محمد یونس، نیو ایج اسلام
21 دسمبر، 2011
انگریزی سے ترجمہ‑
مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام
محمد یونس باشتراک اشفاق اللہ سید، اسلام کا اصل پیغام، آمنہ پبلیکیشن،
یو ایس اے 2009
مندرجہ ذیل ویب سائٹ پر اس دن کی خبروں کے بلیٹن پرایک سطحی نگاہ ڈالنے پرمدارس
تک RTE کی توسیع کی حمایت میں انگریزی کے تین اہم مضامین اور خلاف قیاس فتاویٰ کی ایک فہرست نظر آئے گی ۔ اہمیت کے اعتبار سےRTE کی توسیع
سے متعلق مضامین غیر معمولی ہیں، کیونکہ یہ مضامین مسلمانوں کی اس جہالت سے نکلنے کے لئے پیش قدمی کی حمایت کرتے ہیں جس میں وہ گھرے ہو ئے ہیں ۔جبکہ فتویٰ میں اسی جہالت کی چھاپ ہے۔ اب آپ خود دیکھیں کہ ان مضامین نے کس طرح تعلیم یافتہ ہندوستانی مسلمانوں
کےذہن وفکر کو بھڑکایا ہے ۔ یہ مضامین مندرجہ ذیل ہیں:
1) The
Opponents of the Right to Universal Education (RTE) to the Muslims are the
enemies of Indian Muslims – Muhammad Yunus
2) Defending
the Right to Education of Muslim Children - Neloofer Qureshi
3) Madrasas
and India's Right to Education Act: A TIMES Debate - Prabhat Banerjee
4) Did
an Islamic cleric ban women from touching bananas and cucumbers? True or false
- Asra Q. Nomani
رد عمل: اس مضمون کے مصنف سمیت مجموعی طور پر 6 مسلم قارئین نے پہلے تین مضامین پر تبصرہ کیا
ہے،اور دو دیگر لوگوں نے چوتھے مضمون پر تبصرہ
کیا۔
جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بے لگام مفتیوں کی تضحیک اور ان کے ایمان کی بر گشتگی پر تلذذو تمسخر میں ہندوستانی
مسلمانوں کا تعلیم یافتہ طبقہ اچھاہے، لیکن
مدارس کے ایسے نصاب کی بہتری اور اصلاحات میں
کوئی دلچسپی نہیں رکھتاہے، جس نصاب کی وجہ سے مذہبی طور پر متشدد اور قرون وسطیٰ سے
مستقل لگاو ٔکے باعث ایسے مفتی پیدا ہورہے
ہیں جو انتہائی احمقانہ اور نا مناسب
فتاوے جاری کرتے ہیں۔
مدارس سے RTE کے اخراج کے پر زور مطالبہ
پر اگر تعلیم یافتہ مسلمان خاموش تماشائی
بنے رہے ،تو اس کی بہت بھاری قیمت ان کو یا
ان کی اولاد کوچکانی پڑے گی۔ہندوستان میں مرکزی دھارے کی ہندو برادری مسلسل ایسے کئی بڑی
اصلاحات کے دور سے گزر رہی ہے جن کے
مختلف پیغامات قرآنی تعلیمات کے عین مطابق ہیں، جن میں ذات پات پر مبنی نظام کا خاتمہ، وراثت میں خواتین کو بھی حق دینا
، ایک بیوہ کو دوبارہ شادی کا حق وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
دوسری طرف ہندوستانی مسلمان اس
طرح کی اصلاحات کی مخالفت ٹھیک اسی طرح کر رہے ہیں جس طرح ان کے آبا و اجداد نے برطانوی ہندوستان میں کیا تھا جس
کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کو ہندوستان سے خود کے ذریعہ مسلط لئے گئے اخراج کا سامنا کرنا
پڑا ، جس سے انہیں بین المذاہب نفرت، اور فسادات
کی فضا پیدا کرنے میں تعاون ملا تھا ۔ اگر
مرکزی دھارے میں شامل ہندو طبقے کی ترقی پسندی کےساتھ مسلمان قدم سے قدم ملا کر چلنے میں ناکام ہو جا تے ہیں تو وہ ہندوستانی معاشرے
سے اچھوت اور مغلوب قوموں کی طرح نیست و نابود ہو جائیں گے،اور وہ ان کے قہر و غضب
کا شکار ہوں گے جو ہندوستان کو چمکانا چاہتے ہیں ،اور خود مسلط کی گئی اس تباہی
کےذمہ دار تنہا تعلیم یافتہ مسلمان ہی ہوں
گے۔ اس کے ساتھ ہی مصنف کی نیو ایج اسلام سے درخواست ہے کہ وہ RTE کی مدارس میں
توسیع کی حمایت کرنے کی ایک مہم کی شروعات کرے۔
محمد یونس نے آئی آئی ٹی سے
کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے اور کارپوریٹ اکزی کیوٹیو کے عہدے سے سبکدوش
ہو چکے ہیں اور90کی دہائی سے قرآن کے عمیق مطالعہ اور اس کے حقیقی پیغام کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کی کتاب اسلام کا اصل پیغام
کو 2002میں الاظہر الشریف،قاہرہ کی منظوری حاصل ہو گئی تھی اور یو سی ایل اے کے ڈاکٹر
خالد ابو الفضل کی حمایت اور توثیق بھی حاصل ہے اور محمد یونس کی کتاب اسلام کا اصل
پیغام آمنہ پبلیکیسن،میری لینڈ ،امریکہ نے،2009میں شائع کیا۔متعلقہ مضمون: مختلف اسلامی
رسومات اور طرز عمل پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔
URL
for English article: http://www.newageislam.com/ijtihad,-rethinking-islam/intellectual-ambivalence-of-educated-indian-muslims--the-rte-versus-the-ridiculous-fatwas/d/6194
URL: