New Age Islam
Wed Jul 08 2020, 06:50 AM

Urdu Section ( 12 May 2015, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Indian Muslim Clerics Reduce Muslim Women To The Level Of Whore ہندوستانی مسلم علماء نے مسلم خواتین کی حیثیت کو محض ایک فاحشہ کی سطح پر محدود کر دیا ہے

 

 

محمد یونس، نیو ایج اسلام

12 مئی 2015

(مشترکہ مصنف، اشفاق اللہ سید، [Essential Message of Islam]اسلام، آمنہ پبلکیشنز، امریکہ، 2009)

ہندوستانی مسلم علماء نے مسلم خواتین کی حیثیت کو محض ایک فاحشہ کی سطح پر محدود کر دیا ہے، جن کے ساتھ ان کے باپ، بھائی اور دوست اسلامی قانون کے دائرے میں رہ کر جنسی تعلق قائم کر سکتے ہیں۔

اس سے پہلے کہ کوئی بھی جاہل مسلمان میرے اس دعوی سے پریشان ہو کہ انڈین مسلم پرسنل لاء یا نام نہاد 'فقہ حنفی' انسانوں کا بنایا ہوا قانون ہے، اس کے لیے مشورہ ہے کہ پہلے وہ مندرجہ ذیل مضمون کو پڑھ لے:

مروجہ شرعی قوانین در حقیقت قرآنی قوانین نہیں بلکہ مسلم فقہاء کے مجموعی احکام کی ایک شکل ہےجس پر اسلام کا لیبل لگا دیا گیا ہے

http://newageislam۔com/urdu-section/muhammad-yunus,-new-age-islam/popular-sharia-law-of-islam-is-actually-the-cumulative-rulings-of-muslim--مروجہ-شرعی-قوانین-در-حقیقت-مسلم-فقہاء-کے-مجموعی-احکام-کی-ایک-شکل-ہےجس-پر-اسلام-کا-لیبل-لگا-دیا-گیا-ہے/d/97808

مذکورہ بالا مضمون میں اس بات کو واضح کرنے کے لیے زبر دست دلائل پیش کیے گئے ہیں کہ کلاسیکی اسلامی شرعی قانون مختلف فقہی مذاہب سے تعلق رکھنے والے مسلم فقہاء کا ایک ایسا قانونی نظام ہے جسے انہوں نے اپنی رائے، اسلام کے بارے میں اپنے علم و فہم، اپنی سمجھ بوجھ اور اس دور کے تاریخی حقائق کی بنیاد پر مرتب کیا تھا۔ انہوں نے قرآن میں مقرر کردہ حدود کی پاسداری تو کی لیکن وہ خلط مبحث کرنے اور کسی بھی واضح قرآنی حکم سے انحراف کرنے میں بالکل آزاد تھے، اور انہوں نے یہ بھی دعویٰ کر دیا کہ  "جو بھی قرآنی آیت ہمارے ائمہ اور اساتذہ کی رائے سے متصادم ہوگی اسے منسوخ مانا جائے گا یا ایسی صورت میں ترجیح کا اصول نافظ کیا جائے گا۔ لہٰذا بہتر یہ ہوگا کہ قرآنی آیات کی ترجمانی اس انداز میں کی جائے کہ ان کا تصادم ان کی رائے سے نہ ہو۔"[1]

