مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
25 دسمبر، 2015
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی یقیناً ان لوگوں کے لئے اسوہ ہے جو کسی ایسے ملک میں آباد ہوں جہاں وہ اقلیت میں ہوں اور باگ اقتدار ان کے ہاتھ میں نہ ہو ، لیکن یہ کہنابھی درست نہیں کہ موجودہ دور کے جمہوری ممالک ( جن میں ہمارا ملک ہندوستان بھی ہے) مکمل طور پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی کی صورت حال کے آئینہ دار ہیں اور یہاں مسلمانوں کو بالکل وہی رویہ اختیار کرناچاہئے جومکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھیوں نے اختیار کیا تھا۔
ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرناچاہئے کہ جمہوریت میں بعض مفاسد ہیں اور سب سے بڑا فساد یہ ہے کہ اس نظام میں ‘‘مقدار’’ کو ‘‘معیار’’ پر او ر ‘‘تعداد’’ کو ‘‘استعداد’’ پر ترجیح حاصل ہے، وہیں اس نظام میں بہت خوبیاں بھی ہیں، ان خوبیوں میں سب سے اہم بقاء باہم کا اصول ، عقیدہ و اظہار رائے کی آزادی اور مخالف نقطہ نظر کو برداشت کرنے کی صلاحیت ہے اور حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دور میں جمہوری طرز فکر کو عالمی سطح پرجو غلبہ حاصل ہوا ہے اس میں اسلامی تعلیمات کا بھی خاصا دخل ہے۔
اس جمہوری نظام کے تحت مسلمان اقلیت میں ہوکر بھی حکومت میں شریک و سہیم ہیں، گو عملاً بعض مواقع پر کچھ نا انصافی محسوس کی جائے لیکن دستوری اعتبار سے مذہب ان کےلئے آگے بڑھنے میں رکاوٹ نہیں ہے، مسلمان اپنے مذہبی افعال اور شعائر کو انجام دینے میں آزاد ہیں اور ان کو اپنی فکر اور رائے کے اظہار کی، بلکہ ا س سے بڑھ کر اپنے مذہب کی تبلیغ کی بھی اجازت ہے، یہ وہ سہولتیں ہیں جو مکی زندگی میں مسلمانوں کو حاصل نہیں تھیں ...... تاہم اس کے باوجود ہندوستان کے موجودہ حالات میں مسلمان بہت کچھ آپ کی مکی زندگی سے رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں اور ا س کی روشنی میں اپنے لئے لائحہ عمل مرتب کرسکتے ہیں ۔
مکی زندگی میں مسلمانوں کا سب سے بڑا وصف ان کا اعلیٰ کردار اور بے داغ زندگی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب پہلی دفعہ صفا کی چوٹی پر اپنی نبوت کا اعلان فرمایا اور لوگوں کو دعوت توحید دی تو پہلے ان پر اپنی ذات کو پیش فرمایا اور ان حاضرین سے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن دیکھ چکے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جوانی جن کی نگاہوں میں گزری تھی، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صبح و شام اور شب و روز سےبخوبی آگاہ تھے ، معاملات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پرکھ چکے تھے اور اخلاق و دیانت میں آپ کا امتحان کرچکے تھے ،دریافت فرمایا: کہ تم مجھے سچا پایا یا جھوٹا؟ اور امانت دار پایا یا خائن ؟ ان کا جواب ایک ہی تھا کہ ہم نے آپ کے اندر صدق و راستی اور امانت و وفا کے سوا کچھ نہیں پایا ہے!..... یہ بھی تاریخ اخلاق کا ایک نادر واقعہ ہوگا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت فرمائی تو اس وقت بھی اہل مکہ میں بہت سوں کی امانتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں، آپ نے عہد و پیمان کا ایسا پاس و لحاظ کیاکہ جانی دشمنوں کی امانتیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کر گئے ، لیکن اس کا پورا لحاظ رکھا کہ آپ کے دامن پر کوئی چھینٹ نہ آنے پائے ۔ یہی وجہ ہے کہ مکہ میں آپ کے مخالفین نے آپ کو ساحر و جادوگر او رپاگل و مجنوں کہہ کر تو بدنام کیا، لیکن باوجاود عدالت و دشمنی کے کسی کو یہ جرأت نہیں ہوئی کہ آپ کو جھوٹا یا بد دیانت کہہ سکے۔
یہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی حالت نہ تھی بلکہ جن لوگوں پر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صحبت و رفاقت کی کرنیں ڈالی تھیں ، وہ بھی اپنے کردار کی پختگی میں ممتاز و نمایاں حیثیت کے حامل تھے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب مخالفین کی ایذا ء رسانیوں اور مخالفتوں سے مجبور ہوکر مکہ چھوڑنا چاہا تو ابن وغنہ سے ملاقات ہوئی ۔ ابن وغنہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے آدمی سے محرومی گوارہ نہیں کی جاسکتی اس لئے کہ آپ لوگوں کے ساتھ صلہ رحمی کرتے ہیں، لوگوں کے بوجھ اٹھاتے ہیں ، پریشان حالوں کی مدد کرتےہیں او رمہمان نوازی کرتےہیں ۔ یہ بالکل وہی الفاظ ہیں جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ نے پہلی وحی نازل ہونے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی گھبراہٹ کو دیکھتے ہوئے تسلی دینے کےلئے کہے تھے ۔
گویا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود امانت و دیانت حسن اخلاق ، خوش معالگی ، صدق و راستی ، وفا شعاری ، مظلوموں کی مدد اور مصیبت زدوں کی دستگیری کانمونہ تھے ، آپ نے اپنے صحابہ کو بھی اسی سانچہ میں ڈھال دیا تھا ۔ ا س کے نتیجے میں مسلمان گو بظاہر مغلوب تھے بلکہ مغلوب سے بڑھ کر ستم رسیدہ او رمظلوم تھے ، لیکن اخلاقی اعتبار سے ان کو ایک طرح کی بالا دستی حاصل تھی ۔ لوگ سماجی زندگی میں ان کے اس وصف خاص کو محسوس کرتے تھے اور وہ ان کو اپنے خیال کے مطابق بد دین تو کہتے تھے لیکن ان کو ہمت نہ ہوتی تھی ، کہ مسلمانوں کے اخلاق و معاملات کے بارے میں کہیں انگلی رکھ سکیں یا زبان کھول سکیں،یہاں تک کہ حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے ، سے جب ہر قل نے دربار شاہی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں استفسار کیا تو باوجود کوشش کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کوئی ایسی بات نہ کہہ پائے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی اخلاقی کو تاہی کو بتاتی ہو۔ اسی طرح جب مسلمان مہاجرین کے خلاف اہل مکہ کا نمائندہ و فد شاہ حبش نجاشی کے دربار میں پہنچا تو اس کو بھی اس کے سوا کوئی بات کہنے کو نہ ملی کہ مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق جو عقیدہ رکھتے ہیں ، وہ عیسائیوں کے مشہور عقیدہ کے خلاف ہے۔
اس اخلاقی برتری کانتیجہ تھاکہ خود اہل مکہ میں جو نیک دل، انصاف پسند اور صاف ذہن کے لوگ تھے وہ مسلمانوں کےتئیں گوشہ ٔ ہمدردی رکھتے تھے اور یہ ہمدردی بعض مشکل ثابت ہوتی تھی ۔ شعب ابی طالب کے بائیکاٹ کو ختم کرنے میں ابو البختری بن ہشام اور دوسرے اہل مکہ نے جو کردار ادا کیا، وہ دراصل مسلمانوں کے اسی اخلاقی تفوق کا نتیجہ تھا ۔
