certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (20 Jun 2019 NewAgeIslam.Com)



Understanding Quran with Quranic Spirit – part -2 قرآن جا بجا خشیت اور خوف الٰہی کو مؤمنوں کا وصف بیان کرتا ہے


مصباح الہدیٰ قادری ، نیو ایج اسلام

14 جون 2019 

قرآن و سنت  اور احوال سلف صالحین کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ کے جو نیک بندے  اس دار فانی سے کوچ کر چکے ہیں یا جو اب بھی زندہ ہیں ان کے دل ہمیشہ حشیت الٰہی کے نور سے معمور رہتے ہیں اس لئے کہ سچی خشیت ہی معصیت سے کامل طہارت کی بنیاد ہے۔  لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جنہوں نے خود کو گناہوں سے پاک کر لیا ان کے لئے خشیت ایک بے معنیٰ شئی ہو گئی اور انہیں اب اللہ کا خوف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ قرآن کی تعلیمات سے یہ مستفاد ہوتا  ہے کہ نیک اور صالح بندوں کے لئے خوف اور خشیت الٰہی کی ضرورت اور اہمیت و افادیت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ اور بزرگان دین کی روش سے بھی یہی ثابت ہے ۔ چنانچہ فقیہ ابواللیث سمرقندی ایک عظیم بزرگ حضرت ربیع ابن خثیم رحمہ اللہ کے احوال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ذکر عن الربیع بن خثیم انہ کان لا یزال باکیاً خائفاً ساھراً باللیل ، فلما  رأت امہ مابہ من الجھد ، نادتہ: أقتلت قتیلا؟ قال: نعم - قالت: فمن ھو حتیٰ نطلب العفو من اولیائہ، فواللہ لو یعلمون ما تلقاہ لرحموک - قال: یا اماہ، قتلت نفسی۔(تنبیہ الغافلین للامام الفقیہ ابی اللیث نصر بن محمد الحنفی السمرقندی-ص ۳۰۵)

ترجمہ: منقول ہے کہ حضرت ربیع ابن خثیم رحمہ اللہ ہمیشہ غم آخرت میں گریاں اور خشیت الٰہی میں لرزہ بر اندام رہتے اور اسی عالم میں وہ ساری ساری رات بیدار رہ کر بسر کرتے ۔ جب آپ کی والدہ نے تسلسل کے ساتھ خشیت ربانی اور آپ کی گریہ و وزاری میں اس قدر شدت کا مشاہدہ کیا تو(آپ کا دل بھر آیا) اور آواز  لگا کر دریافت کیا بیٹے! کیا تجھ سے کسی کا خون ناحق ہو گیا ہے ( جس کے انجام کے خوف سے تو اس قدر پریشان ہے؟) آپ نے جواب دیا ہاں! تو ماں نے کہا مجھے بتا وہ کون ہے تاکہ ہم اس کے گھر والوں سے تیری معافی طلب کریں‘ اللہ کی قسم اگر انہیں تیری حالت زار کا علم ہو جائے تو وہ تجھ پر ترس کھائیں گے   تو حضرت ربیع ابن خثیم رحمہ اللہ نے کہا: ہائے میری ماں! میں نے خود اپنی ہی جان ہلاک کر رکھی ہے۔

قرآن فہمی کا زعم رکھنے والے بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ تقویٰ میں خوف  اور خشیت الٰہیہ کا مفہوم شامل نہیں ہے‘ انہیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ قرآن کے اندر یہ لفظ باضابطہ طور پر تقویٰ کا استعمال عمل میں ، اللہ سے ، قیامت اور حشر و نشر سے اور انجام بد سے خوف اور خشیت کے معنیٰ میں کیا گیا ہے، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ قرآن کے اندر خوف اور خشیت الٰہیہ کو نیک اور صالح بندوں کی وصف خاص کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔  مثال کے طور پر سورہ حج کی یہ آیت دیکھیں اللہ فرماتا ہے:

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ ۚ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ (1) يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَىٰ وَمَا هُم بِسُكَارَىٰ وَلَٰكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ (22:2)

اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہے - جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی اور ہر گابھ اپنا گابھ ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشہ میں ہیں اور نشہ میں نہ ہوں گے مگر ہے یہ کہ اللہ کی مار کڑی ہے۔

اس آیت نے واضح طور پر قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر کرتے ہوئے دوٹوک انداز میں اللہ سے ڈرنے کا حکم دیا ہے ۔ یہ آیت درس ہے ان لوگوں کے لئے جو تقویٰ کا معنی کچھ اور ہی بیان کرتے ہیں اور خوف و خشیت الٰہی کو اس کے معنیٰ سے جدا کرتے ہیں ۔  قرآن کے اندر وقی، تقی، یتقون ، تتقون ، اتقو  اور خشیت ، یخشون، تخشون جیسے الفاظ کا استعمال سیاق و سباق کے اعتبار سے مختلف معانی میں ہوا ہے۔  مثلا! درج ذیل آیتوں کو دیکھیں:

إِنَّ الَّذِينَ هُم مِّنْ خَشْيَةِ رَبِّهِم مُّشْفِقُونَ (57) وَالَّذِينَ هُم بِآيَاتِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَ (58) وَالَّذِينَ هُم بِرَبِّهِمْ لَا يُشْرِكُونَ (59)  وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوا وَّقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَىٰ رَبِّهِمْ رَاجِعُونَ (60) أُولَٰئِكَ يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَهُمْ لَهَا سَابِقُونَ (23:61)

