New Age Islam
Wed Jul 08 2020, 06:40 PM

Urdu Section ( 9 Feb 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Subject Of Nahi (Prohibition) In Principle Of Islamic Jurisprudence to deal with the Question of ‘Jihad’- Part 3 اصول فقہ میں نہی کی بحث اور مسئلہ جہاد


غلام غوث صدیقی ، نیو ایج اسلام

قسط ثالث

نہی عن الافعال الحسیہ اور نہی عن الافعال الشرعیہ کے معنی ومفہوم کے بعد اب ان کے احکام اور جزئیات وتفصیلات کو مثالوں کے ساتھ پیش کرنا اپنے  موضوع کے لیے ضروری سمجھتا ہوں ۔

نہی عن الافعال الحسیہ کی مثالیں جیسے زنا ، شراب نوشی ، جھوٹ بولنا ، ظلم کرنا  وغیرہ جرائم سے قرآن وسنت میں نہی وارد ہوئی ہے اسی لیے ان سے نہی ، نہی عن الافعال الحسیہ سے  ہوگی ۔ نہی عن الافعال الحسیہ کا حکم یہ ہے کہ منہی عنہ (یعنی وہ چیز جس  کو کرنے سے شریعت نے روکا ہو) بعینہ وہ چیز ہوگی جس پر نہی وارد ہوئی ہے ، یعنی جس فعل سے نہی کی گئی ہے بعینہ اسی فعل سے روکنا مقصود ہ اور جب اسی فعل سے روکنا مقصود ہوتا ہے تو اس فعل کی ذات قبیح ہوگی ، لہذا اس صورت میں اس فعل کو قبیح لعینہ کہا جائے گا ۔اب جو چیز قبیح لعینہ  (یعنی جو اپنی ذات کے اعتبار سے قبیح ہو) ہوگی وہ فعل کبھی بھی مشروع (جائز) نہیں ہوگا، مثلا زنا ، شراب نوشی، ظلم ودہشت گردی ، کسی آزاد انسان کی خرید وفروخت کرنا  وغیرہ ایسے افعال حسیہ ہیں جو اپنی ذات کے اعتبار سے قبیح ہیں، یعنی اس کی ذات میں برائی ہوتی ہے جو برائی اس سے کبھی جدا نہیں ہو سکتی ،  لہذا کسی بھی صورت میں  یہ افعال  اصلا مشروع نہیں ہوں گے۔

تاہم اصولیین نے افعال حسیہ کے حکم میں اس بات کا بھی اضافہ کیا ہے کہ اگر کوئی ایسی دلیل آجائے جس سے یہ معلوم ہو جائے کہ فعل حسی بھی   ذات کے اعتبار سے قبیح نہیں بلکہ غیر کی وجہ  سے قبیح ہے یعنی دلیل ایسی ہو  جو یہ بتائے کہ وہ فعل حسی ذات کے اعتبار سے مشروع ہے مگر وصف کے لحاظ سے غیر مشروع ہے ،  تو اس فعل کو بھی قبیح لغیرہ کہا جائے گا ، مثلا حالت حیض میں شوہر کا بیوی سے وطی کرنا ، تو یہ استثنا کی صورت ہے جس میں وطی کرنا ایسا فعل حسی ہے جو قرآن کی دلیل  (قل ھو اذی) کی وجہ سے قیبح لغیرہ ثابت ہے   نہ کہ قبیح لعینہ۔ 

