certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (29 Mar 2012 NewAgeIslam.Com)



A Brief History of Modernity جدیدیت کی ایک مختصر تاریخ

 

آکار پٹیل

(ترجمہ‑ سمیع الرحمٰن،  نیو ایج اسلام)

19 مارچ، 2012

جدیدیت کی تاریخ تقریباً اس طرح پڑھی جاتی ہے۔ عیسیٰ مسیح سے  500 سال قبل، بدھ کے زمانے کے آس پاس دنیا ایک لاعلمی کا مقام تھی۔ اس زمانے میں سائنس بہت کم تھا۔ اس کی وجہ اس کا اقتدار کے ماتحت ہونا تھا۔ اور پھر عیسیٰ سے قبل 5ویں صدی میں،  پتہ نہیں کہاں سے، یونان نے ایک معجزہ پیدا کیا۔

غیر معمولی ذہانت  والی کئی شخصیتیں جو اپنی تعلیم کے شعبے میں بے مثال تھیں،  دنیا کے سامنے آئیں۔  دنیا کے پہلے مئورخ ہیروڈدوٹس ( Herodotus)  نے عیسیٰ سے 480 سال قبل کے آس پاس مصر، فارس اور ہندوستان کے عجائب پر ایک کتاب لکھی۔ ان کے بعد جنگ کے مؤرخ تھوسی ڈائڈس (Thucydides ) آئے۔  پھر ژینوفون ( Xenophon) آئے جو ایک سکالر اور ایک بھاڑے کے فوجی تھے جنہوں نے فارس میں جنگ لڑی تھی۔ انہوں نے اقتصادیات پر پہلی کتاب لکھی۔

اسی زمانےکے دوران ہپّو کریٹس (Hippocrates ) نے ادویات پر ایک مقالہ لکھا۔ صرف 50,000 کی آبادی والے شہر ایتھنز نے عظیم فلسفیوں سکرات اور افلاطون کوپیدا کیا۔ فلسفہ کا مطلب حق اور عقل سے محبت کرنا ہے، اور یہ لوگ اعلیٰ قسم کے آزاد مفکّر تھے۔ یوکلڈ ( Euclid ) نے علم بندسہ  (Geometry) دریافت کیا، جبکہ مغرب کے لئے پائتھا گورس ( Pythagoras ) نے تھیورم  (Theorem) اور موسیقی کے اصول پیش کئے تھے۔ ایتھنز میں جدید تھیٹر نے نشو نما حاصل کی اور اس کے تین المیہ ادارکار ایس چیلس (Aeschylus )، سوفوکلس (Sophocles)، اور یوری پھائڈس (Euripides) و مزاحیہ اداکار ارسٹوفینس (Aristophanes) تھے۔

اس زمانے میں ایتھنز نے جمہوریت کو بھی دریافت کیا، اور یہ پہلی مرتبہ تھا کہ عوام نے ان لوگوں کو منتخب کیا جو اس پر حکمرانی کریں گے۔ مزید اہم بات یہ ہے، عوام ہی طے کریں گے کہ کو ن قانون کی تشریح کرے گا۔اس زمانے مین ججوں کی جماعت بنائی گئی۔  ارسطو، جنہوں نے افلاطون کی سرپرستی میں تعلیم حاصل کی،  انہوں نے منطق اور درجہ بندی کا نظام تیار کیا اور جدید سائنس اور حیاتیات کو تشکیل دیا۔ اس زمانے کے یونان میں علم کائنات، فلکیات، اور یہاں تک کہ جوہری اصول درج کئے گئے اور ان پر تحقیق کی گئی اور اسے پڑھایا بھی گیا۔

یونانیوں نے تخلیق کے بارے میں غور و فکر کیا۔ ان لوگوں نے اپنے آپ سے پوچھا کہ ہر چیز کی اگر ایک وجہ ہو تی تھی، تو کس طرح کائنات، اور بے شک خدا کا وجود کیسے بغیر کسی کے آگے بڑھائے سامنے آ سکتا ہے؟ عیسیٰ سے قبل چوتھی صدی میں ارسطو کے شاگرد سکندر اعظم نے مصر پر فتح حاصل کی۔ اس کے بعد سب سے بہترین يونانی دماغ اسکندریہ میں منتقل ہوئے تاکہ سائنسی علوم کو مذید بہتر کیا جا سکے۔ روم کے آگے بڑھنے کے بعد ایتھنز اور یونان کی تنزلی میں تیزی آئی۔

اگرچہ رومی یونانیوں کا احترام کرتے تھے، اور بہت سے رومی مئورخین نے یونانی زبان میں لکھا ہے،  لیکن وہ خود علم کے مقابلے میں فتح حاصل کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے۔ روم کی تنزلی چوتھی صدی عیسوی میں عیسائیت کے نمودار ہونے سے قبل ہی شروع ہو گئ تھی، اور 7ویں صدی عیسوی میں اسلام کے ظہور کے وقت تک روم کا وجود ختم ہو گیا تھا۔ چرچ نے یو نانیوں کی طرح کائنات کی نو عیت پر آزادانہ طور پر غور و فکر کی اجازت نہیں دی۔  اس نے بائبل کے سچ، کنواری ماں سے بچوں کی پیدائش، جادوئی سیب، اولاد معبود اور ایک ہزار کی عمر والے انسانوں کے بارے میں اصرار کیا۔ وہ لوگ جنہوں نے مختلف نظریات پیش کئے انہیں ملحد ہونے کی وجہ سے جلا دیا گیا۔  پورے یوروپ میں سائنس کی تنزلی ہوئی اور تمام بہترین ذہن پادریوں کے فرقہ میں شامل ہو گئے،  یہاں  دولت تھی، کیونکہ اس زمانے میں چرچ سب سے زیادہ طاقتور ادارہ تھا۔

