certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (20 Jun 2014 NewAgeIslam.Com)



Cultural Narcissism- Part 12 (تہذیبی نرگسیت حصہ (12

 

 

مبارک حیدر

شمالی قبائل اور تہذیبی نرگسیت

پاکستان کے شمالی علاقے بھی ابھی تک فاٹا کی طرح قبائلی روایات ہی سے وابستہ ہیں۔ تہذیب کی مادی یا جسمانی شکلیں قبائلی انسان کی زندگی کے بیرونی حصے میں داخل ہوئی ہیں۔ مثلاً کچے رستوں اور گھروں کی بجائے کنکریٹ نے لے لی ہو، تلوار کی جگہ جدید ہتھیار، دئیے کی بجائے بجلی کے بلب، ہاتھ سے بنے کپڑوں اور جوتوں کی جگہ فیکٹری کا مال آ گیا ہو، حکیم کی جڑی بوٹیوں کی جگہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ادویات چلتی ہوں۔ خچر اور گھوڑے کی بجائے گاڑیاں اس کا سامان اٹھانے لگی ہوں اور اس نے روزہ کالے اور سفید دھاگے کا فرق دیکھنے کی بجائے گھڑی کے ٹائم سے رکھ لیا ہو۔ لیکن اُس کا انسانی حلیہ اور تشخص ویسا ہی روایتی ہے جیسا صدیوں پہلے تھا یا کم سے کم ایسا حلیہ قائم رکھنے کی خواہش ایک طاقتور قوت ہے۔ اگرچہ دنیا کی جدید ترین موٹر جیپ پر سوار یہ قبائلی انسان دنیا کے جدید ترین منی کمپیوٹر فون پر امریکہ کے کسی مافیا چیف کو ہیروئن کے نئے بھاؤ سے آگاہ کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے، مگر یہ وہی انسان ہے جو تین سو برس پہلے اپنے خچر پر بیٹھا چین سے آئے ہوئے ریشم کا بھاؤ بتاتا تھا۔ اور وقت آنے پر یہ شخص اپنے قبائل کے اس لشکر میں شامل ہو جاتا تھا جو سرزمین ہند کو فتح کرنے نکلا تھا، اس بنیاد پر کہ ہندوستان میں کافروں کے چنگل میں پھنسے ہوئے مسلمان اپنے بہادر اور غیرت مند پٹھان بھائیوں کو مدد کے لئے پکارتے تھے، یا اس سے بھی قبل اس بنیاد پر کہ ہند کی بُت پرست سرزمینوں میں اُگتی خوشحالی اللہ کے بندہ صحرائی یا مردِ کوہستانی کو پکارتی تھی۔