 نہی عن الافعال الشرعیہ کا معنی ومفہوم پہلے بیان ہو چکا ۔ عید الاضحی میں روزہ رکھنا ، اوقات مکروہہ میں نماز پڑھنا ، ایک درہم کو دو درہم کے بدلے بیچنا ، وغیرہ ایسے افعال  شرعیہ ہیں جن کو کرنے سے شریعت نے منع کیا ہے ، اسی وجہ سے ان سے نہی کو نہی عن الافعال الشرعیہ کہا جاتا ہے ۔نہی عن الافعال الشرعیہ کا حکم یہ ہے کہ  منہی عنہ  (یعنی جس چیز سے نہی کے ذریعے روکا جائے)  اس چیز کے علاوہ ہوتا ہے جس کی طرف نہی کی نسبت کی گئی ہے تو وہ منہی عنہ  حسن لنفسہ یعنی اپنی ذات کے اعتبار سے اچھا ہوتا ہے  اور قبیح لغیرہ یعنی کسی غیر کی وجہ سے قبیح (برا) ہوتا ہے ، لہذا ایسے فعل کو کرنے والا ایسے حرام کام کا کرنے والا (مرتکب)  ہوتا ہے جو کسی غیر چیز کی وجہ سے حرام ہے لیکن اپنی ذات کے اعتبار سے حرام نہیں۔جیسے روزہ رکھنا ایک فعل شرعی ہے جو اپنی ذات میں بہت مبارک فعل ہے مگر ایام نحر میں روزہ رکھنا  اللہ تعالی کی میزبانی کو ٹھکرانے کے مترادف ہے ، اور اسی طرح نماز بھی ایک فعل شرعی ہے  جو اپنی ذات میں عبادت ہے ، ایک مبارک عمل ہے، مگر مکروہ اوقات کی وجہ سے ممنوع ہے  تو برائی نماز کی ذات میں نہیں بلکہ اس کے غیر میں یعنی مکروہ وقت میں ہے جس کی وجہ سے اس وقت میں نماز ممنوع ہے ، یہی وجہ ہے کہ  نہی عن الافعال الشرعیہ اپنی اصل میں ، اپنی ذات میں ہمیشہ اچھی ہوتی ہیں لیکن اپنے غیر کی وجہ سے ممنوع ہوتی ہیں، تو معلوم یہ ہوا کہ جس سبب کی وجہ سے افعال شرعیہ ممنوع ہوئی ہیں اگر وہ سبب جدا ہو جائے تو نہی بھی اٹھ جائے گی مگر افعال حسیہ سے نہی کبھی جدا نہیں ہو سکتی ۔

نہی عن الافعال الشرعیہ کے مسئلے میں مفہوم یہ نکلتا ہے کہ افعال شرعیہ سے نہی در حقیقت  ان افعال کے فی ذاتہ جواز  ومشروعیت کی سند ہوتی ہے ۔تو اس صورت میں شریعت کا یہ  کہہ کر نہی وارد کرنا  کہ  ‘‘لا تصوموا في هذه الأيام فانھا ایام اکل وشرب ’’ یعنی ان دنوں میں روزہ نہ رکھنا کیوں کہ یہ ایام کھانے اور پینے کے ہیں ’’ اس بات کی طرف مشیر ہے کہ  روزہ جیسی پسندیدہ عبادت کو ایام نحر میں بجا لاکر اس کے حسن  وخوبصورتی کو داغدار نہ کرو ۔ یونہی تین  اوقات مکروہہ (طلوع شمس ، استواء شمس اور غروب شمس  کے وقت)میں  شریعت کا  نماز جیسی بہترین عبادت کو نہ پڑھنے کا حکم دینا یہ مفہوم رکھتا ہے کہ نماز جیسی اعلی چیز کو مکروہ وقت میں ملوث کرکے اس کی قدر وقیمت نہ گھٹاو۔

افعال شرعیہ پر نہی وارد ہونے کے بعد ان افعال کی مشروعیت باقی رہتی ہے یا نہیں ؟ اس میں احناف اور شوافع کے درمیان اختلاف ہے ۔امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک افعال شرعیہ سے نہی وارد ہونے کے بعد وہ افعال بالکل مشروع نہیں رہتے یعنی ذات اور وصف دونوں اعتبار سے غیر مشروع رہتے ہیں گویا وہ اسی طرح ہو جاتے ہیں جس طرح افعال حسیہ سے نہی وارد ہونے کے بعد وہ افعال بالکل مشروع نہیں رہتے ۔اس کے بر عکس امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک افعال حسیہ سے نہی وارد ہونے کے بعد وہ افعال حسیہ تو بالکل مشروع نہیں رہتے لیکن افعال شرعیہ سے نہی وارد ہونے کے بعد بھی ان افعال کی مشروعیت باقی رہتی ہے اور ان کا کرنے والا حسن لذاتہ اور قبیح لغیرہ کا  ارتکاب کرنے والا شمار ہوتا ہے ۔اس کا لب لباب یہ ہے کہ افعال شرعیہ جس طرح نہی سے پہلے مشروع تھے اس طرح نہی کے بعد بھی مشروع رہیں گے، البتہ جو نہی وارد ہوئی وہ  ذات کے اعتبار سے نہیں بلکہ غیر کی وجہ سے ہے تو غیر کی وجہ سے ہی اس مشروع فعل سے روکنا مقصود ہوتا ہے ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ افعال شرعیہ نہی کے بعد بھی اگر بالکل مشروع نہ رہیں تو یہ فعل شرعی بندے کی قدرت اور اختیار میں بھی نہ رہے گا اور بندہ اس فعل شرعی کو کرنے سے عاجز ہو جائے گا  اور اس صورت میں فعل شرعی کی نہی عاجز کے لیے نہی ہو جائے گی اور عاجز کو منع کرناا یک  فعل عبث ہے  اور شریعت کی طرف فعل عبث محال ہے ۔لہذا افعال شرعیہ کا نہی کے بعد مشروع نہ رہنا محال کو مستلزم ہونے کی وجہ سے محال ہے تو بات ثابت ہو گئی کہ افعال شرعیہ نہی کے بعد اسی طرح مشروع رہیں گے جس طرح وہ نہی سے پہلے مشروع تھے۔لیکن یہ بات ضرور یاد رکھیں کہ افعال شرعیہ نہی کے بعد اپنی ذات کے اعتبار سے مشروع رہتے ہیں مگر اپنے کسی وصف یا غیر کے اعتبار سے غیر مشروع رہتے ہیں  اور یہ دونوں باتیں کسی ایک موقع پر جمع ہو سکتی ہیں۔

