New Age Islam
Wed Jun 10 2026, 03:06 AM

Urdu Section ( 3 Dec 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Taliban Fatwa on Terrorism دہشت گردی کی حمایت میں طالبانیوں کے ذریعہ جاری کیا گیا فتویٰ مسترد کیا جانا چاہئے: ایسے حالات جن میں کافروں کےعوام الناس کا قتل بھی جا ئز ہے۔ حصہ 6

کچھ مسلمان حالت نفی میں ہی جیناپسند کرتے ہیں ۔وہ اخبارات پڑھتے ہیں ،ٹی وی دیکھتے ہیں ،طالبان اور دوسرے جہادیوں کو اسلام کے نام پر نا قابل بیان دہشت پھیلا تےہوئے دیکھتے ہیں ، اور ان کے جواز کے لئےہمیشہ قرآن کی آیتوں کا حوالہ دیتے ہیں ۔لیکن توجہ دلانے پر بھی  یہ مسلمان اسلام کی ایک مخصوص عدم روا دارانہ تعبیر اور اپنے بزدلانہ عادات و اطوار کے درمیان   پائے جانے والے  باہمی ربط پر غور کرنے سے انکار کرتے ہیں ۔ اسلام کی یہ عدم روادار انہ تعبیروتشریح ہمارے ساتھ کسی نہ کسی صورت میں  یا کسی نہ کسی نام کے تحت تاریخ کی 14 صدیوں سے موجود ہے ۔ایسے لوگوں کو پہلے خوارج  یا خارجی (اسلام سے نکل جا نے والے ) کہا جا تا تھا ،اور آج انہیں وہابی کہا جاتا ہے ،اگر چہ وہ اپنے آپ کو سلفی (اسلام کے اس بنیادی نظریہ پر ایمان رکھنے والے جس پرمسلمانوں کی اولین  نسلوں نے عمل کیاتھا  ) اور مؤحد (خدا کی وحدانیت میں پختہ یقین رکھنے والے) کہلانے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ میڈیا میں ان کی حامی بھرنے والے  چاہتے   ہیں کہ انہیں صرف ایک عام مسلمان سمجھا جائے ، تا کہ ان کی   ان مذموم اور نا جائز سر گرمیوں  کے زمرہ میں تمام مسلمانوں کو شامل کیا جا سکے ۔

 بہرحال مسلمان جو اس پورے کھیل سے واقف ہیں اور  ان کے نظریات اور سرگرمیوں سے خود کو الگ کرنا چاہتے ہیں۔ خدا  کا شکر ہے کہ وہابی  فرقہ ابھی بھی مسلم قوم کا ایک  چھوٹا سا گروہ  ہے ،حالانکہ گزشتہ چار دہائیوں میں انہوں  نے  پٹروڈالر کی  بھاری مدد سے  اپنے نظریات کی  اشاعت کے ذریعہ  اپنے   اثرورسوخ  میں قابل قدر اضافہ کیا ہے ۔  یہ بات  اہم ہے کہ ہم مرکزی دھارے  کے مسلمان ہونے کی حیثیت سے ان کے نظریات کو طشت از بام کرتے رہیں  ،انہیں نمایاں کریں اور  ان کا رد کریں   تاکہ  وہابیت، سلفیت ،اور اس سے متعلقہ نظریات مثلاً اہل حدیثیت ، قطبیت ، مودودیت   ، دیوبندیت  وغیرہ کے حامیوں اور مبلغوں کو اسلام کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا دعوی کرنے سے روکا جا سکے ۔

