certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (24 Mar 2012 NewAgeIslam.Com)



The Quranic Law Prohibits Divorce, Triple Divorce, Temporary Marriage and Halala قرآنی شریعت (قوانین) طلاق، طلاق ثلاثہ، عارضی شادی اور حلالہ کو حرام قرار دیتی ہے

 

محمد یونس، نیو ایج اسلام

(انگریزی سے ترجمہ‑مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)

مشترکہ  مصنف اشفاق اللہ سید کے ساتھ، اسلام کا اصل پیغام، آمنہ پبلیکیشن، یو ایس اے، 2009  

طلاق کے حوالے سے مروجہ روایات کے متعلق   قرآن کا نقطہ نظر

اسلام سے پہلے  عرب میں مرد صرف یہ کہہ کر کہ "تمہاری پشت میرے لئے تم میری ماں جیسی ہے"  اپنی بیویوں سے علیحدگی اختیار  سکتے تھے (58:2)۔

چونکہ طلاق  دینے کا اختیار صرف مردوں کوتھا، وہ بغیر کسی وجہ کے بیویوں کو طلاق  دیتے تھے ،اور  وہ  مطلقہ  کوآزاد بھی نہیں کرتے تھے، جس بناءپر   وہ کسی دوسری جگہ جانے کے بجائے اپنے شوہر کے ہی گھر میں رہنے کو ترجیح دیتی تھیں۔ صحیح بخاری(Acc. 134/Vol.7)  میں  حضرت عائشہؓ سے مروی ایک  روایت کے مطابق  اس  طرح کے روایات کوقانونی طور پر جواز فراہم کر دیا گیا تھا،وہ روایت کرتی ہیں :

 "... جن خواتین کو ان کے شوہراب مزید  انہیں اپنے ساتھ نہیں رکھنا چاہتےہیں ،انہیں طلاق دیکر  کسی دوسری عورت سے شادی کرنا چاہتا ہے، تو اسکی  بیوی اپنے شوہر سے کہتی ہے کہ  مجھےاپنے ساتھ ہی  رکھو،طلاق مت دو اور دوسری عورت سے شادی کر لو اور تم نہ مجھ پر خرچ کرو اور نہ ہی میرے ساتھ سو ؤ"۔

جسٹی نی ان کوڈ کا جس نے  عورتوں کومردوں کی ملکیت  کے طور پر پیش کیا اس خطے کے لوگوں کے خیالات پر غلبہ تھا، جس کے مطابق شوہر شادی کے بعد عورت  کا مالک ہو  جاتا تھا اوراس کے ساتھ  جیسا چاہتا ویسا سلوک  کرتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ  وہ صرف یہ کہہ کرکہ 'میں نے تجھ کو تین مرتبہ طلاق دیا' آسانی کے ساتھ  اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا تھا ۔ اسی طرح عارضی طور پر ساتھ رہنے کاایک  نظام(نکاح متعہ)بھی  رائج تھا ،جو عورتوں کو ایسے حالات میں جب  کہ ان کے شوہر تجارت یاکسی  دوسرے مقصد کے تحت گھر سے دور ہوں تو انہیں اس بات کی  اجازت دیتا  تھا  کہ  وہ دوسرے  مردوں کے ساتھ رہ سکتی ہیں ۔

شیعوں میں اثنا عشری مکتب فکرکے لوگ اب بھی اس پرعمل  کرتے ہیں ۔ اسی وجہ سے ایک عالم دین الحرّ العلملی نے کہا کہ ، "کوئی بھی مومن اس وقت تک   کامل نہیں ہو سکتا جب  تک اسےایک متعہ کا تجربہ  نہ ہو جائے [1] اگرچہ اس میں اس بات کا ہلکا سا شائبہ ہے کہ یہ رواج حقیقتاً قانونی طور پر عصمت فروشی کے  مشابہ ہے۔ کیونکہ اس میں  طلاق کی کوئی ضرورت نہیں ہو تی ،کیونکہ جب شادی شدہ خواتین  اس پر عمل پیرا ہوتی  ہیں تو اس وقت وہ عارضی طور پر اپنے شوہر کی جانب سے مطلقہ ہوتی ہیں، اور خود ان کے لئے یا ان کے بچوں کے لیے معاش  کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا۔ لہذاوہ  معاشرےمیں مروجہ  روایات  کے مطابق وہ  دوسرے مرد کے ساتھ رہنے لگتی ہیں۔