اس مضمون کی تفصیل اس طرح سمجھیں کہ اللہ تعالی انسان کو ان کاموں سے روکتا ہے یا نہی جاری فرماتا ہے جو اس انسان کے اختیار میں ہوں ۔جس چیز کا اس بندے کو اختیار اور قدرت ہی نہیں اس سے روکنا فعل عبث ہے جو اللہ تعالی کی شان کے لائق نہیں۔مثلا کسی اندھے سے کہنا کہ کسی عورت کو بری نظر سے نہ دیکھو ، تو یہاں بری نظر سے دیکھنے سے روکنا یا نہی کرنا یقینا فعل عبث  ہے ۔ہر کام کی قدرت وصلاحیت اس کے حال کے مطابق ہوتی ہے ، افعال حسیہ میں بندے کو قدرت واختیار یہ ہے کہ وہ  حسی طور پر ان کاموں کو انجام دے سکتا ہے  ، مثلا حسی طور پر اسے قدرت ہے کہ وہ جھوٹ بول سکتا ہے یا زنا کر سکتا ہے  مگر اس کے باوجود وہ اللہ رب العزت کی نہی پر نظر کرتے ہوئے جھوٹ بولنے یا زنا کرنے سے باز رہتا ہے  پھر یہی وہ سبب ہے جس کی وجہ سے  وہ اجر وثواب پاتا ہے ۔ اگر اس بندے کو کرنے یا نہ کرنے کی صلاحیت وقدرت ہی نہیں ہوتی تو کچھ ثواب بھی نہ پاتا، مثلا اندھے کو کسی عورت پر بری نظر ڈالنے سے باز رہنے کا کوئی ثواب نہیں کیونکہ وہ ایسا کر ہی نہیں سکتا ۔اسی طرح افعال شرعیہ میں قدرت واختیار یہ ہے کہ وہ کام فی ذاتہ اس لائق ہے کہ اسے انجام دیا جائے اور وہ کام اللہ تعالی کے نزدیک پسندیدہ عمل ہے مگر پھر بھی کسی خارجی وجہ سے کام سے روکا گیا ہے ۔اگر اس ذاتی حسن کا اور فی ذاتہ جواز ومشروعیت کا اعتبار ہی نہ کیا جائے تو وہ شرعی اختیار ہی ختم ہو گیا جس کی بنا پر نہی کی اتباع سے ثواب حاصل ہوتا ہے ۔لہذا اس وضاحت سے معلوم ہوا کہ افعال شرعیہ پر نہی وارد ہونے کے بعد بھی ان افعال شرعیہ کا مشروع ہونا ثابت ہے مگر چونکہ کسی غیر کی وجہ سے نہی وارد ہوئی ہے لہذا اس کا ارتکاب حرام کا ارتکاب کرنا ہوگا ۔ 