جب بائبل کا ترجمہ لا طینی زبان میں ہو گیا تو  اس وقت  یہ بھی ہوا کہ یونانی زبان کی بھی تنزلی ہوئی۔ يونانی سائنس يونانی مسودات میں درج تھا، جن میں سے زیادہ تر کھو گئے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جو یوروپ کا دور جہالت کہلایا، کئی صدیوں تک علم کی تنزلی ہوئی۔ اس کے بعد کچھ غیر معمولی ہوا۔

11 ویں صدی میں  چرچ کے ایک گروپ جنہیں معلّمین کہا گہا، انہوں  نے سائنس کا مطالعہ کرنا شروع کیا۔ انہوں نے ایسا چرچ پر غیر موافق اور غیر سائنسی ہونے  کے لگنے والے الزامات اور چرچ کی قدامت پسندی کے دفاع کے لئے کیا۔ ان کے مطالعے میں ارسطو بھی آئے جنہوں نے دوسری چیزوں کے علاوہ کائنات کے آغاز پر اپنا نظریہ پیش کیا۔ تھامس اکویناس نامی ایک زہین پادری نے سائنس کے مسئلے کو  سائنسی ذہن والے عیسائیوں کے اطمینان کے لئےحل کر دیا۔ ان کے مطابق،  خدا اس کائنات کا خالق ہے اور اس سے قبل کوئی مخلوق نہیں تھی۔ اکویناس نے کہا کہ وہ  ابدی اور بے پیکر تھا۔ اس بات کو کہنے میں انہوں نے ارسطو کے نظریہ سے ترغیب لی تھی۔ اس کے بہت بعد میں، تقریباً 15ویں صدی کے آس پاس چرچ،  افلاطون کا دلدادہ ہوگیا۔ اس کی تعریف تمام وقت کے سب سے بڑے فلسفی کے طور پر کی گئی، جس طرح کا احترام انہیں جدید دور میں دیا جاتا ہے۔ قدیم یونان کے ساتھ یہ رومانی بازیافت صرف فلسفہ، طب اور سائنس تک ہی محدود نہیں تھی۔ اٹلی کے شہر فلورنس میں اس نے شکل اختیار کی۔ یہاں ایک طاقتور کاروباری خاندان جسے میڈیسی کہا گیا اس نے آرٹ کی سرپرستی کرنا شروع کیا جس نے قدیم یونان کے تعمیراتی اور بت تراشی کے طرز اندز کو دوبارہ زندہ کیا۔ اور جس کے نتیجے میں ہمیں مائیکل انجیلو اور لیونارڈو ڈاونچی ملے۔  1550 میں، فن کے مؤرخ جیورجیو واساری نے یونانی ثقافت کے فن میں اس تجدید کو ایک نام دیا: دی رینیساں (The Renaissance)

یہاں سے ہم روشن خیالی میں داخل ہوئے جس نے اسکاٹ لینڈ میں فرانسس بیکن جیسے جدید فلسفیوں اور بعد میں انگلینڈ میں رائل سوسائٹی کے سائنسدانوں کو جنم دیا، اور ان لوگوں کو جنہوں نے جرمنی اور شمالی یورپ میں دوسری جگہوں پر مذہب کی اصلاح کی۔ اس طرح کہانی کا اختتام ہوا۔ جدید دنیا میں  خلائی سفر اور انٹرنیٹ کا آج زمانہ ہے۔ زیادہ تر لوگوں کے مطابق یہ وہ ترتیب ہے جس میں جدیدیت انسانی تاریخ میں آشکار ہوئی۔ اور کم یا زیادہ یہ اس طرح ہوئی۔

بطور مشرقی،  ہندو،  مسلمان کےکیا ہمیں اس ترتیب کو پاک مان کر قبول کر لینا چاہئے؟ کیا ہم جدید ثقافت کے وصول کنندگان ہیں یا صرف شرکاء؟ کیا اسے ترتیب دینے میں ہماری بھی شراکت ہے؟ اسے ہم اگلے ہفتے دریافت کریں گے۔

آکار پٹیل ہل روڈ میڈیا کے ڈائریکٹر ہیں۔ یہ ایک اخبار کے سابق مدیر ہیں، انہوں نے بھاسکر گروپ اور مڈ ڈے ملٹی میڈیا لمیٹڈ کے ساتھ کام کیا ہے۔

ماخذ: فرسٹ پوسٹ

URL for English article:

http://newageislam.com/islamic-history/aakar-patel/a-brief-history-of-modernity/d/6884

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/a-brief-history-of-modernity--جدیدیت-کی-ایک-مختصر-تاریخ/d/6950

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content