قرآن آیت " اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان (کے سر) پر (اور گلے میں) تھے اتارتے ہیں" (7:157) میں اپنےکلیدی ایجنڈےکے ذریعہ من مانی طلاق، ازدواجی جبرو تشدد اور تا حیات  غلامی کی لعنت سے خواتین کو  بچاتا ہے۔ مزیدبرآں  کہ  طلاق کے بعد میاں بیوی  یا دونوں میں سے ایک پر یا ان کی اولاد پراسکے سنگین جذباتی اور مالی مضمرات مرتب ہو نے کو بھی تسلیم کرتا ہے۔اسی  لئے  قرآن  معاہدےکے ذریعہ طلاق دینے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے، لیکن طلاق دینے کی اجازت قرآن اسی  صو رت میں دیتا ہے جب اہل خاندان کے لئےزندگی بھر کےدکھ اور تکلیف کے علاہ طلاق کامتبادل کچھ اور  نہ بچے ۔

لیکن پھر بھی قرآن مطلقہ عورت کو  ایک معاشرتی  بوجھ  تصور نہیں  کرتا ۔ قرآن کے دئے گئےاس نظریہ کے ذریعے ان مطلقہ عورتوں اور اس ناکام شادی کے ذریعہ پیدا ہونے والے بچوں کی مالی منفعت کوتحفظ فراہم ہو تا ہے ۔اور قرآن ایسی عورتوں کودوبارہ شادی کی اجازت دیتا ہے،  اور عملی طور پر ان کے ساتھ کسی بھی دوسری غیر شادی شدہ عورتوں کی طرح رویہ اپنانے کا حکم دیتا ہے۔

مندرجہ بالا گفتگو کے متعلق قرآن  کا نقطہ نظر

نزول  قرآن کے زمانے کی با ت کی جائے تو  قرآن نے اپنے نزول کے ابتدائی دور میں ہی اسلام سے پہلے کے ایسے  رسوم و رواج   کو منسوخ کرتا ہے جنکےذریعہ مرد صرف ایک حلف کےذریعہ اپنی بیوی کو  ہمیشہ کے لئے اجنبی  کر دیتا ہے  لیکن اسے اپنے نکاح میں بھی رکھتا ہے ، جس کی وجہ سے  اس عورت کی دوبارہ شادی یا اسکی آزادی میں خلل پیدا ہو تا  ہے۔ (2:226)

“اور ان لوگوں کے لئے جو اپنی بیویوں کے قریب نہ جانے کی قسم کھالیں چار ماہ کی مہلت ہے پس اگر وہ (اس مدت میں) رجوع کر لیں تو بیشک اﷲ بڑا بخشنے والا مہربان ہے"(2:226)

 آیت کے آخری حصہ  میں زوجین  کے درمیان مصالحت اور شادی کے بندھن  کو مؤثر بنانے کے لئے  خدا کی صفت   بخشش اور مہربانی   کا سلوک کرنے پر قرآن حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ لیکن پھر بھی  اگرکو ئی   طلاق کے اپنے فیصلے پر جما ہوا ہے اور مسلسل چار ماہ  تک اپنی بیوی کو چھوڑ دیتا ہےتو مدت ختم پر نکاح  منقطع  کر دینا چاہئے اور بیوی کو چھوڑ دینا چاہئے (2:227)۔

"اور اگر انہوں نے طلاق کا پختہ ارادہ کر لیا ہو تو بیشک اﷲ خوب سننے والا جاننے والا ہے "(2:227)

انسانیت  کے بہتر معیار کے طور پر طلاق دینے کی مدت کے متعلق  قانون سازی

دوسری چیزوں کے درمیان(229/ 2:228) قرآن کے ایک قانونی حکم کی  طرح ہے ،اور(2:228)  طلاق کی اطلاع   پانے والی ایک عورت کے لیے انتظار کی مدّت تین ماہ کے مقرر کرتا ہے، اور (2:229)میں یہ  بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص طلاق کا  مکمل اردہ کر چکاہو وہ با قاعدہ  طلاق دینے سے پہلے اس  مد ت کے دوران کم از کم  دو مرتبہ گواہوں کی موجودگی میں اپنی نیت کا اظہار کرے ۔اور اسی حکم کو  دو دیگر آیات (2:231 ،65:2) میں بھی   دہرایا گیا ہے۔