خالد ابو الفضل کے مطابق، "شرعی قانون سے مراد مثبت اسلامی قانون یا احکام ہیں، مثبت قانونی احکام صدیوں سے چلے آ رہے مجموعی قانونی معمولات سے اخذ کیے گئے ہیں۔" تاہم، حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے کسی فقیہ کی کوئی بھی رائے خواہ وہ کتنی ہی اشتعال انگیز یا قرآنی پیغام سے متصادم ہی کیوں نہ ہو، وہ فقہ کی تعریف میں داخل ہو جاتی ہے اور اسلامی فقہی روایت کا ایک حصہ بن جاتی ہے۔لہٰذا، آج اگر کوئی شخص خود اپنی بہو کی آبرو ریزی کرتا ہے، مثلاً جون 2005 میں عمرانہ اور ستمبر 2014 میں پیش آنے والا مظفرنگر کی ایک متاثرہ کا معاملہ ، اور ماضی کے کسی بھی زمانے کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے کسی فقیہ نے اس جیسے کسی بھی معاملے میں شوہر کو طلاق دینے اور اس کی شادی اس والد کے ساتھ کروانے کا فتویٰ جاری کیا ہو  تو یہ نظیر اسلامی قانون کا ایک حصہ بن جاتی ہے اور عورت کو اس پر عمل کرنے کے لئے کہا جاتا ہے۔ اگر گفتگو کو مزید آگے بڑھائی جائے جس میں معاملہ یہ ہو کہ ایک شخص نے اپنی نوجوان سوتیلی ماں کے ساتھ بدکاری کر لی ہے تو کوئی فقیہ یہ حکم دے سکتا ہے کہ اس شخص کا والد اب اپنی نوجوان بیوی کے ساتھ جنسی تعلق قائم نہیں کر سکتا اور اب اس کے لیے ضروری ہے کہ  وہ اسے طلاق دے اور پھر اس کی شادی اپنے بیٹے کے ساتھ کروادے۔ وہ ہمیشہ کوئی ایسی کوئی مثال دریافت کر سکتے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیےایک نظیر کے طور پر اس حکم کو متعارف کروا سکتے ہیں، اور اس طرح یہ اسلام کی پیچیدہ فقہی روایت کا ایک حصہ بن جاتا ہے۔ یہ واقعی ایک کڑوی سچائی ہے اور ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمیں نیکی کرنے اور بدی سے پرہیز کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور راقم السطور ‘‘مقدس کتاب (قرآن) کی غلط ترجمانی کرنے والے اپنے ہی کچھ علماء اور فقہاء کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کے لیے پرعزم ہے، جو کہ قرآنی احکام کے نفاذ اور اجراء کے نام پر واضح طور پر قرآن مخالف اور خاص طور پر خواتین کے خلاف سنگین جرائم کا جواز پیش کرتے ہیں"[2]۔ لہذا، میں اسلام کے نام نہاد محافظوں کے چہروں سے تقویٰ کا نقاب چاک کرنے اور اس کے پیچھے ان کے برے مقاصد کو اجاگر کرنے کے لیے اس مضمون کو ضبط تحریر کر رہا ہوں۔

اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کس طرح قرآنی آیتوں میں محرمات کے ساتھ زنا کی مذمت  کی گئی ہے۔

قرآن کا اعلان ہے:

 اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ دادا نکاح کر چکے ہوں مگر جو (اس حکم سے پہلے) گزر چکا (وہ معاف ہے)، بیشک یہ بڑی بے حیائی اور غضب (کا باعث) ہے اور بہت بری روِش ہے، (4:22)۔ تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری (وہ) مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو اور تمہاری رضاعت میں شریک بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں (سب) حرام کر دی گئی ہیں، اور (اسی طرح) تمہاری گود میں پرورش پانے والی وہ لڑکیاں جو تمہاری ان عورتوں (کے بطن) سے ہیں جن سے تم صحبت کر چکے ہو (بھی حرام ہیں)، پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو تم پر (ان کی لڑکیوں سے نکاح کرنے میں) کوئی حرج نہیں، اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں (بھی تم پر حرام ہیں) جو تمہاری پشت سے ہیں، اور یہ (بھی حرام ہے) کہ تم دو بہنوں کو ایک ساتھ (نکاح میں) جمع کرو سوائے اس کے کہ جو دورِ جہالت میں گزر چکا۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے (4:23)۔

یقینی طور پر امام اعظم نے نہیں کہ جن کا نام، نام نہاد فقہ حنفی کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے، بلکہ ماضی کے کسی  فقیہ  نے امام اعظم کی وفات کے تقریباً تین سو سال کے بعد مندرجہ بالا آیت کی تشریح میں لفظ نکاح کے مادہ (نکح) کا ترجمہ جنسی تعلق کیا ہے، اس لیے کہ شادی عملی طور پر ایک اخلاقی نظام کے تحت جماع کو جائز بنا دیتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اس آیت کی تشریح اس طرح کی ہے، شاید اس کا مقصد کسی مالدار زانی کا مقدمہ جیتنا رہا ہو:-