دنیا بھر میں قبائلی معاشرے پچھلی صدی کی ہمہ گیر تبدیلیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ پاکستان کے شمال کے قبائل یا پھر انڈونیشیا اور افریقہ کے مسلم قبائل کو چھوڑ کر دنیا میں شاید کسی ایسے قبائلی علاقہ کی کوئی ایک بھی مثال موجود نہیں جہاں قبائلی تشخص اپنی خالص شکل میں رہنے کے لئے جدید تہذیب سے جنگ لڑ رہا ہو۔ چین کے دو قبائلی یا نیم قبائلی علاقوں یعنی تبت اور سنکیانگ میں سے صرف سنکیانگ میں پرتشدد قبائلی تشخص کے کچھ واقعات سننے میں آئے ہیں۔ آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ ، افریقہ کے ان گنت قبائل، چین کے شمال اور مغرب کے قبائل، منگولیا کے قبائل اور لاطینی امریکہ کے انکا مایا قبائل پچھلی دو صدیوں کے درمیان بالخصوص بیسویں صدی میں، عالمی معاشرہ میں داخل ہوئے ہیں۔ خود پاکستان کے شمال میں وادئ ہنزہ کے قبائل نہایت پرامن انداز سے اپنی بعض خوبصورت تہذیبی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے جدید دور کو قبول کر چکے ہیں۔ جبکہ پاکستان کے شمال اور افغانستان کے جنوب میں آباد قبائل منفرد ہیں کہ دنیا کے خلاف حالتِ جنگ میں ہیں ۔ یہ دلچسپ ہے کہ دنیا کے ساتھ منافع بخش لین دین میں اِن قبائل نے بے حد مستعدی دکھائی ہے اور یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ برصغیر میں اِن کے مقابلے کی کاروباری استعداد شاذو نادر ہی نظر آتی ہے۔ اِن قبائلیوں کی ثقافتی پسماندگی اور کاروباری استعداد کو دیکھ کر یہ نظریہ باطل ہوتا نظر آتا ہے کہ دنیا بھر کے جدید معاشروں کی تعمیر و تشکیل میں تجارت کا کوئی نمایاں کردار رہا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ یہ جنگِ مزاحمت ہے ، جو دنیا کی ایک استعماری قوت کے خلاف اپنی روایات کے تحفظ کے لئے لڑی جا رہی ہے۔ لیکن اس خیال کا تنقیدی جائزہ لینا نہ صرف ممکن بلکہ ضروری ہے۔ اولاً یہ درست نہیں کہ حملہ آور صرف امریکہ ہے۔ یہ کئی ممالک کا اتحاد ہے۔ دوسرے یہ کہ 1978ء سے1988ء تک اسی استعماری قوت کی مدد اور رہنمائی سے لڑی جانے والی جنگ میں یہ پاکستانی اور افغانی قبائل نہایت سرگرمی اور وفاداری سے شامل تھے۔ روس سے پہلے برطانیہ سے اسی قبائلی افغان تہذیب کا تصادم کئی عشروں تک جاری رہا تھا۔ یعنی ان مختلف جنگوں میں ان قبائل کا رویہ جدید تہذیب کے خلاف نفرت کا رہا ہے جسے مزاحمت یا اپنی روایات کا تحفظ بھی کہا جاتا رہا ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ امان اللہ خان سے جنرل داؤد تک کے ادوار میں جب افغان قوم نے برطانیہ، امریکہ اور روس کی اس جدید دنیا میں تبدیلی کے مختلف مراحل طے کیے تو آزاد قبائل نے نہ تو افغانستان کی جدت پسندی کے خلاف بغاوت کی نہ ہی پاکستان کے دن بدن پھیلتے ہوئے طرزِ حیات سے کوئی شکایت سامنے آئی۔ حالانکہ پشاور سے ملحقہ باڑہ بازاروں اور قبائلی علاقوں کی آٹو موبائل منڈیوں میں سمگلنگ اور سودخوری کا نظام زوروں پر تھا اور پاکستان کے بڑے شہروں کی بیگمات ہر طرح کے لباسوں میں ملبوس یہاں خریداری کرنے آتی تھیں۔ سوات ، دیر، حترال اور پختون خواہ صوبہ کے شمالی شہروں میں دنیا بھر کے مسافر اور ٹورسٹ آتے تھے جن میں نیم برہنہ ٹانگوں والے مغربی جوڑے بھی شامل ہوتے تھے۔ اُدھر ظاہر شاہ اور جنرل داؤد کے افغانستان کا شہر کابل جدید تہذیب و تمدن کا مصروف مرکز تھا۔ سینما ہال تماشائیوں سے بھرے ہوتے تھے، جہاں بھارت اور ہالی ووڈ کی فلموں کی نمائش معمول کی بات تھی، بازاروں میں خواتین باپردہ بھی تھیں اور بے پردہ بھی۔ سکول، کالج لڑکوں کے بھی تھے اور لڑکیوں کے بھی۔ ہوٹل اور ریستوان ، ٹرانسپورٹ، ہوائی جہاز سب کچھ عالمی معیار کا تھا اور کسی سماجی جبر کے بغیر تھا۔ یعنی اگرچہ فاٹا کی قبائلی روایات میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی واقع نہیں ہوئی تھی، تاہم اِن قبائل کو پاکستان اور افغانستان میں بدلتی ہوئی دنیا سے کوئی پرخاش بھی نہ تھی۔