“اور طلاق یافتہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں، اور ان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اسے چھپائیں جو اﷲ نے ان کے رحموں میں پیدا فرما دیا ہو.... (2:228طلاق (صرف) دوبار ہے (یعنی جب دو دفعہ طلاق دے دی جائے تو) پھر (عورتوں کو) یا تو بطریق شائستہ (نکاح میں) رہنے دینا یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا۔.... (2:229)

"اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت (پوری ہونے) کو آپہنچیں تو انہیں اچھے طریقے سے (اپنی زوجیّت میں) روک لو یا انہیں اچھے طریقے سے چھوڑ دو، اور انہیں محض تکلیف دینے کے لئے نہ روکے رکھو کہ (ان پر) زیادتی کرتے رہو، اور جو کوئی ایسا کرے پس اس نے اپنی ہی جان پر ظلم کیا... "(2:231)۔

"پھر جب وہ اپنی مقررہ میعاد (کے ختم ہونے) کے قریب پہنچ جائیں تو انہیں بھلائی کے ساتھ (اپنی زوجیت میں) روک لو یا انہیں بھلائی کے ساتھ جدا کردو۔ اور اپنوں میں سے دو عادل مَردوں کو گواہ بنا لو اور گواہی اللہ کے لئے قائم کیا کرو، اِن (باتوں) سے اسی شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اور جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ اس کے لئے (دنیا و آخرت کے رنج و غم سے) نکلنے کی راہ پیدا فرما دیتا ہے "(65:2)۔

طلاق کے بعد دوبارہ شادی

تین مہینے کی عدّت ختم ہو  نے کے بعد قرآن ایک طلاق شدہ عورت  کو اپنے سابقہ ​​شوہر کے ساتھ  شادی کی اجازت نہیں دیتاہے۔ بلکہ اسے کسی  دوسرے مرد  سےشادی کر کے اسکے   ساتھ بیوی کی طرح رہنا چاہئے ،اور اگر پھر اس کی دوسری شادی ناکام ہوتی ہے اور نیا شوہر اسے طلاق دیتا ہے ، تو وہ تین مہینے کی عدت پوری  کرنے کے بعد اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کر سکتی ہے (2:230)۔

"پھر اگر شوہر (دو طلاقوں کے بعد تیسری) طلاق عورت کو دے دے تو اس کے بعد جب تک عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے اس (پہلے شوہر) پر حلال نہ ہوگی۔ ہاں اگر دوسرا خاوند بھی طلاق دے دے اورعورت اور پہلا خاوند پھر ایک دوسرے کی طرف رجوع کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ دونوں یقین کریں کہ خدا کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے اور یہ خدا کی حدیں ہیں ان کو وہ ان لوگوں کے لئے بیان فرماتا ہے جو دانش رکھتے ہیں"(2:230)۔

جیسا کہ ظاہر ہےیہ آیت  ایک مطلقہ  عورت کو مکمل آزادی  کے ساتھ ایک نیا شوہر و تلاش کرنے اور شادی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اگر قرآن میں  یہ شق نہ ہو تی تو کئی سابق شوہر اپنی مطلقہ بیویوں کو طلاق کے بعد بغض و عناد کے  سبب ایک دوسرے مرد سے شادی کرنے میں خلل  پیدا کر سکتے تھے۔ اسی لئے قرآن مردوں کو متنبہ کرتا ہے“اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت (پوری ہونے) کو آپہنچیں تو جب وہ شرعی دستور کے مطابق باہم رضامند ہو جائیں تو انہیں اپنے (پرانے یا نئے) شوہروں سے نکاح کرنے سے مت روکو، اس شخص کو اس امر کی نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں سے اﷲ پراور یومِ قیامت پر ایمان رکھتا ہو، یہ تمہارے لئے بہت ستھری اور نہایت پاکیزہ بات ہے، اور اﷲ جانتا ہے اور تم (بہت سی باتوں کو) نہیں جانتے"(2.232) ۔