اور ان عورتوں سے جماع نہ کرو جن سے تمہارے باپوں نے جماع کیا ہے مگر جو گزر چکا ہے، یہ بے حیائی کا کام اور بغض کا سبب ہے اور بڑی بری راه ہے (4:22)۔ حرام کی گئیں (جماع کے لیے ) تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری لڑکیاں اور تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خائیں اور بھائی کی لڑکیاں اور بہن کی لڑکیاں اور تمہاری وه مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو اور تمہاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری ساس اور تمہاری وه پرورش کرده لڑکیاں جو تمہاری گود میں ہیں، تمہاری ان عورتوں سے جن سے تم دخول کر چکے ہو، ہاں اگر تم نے ان سے جماع نہ کیا ہو تو تم پر کوئی گناه نہیں اور تمہارے صلبی سگے بیٹوں کی بیویاں اور تمہارا دو بہنوں کا جمع کرنا ہاں جو گزر چکا سو گزر چکا، یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے وا مہربان ہے (4:23)۔

لہٰذا، جب ایک انسان اپنی بہو کے ساتھ بد کاری کرتا ہے جو کہ ایک ایسا شاذ و نادر جرم ہے جو صرف مسلمانوں تک ہی محدود نہیں ہے، تو علماء اسلام محرمات کے ساتھ جماع کو اسلام میں جائز قرار دینے کے لیے نشان زد کیے ہوئے مذکورہ بالا افتتاحی اقتباس کی مسخ شدہ تشریح کا سہارا لیتے ہیں، جبکہ نشان زد کیے ہوئے دوسرے اقتباس میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ اس طرح کا رشتہ حرام ہے۔ اگر کوئی بیٹا اپنی نوجوان سوتیلی ماں کے ساتھ بد کاری کرتا ہے اور اسے حاملہ بنا دیتا ہے تو علماء اس بیٹے کو وہی خاص استحقاق عطا کرنے کے  لیے مذکورہ بالا مسخ شدہ تشریح کا استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ علماء اس کے والد کو یہ حکم دے سکتے ہیں کہ وہ اپنی نوجوان بیوی کو طلاق دے اور اس کا نکاح اپنے بد کار بیٹے سے کر دے۔

نام نہاد اسلامی شریعت یا انڈین مسلم پرسنل لاء میں بدکاری کے ذریعہ بیوی کے تبادلے کی  رعایت صرف اسی صورت میں نہیں دی گئی ہے۔ بلکہ ا س کی ایک اور نظیر حلالہ ہے جو کہ مردوں کو طلاق مغلظہ دینے کا اختیار عطا کرتا ہے۔ اور اس کے بعد وہ اپنی بیوی کو  ایک دن یا چند دنوں کے لیے اپنے دوست یا خود اس کے اپنے بھائی سے نکاح کرنے اور اس کے ساتھ جماع کرنے پر مجبور کرتا ہے، اور اس کے بعد پھر وہ اسے اس کی بیوی کو طلاق مغلظہ دینے کے لیے کہتا ہے اور پھر دوبارہ وہ اس سے شادی کر لیتا ہے،  اور یہ پورا عمل نام نہاد اسلامی شریعت کے دائرہ کار میں انجام پاتا ہے۔

اس کی  ایک اور مثال نکاح متعہ ہے جس کے تحت ایک عورت ایک ہفتے کے لئے اپنے بیٹے، اگلے ہفتے اپنے والد اور آئندہ ہفتے اپنے دادا سے شادی کرسکتی ہے۔

یہ تمام روایتیں نام نہاد اسلامی قانون کے دائرے میں رہ کر انجام پذیر ہوتی ہیں، جن میں سے ہر ایک واضح طور پر قرآنی پیغام کے خلاف ہے، جو کہ عملی طور پر مسلم خواتین کی حیثیت کو ایک فاحشہ کی سطح پر محدود کر دیتا ہے، جو اسلامی شریعت کے فریم ورک کے تحت آج ایک بیوی اور ایک بیٹی بن سکتی ہے، یا آج ایک ماں اور کل ایک بیوی بن سکتی ہے، علی ھٰذا القیاس۔ اور یہ محرمات کے ساتھ بدکاری کو ختم کرنے والی قرآنی آیات کی مجموعی طور پر خلاف ورزی (23-4:22) اور عالمی سطح پر مسلم کمیونٹی کے لیے ذلت و رسوائی کا باعث ہے۔