اسی اہم ضرورت کے پیش نظر نیو ایج اسلا م طالبان کے ترجمان نوائے افغان جہاد  (جولائی ۲۰۱۲ ) میں شائع شدہ مضمون کوپیش کررہا  ہے۔یہ اس  ماہانہ رسالہ کے مسلسل مضمون کا پہلا حصہ ہے جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ کیوں وہابیوں کا یہ  ایمان ہے کہ     کا فروں یعنی تمام غیر وہابی مسلم، سابقہ مسلم  اور اہل کتاب سمیت غیر مسلموں کے بے گناہ مردوں ، عورتوں اور بچوں کو مارنا  ان کے اسلام میں جائز ہے ۔مرکزی دھارے  میں شامل مسلمانوں کے لئے  ضروری ہے  کہ وہ طالبانیوں کی  حقیقی خونی فطرت کو سمجھیں  اور امن  عالم اور اسلام کی نیک نامی کی حفاظت کے لیے قرآن و سنت کی بنیاد پر یک آوازہوکر اس نظریہ کی مذمت کریں۔ اور وہابیوں کے اس طبقہ کو جو ان متشدد نظریات کی حمایت نہیں کرتا جن کے بانی ابن عبد الوہاب اور اس کے نظریاتی معلم ابن تیمیہ ہیں، اس جماعت سے مکمل طور پر منقطع ہو جا نا چائے ۔اگر آ پ وہابی  محض اس لئے کہلاتے ہیں کیوں کہ آپ  صوفیوں کے مزارات پر حاضری دینے اور صوفی بزرگوں کا احترام کرنے سے نفرت کرتے ہیں ،  نہ کہ اس لئے کیوں کہ آپ عدم رواداری اور اس نظریہ کی انتہا پسندی کے  قائل اورقدردان ہیں،  تو آپ کو سمجھنا چاہپے کہ مزارات پر حاضری سے احتراز کرنے کے لئے آپ کووہابی ہونے کی  چنداں ضر ورت نہیں ۔ ایسے بہت سے دوسرے فرقوں  کے مسلمان ہیں جو مزارات کی زیارت نہیں کرتے ،  پھر بھی وہ وہابی نہیں ہیں ۔  آپ کو مؤحد ہونے کے لئے وہابی یا سلفی ہونے کی ضرورت نہیں ۔۔۔سلطان شاہین ، ایڈیٹر،  نیو ایج اسلام

--------------------------------------------------------------------

وہ حالتیں کہ جن میں کفار کے عام لوگوں کا قتل جائز ہوتا ہے   (6 ویں قسط)

شیخ یوسف العییری رحمۃ اللہ تعالیٰ

ایسے معصوم الدم لوگ (عورتیں ، بچے ، بوڑھے کہ جن کا قتل کرناحرام ہے) انہیں اس صورت میں قتل کرنا جائز ہے جب وہ مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھالیں یا ایسے کام سر انجام دیں جو مسلمانوں کے خلاف لڑائی میں معاونت کا کردار ادا کریں۔ خواہ یہ جاسوسی کرنا، امداد دینا ، رائے دینا یااسی طرح کے دوسرے امور میں شرکت کرنا ہو .... اس جواز کی علے اُس حدیث مبارکہ میں بیان ہوئی ہے جو احمد اور ابو داؤد میں رباح بن ربیع سے روایت کی گئی ہے ۔

اُنہوں نے کہاکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایک جگہ اکٹھے ہوتے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا کہ دیکھو یہ لوگ کیوں اکٹھے ہوئے ہیں؟ وہ آدمی حالات دیکھ کر واپس آیا او رکہا کہ وہاں ایک عورت کو قتل کردیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو لڑنے کی اہل نہ تھے ۔ راوی کہتے ہیں کہ اس لشکر کے ہر دل دستے پر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مامور تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا کہ خالد سے کہو کہ کسی عورت کو قتل کرے اور نہ کسی مزدور کو ۔

امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے فتح الباری جلد 6 صفحہ 148میں فرما یا کہ

‘‘ اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر وہ لڑائی کرے تو قتل کیے  جائیں گے’’ ۔

امام نوری رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح مسلم کی شرح میں لکھا ہے کہ