اگر  طلاق  مغلظہ کے بعد سابق شوہر سے دوبارہ شادی کی اجازت دے دی جا ئے تو اسلام سے پہلے کی وہ  رسومات  جاری ہی رہ جا ئینگی جس میں مرد اپنی مرضی سے  بیوی کو طلاق دیتا تھا، اور اپنی مرضی سے دوبارہ شادی کرتا تھا جسکی وجہ سےوہ بیوی کو  مکمل  علیحدگی کی اجازت کبھی نہیں دیتا۔ نتیجتاً  طلاق کا وہ مقصدفوت ہو کر رہ گیا  تھاجسکےذریعہ  ایک عورت کو نا  کام شادی کی قید سے آزاد ی  ملتی تھی۔

مطلقہ حاملہ بیوی اور اسکی اولاد کا نان نفقہ

ایک واضح آیت میں قرآن فرماتا ہے: 1۔  ایک حاملہ بیوی کو طلاق دینے والے شوہر کی سماجی اور مالی ذمہ داریوں، 2۔  مطلقہ حاملہ بیوی کی اخلاقی ذمہ داریاں ، 3۔اگر  دایا کے ذریعہ بچے کی دیکھ بھال ہو تواس کے لئے ان دونوں کے درمیان باہمی رضامندی اورمشورہ اور  4۔ اگر طلاق کے بعد کوئی بچّہ پیدا ہوتا ہے تو وارث کی ذمہ داری والد پر ہوگی (2:233)۔

"اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو برس تک دودھ پلائیں یہ (حکم) اس کے لئے ہے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہے، اور دودھ پلانے والی ماؤں کا کھانا اور پہننا دستور کے مطابق بچے کے باپ پر لازم ہے، کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہ دی جائے، (اور) نہ ماں کو اس کے بچے کے باعث نقصان پہنچایا جائے اور نہ باپ کو اس کی اولاد کے سبب سے، اور وارثوں پر بھی یہی حکم عائد ہوگا، پھر اگر ماں باپ دونوں باہمی رضا مندی اور مشورے سے (دو برس سے پہلے ہی) دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں، اور پھر اگر تم اپنی اولاد کو (دایہ سے) دودھ پلوانے کا ارادہ رکھتے ہو تب بھی تم پر کوئی گناہ نہیں جب کہ جو تم دستور کے مطابق دیتے ہو انہیں ادا کر دو، اور اﷲ سے ڈرتے رہو اور یہ جان لو کہ بیشک جو کچھ تم کرتے ہو اﷲ اسے خوب دیکھنے والا ہے "(2:233)۔

قرآن مردوں کواپنی  مطلقہ حاملہ بیوی (65:6) کی مدد کرنے کا مزید حکم اس طرح   دیتا ہے کہ انہیں اپنی حیثیت کے مطابق ان پر  خرچ کرتے رہنا چاہئے(65:7)۔

"عورتوں کو (ایام عدت میں) اپنے مقدور کے مطابق وہیں رکھو جہاں خود رہتے ہو اور ان کو تنگ کرنے کے لئے تکلیف نہ دو اور اگر حمل سے ہوں تو بچّہ جننے تک ان کا خرچ دیتے رہو۔ پھر اگر وہ بچّے کو تمہارے کہنے سے دودھ پلائیں تو ان کو ان کی اجرت دو۔ اور (بچّے کے بارے میں) پسندیدہ طریق سے مواقفت رکھو۔ اور اگر باہم ضد (اور نااتفاقی) کرو گے تو (بچّے کو) اس کے (باپ کے) کہنے سے کوئی اور عورت دودھ پلائے گی (65:6)۔

صاحب وسعت کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہیئے۔ اور جس کے رزق میں تنگی ہو وہ جتنا خدا نے اس کو دیا ہے اس کے موافق خرچ کرے۔ خدا کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اسی کے مطابق جو اس کو دیا ہے۔ اور خدا عنقریب تنگی کے بعد کشائش بخشے گا"(65:7)

