certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (20 Mar 2020 NewAgeIslam.Com)



All the Lines are currently Blurred فی الحال سب لکیریں مٹ گئی ہیں


شکیل شمسی

20مارچ،2020

انسانوں نے انسانوں کے درمیان مذہب،نسل، ذات، رنگ اور قومیت کی جنتی لکیریں کھینچ رکھی تھیں ان کو مٹانے کا کوئی راستہ زندگی تو نہیں ڈھونڈ سکی،البتہ موت کی دہشت او ربیماری کے خوف نے تفریق کی تمام لکیریں مٹا کر تمام انسانوں کو ایک بار پھر انسان بنا دیا۔ اب چین سے لے کر امریکہ تک۔ جاپان سے لے کر ایران تک، ویٹکن سے لے کر مکہ تک، ہندوستان سے لے کر پاکستان تک، کربلا سے لے کر کاشی تک، ہری دوار سے لے کر حاجی علی تک، صنم کدوں سے لے کر کلیساؤں تک، مسجدوں سے لے کر مندروں تک، آئیفل ٹاور سے لے کر قطب مینار تک، روم سے لے کر قم تک اور ایک براعظم سے لے کر دوسرے براعظم تک سب کے ساتھ کروناوائرس بالکل یکساں سلوک کررہا ہے۔ کسی کو بھی اس کی نسل، اس کی ذات، اس کا رنگ، اس کی زبان اور اس کی قومیت دیکھ کر نہ تو یہ وائرس نشانہ بنا رہا ہے اورنہ ہی کسی کو اس لئے بخش رہا ہے کہ وہ بہت عبادت گزار ہے، ایماندار ہے،بھکت ہے،دھرم کرم والے کاموں میں حصہ لیتا ہے، مندروں میں گھنٹہ بجاتا ہے،مسجدوں میں اذان دیتا ہے، پنڈت ہے،مولوی ہے،راہب ہے،ربباہے یا گیانی ودھیانی ہے۔جوبھی تھوڑی سی بے احتیاطی کامظاہرہ کررہاہے اس کا ہاتھ یہ وائرس فوراً تھامے لے رہا ہے۔ اس کے خوف کایہ عالم ہے کہ انسان اپنے عزیز و اقارب سے خوف زدہ ہے،آج بلا قید مذہب و ملت انسان ایک دوسرے کو چھونے و مصافحہ کرنے اور بغل گیر ہونے سے ڈررہا ہے۔صرف مذہبی امور پر ہی نہیں دنیاوی امور پر بھی زبرست اثر پڑا ہے اس وباکا۔ اسی کی وجہ سے ہانگ کانگ میں مہینوں سے چل رہی جمہوریت بحالی کی تحریک ختم ہوگئی۔ ہمارے ملک میں بھی گزشتہ تین مہینے سے سی اے اے کے خلاف جوتحریک چل رہی ہے اب دیکھنا ہے اس پر اس وبا کااثر پڑتا ہے یا نہیں۔ بہر کیف ایسا وقت توعالم انسانیت پر کبھی نہیں پڑا تھا کہ جب بہت سی مسجدوں سے دی جانے والی اذان میں شرکت کی دعوت دئے جانے کے بجائے ’الصلوۃ فی بیوتکمکم‘ یعنی اپنے گھروں میں نماز ادا کرنے کو کہا جارہا ہے۔

