certifired_img

Books and Documents

Books and Documents (20 Feb 2014 NewAgeIslam.Com)



Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 12) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 12

 

 

 

 

 

 

خورشید احمد فارق

زکات

جہاں مدنی قرآن نے غنیمت  اور جزیہ کی شکل  میں مسلمانوں  کو دولت کے دو چشمے عطا کئے  وہاں ان کے با استطاعت افراد پر ایک مالی مواخذہ بھی عائد  کیا جسے اصطلاح میں زکات یا صدقات کہتے ہیں ۔ إنماالصَدَ قات للفقر اء و المساکین و العالمین علیھا والمؤ لفۃُ قلو بُھم و فی الرقاب و الغارمین فی سبیل اللہ و ابن السبیل فریضۃً من اللہ ۔ اس آیت کی رو سے زکات کے آٹھ مصرف ہیں۔ فقراء ( قلاش و بے روزگار مسلمان) ، مسا کین ( بگڑے ہوئے خود دار مسلمان ) ، محصل زکات : مؤلفۃ القلوب ، مکاتب غلاموں  کی زر مکاتب ادا کرنے کےلئے مالی مدد، نادار وں کے قرضے اور مالی مواخذوں کی ادائیگی  ، جہاد  او رمسافر محصلین زکات اور مؤ لفۃ القلوب  کے علاوہ  رسول اللہ عام طور پر زکات اصحاب  صُفہ قسم کے ان نادار مسلمانوں پر صرف کرتے تھے جو ہتھیار  ، سواری، زاد راہ یا بال بچوں  کا خرچہ نہ ہونے کے باعث جہاد کرنے سے قاصر تھے ۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں جب اسلام کے پیر مضبوط ہوگئے تو مؤ لفۃ القلوب کا حصہ ساقط کردیا تھا ۔ محدث شعبی،  انما کانت المؤ لفۃ قلو بھم علی عھد النبی فلما وبی ابو بکر انقطعت الرُّشی 1؎   مولفۃ القلوب کو عہد نبوی  میں حصہ دیا جاتا تھا، ابو بکر صدیق کا دور خلافت آیا تو یہ رشوتیں بند ہوگئیں ۔ اس بات کی وزنی شہادت  موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ  زکات کا بیشتر حصہ فوجی تیاریوں پر صرف کرتے تھے ۔ اپنے دونوں  پیش رووں کی طرح عمر فاروق بھی ضروری نہیں سمجھتے تھے کہ زکات کو مدنی قرآن کی مجوزہ مدوں پر جو ں کا توں  صرف کردیا جائے ، اسلام  کے سیاسی استعلاء  اور غیر مسلم اقوام پر اس کا اقتصادی تسلط  قائم کرنا ان کا سب سے بڑا مقصد تھا اور اس مقصد کے حصول کے لئے وہ غنیمت  اور جزیہ  کی طرح زکات کو بھی اپنی فوجی مشین مستحکم  بنانے پر صرف کرتے تھے ۔ عطا ء بن اَبی رَباح :

کان عمر یأ خذ الفرض من الصَدَ قۃ و یجعلھا نی صِنف واھد 1؎ ۔ عمر فاروق مفروضہ زکات وصول کر کے اسے صنف واحد یعنی جہاد پر صرف کرتے تھے۔

بڑی فتوحات کی غنیمت کے اعداد و شمار

فاروقی فوجوں نے دو تین سال کے مختصر عرصہ میں شام ، عراق اور فارس کا ایک بہت بڑا اور و سائل سے بھر پور علاقہ فتح  کر لیا  ، اس فتح  کے دوران ان کی فوجوں  نے دشمن  کے دیہاتوں ، قصبوں ، شہروں اور بازاروں  پر بیسیوں ترکتازیاں  کیں اور درجنوں معرکوں میں بڑی بڑی فوجوں کو زیر کیا ، اِن ترکتازیوں  اور فتوحات  کے نتیجہ  میں ان کے ہاتھ کثیر  مقدار میں مال غنیمت آیا، عربی روایت  نے اس غنیمت  کی مجموعی قیمت  رائج الوقت  سکوں میں محفوظ  نہیں رکھی لیکن اس کے گراں قدر ہونے کا اعتراف کیا ہے ۔ جن بڑی فتوحات سے حاصل شدہ غنیمت  کے اعداد و شمار رپورٹروں نے بیان کئے ہیں، ان میں سے تین کی تفصیل یہاں دی جاتی ہے:

(1) فتح قادسیہّ 14 یا 15 ؁ ھ ( عرب عراق سرحد)

(حصہ پانے والی) عرب فوج کی تعداد ۔ تیس ہزار

مالِ غنیمت  ۔ تیس کروڑ روپے ( ساٹھ کروڑ درہم)

خُمس ( مرکزی حصہّ) چھ کروڑ 2؎  ( بارہ کروڑ درہم)

خمس نکالنے کے بعد سوار کا حصہ ۔ تین ہزار ( چھ ہزار درہم)

پیادہ کا حصہ ۔ ایک ہزار 1؎ (دو ہزار درہم)

(2) فتح مدائن 16 ؁ ھ ( وسط عراق ، حکومت  فارس کا گرمائی  مستقر)

 عرب فوج کی تعداد ۔ ساٹھ ہزار سوار

 مال غنیمت  ۔ پینتالیس کروڑ (نوے کروڑ درہم)

سوار کا حصہ ۔ چھ ہزار ( بارہ ہزار درہم)

(3) فتح جَلُولا ء 16 ؁ ھ ( شمالی عراق میں مواصلات  کا سرحدی جنکشن )

 عرب فوج کی تعداد ۔ بارہ ہزا رسوار

 مال غنیمت  ۔ ڈیڑھ کروڑ ( تین کروڑ درہم)

 خُمس ۔ تیس لاکھ 3؎ ( ساٹھ لاکھ درہم )

سوار کا حصہ ۔ ساڑھے چار ہزار روپے اور نوجانور

عراق کے مذکورہ تین بڑے معرکوں کا خمس جس کی مقدار عربی روایت نے پندرہ کروڑ بتائی ہے خلافتِ فاروقی کے دو ڈھائی برس کے اندر اندر مرکزی خزانہ میں آجمع ہوا تھا خمس کے مزید حصے مختلف محاذوں  سے برابر مدینہ آتے رہتے تھے ، اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ شام و عراق کےبہت سے دیہاتوں اور شہروں کے نکل جانے کے باوجود وہاں کے حکومتوں  نے ہار نہیں مانی تھی اور کھوئے ہوئے علاقوں سےعربوں کو نکالنے کےلئے برابر مقابلے کررہی تھیں جن کے نتیجہ میں مختلف قلعہ بند شہروں اور محاذوں پر فاروقی فوجوں کی لڑائیاں جاری تھیں ، دوسری وجہ یہ تھی کہ مفتوحہ علاقوں بغاوتیں ہورہی تھیں جن پر فاروقی فوجیں فتح پا رہی تھیں او ر جگہ جگہ خود فاروقی مجاہد نئی فتوحات اور ترکتازیوں میں سر گرم عمل تھے ، ہر فتح اور ہر ترکتاز کے ثمرات سے مرکزی حکومت کو پانچواں حصہ ( خُمس ) ملتا تھا او رمدینہ کے خزانہ میں جمع ہو جاتا تھا خّمس کے علاوہ شام ، عراق اور میسوٹپامیہ سے جزیہ اور زر معاہدات کے پانچویں حصے بھی مرکزی خزانہ میں آنا شروع ہوگئے تھے ۔

URL for part 11:

http://newageislam.com/books-and-documents/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-11)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-11/d/35830

URL for this article:

http://newageislam.com/books-and-documents/khurshid-ahmad-fariq/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-12)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-12/d/35835

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content