اگر ازدواجی زندگی کی شروعات نہ کی ہو اور نہ ہی مہر مقرر ہوا ہوتو اس صورت میں مہر کا انتظام

اگر شوہر اور بیوی  کے درمیان ازدواجی زندگی  شروع ہو نے سے پہلے ہی  طلاق   ہوگئی ہو تب بھی قرآن مردوں کو اپنی مطلقہ بیوی کو معقول اخراجات دینے کی ہدایت دیتا ہے۔ (2:236، 33:49)۔

“تم پر اس بات میں (بھی) کوئی گناہ نہیں کہ اگر تم نے (اپنی منکوحہ) عورتوں کو ان کے چھونے یا ان کے مہر مقرر کرنے سے بھی پہلے طلاق دے دی ہے تو انہیں (ایسی صورت میں) مناسب خرچہ دے دو، حیثیت والے پر اس کی حیثیت کے مطابق (لازم) ہے اور تنگ دست پر اس کی حیثیت کے مطابق، (بہر طور) یہ خرچہ مناسب طریق پر دیا جائے، یہ بھلائی کرنے والوں پر واجب ہے"(2:236)۔

"اے ایمان والو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر تم انہیں طلاق دے دو قبل اس کے کہ تم انہیں مَس کرو (یعنی خلوتِ صحیحہ کرو) تو تمہارے لئے ان پر کوئی عدّت (واجب) نہیں ہے کہ تم اسے شمار کرنے لگو، پس انہیں کچھ مال و متاع دو اور انہیں اچھی طرح حُسنِ سلوک کے ساتھ رخصت کرو"(33:49)

آیت 2:236 شادی کے مہر کے لئے فریضہ اور آیت 4:4 صدقٰت کی اصطلاح کا استعمال کرتی ہے۔

“اور عورتوں کو ان کے مَہر خوش دلی سے ادا کیا کرو، پھر اگر وہ اس (مَہر) میں سے کچھ تمہارے لئے اپنی خوشی سے چھوڑ دیں تو تب اسے (اپنے لئے) سازگار اور خوشگوار سمجھ کر کھاؤ" (4:4(۔

 (فریضہ) جس کا ذکر اوپر کیا گیا سے مراد ضروری  ذمہ داری  ہے جبکہ آخری الذکر سے ایک تحفہ یا صدقہ کی طرف اشارہ ہے۔ اس طرح قرآن شادی کے مہر کی قانونی حیثیت کے بارے میں کوئی پوشیدگی  نہیں چھوڑتا ہے: یہ اپنی بیوی کے متعلق  ایک  شوہر  کی لازمی ذمہ داری ہے، جس پر  خیر سگالی یا صدقہ کے ذریعہ  عمل کیا جاسکتا ہے ، اور جوواپس  لینے کے قابل نہیں  ہے،  طلاق کے بعد جسکی  ادائیگی کو ٹالنے اور اسے کسی دوسرے مالی لین دین سے جوڑنے کا کو ئی سوال ہی نہیں پیدا ہو  سکتا ہے۔

اگر مہرمتعین ہو تو  نا کا م شادی کی صورت  میں بھی مہر  کا انتظام کرنا ۔

قرآن مجید میں ارشاد ہے:

"اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے سے پہلے طلاق دے دو لیکن مہر مقرر کرچکے ہو تو آدھا مہر دینا ہوگا۔ ہاں اگر عورتیں مہر بخش دیں یا مرد جن کے ہاتھ میں عقد نکاح ہے (اپنا حق) چھوڑ دیں۔ (اور پورا مہر دے دیں تو ان کو اختیار ہے) اور اگر تم مرد لوگ ہ اپنا حق چھوڑ دو تو یہ پرہیزگاری کی بات ہے۔ اور آپس میں بھلائی کرنے کو فراموش نہ کرنا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے"(2:237)۔

