New Age Islam
Tue Feb 24 2026, 09:52 PM

Muslims and Islamophobia ( 22 Nov 2009, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Love-Bomb, a new RSS weapon against innocent Muslim youths of Kerala: Jana Satta

Kerala facing a new danger

 

The South Indian state is being threatened with a new deadly weapon -- “Love-Bomb”

 

A Jana Satta editorial reproduced in Jadeed Khabar, Urdu Daily, Delhi

(Translated from Urdu by Raihan Nezami)

 

The Kerala High Court instructed the central government yesterday to investigate into the so-called allegation of conversion of the Hindu girls to Islam by Love-Jihad organization of Kerala. The home ministry will submit the finding report to the court in this matter. It has also ordered to investigate the influx of money for this project. Justice K. T. Shankaran has issued this order while hearing anticipatory bail petition of the two accused youths. They have been accused of forcing the college girls to convert to Islam and for being attached to Popular Front of India, a South-friendly organization. The Justice asserted on observing the case diary, “It seems there have been many cases like this, the organizations like “Love-Jihad” or “Romeo-Jihad” are the fabrications of a particular group of Muslims in Kerala”.

 

Recently in previous month, two parents had filed a writ petition in high court after their daughters were missing. The girls reported on being recovered that they had been kidnapped and were being forced to convert to Islam. After the girls were sent to the parents’ custody, the court asked the police to investigate into the matter as to how the girls are being enticed in love and being forced for conversion to another religion.

 

The concerned girls are the residents of Kochi and Trivanantpuram who studied in Pathan Mithqan College. One of them fell in love with her senior colleague and she wished to marry him. Her lover involved the other girl with his friend. The girls reported that they were taken to Malayapuram and given religious books; also they were shown the video of religious significance.  The police admitted that there have been certain cases of girls being trapped in love and forced into conversion. Some girls have been returned to their parents who did not file legal cases for fear of social embarrassment. According to sources, this organization is especially targeting the Hindu girls.

 

On the other hand, Naseeruddin Relaram, the organizer of Popular Front of India, denies any such claim. According to him, his organization is simply trying to strengthen Muslims. The conversion to any religion is no crime; the process of conversion is going on in all religions including Hinduism and Christianity. No one can attach love-affairs to terrorism in the name of conversion to another religion.

 

According to PTI, RSS has blamed the Muslims of Kerala that they are victimizing the Hindu girls by using a new weapon, “Love-Bomb” and converting them to Islam to use them as human bombs. According to a recent report in Organizer, the Campus front of NDF in Kerala involves innocent Hindu girls in love and converts them to Islam; later on, they include the converted girls in the Jihadi terrorist network.

 

RSS has claimed with reference to the police report that about 500 girls have disappeared in Kerala in the last two years. There are thirty girls reported missing in different police stations of the state every month. The converted girls are, later on, sent to Kashmir for the purpose of terrorist activities. They have blamed that despite various complaints lodged by different organizations, no action is yet taken against the production of Love-Bombs.

Courtesy: Jana Satta, Hindi daily, New Delhi  

Translated from Urdu by Raihan Nezami

Source: 5-10-09, Jadid Khabar

URL of this Page: https://newageislam.com/muslims-islamophobia/love-bomb,-new-rss-weapon/d/2121

’لو بم‘: مسلمانوں کے خلاف نیا ہتھیار

تعلیمی شہر حیدر آباد میں مسلم لڑکیوں کے ہندو لڑکوں کے ساتھ شادی کی خبر سیاہی ابھی خشک بھی نہیں ہو پائی تھی کہ آر ایس ایس کے نظریہ ساز وں او رپروپیگنڈہ بازوں نے کیرالا کے مسلم نوجوانوں کے خلاف افترا پردازی او راشتعال انگیز ی کی مہم شروع کردی ہے۔ کیرالہ کا نوجوان مسلم طبقہ پسند ہے او روہ اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ مذہبی سرگرمیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کی اس کوشش کے خاطر خواہ فائدہ بھی ہورہا ہے مگر شرپسنددماغ کو اچھی چیز بھی بری لگتی ہے تازہ شمارہ میں کیرالہ کی اس مسلم طلبہ تنظیم کے خلاف خوب زہر افشانی کی ہے۔ اس سلسلے میں ہندی اخبارات میں شائع ہونے والی ایک خبر کا ترجمہ ذیل میں ملاحظہ ہو جس سے اندازہ ہوگا کہ فرقہ پرست ذہنیت کس انداز میں سوچتی ہے۔(مدیر)

کیرالہ پرنیا خطرہ منڈلارہاہے۔ جنوبی ہند کی اس ریاست کو ’لو بم‘ جیسے نئے ہتھیار سے خطرہ ہے۔کیرالہ ہائی کورٹ نے گذشتہ روز مرکزی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ تین ہفتے کے اندر ’لوبم‘ تنظیم کی ریاست میں ہندو لڑکیوں کو مبینہ طور پر مسلمان بنائے جانے کے بارے میں رپورٹ دے۔کیرالا ہائی کورٹ نے اس بارے میں مرکز کے اہلکار سے اس بارے میں رپورٹ داخل کرنے کو کہا ہے۔ عدالت نے اس منصوبے کے لئے مہیا کرائی گئی دولت کی جانچ کرنے کے بھی احکامات دئے ہیں۔