حلالہ  اور عارضی شادی کی روایت کے بارے میں مزید جاننے کے خواہش مند قارئیں مندرجہ درج ذیل مضمون پڑھ سکتے ہیں:

قرآنی شریعت (قوانین) طلاق، طلاق ثلاثہ، عارضی شادی اور حلالہ کو حرام قرار دیتی ہے

http://www.newageislam.com/urdu-section/قرآنی--شریعت--(قوانین)-طلاق،-طلاق-ثلاثہ،-عارضی-شادی-اور-حلالہ-کو-حرام-قرار-دیتی-ہے/d/6918

مختصر الٖفاظ میں کہا جائے تو معاملہ یہ ہے کہ ہندوستانی مسلم پرسنل لاء میں شادی شدہ مسلم خواتین کی آئینی طور پر ذلت و رسوائی اور اصل معمول کو  عظیم ہندوستانی شاعر ساحر لدھیانوی کے مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے:-

"یہ بیوی بھی ہے بیٹی بھی ماں بھی-کہاں ہیں کہاں ہیں محافظ مذہب کے ثنا خوان تقدیسِ مسلم کہاں ہیں"

 

.1            Doctrine of Ijma in Islam, by Ahmad Hussain, New Delhi, 1992, p.16.

.2            Essential Message of Islam, Amana Publications, USA 2009, Afterword, Final Note of Appeal to Muslims.

URL for English article:  http://www.newageislam.com/islam,-women-and-feminism/muhammad-yunus,-new-age-islam/indian-muslim-clerics-reduce-muslim-women-to-the-level-of-whore-with-whom-the-son,-the-father,-the-brother-and-the-friend-can-have-sex-within-the-ambit-of-islamic-law/d/102904

URL for this article: http://newageislam.com/urdu-section/muhammad-yunus,-new-age-islam/indian-muslim-clerics-reduce-muslim-women-to-the-level-of-whore---ہندوستانی-مسلم-علماء-نے-مسلم-خواتین-کی-حیثیت-کو-محض-ایک-فاحشہ-کی-سطح-پر-محدود-کر-دیا-ہے/d/102920

 

Compose your comments here

Total Comments (15)


Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com

Total Comments (15)

  1. Dear Yunus Sb,
    We are discussing a particular article of yours and not all your articles. This article has undergone at least two revisions because of its problematic nature. It has received brick bats from all without exception. Except for Mr Shahin, nobody has said a good word about it. Everyone has been pained by some part of it or another. And yet, you will not gracefully accept your faults! You are trying to defend the indefensible while beating a retreat at the same time having revised it twice. We have discussed your article before and what is wrong with it. 

    You have used "Your Ulema" and "Your Womenfolk" the second time. The first time was with me and I let go although I was offended.

    In poetry, the poet often talks to himself and the Tu. Tera therefore refer to himself. Are you talking to yourself when you say "Your ......"?

    And what is the relevance of the parable of the story of the people of the cave? 

    As far as the divine court is concerned, I always take care not to transgress the limits. I do not exaggerate leave alone speak a lie and my giving it back is carefully measured to be less than what I received. In brief, I show far greater restraint than the other person. 

    You have several faults and when I point these out, it is certainly "motivated". You may take the meaning of "motivated" the way you please but I will continue to point them out.
    By Naseer Ahmed 29/08/2015 23:59:04
  2. Dear Sameer,

    In your initial remark to me you say: "Thanks God we have many ULEMA TO CONSULT WITH. YOU ARE A FASIQ AND NO MUSLIM SHOULD BELIEVE YOU.

    My Comments: 

    Here is the caption of a broad cross section of my articles on burning religious/ social / civilizational issues facing Islam and the global Muslim community. Do comb the articles, listed topic-wise, critically and see if you can spot any flawed interpretation of any Qur’anic verse or any statement that contradicts the Qur’anic message or is otherwise detrimental to the Muslim community :

     

    Misogynist interpretations of Qur’anic verses/ message   

     

    1.      The Qur’an prescribes Monogamy as the social norm for humanity

    2.      Notions of male superiority, domination and beating of wife stand un-Islamic today

    3.      Flogging of women for sex outside marriage stands brutal and Un-Islamic today.

    4.      Limiting maintenance of divorced women for the iddat period is brazenly un-Islamic

    5.      Love, Sex and Marriage in the Qur’ran

    6.      Gender Equality in Islam

    7.      The Qur’an offers protection and coequal personal rights to women and those who deny them such rights today are the deniers of the message of the Qur’an – though God knows best.