مذکورہ  آیت میں دونوں صنفوں(شوہر اور بیوی ) کی طرف اشارہ کرنے  والے لفظ 'الّذی' کا استعمال کیا گیا ہے، عام طور پرجس سے صرف شوہرہی  مراد لیا جاتا ہے ، جس کا مطلب  یہ ہوتا ہے کہ  شوہر اور بیوی میں جو ابھی ازدواجی زندگی شروع کرنے والے ہیں نکاح  فسخ کرنے کا اختیار صرف شوہرکو  ہی ہے  ۔ لیکن اس سے  شادی کو ایک طرفہ طور پرتحلیل کرنے کی وجہ سے ایک عورت  کو قرآن  کےذریعہ  ملےحقوق کو   منسوخ  کرنا لازم آتا ہے (2:229)۔ لہٰذا لفظ ' الّذی' کی تشریح  میں دونوں صنفوں کو  شامل  کرنا ضروری ہے جس کا مطلب  یہ ہوگا  کہ شوہر یا بیوی میں سے کوئی بھی قانونی طور پرشروع نہ کی گئی ازدواجی زندگی کو تحلیل کر سکتا ہے۔ اس  بنیاد پر اس آیت کےاعلانات کی تقسیم مندرجہ ذیل اصولوں کے طو رپر کی جا  سکتی ہے:

• اگر کو ئی شوہر طلاق دیتا  ہے تو اسے اپنی بیوی کو نصف مہر دینا ہوگا، اگر اسکی بیوی نے مہر معاف نہ کیا ہو  ۔

• اگر کوئی عورت  خود سے شادی توڑتی  ہے تو اسےاس نصف مہر سے دست بردار ہونا ہوگا جو اسے شوہر کے طلاق دینے پر حاصل ہوتا۔

• اگر کوئی  شخص طلاق دیتا ہے تو اسے اختیار ہے کہ وہ بیوی کے ذریعہ معاف  کئے  گئے نصف  مہر  بھی سخاوت (فضل) کا اظہار کرتے  ہوئے ادا کر دے۔

• طلاق پانے والے دونوں فریقین کو ایک دوسرے کے تئیں فراخ دلی کا اظہار کرنا چاہئے، اور ایک دوسرے کا استحصال کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے۔

طلاق شدہ عورت کا نان نفقہ

 قرآن  کا اعلان  ہے:

“اور طلاق یافتہ عورتوں کو بھی مناسب طریقے سے خرچہ دیا جائے، یہ پرہیزگاروں پر واجب ہے (2:241) ۔ ا سی طرح اﷲ تمہارے لئے اپنے احکام واضح فرماتا ہے تاکہ تم سمجھ سکو"(2:242) ۔

قرآنی احکامات وسیع تر  انداز میں ہیں : قرآن کسی انسان  کو یک بارگی  نان نفقہ فراہم کرنے یا اس کی مطلقہ بیوی جب تک وہ دوبارہ شادی نہ کر لے تب تک نان نفقہ دینےکا حکم نہیں دیتا ہے۔ بلکہ  قرآن مردوں کو شعور استعمال کرنے کی ہدایت  دیتا ہے۔ بلکہ اگر کوئی مرد ایسی  عورت کے لئے  جس  سے صرف شادی کیا ہے لیکن ابھی ازدواجی تعلقات قائم نہیں ہوئے ہیں  ( 2:236) اپنی آمدنی کے مطابق کچھ انتظام و انصرام کرنا چاہتا ہے،تو اسکے ساتھ ایسا   بامروّت سلوک کرے گو یا کہ دونوں شوہر اور بیویکی طرح ساتھ رہنے کے بعد طلاق کا ارادہ کر رہے ہیں ۔ لہذااسے اپنے شریک زندگی کی  مالی ضرورت، عمر، صحت، اور اس کے حالات کو مدّنظر رکھ کر ، اپنی آمدنی کے مطابق نان نفقہ کا انتظام  کرنا چاہئے۔ جیسا کہ ظاہر ہے کہ طلاق کا  معاملہ ایسا ہےکہ اس  کے بارے میں معاملات کی نوعیت ، مروجہ سماجی حالات، تحفظات اور  مالی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے  زوجین کے بجائے  عدالت کو فیصلہ کرنا ہوگا ۔