نہی عن الافعال الشرعیہ کے متعلق اتنی باتیں جان لینے کے بعد یہ سمجھنا آسان ہوگا کہ  جہاد کا لغوی معنی ہے جہد کرنا ، کوشش کرنا ، مجاہدہ کرنا ، یعنی لغت کے اعتبار سے غور کریں تو معلوم ہوتا ہے ہر وہ کام جس میں جہد کرنی پڑتی ہے وہ جہاد ہے ،مگر شرعی اعتبار سے اس کا مفہوم یہ نکلتا ہے کہ ہر وہ کام جو فی سبیل اللہ  کیے جائیں اور جس میں جہد ہو وہ جہاد ہے ، اب اس کا تعلق ہر شئ سے بنتا چلا جائے گا ، مثلا کسی نے قلم کا استعمال فی سبیل اللہ کیا یعنی اچھے کام کی طرف رغبت دلانے اور برے کاموں سے روکنے کے لیے  قلم کا استعمال کیا جائے تو یہ جہاد بالقلم ہوگا، اگر یہی کام زبان کے ذریعے ہو تو جہاد باللسان ہے ، یہی کام اگر نفس کے ذریعے ہو یعنی نفس کو فی سبیل اللہ یعنی اللہ کی رضا کے لیے  برائیوں سے روکنے میں انسان کو جو  جہد ومشقت کرنی پڑتی ہے اسی کا نام جہاد بالنفس ہے، اسی طرح دور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں ظلم وبربریت کے خلاف جو جنگیں تلوار سے لڑی گئیں اس میں جو جہد ومشقت کا سامنا کرنا پڑا اسی کو جہاد بالسیف نام دیا گیا ۔نتیجہ یہ نکلا کہ لغت کے اعتبار سے جہاد کا معنی صرف جہد کرنا  معلوم ہوتا ہے لیکن شریعت کے بتانے سے جہاد کا یہ مفہوم بنا کہ فی سبیل اللہ جو جہد ومشقت کی جاتی ہے اسے بھی جہاد کہا جاتا ہے ، خواہ وہ کسی بھی اعتبار سے ہو، زبان سے ، قلم سے ، نفس وغیرہ سے۔ گویا جہاد اصطلاح شرع میں ہر وہ  فعل  ہے جو فی سبیل اللہ کیا جاتا ہے ۔اس مفہوم کے بعد جہاد کی مختلف اقسام کو بآسانی سمجھ سکتے ہیں ، جیساکہ اوپر گزرا ، جہاد بالقلم ، جہاد بالنفس ، جہاد باللسان وغیرہ ۔

جہاں تک بات جہاد بالسیف یا جہاد بالقتال کی ہے تو اگرچہ علمائے کرام اسے  شرعی فعل مانتے ہوں لیکن ان کے نزدیک جہاد کے شرائط بھی بیان ہوتے ہیں ، مثلا اسلامی اسٹیٹ  کا ہونا ، حاکم کا ہونا ، حاکم کی حکومت پر مسلمانوں کا اتفاق رائے رکھنا ، ظلم وبربریت، جان ، دین  ، عزت وآبرو کے تئیں فی سبیل اللہ اعلانیہ لڑنا  وغیرہ شرائط سے مشروط۔

لیکن میرے ذہن میں ایک سوال جو نہی عن الافعال الشرعیہ کے ضمن میں آیا وہ یہ کہ جب  جہاد میں اعتدا یعنی حد سے زیادہ بڑھنا ، مثلا بے گناہوں کا قتل عام کرنا ، فساد برپا کرنا ، عورتوں ، بوڑھوں اور  بچوں کا قتل عام  جیسے افعال ممنوعہ پایا جائے  یا جہاد کے شرائط کے مفقود کی وجہ سے فساد کا سبب ہونا  وغیرہ افعال پا لیے جائیں تو اگرچہ جہاد بالقتال ظلم کے خلاف ایک فعل شرعی ہے جو اپنی ذات کے اعتبار سے حسن ہے، اچھی چیز ہے  لیکن اپنے غیر کے اعتبار سے یعنی دوسرے اسباب واوصاف کے اعتبار سے قبیح ہوں گے یا نہیں؟  جس طرح اوقات مکروہہ میں نماز  پڑھنے سے منع کیا گیا تاکہ نماز جیسی بہترین عبادت کی قدر وقیمت گھٹانے کا کسی موقعہ نہ مل سکے ، جس طرح روزہ جیسی عظیم عبادت کو ایام نحر میں رکھنے سے باز رکھا گیا ، اسی طرح جہاد جیسی بہترین چیز جس کا تعلق فساد فی الارض روکنا ہے ، ظلم وبربریت کا خاتمہ کرنا ہے  لیکن جہاد  کا استعمال دہشت گردی کو انجام دینے کے لیے کرنا یقینا قبیح فعل ہے ، جہاد کا استعمال  فساد فی الارض کرنے کے لیے کرنا یقینا قبیح فعل ہے ، بے گناہوں کا قتل عام کرنے کے لیے جہاد جیسے فعل شرعی  کا ارتکاب کرنا یقینا قبیح فعل ہے۔ نہی عن الافعال الشرعیہ کی بحث پر غور کرتے ہوئے  میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ  موجودہ دور کے دہشت گرد کا دعوی ہے کہ وہ   فی سبیل اللہ جہاد بالقتال کر رہے ہیں حالانکہ وہ شریعت کے ذریعے حرام کیے افعال کو بھی انجام دے رہے ہیں مثلا ،   اعتدا کرنا ، حد سے زیادہ بڑھنا ، بے گناہوں، بچوں ، بوڑھوں  اورعورتوں کا قتل عام کرنا اور فساد یا  موجودہ دہشت گردی  کا سبب بننا ، تو ایسی صورت میں ان کا جہاد قبیح لغیرہ ہے یعنی جہاد اس صورت میں اپنے غیر کی وجہ سے ، دیگر افعال واوصاف کے اعتبار سے برا عمل ہے، لہذا جہاد اپنی ذات میں حسن اور اپنے غیر کے اعتبار سے برا عمل ہے۔