بیشک وہ جو اپنے رب کے ڈر سے سہمے ہوئے ہیں - اور وہ جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان لاتے ہیں - اور وہ جو اپنے رب کا کوئی شریک نہیں کرتے۔اور وہ جو دیتے ہیں جو کچھ دیں اور ان کے دل ڈر رہے ہیںیوں کہ ان کو اپنے رب کی طرف پھرنا ہے - یہ لوگ بھلائیوں میں جلدی کرتے ہیں اور یہی سب سے پہلے انہیں پہنچے ۔

اللہ سے ڈرنا ایمان والوں کی ایک نشانی ہے

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (8:2)

ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ یاد کیا جائے ان کے دل ڈر جائیں اور جب ان پر اس کی آیتیں پڑھی جائیں ان کا ایمان ترقی پائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کریں۔

حاملان خشیت ربانی کے لئے دو جنتوں کی بشارت ہے

وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ (55:46)

اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لیے دو جنتیں ہیں ۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے پاس بھیجنے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ وہ اللہ سے ڈرے

اذْهَبْ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَىٰ (17) فَقُلْ هَل لَّكَ إِلَىٰ أَن تَزَكَّىٰ (18) وَأَهْدِيَكَ إِلَىٰ رَبِّكَ فَتَخْشَىٰ (19) فَأَرَاهُ الْآيَةَ الْكُبْرَىٰ (79:20)

کہ فرعون کے پاس جا اس نے سر اٹھایا - اس سے کہہ کیا تجھے رغبت اس طرف ہے کہ ستھرا ہو - اور تجھے تیرے رب کی طرف راہ بتاؤں کہ تو ڈرے - پھر موسیٰ نے اسے بہت بڑی نشانی دکھائی۔

اللہ کی نشانیوں سے ہدایت بھی انہیں ہی میسر ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں

فَأَخَذَهُ اللَّهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ (25) إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَن يَخْشَىٰ (79:26)

تو اللہ نے اسے دنیا و آخرت دونوں کے عذاب میں پکڑا - بیشک اس میں سیکھ ملتا ہے اسے جو ڈرے۔

جنت کی یقینی بشارت اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے ہے

وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ (40) فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ (79:41)

اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا -تو بیشک جنت ہی ٹھکانا ہے۔

پیغمبر کی دعوت و تبلیغ بھی انہیں پر کارگر ہے جو آخرت اور قیامت سے ڈریں

إِنَّمَا أَنتَ مُنذِرُ مَن يَخْشَاهَا (79:45)

تم تو فقط اسے ڈرا نے والے ہو جو اس سے ڈرے۔

جلالت خدا وندی اور اس کے عذاب سے ڈرنے والوں کے لئے قرآن میں بشارتیں ہیں

وَلَنُسْكِنَنَّكُمُ الْأَرْضَ مِن بَعْدِهِمْ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِي وَخَافَ وَعِيدِ (14:14)

اور ضرور ہم تم کو ان کے بعد زمین میں بسائیں گے یہ اس لیے ہے جو میرے حضو ر کھڑے ہونے سے ڈرے اور میں نے جو عذاب کا حکم سنایا ہے، اس سے خوف کرے ۔

شیطان سے ڈرنا بے ایمانوں کی علامت ہے اور اللہ کا خوف دل میں رکھنا شرط ایمان ہے

إِنَّمَا ذَٰلِكُمُ الشَّيْطَانُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءَهُ فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ (3:175)

وہ تو شیطان ہی ہے کہ اپنے دوستوں سے دھمکاتا ہے تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔

اللہ کا خوف رکھنا مطیع و فرمانبردار بندوں کی علامت

يَخَافُونَ رَبَّهُم مِّن فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ( 16:50)

اپنے اوپر اپنے رب کا خوف کرتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم ہو۔

جو اللہ سے ڈرتے ہیں ان کی علامت یہ ہے کہ قرآن سن کر ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اللہ کے ذکر میں ان کے دل نرم ہو جاتے ہیں

اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ (39:23)

اللہ نے اتاری سب سے اچھی کتاب کہ اول سے آخر تک ایک سی ہے دوہرے بیان والی اس سے بال کھڑے ہوتے ہیں ان کے بدن پر جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر ان کی کھالیں اور دل نرم پڑتے ہیںیادِ خدا کی طرف رغبت میںیہ اللہ کی ہدایت ہے راہ دکھائے اس سے جسے چاہے، اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں۔

اگر قرآن کسی پہاڑ پر نازل ہوتا تو وہ خوف الٰہی سے ریزہ ریزہ ہو کر ہواؤں میں تحلیل ہو جاتا، اور اس میں بھی عقلمندوں کے لئے نشانی ہے

لَوْ أَنزَلْنَا هَٰذَا الْقُرْآنَ عَلَىٰ جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللَّهِ ۚ وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ (59:21)

اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارتے تو ضرور تو اسے دیکھتا جھکا ہوا پاش پاش ہوتا اللہ کے خوف سے اور یہ مثالیں لوگوں کے لیے ہم بیان فرماتے ہیں کہ وہ سوچیں۔

ایمان والوں کے لئے وقت آچکا ہے کہ ان کے دل اللہ کے ذکر میں خشیت الٰہی سے جھک جائیں

أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ ۖ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ (57:16)

کیا ایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کییاد اور اس حق کے لیے جو اترا اور ان جیسے نہ ہوں جن کو پہلے کتاب دی گئی پھر ان پر مدت دراز ہوئی تو ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں بہت فاسق ہیں۔

URL for Part 1: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/understanding-quran-with-quranic-spirit-–-part--1--قرآن-کی-تعلیم-اور-خشیت-الٰہی-کی-ضرورت/d/118878

 

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/understanding-quran-with-quranic-spirit-–-part--2--قرآن-جا-بجا-خشت-اور-خوف-الٰہی-کو-مؤمنوں-کا-وصف-بیان-کرتا-ہے/d/118933

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism





TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content