    8.      A Fresh Insight into the Qur’anic Verses, quoted to Justify Unwedded Sexual Relation with Maids, Call Girls etc.

    9.      Abolition of slavery, including sex slavery in Islam (the Qur’an)

    Madrassa Educational Curriculum Reform.

    1.      An Open Reminder to the Ulamas: Rejecting universal knowledge as un-Islamic is brazenly un-Islamic and kufr (denial of truth).

    2.      The Opponents of the Right to Universal Education (RTE) to the Muslims are the enemies of Indian Muslims.

    Reform on Gender Discrininatory Laws.

     

    1.      The medieval era rooted Qur’an conflicting MPL (Sharia Law) must be reformed to avoid injustices to Muslim women – an SOS to the Indian Ulama fraternity.

    2.      India’s Child Marriage Act 2006 prescribing 18 as women’s legal age for marriage is consistent with the Qur’an, the personal Sunna of the Prophet and does not infringe the fundamental religious rights of the Muslims in any way.

    3.      Any fatwa imposing full/face veil (burqa/niqab), headscarf on Muslim women as a religious requirement is anti-Qur’anic.

    •  

    4.      Muslim women in the non-Muslim / Western world may relax on the symbolic veiling (head-ear-chin cover) and create a socially interactive performance oriented identity as commanded by the Qur’an.

     

    5.      The Qur’anic Sharia (laws) on divorce.  Triple divorce, temporary marriage, halala stand  forbidden (haram).

    Reform on Criminal Laws

    1.      Blasphemy Law has NO Qur’anic Basis

    2.      Flogging of women for sex outside marriage stands brutal and Un-Islamic today.

    3.      Any punishment for apostasy – let alone capital punishment is anti-Islamic

     

    Doctrinal Reform.

    1.      The Classical Islamic Law (Islamic Sharia Law) is NOT a Word of God!

    2.      The grievous impacts of Hadith sciences in the later centuries of Islam – a soul searching exercise and a final call to the Muslim ulama and intellectual elite.

    3.      ‘Bidding the Good and Forbidding the Evil’ (Amr Bil Ma‘Ruf Wa Nahi ‘Anil Munkar) By The Traditional Institution Of Religious Police Stands Un-Islamic Today

    4.      What is popularly known as the Sharia Law of Islam is actually the cumulative rulings of Muslim jurists with a tag of Islam, and not any immutable word of God or the laws of the Qur’an.

    5.      Hadith is not a divine scripture of Islam – a la Qur’an.

    Broadening of Islamic thoughts.

     

    1.      The Hindus are not ‘the mushrikin’ mentioned in the Qur’an

    2.      Muslims have NO Qur’anic basis for Religious Supremacism Muslims have NO Qur’anic basis for Religious Supremacism

    3.      The spiritual Genocide of a Godly people – the case of Ahmadis in Pakistan

    4.      The Zakat – a Pillar of Faith, as actualized today is a grand mockery, if not fraudulent realization of Qur’anic message on wealth distribution and social justice.

    5.      .aspx?ArticleID=6022"Darwinism is Consistent with Qur’anic Insights on Man’s Origin

    6.      The Qur’anic Perspective on Jihad and Greater jihad: SOS to Global Muslim Community

    7.      The Qur’an espouses harmonious interfaith relations with the Christians and the Jews and all other faith communities.

    8.      The broader notion of din al-Islam is inclusive of all monotheistic faiths.

    9.      Are all the mushrikin for all times “spiritually unclean” (rijz) (literal reading of the verse 9:28 of the Qur’an)?

    10.  Role of dawah in Islam: Islamic dawah at this moment must focus inwards and not outwards

     

    Curbing Radicalization/ Terrorism

     

    1.      Call for international Fatwas to declare the terrorists who advocate wanton killing of innocent people in the name of Islam as ‘Terrorist Apostates’, like the Kharijites of early Islam.

    2.      Interpreting Islam’s Pillars of faith as symbols of militant jihad is heresy - an intense “kufr” and its willful Muslim followers stand as kafirin – let there be no doubt it.