میں اہل علم سے عرض کروں گا کہ وہ  میری اس زاویہ نگاہ پر روشنی ڈالیں  اور اگر یہ تحقیق درست ہے تو اس سے موجودہ دور میں کیچڑ اچھالنے جیسے سوالات کرنے والوں کا منھ بند  ہوگا ۔وکل توفیق من اللہ سبحانہ تعالی ، واللہ المستعان !

URL for Part-1: https://www.newageislam.com/urdu-section/ghulam-ghaus-siddiqi,-new-age-islam/subject-of-nahi-(prohibition)-in-principle-of-islamic-jurisprudence-and-its-significance-in-the-present-era--part-1-اصول-فقہ--میں-نہی-کی-بحث-اور-موجودہ-دور-میں-اس-کی-اہمیت-وافادیت/d/120908

URL for Part-2: https://www.newageislam.com/urdu-section/ghulam-ghaus-siddiqi,-new-age-islam/the-subject-of-nahi-(prohibition)-in-principle-of-islamic-jurisprudence-part-2--اصول-فقہ--میں-نہی-کی-بحث/d/120969

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/ghulam-ghaus-siddiqi,-new-age-islam/the-subject-of-nahi-(prohibition)-in-principle-of-islamic-jurisprudence-to-deal-with-the-question-of-‘jihad’--part-3--اصول-فقہ--میں-نہی-کی-بحث--اور-مسئلہ-جہاد/d/121020 

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Compose your comments here

Total Comments (5)


Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com

Total Comments (5)

  1. شکریہ ۔رمضان کے روزے کی نیت پر شافعی اور حنفی اختلافات کو مع دلائل بتائیے؟ رمضان کا روزہ لا یتجزی ہوتا ہے اور نفلی روزہ یتجزی ہوتا ہے ، اس کی وضاحت کیجیے، نیز لا صیام لمن لم ینو الصیام من اللیل والی حدیث پر جو شافعی اور حنفی اختلاف ہے اسے  بیان کیجیے۔روزے کو عبادت متفرقہ کیوں کہا جاتا ہے ؟  صوم رکن واحد ہے ، جبکہ نماز  اور حج میں ارکان ہیں ۔۔۔ان سب کی وضاحت کر دیجیے عین نوازش ہوگی ۔
    By Abdullah 11/02/2020 05:17:54
  2. وجوب  کی دو قسمیں ہیں: نفس وجوب  (۲) وجوب ادا

    کسی بھی چیز کا نفس وجوب اس چیز کے سبب کی وجہ سے ہوتا ہے  اور پھر اس کا وجوب ادا امر کی وجہ سے ہوتا ہے ۔آپ اسے اس مثال سے سمجھ سکتے ہیں  کہ ایک آدمی نے دوسرے سے کہا ‘‘اد ثمن المبیع’’ یعنی مبیع کی قیمت ادا کرو ۔یہاں نفس وجوب بھی ہے اور وجوب ادا بھی ، اس طور پر کہ مبیع (سامان جسے بیچا جا رہا ہے) کی قیمت خریدنے والے کے ذمہ میں عقد بیع کی وجہ سے ہی واجب ہو گئی ، لہذا عقد بیع  نفس وجوب کے لیے سبب ہوا اور چونکہ یہاں ‘‘اد ’’ یعنی ادا کرو، کا حکم بھی موجود ہے ، تو چیز پہلے سے ہی نفس وجوب ہے اسی وجوب کی ادائیگی کے لیے یہ حکم آیا ، لہذا یہ ادائے وجوب کہلائے گا ۔