‘‘ علما کا اس حدیث پر عمل کرنے او ر عورتوں او ربچوں کے قتل کی حرمت پر اس صورت میں اجماع ہے کہ اگر وہ لڑائی نہ کریں۔ لیکن اگر وہ بھی لڑیں تو جمہور علما کا کہنا ہے کہ اس صورت میں اُنہیں قتل کیا  جائے گا ۔ اسی طرح ہر اُس شخص کا قتل کرنا حرام ہے جو لڑنے والوں میں سے نہ ہو، ہاں اگر وہ حقیقت میں لڑے ، یا رائے دے کر یاد شمن کی اطاعت کر کے اور لڑائی پر دشمن کو برا نگیختہ کر کے اور اسی قسم کے کسی دوسرے طریقے سے معنوی لڑائی میں حصہ لے تو اُسے قتل کیا جائے گا’’ ۔

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول پر غور کیجئے کہ ‘‘ وہ حقیقت میں لڑے یا رائے دے کر اور (دشمن) کی اطاعت کر کے اور (دشمن کو ) لڑائی پر ابھار کر یا اسی قسم کے دوسرے طریقے سےمعنوی طور پر لڑائی میں حصہ تو اُسے قتل کیا جائے گا’’ ۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ السیاسۃ الشرعیہ میں فرماتے ہیں کہ

‘‘ رہے وہ لوگ کہ جو جنگ جوؤں او رلڑنے والوں میں شمار ہوتے جیسے عورتیں ، بچے ، راہب (پادری )، بوڑھا شیخ ، دائمی نا بینا اور ان جیسے دوسرے تو جمہور علما کے نزدیک اُنہیں قتل نہیں کیا جائے گا ۔ ماسوائے اس کے کہ وہ اپنے قول یا فعل سے لڑیں’’۔

یہ بات اور امام نووی رحمۃ اللہ علیہ کی بات ا س حقیقت پر دلالت کرتی ہے کہ جن لوگوں کا قتل قصداً حرام ہے ، وہ اگر مسلمانوں کے خلاف جنگ میں اپنے قول یا فعل کے ذریعے مدد کریں تو اُنہیں قتل کرنا جائز ہے۔

العون کے مولف نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان ‘‘ اللہ کا نام لے کر نکلو، اور اللہ کے نام کے ساتھ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملت پر ہوتے ہوئے ،بہت زیادہ بوڑھے شخص کو قتل نہ کرو، نہ بچے کو ، نہ چھوٹے کو ، نہ عورت کو اور نہ نلنیمتوں میں خیانت کرو’’ کی شرح کرتے ہوئے لکھا :

‘‘مگر یہ کہ ہو لڑنے والا ہو یا دشمن کو رائے دینے والا، کیو نکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دریدبن الصمۃ کو قتل کرنا صحیح حدیث سے ثابت ہے حالانکہ اس کی عمر ایک سوبیس سال تھی یا اس سے بھی زیادہ .... اس لیے کہ اُسے ہوازن قبیلے کے لشکر میں رائے دینے کے لیے لایا گیا تھا اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ‘‘ نہ بچے کو نہ چھوٹے کو ’’ اس سے اُسے مستثنیٰ کیا گیا ہے جو بادشاہ ہو یا لڑائی میں براہ راست حصہ لینے والا ہو ۔ ‘‘ نہ کسی عورت کو ’’ یعنی اگر وہ لڑنے والی نہ ہو یا ملکہ نہ ہو’’۔

فقہا نے ایسی عورت کے قتل کو جائز کہا ہے جو مسلمانوں کے خلاف لڑائی میں کفار کی مادی یا معنوی کسی بھی قسم کی اعانت کرے۔ انہوں نے اس کے لیے رسول اللہ صلی  اللہ علیہ وسلم  کی ابن ماجہ  میں مروی حدیث سے استدلال کیا ہے کہ جب  رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا تو ایک عورت قلعے پر چڑھی اور اس نے مسلمانوں کے سامنے شرم گاہ کو ننگا کردیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہارے سامنے ہے اسے تیر مار و تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے تیر مارا او راُسے قتل کر ڈالا ۔ فقہانے ایسی عورت کے قتل کے جواز پر استدلال کیا ہے جو کہ اگر چہ لڑائی نہ کرے مگر جنگ کرنے والوں کی مسلمانوں کے خلاف کسی قول یا فعل سے اعانت کرے تو اُسے قصداً قتل کرنا حرام ہے۔