    3.      Declare The ISIS As The Kharijites (Those Who Seceded From Islam) As This Article Demonstrates And Declares: Global SOS To The Ulama, Muftis, Intellectuals And Scholars Of Islam

     

     

     

    If you fail to find any flaw in any of the statements or interpretations, you may be committing a grave sin by advising Muslims not to read my articles which are all backed by my duly authenticated exegetic work. Do not jump into any conclusion be merely reading the title of the article which is honed to jolt up the mind of Muslims Ulama and Intellectuals who are languishing in complacence as if everything is hunky dory and all there is no need for any reform or broadening of Islamic thoughts.

    In one word, I do not claim to be infallible but I do not want to give any benefit of doubt to someone who brings unfounded charges against me for motive best known to him. 

     

    By muhammad yunus 29/08/2015 20:02:49
  3. Dear Danish,

    In your last remark to Sultan Shahin Sahab, you said, among other things:

    "the way of understanding the quran is very unauthentic based on merely hypothesis."

    This, referring to  my jt publication under posting at NAI is again a grossly misleading, motivated and unsubstantiated statement. The methodology of interpretation adopted in my jt publication is as follows extracted from the Preface which is accessible at NAI Book Section:  

    This book attempts to interpret the various facets of the Qur’anic message by drawing explanations primarily from its (the Qur’an’s) own text. Thus, the meanings of the critical words, idioms, figures of speech, and phrases of the Qur’an have been derived from their usage across its text. Likewise, the essence of its guidance and its criteria of right and wrong permissible and forbidden have been derived primarily from its own illustrations to provide the readers with abroad trajectory of the Qur’an. The work is thus designed to eliminate the influence of the personal, educational, and doctrinal backgrounds of its authors and their choice of source materials. This is consistent with the Qur’an’s claim of representing the best interpretation (25:33). Accordingly, many Qur’anic scholars have advocated it since the early centuries of Islam. However, it never gained popularity, first because the orthodoxy was fully satisfied with the traditional exegetic discipline, and secondly because this approach is inherently more difficult and challenging than the classical exegesis. The long-outstanding need for a clear understanding of the essential message of Islam, independent of personal exegetic influences, and the scope of using computer database for comprehensive and accurate scrutiny of the Qur’anic text as adopted in this work provide the impetus and background for the compilation of this volume. [The traditions of the Prophet (Hadith) and other Islamic and secular sources are also used to support the arguments as relevant]
    By muhammad yunus 29/08/2015 13:15:23
  4. Dear Naseer Ahmed Sb:

    You state addressing me: "what is wrong with your article for which you deserve all the abuses and the brick bats that you have received."

    My answer:

    Out of a hundred or so articles and a number of key refutations of Fatwa that NAI has posted for me over the last three to four years, I may have received vicious / abusive remarks on barely few occasions. So like Sameer and Danish you are making sweeping remarks without any substantiation. I strongly object to your statement which appears motivated, and tailored to assassinate my character and question my intellectual integrity, honesty, scholarship, and spiritual purity. I do not want to say a word against you except to ask you to search your soul and think what answer you will have in divine court if you were asked to substantiate your charges against me. But don't worry, I forgive you. .
    By muhammad yunus 29/08/2015 12:46:45
  5. Dear Naseer Ahmad Sb,

    In your last remark to me you have asked:  "Can you explain the use of "your ulema" and "your women folk"?

    My answer: If you know the nuances of  Urdu language, you will surely know what Iqbal meant by "you/ your' (tu/ tera) in these poetic lines:

    "Tu abhi rahguzar me hai - qaide muqam se guzar == misr o hijaz se guzar - paras o sham se guzar

    "Tera imam be huzur - teri namaz be surur== aysay imam se guzar, aisi  namaz se guzar" 

    I meant exactly the same thing that Iqbal meant.

    Let us not engage in semantics and focus on the core issue as espoused by the Qur'an in its parable on the sleepers in the cave. 

     “Some will say there were three, their dog being the fourth of them, (others) say:  ‘there were five, their dog being the sixth of them’, guessing the unknown; (yet others) say that they were seven, their dog being the eighth of them. You tell them (O Muhammad!): ‘My Lord knows best their number, and none knows about them except a few.’ Therefore, do not dispute about them - except on an issue that is clear, nor seek anyone else’s opinion about them” (18:22).
    By muhammad yunus 29/08/2015 12:27:26