبکدوش ہو چکے ہیں اور90کی دہائی سے قرآن کے عمیق مطالعہ اور اس کے حقیقی پیغام کو سمجھنے  کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کی کتاب اسلام کا اصل پیغام کو 2002میں الاظہر الشریف،قاہرہ کی منظوری حاصل ہو گئی تھی اور یو سی ایل اے کے ڈاکٹر خالد ابو الفضل کی حمایت اور توثیق بھی حاصل ہے اور محمد یونس کی کتاب اسلام کا اصل پیغام آمنہ پبلیکیسن،میری لینڈ ،امریکہ نے،2009میں شائع کیا۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-sharia-laws/muhammad-yunus,-new-age-islam/‘gay-rights’-versus-the-‘human-rights-of-gays’-–-a-fresh-insight-into-the-broader-message-of-the-qur’an/d/8643

URL: https://newageislam.com/urdu-section/gay-rights-vs-human-rights/d/8647

Loading..

Loading..