ہندوستان میں مسلمانوں کےلئے سب سے اہم اور ضروری نکتہ یہی ہے کہ وہ اپنی اخلاقی سطح کو عام لوگوں سےاونچی رکھیں، ان کی یہ حیثیت اس درجہ نمایا ں ہوکہ ان میں دوسرے لوگوں میں اس فرق کو واضح طور پر محسوس کیا جا سکے ....... لیکن بد قسمتی سے مسلمانوں نے یہ طے کر رکھا ہے کہ وہ اخلاق و عمل کی کوتاہیوں میں کسی بھی طرح اپنے غیر مسلم بھائیوں سے پیچھے نہیں رہیں گے، بلکہ عام مشاہدہ یہی ہے کہ بعض دفعہ تو جہالت اور خدا ناترسی کی وجہ سے مسلمانوں کاحال غیرمسلموں سے بھی ابتر ہوجاتا ہے۔ جب تک سماجی زندگی میں یہ صورت حال تبدیل نہیں ہوگی ، ہم اپنی ہمسایہ قوموں کی محبت حاصل نہیں کر پائیں گے۔
آپ کی مکی زندگی سے ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ مسلمان جہاں کہیں بھی ہوں، مادی او رمذہبی وجود و بقاء کے لئے ممکنہ و سائل کو اختیار کریں اور اس سے فائدہ اٹھائیں ۔ مکہ میں کوئی باضابطہ حکومت نہیں تھی اور نہ کوئی قانون و ضابطہ تھا، اس کےباوجود وہاں بھی قبائلی تحفظ اور شخصی پناہ ( جوار) کا طریقہ رائج تھا، یعنی ایک قبیلہ کےلوگ اپنے قبیلہ کے افراد و اشخاص کا پورا تحفظ کیا کرتے تھے اور ان پر ہونے والی کسی زیادتی کو اجتماعی مسئلہ تصور کر کے اس کامقابلہ کرتے تھے ۔ اس خاندانی طرفداری میں جائز اور ناجائز اور صحیح وغلط کا بھی امتیاز نہ ہوتا تھا اور اس باب میں ایک دوسرے کے شریک و سہیم ہوا کرتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت حضرت ابو طالب سردار قبیلہ تھے، چنانچہ جب تک وہ زندہ رہے، آپ نے خاندانی تحفظ کی اس قدیم روایت سے پورا پورا فائدہ اٹھایا ، یہی وجہ ہےکہ ابو طالب کی زندگی میں اعداء اسلام کو کبھی آپ پر دست اندازی کی جرأت نہیں ہوئی یہاں تک کہ شعب ابی طالب کے بائیکاٹ کے وقت بنی ہاشم و بنی مطلب کے وہ لوگ بھی آپ کےساتھ شریک رہے، جو ابھی اسلام نہیں لائے تھے ۔ اگر اس بائیکاٹ میں مسلمانوں کےساتھ پورا قبیلہ شریک نہ ہوتا تو شاید اہل مکہ اس سے شدید تر رویہ اختیار کرتے اور مسلمان زیادہ مشکلات سے دو چار ہوتے، لیکن بنو ہاشم و بنو مطلب کی طرف سےمسلمانوں کی پشت پناہی کی وجہ سے مخالفین کو مقاطعہ سے بڑھ کر کسی اور اقدام کی ہمت نہیں ہوئی، اسی طرح شخصی پناہ اور جوار کے قانون سے بھی مسلمانوں نے استفادہ کیا اور اپنے اہل تعلق غیر مسلموں کی پناہ حاصل کرلی، خود حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کچھ عرصہ تک ابن وغنہ کی پناہ میں رہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ ہندوستان اور اس جیسے ممالک میں مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ ملک کے آئین اور دستور کے دائرہ میں رہتے ہوئے دستیاب مواقع سے استفادہ کریں اور اس میں نہ تامل کریں اور نہ کوتاہی ۔ تحفظ صرف جان ہی کا نہیں ہے بلکہ مالی و معاشی حیثیت کا تحفظ ، تہذیب وتمدن او رکلچر کی حفاظت ،اپنے مذہبی اقدار اور حقوق کا بچاؤ ، اپنی زبان و ادب کا تحفظ او رملکی قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے ان کےلئے کوشش مسلمانوں کا فریِضہ ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ بے موقع اور اپنی طاقت سے بڑھ کر اشتعال سے گریز بہت ضروری ہے ، ورنہ ایسا جوش و ہوش سے عاری ہو، ہمیشہ قوموں کےلئے نقصان ہی کا باعث ہوتا ہے۔ جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں رہے ، خاص طور پر ان مسلمانوں کے ساتھ، جو غلام تھے، بے جاز یا دتیوں کا سلسلہ جاری تھا اور ان کو ایسی اذیتیں دی جاتی تھیں جو ناقابل بیان اور ناقابل تصور تھیں، کیونکہ عرب خیال کرتے تھے کہ ان کے لئے ان کے غلام کی حیثیت عام املاک کی سی ہے اور ان کے ساتھ ہر زیادتی روا ہے۔ اس میں کوئی دوسرا دخل نہیں دے سکتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہ اس صورت حال کو دیکھ کر بے چین ہوجاتے اور تڑپ اٹھتے ، اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی قدم نہیں اٹھایا اور باوجود اس کے کہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہ نے تنگ آکر جہاد کی اجازت چاہی، آپ صبر و تحمل ہی کی تلقین فرماتے رہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کے بعد ایک بار کعبہ کے پاس نماز ادا کرنے کےسوا مسلمانوں نے کبھی بیت اللہ شریف کے پاس نماز ادا کرنے اور خدا کے اس گھر کو بتوں کی آلائش سےپاک کرنے کی اس وقت کوئی کوشش نہ کی کیونکہ اس وقت اشتعال و بے صبری کی ایک چنگاری بھی مسلمانوں کے اس چھوٹے سےگھروند ے کو خاکستر کرسکتی تھی۔
لیکن اس سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ مسلمان ہر جگہ سپر اندازی کا ثبو ت دیں اور اپنی تہذیب ، زبان، شہری حقوق او رسب سے بڑھ کر مذہبی تشخصات سے صرف اس لئے ہاتھ دھوتے رہیں کہ دوسرے مذاہب کے لوگ ناراض نہ ہوجائیں ، یہ صبر نہیں ‘‘مداہنت’’ ہے اور اپنے بقاء کی تدبیر نہیں قومی خود کشی ہے ، اور شرعاً بھی مسلمانوں کے لئے کسی طور اس کو قبول کرنا روا نہیں ۔ دراصل کچھ شرپسند عناصر ایسے ہوتے ہیں کہ وہ بہر حال مخالفت اور عنا د ہی کا راستہ اختیار کرتے ہیں او رمذہبی طور پر اپنے آپ کو فنا کر دینے کے سوا کوئی چیز نہیں جو ان کو مطمئن کرسکے ، ایسوں کو آسودہ خاطر کرنا اوران کو رام کرنے کےلئے ‘‘لو اور دو’’ کی راہ اختیار کرناہمارے لئے قطعاً جائز نہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ اس بارے میں نہ یہ افراط درست ہے کہ مسلمان اپنی ہمسایہ قوموں کےساتھ‘‘بے معنی جہاد’’ چھیڑ دیں اور قانون کو بالائے طاق رکھ کر اپنے جذبات کا اظہار کریں ، اور نہ یہ صحیح ہے کہ صبر کے نام پر بزدلی اور ضمیر فروشی اختیار کریں اور اپنے ملی وجود ہی سے دستبردار ہوجائیں ۔ بلاشبہ اسلام ایک نہایت روادار مذہب ہے ، لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ رواداری دوسروں کے وجود کو برداشت کرنے کا نام ہے نہ کہ اپنے وجود کو کھودینے کا ۔ اہل مکہ نے جب آپ سے ‘‘ لو اور دو’’ پرمعاملہ طے کرنا چاہا تو آپ نے انکار کردیا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : لکم دینکم ولی دین ۔( کافرون :6) ایک ایسا ملک جس کی تعمیر اور انتظام و انصرام میں ہم بہر حال کسی نہ کسی درجہ شریک ہیں، اپنے آپ کو کسی شرعی حق سے دستبردار کرلینا سنگین قومی جرم اور رب کائنات کے ساتھ عہد ی کے مترادف ہے۔