قرآن اپنے  احکام کی کسی بھی جوڑ توڑ والی تشریح کی پیش بندی کرتا ہے

قرآن کی وہ ہدایات جن کا تعلق طلاق سے ہے جن پر درج بالا میں گفتگو کی گئی وہ وحی کے دو مختلف ادوار سے تعلق رکھتی ہیں۔ آیات242‑2:226 کا تعلق مدینہ کے اوائل زمانے سے جبکہ7‑65:1  کا تعلق مدینہ کے وسطی زمانے سے ہے ۔ زمانےکے اعتبار سے  دونوں حصے میں  تین سے چار سال کا فرق ہے  اور طلاق کے دوران  دونوں حصے شوہر کی ذمہ داریوں کو واضح کرنے میں مستقل طور پر ایک دوسرے کو تقویت پہونچاتی  ہیں۔ قرآن کا یہ اعادہ (i)  بعد کے علماء کرام کے ذریعہ غلط تشریح اور (i i) اس موضوع پر کسی بھی ابہام سے  بچنے کے لئےہے۔

نتیجہ:  قرآن طلاق کے عمل  سے ایک سے  تین ماہ کی مدّت میں توازن کے ساتھ کئی  مرحلوں میں نمٹتا ہے، تاکہ کو ئی بھی  انسان  زندگی میں پیش آنے والے اس اذیت ناک تجربے کا سامنا متوازن اور ہم آہنگ انداز میں کر سکے اور جس سے سابق میاں بیوی کے درمیان تلخی اور ناراضگی نہ ہو۔

عارضی شادی (متعہ) کا نظام اور طلاق مغلظہ  براہ راست قرآنی پیغام سےمتصادم ہو نے کی  وجہ سے حرام ہیں۔

حلالہ جیسے بعض مقامی رسوم و رواج کی آڑمیں  ایک مرد  غصے یا نشے کی حالت میں اپنی  بیوی کو طلاق دتیا  ہے اور پھر اس  کے بعد اپنے  دوست کے ساتھ  شادی اور جسمانی تعلقات قائم کرنے پر اپنی  بیوی کو مجبور کرتا ہے ،اور پھر اسے طلاق دلا کر اگلے دن دوبارہ اس سے شادی کرلیتا ہے ۔اور تین ماہ کی عدّت کی مدّت کا  لحاظ نہ تو خود طلاق دینے کے بعد کرتا ہے اور نہ ہی اپنے دوست کے ذریعہ طلاق دئے جانے کے بعد کرتا ہے۔ جوکہ  بالکل حرام ہے  اور جنسی اعتبار سے  شرمناک بھی  ۔ ایسے رسوم و رواج  جو  قدیمی اسلامی قانون کا حصہ رہے ہیں وہ اسلام کو پر آگندہ اور قبیح بنا  رہے ہیں، اس سے قطع نظر  کی اس پر چند مسلمان ہی عمل کرتے ہیں۔

 اس طرح مسلمانو ں نے  اپنے عقیدے کی عظمت بیان کر کے  مغربیوں کے ایک طبقے کی نظرمیں اسلام کو قرون وسطیٰ کے زن بیزار مسلک کے طور پر پیش کیا ہے ۔ جیسا کہ  اس کا خلاصہ 2012کے صدارتی انتخابات کے ریپبلیکن امیدوار نیوٹ گرنگرنے جولائی 2010 میں امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ آف واشنگٹن میں ایک تقریر کے دوران  کیا: "میرا یقین ہے کہ شریعت امریکہ اور اس دنیا میں آزادی کی بقاء کے لئے ایک فانی خطرہ ہے، جیسا کہ ہم جانتے ہیں"۔

اسلامی ماہر قانون حضرات کے لئے یہی ایک وقت ہے کہ وہ قدیم اسلامی قانون کو منسوخ کریں اور  شریعت الٰہی (قرآن) پر مبنی اسلام کے جدید قوانین ترتیب دیں۔ قدیم اسلامی قانون جو اللہ کے احکام  نہیں ہیں اور کئی معاملوں میں قرآنی احکا مات  کے خلاف ہے جس کی تفصیل حالیہ مضامین میں دی گئی ہے:

http://www.newageislam.com/NewAgeIslamIslamicShariaLaws_1.aspx?ArticleID=5714

http://www.newageislam.com/NewAgeIslamIslamicShariaLaws_1.aspx?ArticleID=5723

حتمی رائے : ہندوستان میں مسلم علماء کرام پرسنل لاء پر زور دیتے ہیں جسے ان کے اسلام سے پہلے کے آبا و اجداد نے حنفی قانون کی ایماء کے تحت اس وقت قائم کیا تھا، جب قرون وسطی  کے غیر مسلم دنیا میں میں خواتین شدید طور پر مظلوم تھیں،اور ان پر قرآن کے خلاف  قوانین  خواتین کی آزادی ، خود مختاری اور جنسی نزاکت  میں خاظر خواہ تبدیلی کے ساتھ بہت حد تک قرآنی پیغام کے مطابق  قوانین  مرتب کر کے اسے  نا فذکیا ،(میرا دعویٰ یہ نہیں ہے   کہ ان لوگوں نے اسے قرآن سے نقل کیا ہے ،اگرانہوں نے  ایسا کیا ہوتا،تو کیوں نہیں علماء کرام ایسا  کر پائے)۔اب وہ  وقت آ گیا ہے کہ علماء قرآنی احکامات  کے مطابق اپنے قوانین کی  اصلاح کریں۔

یہ بات جا ن کر کسی کو بھی حیرانی ہو سکتی ہے کہ ہندوستانی علماء ایسے فتاویٰ یا احکامات پر عمل کے لئے اصرار کرتے ہیں جو آج قرآن سے متصادم، زن بیزار ۔ شدید طور پر بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور اس قدر  خلاف فطرت (ہندوستانی حکومت کو  ایک ایسا قانون پاس کرنے کے لئے مجبور کرتی ہیں کہ  محرمات سے مباشرت کو معاف  کیا جا ئے اور شادی کے 30 سال سے بھی زیادہ کے بعد ایک عورت کے نان نفقہ کو محدود کیا جائے ) ہے کہ بے مزہ  ہو جا نے کے خوف سے کسی کے لئے کھل کر تبصرہ کرنا  بھی مشکل ہے ۔ حلالہ کے بارے میں کم از کم کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ ایسا دن بھی آئے گا جب ہندوستان کے ایک گمنام گائوں کا ایک مولوی ثبوت کے لئے اس عمل کو دیکھنے اور اس کی فلم بنانے پر اصرار کرے گا؟ خدا ہم تمام لوگوں کی اس دن سے بچائے ۔

نوٹس

1۔ اضاف اے اے فیضی، اور لائنس آف محمڈن لاء، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، ، پانچواں ایڈیشن 2005، صفحہ‑ 117

محمد یونس نے آئی آئی ٹی سے کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے اور کارپوریٹ اکزی کیوٹیو کے عہدے سے سبکدوش ہو چکے ہیں اور90کی دہائی سے قرآن کے عمیق مطالعہ اور اس کے حقیقی پیغام کو سمجھنے  کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کی کتاب اسلام کا اصل پیغام کو 2002میں الاظہر الشریف،قاہرہ کی منظوری حاصل ہو گئی تھی اور یو سی ایل اے کے ڈاکٹر خالد ابو الفضل کی حمایت اور توثیق بھی حاصل ہے اور محمد یونس کی کتاب اسلام کا اصل پیغام آمنہ پبلیکیسن،میری لینڈ ،امریکہ نے،2009میں شائع کیا۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/articledetails.aspx?ID=6391

 

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/the-quranic-law-prohibits-divorce,-triple-divorce,-temporary-marriage-and-halala--قرآنی-شریعت-(قوانین)-طلاق،-طلاق-ثلاثہ،-عارضی-شادی-اور-حلالہ-کو-حرام-قرار-دیتی-ہے/d/6918

 




TOTAL COMMENTS:-   1


  • شیعہ اثنا عشری فرقے پر یہ اتہام ہے کہ وہ ایسی خواتین سے متعہ کو جایز سمجھتے ہیں اصلاح کر لیں کہ شیعہ اثنا عشری فقط ان عورتوں سے نکاح متعہ کی اجا زت دیتا ہے کہ جن کا شوہر فوت ہوگیا ہو یا مطلقہ ہوں یا بغیر شوہر کے ہو ں

    By سبطین خان - 10/17/2012 4:13:12 AM



Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content