بہت سی مساجد میں جمعہ کی نمازبھی نہیں ہورہی ہے۔ کئی مسجدوں کے اماموں کی طرف سے میسیج بھیجے جارہے ہیں کہ مسجد میں کم سے کم تعداد میں آئیں،آپس میں فاصلہ رکھیں او رایک دوسرے سے ہاتھ نہ ملائیں۔ ان سب باتوں سے کچھ مسلمان خفا بھی ہیں ان کو لگتا ہے کہ نماز کو کسی حالت میں ترک کرنا نہیں چاہئے چاہے موت ہی کیوں نہ آجائے، ایسا ہی بہت سے ہندو حضرات بھی سوچتے ہیں کہ چاہے جو ہو مندروں کو بند کرنا اور بھکتوں کی آمد و رفت پر قدغن لگانادھرم کے خلاف ہے۔ ان کو بھی لگتا ہے کہ کورونا وائرس ان کے دھرم کے خلاف ایک سازش ہے۔ حالانکہ ہندوہوں یا مسلمان، عیسائی ہوں یا سکھ سب اس بات سے واقف ہیں کہ کورونا وائرس ایک ایسا وبائی مرض ہے جو انسان سے انسانوں میں پھیلتا ہے اور اگر انسانوں کا ہجوم کہیں پر بھی جمع ہوگا تو وہاں اس وائرس کے پھیلنے کے بہت امکانات ہیں۔ ابھی تک ہمارے ملک میں اس مرض نے ویسا رنگ اختیار نہیں کیا ہے کہ بے تحاشہ اموات ہورہی ہوں یاجو چین، اٹلی اور ایران کی طرح اس وبا نے یہاں ہزاروں لوگوں کو شکار بنایا ہو۔ابھی متاثرہ افراد کی تعداد 200 کے آس پاس ہے اور مرنے والوں کی تعداد بھی اب تک اکائی کے ہند سے میں ہے۔ میں کہنا چاہوں گا کہ جن لوگوں کو مسجدیں، درگاہیں اور خانقاہیں بند ہونے یا عمرہ اور زیارت پر پابندی لگنے کاغم ہے وہ یہ بات ٹھنڈے دل سے سو چیں کہ اگر یہ مرض خدا نخواستہ لاکھوں مسلمانوں میں سرایت کر گیا تو ملت کتنے بڑے المیہ کاشکار ہوجائے گی؟ اللہ تو ہر بندے کے دل کا حال جانتا ہے، اس کو خبر ہے کہ کہ کوئی بھی مسلمان جان بوجھ کر تو نماز ترک نہیں کررہا ہے اور کوئی نماز ترک کرنے کابہانہ بھی نہیں ڈھونڈ رہا ہے۔ یقینا مسجد حرام کے آس پاس سناٹا دیکھ کر دل کو تکلیف ہوتی ہے، یقینامدینہ منورہ، نجف، کربلا،بغداد، مسجد اقصیٰ اور مشہد کے مقدس مقامات پر چھائی ہوئی ویرانی دیکھ کر ہر مسلمان کا دل دکھتا ہے۔ ظاہر ہے کسی نے کبھی اس بات کا تصور بھی نہیں کیاتھا کہ جن شہروں میں لاکھوں مسلمان موجود ہوں وہاں ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ ان کی عبادت گاہیں سونی ہوجائیں گی۔ ادھر آج پورے ہندوستان میں وزیر اعظم نریندرمودی کے قوم کے نام خطاب کو لے کر بہت افراتفری رہی، کئی جگہوں پر لوگوں نے گھبراہت میں ترکاریاں وغیرہ خرید نا شروع کردیں مگرمودی جی نے کہا گھبراہٹ میں خریداری مت کریں، مگر انہوں نے اتوار کے روز صبح 7.00بجے سے 9.00بجے تک جنتا کرفیو کا اعلان کر کے سب کو چونکا دیا اور لوگوں کو احساس ہوا کہ یہ وبا بہت سخت مراحل میں پہنچ گئی ہے۔

20مارچ،2020  بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/shakeel-shamsi/all-the-lines-are-currently-blurred--فی-الحال-سب-لکیریں-مٹ-گئی-ہیں/d/121350

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism






TOTAL COMMENTS:-   3


  • I too feel that there is nothing wrong with praying at home.
    By Ghulam Mohiyuddin - 3/20/2020 1:34:09 PM



  • Performing prayer at home will not make us lesser Muslim and deviate from the holistic teachings of Islam.
    By Mohd Farooque Khan - 3/20/2020 7:25:34 AM



  • It is indeed a matter of grave concern Muslims should stand in solidarity with the nation at large be shedding and Isolationand they sh ould avoid social  and religious gatherings
    The crises has given us to win Trust and good will of the country men.performing prayer
    can never be a gross violation of Islam in this time of crises even Islamic countries have done the same.I think Muslim doctors religious scholars vice chancellor
    Parliamentarian leaders teachers Bureaucrats Cinestars,journalists should take a lead and appeal the Muslim masses.
    By Mohd Farooque Khan - 3/20/2020 4:42:57 AM



Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content