قرآن مجید کےمطالعہ سےمعلوم ہوتاہے کہ جب بھی کوئی دعوت حق اٹھتی ہے ، قوم کے سربرآور وہ ذی اثر اور مقتدر لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں او ردبے کچلے لوگ ہی ابتداء اس دعوت پرلبیک کہتے ہیں ۔ مکہ میں بھی یہی صورت حال پیش آئی ۔ رؤساء نے مخالفت کی اور قدم قدم پر رکاوٹیں پیدا کیں، غلاموں نے دین حق کا استقبال کیا ۔ ابوجہل و ابولہب ، عقبہ و عتبہ ، ابو سفیان وغیرہ نے مخالفت اور عداوت کے طوفان بپا کردئیے ، بلال و صہیب اور خباب ویاسر رضی اللہ عنہ جیسے لوگ اسی طوفان کو سہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے۔پھر آہستہ آہستہ اسلام غلاموں ، مظلوموں ، کمزوروں، ستم رسیدوں اور دبے کچلے ہوئے لوگوں کا سہارا بن گیا اور ایسے ہی لوگوں کی پناگاہ کی حیثیت سےمتعارف ہوا۔ مدینہ کے انصار بھی مظلوم ہی تھے، یہود ان پر ہر طرح کا ظلم روا رکھتے تھے اور ان کو معاشی غلام بنا چکے تھے ، مکہ کے لوگ ان کو اتنا حقیر جانتے تھے کہ بدر کی لڑائی میں دعوت مبارزت میں انصار سامنے آگئے تو ان سے مقابلہ کرنے میں بھی ان کو اپنی حقارت کا احساس ہوا اور انہوں نے قریش مکہ سے اپنا مقابل طلب کیا۔
لیکن ان ہی پسماندہ طبقات کی مدد سے اسلام کی جڑیں مضبوط ہوئیں اور جب وہ ناقابل تسخیر طاقت بن گیا، تو رؤ سا ء قوم نے بھی اپنی سپر ڈال دی، وہ عناد وتعصب کے بجائے حقیقت پسندی کے ساتھ اسلام کو سمجھنے پر مجبور ہوئے اور اسی نے ان کو ایمان کی توفیق سے سرفراز کیا، یہاں تک کہ وہی خاد مین اسلام بن کر سامنے آئے۔ ہندوستانی مسلمانوں کو محسوس کرنا چاہئے کہ اس ملک میں ایک طبقہ مسلمانوں سےبھی زیادہ مظلوم ہے، وہ صدیوں سےسماجی نا انصافیوں کا شکار ہے، اس کو انسان کا درجہ بھی حاصل نہیں ہے ، مسلمانوں کےلئے یہ ایک شرعی فریضہ اور اسوۂ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی بھی ہے اور سیاسی و ملکی مصلحت بھی کہ وہ اس طبقہ کو ساتھ لے کر جد وجہد کریں اور اس کی طرف محبت کا ہاتھ بڑھائیں تاکہ وہ لوگ جو اونچے طبقہ کے ہیں، نہ ان کااستحصال کرسکیں اورنہ مسلمانوں کا ۔
مکی زندگی کا سب سے بڑا پیغام ‘ دعوت الی اللہ’ کا کام ہے، ایسے غیر مسلم جن سے بہ حیثیت قوم مسلمانوں کا بقا ء باہم کامعاہدہ نہ ہو اور ان تک دعوت دین پہنچائی جاچکی ہو، ان ہی سے جہاد کی گنجائش ہے، جس قوم کے ساتھ ہم ایک معاہدہ کے ساتھ رہتے ہوں او رمزید ستم یہ کہ ہم نے ان تک اللہ کی امانت کبریٰ کو پہنچانے کا اہتمام بھی نہ کیا ہو، ان سے جہاد کی گنجائش نہیں ، نیز مکی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ اگر کسی خطہ میں مسلمان مظلوم ہوں اور وہ ایسی اجتماعی تنظیمی قوت کے مالک نہ ہوں کہ جہاد کرسکیں، جب بھی ان کے لئے دوہی راستے ہیں، دعوت دین اور جب دعوت دین ادا کرنے کے باوجود لوگ اس کو قبول نہ کریں بلکہ اپنے آپ کو بھی ایمان پر باقی رکھنا مشکل ہوجائے تو ہجرت ۔