اس سلسلے میں دونوں نوجوانوں کی پیشگی ضمانت عرضی پر غور کرتے ہوئے جسٹس کے ٹی شنکرن نے یہ حکم دیا۔ ان دونوں نوجوانوں پر کالج طالبات کو مذہب اسلام اختیار کر نے کے لئے مجبور کرنے کا الزام ہے۔ ان نوجوانوں پر پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے نام کی جنوب پسند تنظیم سے وابستہ رہنے کا الزام ہے۔ اس معاملے میں کیس ڈائری کو دیکھنے کے بعدجسٹس نے کہا، ایسا لگتاہے کہ ریاست میں ایسے کئی معاملے ہوئے ہیں۔ ’لو جہاد‘ یا رومیوں جہاد نامی تحریک کیرالا کے مسلمانوں کے ایک طبقہ کے دماغ کی تخلیق ہے۔ اس تحریک کا ارادہ دوسرے مذاہب کی لڑکیوں کو تبدیلی مذہب کر کے مسلمان بنانالگتا ہے۔

گذشتہ ماہ کے شروع میں دو لڑکیوں کے سر پرستوں نے اپنی بیٹیوں کی گمشدگی کے بعد ہائی کورٹ میں داخل کی تھی۔ لڑکیوں کے برآمد گی کے بعد بتایا کہ ان کا اغوا کرنے کے بعدانہیں اسلام مذہب قبول کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ لڑکیوں نے اپنے سرپستوں کے ساتھ جانے کی اجازت دینے کے بعد عدالت نے پولیس کو اس بات کی جانچ کے احکامات دیئے کہ کس طرح لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھنسا نے کے بعد تبدیلی مذہب پر مجبور کیا جارہا ہے۔

یہ لڑکیاں اصلاً کوچی اور تری ونت پورم کی رہنے والی ہیں۔ دونوں پٹھان متھنّان کالج کی طالبات ہیں۔ان میں سے ایک طالبہ نے کہا کہ اسے اپنے سینئر طالب علم سے محبت ہوگئی او روہ اس سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ اس طالب علم نے دوسری لڑکی کو اپنے دوست کے سپرد کردیا۔ لڑکیوں نے کہا کہ انہیں ملاپورم لے جاکر مذہبی کتب دی گئیں او رمذہبی اشتیاق والے مناظر دکھلائے گئے۔

پولیس افسران نے بھی تسلیم کیا کہ علاقے میں پیار کے جال میں پھنسا کر لڑکیوں کی زبردستی مذہبی تبدیلی کی کئیوراداتیں ہوچکی ہیں ان میں سے کئی لڑکیاں اپنے خاندان کے پاس لوٹ بھی چکی ہیں۔لیکن ان کے خاندان والوں نے سماجی بدنامی سے بچنے کے لئے ان وارداتوں کی رپورٹ درج نہیں کروائی۔ ذرائع نے کہا کہ یہ تنظیم عام طور پر ہندو خاندان کی لڑکیوں کو اپنا نشانہ بناتی ہے۔

دوسری طرف پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے قائد نصیر الدین ریلارم اس قسم کے کسی بھی الزام کو مسترد کرتے ہیں۔نصیر الدین کے مطابق ان کی تنظیم مسلمانوں کو مضبوط بنانے کے لئے کام کررہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تبدیلی مذہب جرم نہیں ہے۔ ہندو اور عیسائی فرقوں میں بھی تبدیلی مذہب کا عمل جاری ہے۔ کوئی بھی تبدیلی مذہب کے نام پر محبت کے تعلقات کو مذہبی دہشت گردی سے نہیں جوڑ سکتا ہے۔

دوسری طرف نئی دہلی میں ہندی خبر رساں اور ادارہ پی ٹی آئی کے مطابق آر ایس ایس نے الزام لگایا ہے کہ کیرالا میں جہادی ’لوبم‘ جیسے نئے ہتھیاروں کے ذریعہ ہندو لڑکیوں کو اپنے دامن محبت میں پھنسا کر بعد میں انہیں انسانی بم بنانے کے ارادے سے مسلمان بنارہے ہیں۔ آر ایس ایس کے خاص ترجمان آرگنائزر کے تازہ شمارے میں یہ الزام لگاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کیرالا میں این ڈی ایف کا کیمپس فرنٹ، کالج میں مزید تعلیم ہندو طالبات کو پہلے محبت کے جال میں پھنسا تاہے۔بعد میں انہیں مسلمان بنا کر جہادی دہشت گرد نٹ ورک کا حصہ بنا لیتاہے۔

آر ایس ایس کے مضمون میں پولیس کی رپورٹ کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ گذشتہ دو سال میں کیرالا کی تقریباً 500لڑکیاں لاپتہ ہوچکی ہیں۔ ہر مہینے ریاست کے مختلف تھانوں میں 30لڑکیوں کی گمشدگی کی رپورٹ درج ہوتی ہے۔مضمون میں الزام لگایا گیا ہے کہ ’لوبم‘ کے ذریعہ مسلمان بنا ئی گئیں ان لڑکیوں کو بعد میں دہشت گرد انہ سرگرمیوں کے لئے کشمیر بھیج دیا جاتاہے۔ آر ایس ایس کاالزام ہے کہ کئی تنظیموں کے ذریعہ اس سلسلے میں شکایات کیے جانے کے باوجود ’لو بم‘ بنانے کی اس مہم پر کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔

URL: https://newageislam.com/muslims-islamophobia/love-bomb,-new-rss-weapon/d/2121


 

Loading..

Loading..