علامہ ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ نے المغنی و الشرح جلد 9 صفحہ 232 میں فرمایا :

‘‘اگر کوئی عورت کفار کی صف میں یا اُن کے قلعے میں کھڑی ہوکر مسلمانوں کو گالیاں دے یا اُن کے سامنے ننگی ہوجائے تو اُسے قصداً مارنا جائز ہے ۔جس کی وجہ وہ روایت ہے کہ جس میں سعید نے کہا کہ ہمیں حماد بن زید نے بیان کیا کہ ایوب سے اُنہوں نے عکر مہ سے انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف والوں کا محاصرہ کیا تو ایک عورت ظاہر ہوئی اور اس نے اپنی شرم گاہ کو ننگا کردیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہارے سامنے ہے، اُسے تیر مارو تو مسلمانوں میں سے ایک مسلمان نے تیر مار ا اور اُن کا تیر اُس عورت کی شرم گاہ پر جا لگا ۔ اس حالت میں اُس عورت کی شرم گاہ کی طرف اُس پر تیر مارنے کے لیے دیکھنا جائز ہے کیو نکہ یہ تیر چلانے کی ضرورت کی غرض سے ہے ۔ اسی طرح اُسے تیر مارنا اس وقت بھی جائز ہے جب وہ دشمنوں کے لیے تیر اکٹھے کرے یا اُنہیں پانی پلائے یا انہیں لڑائی پر ابھارے کیو نکہ یہ اس صورت میں جنگ جو کے حکم میں ہے۔یہی اس عورت کا او رتمام اُن لو گوں کا شرعی حکم ہے جن کے قتل سے منع کیا گیا ہے’’۔

امام ابن عبد البررحمۃ اللہ علیہ نے الا ستذ کار میں فرمایا :

‘‘ علما کا اس کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ جو عورتوں او ربوڑھوں میں سے لڑے تو اس کا قتل کرنا جائز ہے اور بچوں میں جو لڑنے کی قدرت رکھے او رلڑے تو اُسے بھی قتل کیا جائے گا’’۔

امام ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ نے التمہید میں کہا کہ

‘‘ علما کا اس بات پر اجماع ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درید بن الصمۃ کو حنین کے روز قتل کیا تھا کیونکہ وہ جنگ میں مشورہ دینے والا اور سازش کرنے والا تھا ۔ لہٰذا بوڑھوں میں سے جو کوئی بھی اس طرح کا ہوتو سب علما کے نزدیک اُسے قتل کیا جائے گا’’۔

ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسی بات پر علما کا اجماع نقل کیا ہے کہ

‘‘عورتوں ، بچوں او ربڑی عمر کے لوگوں کا قتل ایسے وقت میں جائز ہے کہ جب وہ لڑائی میں اپنی قوم کی کسی بھی قسم کی اعانت کریں’’۔

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے مسلم کی شرح میں کتاب الجہاد میں یہ اجماع نقل کیا بہے کہ ‘‘کفار کے ایسے بوڑھے جو صاحب الرائے ہو اُنہیں قتل کیا جائے گا’’۔

(جاری)

ماخز: نوائے افغان جہاد  (دسمبر، 2012 )

URL for English article: https://www.newageislam.com/radical-islamism-and-jihad/taliban-fatwa-on-terrorism-that-needs-to-be-refuted--circumstances-in-which-the-slaughter-of-common-people-among-infidels-is-justified-part-6/d/9527

URL: https://newageislam.com/urdu-section/taliban-fatwa-terrorism-/d/9520

Loading..

Loading..