    نماز  کے واجب ہونے کا سبب نماز کا وقت ہے ، تو وقت یہاں نفس وجوب کا سبب ہے ، روزے واجب ہونے کا سبب رمضان کے مہینے کا شہود ہے  لہذا رمضان کے مہینہ کا آنا روزے کے نفس وجوب کا سبب ہے ، مگر قرآن کریم کا حکم ‘‘اقیمو الصلوۃ ’’ یعنی نماز پڑھنا ، نماز کی ادائیگی کا سبب ہے یعنی وجوب ادا اس حکم کی وجہ سے آیا جو قرآن میں آیا ، اسی طرح رمضان  روزے کی فرضیت کا سبب رمضان کے مہینے کا شہود ہے جیساکہ آیت کریمہ ہے ‘‘فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ’’ یعنی جو تم میں سے مہینہ کو پائے تو وہ روزہ رکھے،  تو روزے کی فرضیت کا سبب تو رمضان کا مہینہ ہے لیکن مہینہ میں تو رات بھی شامل ہے اور دن بھی ، یعنی نفس وجوب تو ثابت ہو گیا تھا مگر وجوب ادا کے لیے ‘‘فلیصمہ’’ پر غور کرنا پڑا جو فعل امر کا صیغہ ہے ، اور صوم کہتے ہیں امساک کو یعنی  صبح صادق سے لیکر غروب آفتاب تک  کھانے پینے اور جماع سے باز رہنے کو صوم کہا جاتا ہے ، تو اس سے معلوم ہوا کہ وجوب ادا کا حکم ‘‘فلیصمہ ’’ سے ثابت ہے ، یہی وجہ کہ رمضان کا ہر دن روزہ  کی ادائیگی کا سبب ہے ۔

    امید ہے آپ نفس وجوب اور وجوب ادا کا فرق سمجھ گئے ہوں گے                               
    By Ghulam Ghaus Siddiqi غلام غوث الصديقي 11/02/2020 04:24:12
  3. Dear Zain, there is no controversy in the subject that you mentioned in your comment. Fasting in the month of Ramazan is a definitive obligation (Farz) due to the texts of the Quran, “Fasts have been prescribed for you”. For something to become Farz, it is required to have definitive textual evidence (qati al-thubut) as well as definitive textual implication (qati al-dalalat). Here in this case of fasting, we find that the fasting has been prescribed by the Quran (Note: each of the Quranic verses functions as definitive textual evidence as there is no doubt in the Quran). As for textual implication, the meaning of fasting is very clear and unanimously accepted to have the same meaning. The same is the work of the definitive textual implication. Therefore we find that a consenus has taken place about the definitiveness of this obligation.

    The subject of a vow (nadhr) is Wajib (lesser than Farz in rank) due to the Quranic verse, “Then let them abide by their vows”. Your question lies here that when the command comes to make something farz but why this

    The proof of vow is definitive because it is proven by the Quran but the subject of text has been subjected to restriction (takhsis) through evidences of different kinds of vows, therefore its implication is zanni (speculative) and not qatii (definitive).

    Among the different kinds of vows (mannaten), there are some which are exception to the ruling. For example, if someone vows to commit sins, it will not be necessary for him to fulfill his vow. After this, we analyze that this ruling is of the nature of Aam takhsisul baaz (general ruling where some parts are taken out) and only those vows are meant here the fulfillment of which are allowed. Hence after the implication specific for some kinds of vows, it is deduced that the fulfillment is Wajib and not Farz.

    By Ghulam Ghaus Siddiqi غلام غوث الصديقي 11/02/2020 03:56:33
  4. وجوب ادا او ر نفس وجوب میں کیا فرق ہے؟ دلائل کے ساتھ وضاحت کیجیے


    By Abdullah 11/02/2020 03:17:00
  5. GGS, fiqah is controversial. From the Quran it is said Roza is farz and from Quran it is said vows are Wajib, while both are proven by the texts of the Quran. How do you deal with such an issue?
    By Zain 11/02/2020 02:44:07