ہندوستان میں ہم ایک معاہدہ کی بنیاد پر دوسری قوم کے ساتھ اس طرح رہنے کا عہد کرچکے ہیں ، جس میں ہر ایک کواپنے مذہب پرچلنے کی آزادی ہے، مسلمانوں میں وہ اجتماعیت مفقود ہے جو پوری امت کو ایک لڑی سے پروتی ہے اورجس کی بنیاد نظام امارت پر ہے، علاقائی مصیبتوں نے مسلم ملکوں کے دروازے خود مسلمانوں پر اس قوت سےبند کررکھے ہیں کہ ایسے ملکوں کو ترک وطن نسبتاً آسان ہے جو غیر مسلم کہلاتے ہیں ، لیکن مسلم ملکوں میں شہریت حاصل کرنا جوئے شیرلانے سے کم نہیں ، ہندوستانی مسلمانوں نےاہل وطن میں دعوت الی اللہ کا کام ‘‘ نہیں’’ کے برابر کیا ہے او رہمیں اعتراف کرنا چاہئے کہ ہم اس باب میں مسلسل ایک ایسی خیانت کے مرتکب ہیں، جو شاید خیانت کی سب سے بدترین قسم ہے۔ نہ اس ملک میں دین کی دعوت اور اس پر عمل کے وسیع امکانات کے ہوتےہوئے ترک وطن کو ہجرت کا نام دینا صحیح ہے اور اگر بالفرض کوئی کسی مسلم ملک کو ‘ ہجرت’ کرناچاہیں تو ایسا کرنا بھی ان کے لئے ممکن نہیں ۔ ان حالات میں مسلمانوں کے لئے صرف ایک ہی راہ ‘‘دعوت دین’’ کی رہ جاتی ہے کہ اسلام کے جس پیغام کو صدیوں سےمسلمانوں نے نہاں خانہ دل میں چھپا رکھا ہے او رجس پر ان ہی کی طرح پوری انسانیت کا حق ہے، اس کو اس کے حق داروں تک پہنچایا جائے اور دعوت کے اس اہم اور نبوی کام کےلئے تمام ممکنہ و سائل کو روبہ عمل لایا جائے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کارِ دعوت کےلئے نہ کسی خاص طریقہ پرقناعت فرمایا او رنہ کسی اجتماع سے استفادہ میں حجاب سے کام لیا، صفا کی پہاڑی پر ، دیوار کعبہ کےسائے میں ، مکہ کےگلی کوچوں میں ، حج او ر مقامات حج میں ، عُکاظ کے میلوں میں،طائف کے بازاروں میں ، گھر گھر اور در در، زبان و بیان سے اور جہاں ضرورت ہوئی وہاں تحریر و قلم سے ، غرض آپ نے ہمیشہ مقصد دعوت پرنگاہ رکھی ، ہندوستان میں بھی ہمیں اسی کو ملحوظ رکھنا ہوگا اور تمام ممکن و جائز ذرائع و وسائل سے کام لیتے ہوئے اسلام کے پیغام کو پہنچانا ہوگا ۔ یہی مکی زندگی کا سب سے بڑا پیغام ہے!
دعوت دین مسلمانوں کے لئے اللہ کی نصرت کی کلید ا ور اعداء دین کےلئے خدا کی پکڑ اور مواخذہ کا باعث ہوتی ہے، یہ مکہ کی آبلہ پائی اور طائف کی زخم خوردگی اور دل شکستگی ہی تھی، جس نے مدینہ کی ارض طیبہ میں ایمان کا شجر طوبیٰ لگانے کا غیبی سروسامان فراہم کیا اور اللہ نے بے سان و گمان مدینہ کے نرم خو، و فاشعار اور سراپا ایثار جاں نثاروں کو آپ کے دامن نبوت سے ایسا وابستہ کردیاکہ مکہ کےٹھکرائے ہوؤں کو مدینہ نے شاہانہ و گرم جوشانہ خیر مقدم کیا۔ یا تو مکہ میں تلواریں اس لئے بے نیام ہوئی تھیں کہ ان میکشانِ توحید کے خون سےاپنی پیاس بجھا ئیں یا مدینہ میں انہی بے وطنان نیک بخت کےلئے تلواریں بے لباس ہوئیں کہ ان پر قربان ہوکر شاد کام ہوں، یہ خدا کی نصرت کا ظہور تھا اور بدر کے میدان میں مسلمانوں کی بے سرد و سامان، فاقہ مست اور تعداد کے اعتبار سےنہایت قلیل فوج کا مکہ کے غرق اسلحہ و آہن کثیر تعداد سورماؤں پر غلبہ حاصل کرنا اور اساطین اہل مکہ کا اس جنگ میں کام آجانا اللہ کی طرف سےحق دعوت ادا کئے جانے کے باوجود قبول اسلام سےانکار کرنے والوں کامواخذہ تھا ۔ یہ دونوں باتیں اس کے بغیر ممکن نہیں کہ مسلمان ہندوستان میں یکسو ہوکر اس ہتھیار کو سہارا بنائیں جو اسلامی تاریخ کا سب سے زیادہ موزوں اور کامیاب ہتھیار ہے۔ وبااللہ التوفیق و ھوالمسعتان۔
25 دسمبر، 2015 بشکریہ : انقلاب، نئی دہلی
URL: https://newageislam.com/urdu-section/special-guidance-indian-muslims-prophet/d/105735