ایک اور قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ صدیوں سے یہ قبائل برصغیر کی زرخیز زمینوں اور خوشحال شہروں کو فتح کرنے آتے رہے ہیں اور یہ سلسلہ برطانوی ہند کے دو سو سال سے پہلے تقریباً ہمیشہ جاری رہا۔ جب بھی اِن قبائل کے لوگ برصغیر آئے تو اکثر اوقات یہاں آباد ہوئے، یہاں کی ہندوستانی تہذیب کا حصہ بنے اور ایسا دیکھنے میں نہیں آیا کہ اِن لوگوں نے یہاں کی تہذیب میں اپنے قبائلی نظام کو نافذ کرنے کی کوشش کی ہو۔ افغان جنگ کے دوران تیس لاکھ افغانی قبائلیوں نے سرحد پار کر کے پاکستان میں پناہ لی۔ اِن میں سے لاکھوں ایسے تھے جو پاکستان کے شہروں میں بکھر کر مستقل طور پر آباد ہو گئے اور جدید تہذیب کا حصہ بن گئے (یعنی جتنی بھی جدید پاکستان کی تہذیب ہے اتنا ہی)۔ بے شمار افغان اور قبائلی ایسے ہیں جو دنیا کے جدید ترین معاشروں میں آتے جاتے اور آباد ہوتے رہے ہیں۔ صرف ایک نسل کی زندگی کے محدود عرصہ میں آنے والی اِن بنیادی تبدیلیوں سے ان لوگوں کو دقت نہیں ہوئی، حتیٰ کہ امریکہ ، یورپ اور روس میں آباد یہ لوگ کسی بڑی الجھن کا حصہ نہیں بنے۔

ان حقائق پر غور کرنے سے غالباً یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ قبائلی فرد جب دوسرے معاشروں میں داخل ہوتا ہے تو قبائلی آمریت سے نکل آنے کے باعث ایک مختلف تشخص اُس کے لئے ممکن ہو جاتا ہے، جبکہ قبائلی نظام کی اجتماعی نرگسیت اسے تبدیل ہونے سے روکتی ہے۔ جہاں اجتماعی جبر کا عنصر کمزور ہو جائے وہاں اجتماعی تبدیلی بھی ممکن ہو جاتی ہے ۔ یعنی اگر قبیلہ یا قبائل کسی بڑی تہذیب کے زیر اثر آ جائیں یا ماتحت ہو جائیں، تو اجتماعی طور پر تبدیل ہوسکتے ہیں۔

ہم نے اوپر کے صفحات میں ایسے قبائل کا ذکر کیا جو قبائلی اجتماعیت کے باوجود تہذیب کا حصہ بن گئے یا بنتے جا رہے ہیں، جن میں افریقہ کے بہت سے قبائل، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ اور لاطینی امریکہ کے قدیم باشندے اور چین کے سفید ہن قبائل، منگولیا اور قازقستان کے خانہ بندوش قبائل شامل ہیں۔ قازقستان ، منگولیا اور چین کے ان قبائل میں مسلم قبائل بھی شامل ہیں جو انقلاب روس کے بعد یعنی بیسویں صدی کے چند عشروں میں جدید تہذیب کا حصہ بنے ہیں۔ قازقستان آج جدید معاشروں کی صف میں ہے، حالانکہ قازقستان کا کوئی شہر 1920ء سے پہلے موجود نہ تھا۔ اور 1970ء کے آتے آتے پورا قازقستان تقریباً 98 فی صد جدید طرزِ خواندگی سے فیضیاب جدید صنعتی شہروں کا ملک بن چکا تھا، جہاں انسانوں اور بالخصوص عورتوں کے حقوق اور معمولات کو جاپانی اور روسی مردوں اور عورتوں سے مشابہہ کہا جا سکتا ہے۔ اور یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ جدید تعلیم اور تہذیب و تمدن کے عمل میں شامل ہونے کے لئے قازقستان یا کرغستان کے قبائل کو کسی جبر سے گزرنا نہیں پڑا، بلکہ الماتا کی تاریخ میں بتایا جاتا ہے کہ 1920ء کے لگ بھگ لینن کی بیگم کروپسکایا کی قیادت میں قازق خواتین کو تعلیم دینے والی معلمات کو کئی برس قازق مردوں کے تشدد اور قتل و غارت گری کا سامنا کرنا پڑا تھا، جو چوری چھپے حملے کرتے تھے، کیونکہ انہیں عوامی تائید حاصل نہ تھی۔ اور اندازے کے مطابق لگ بھگ دو سو معلمات کو ان قبائلیوں نے قتل کیا۔

لہٰذا جہاں یہ درست ہے کہ قبائلی معاشرہ کی اجتماعی آمریت تبدیلی اور آمیزش کو روکتی ہے، وہاں یہ بھی سچ ہے کہ قبائلی معاشرے جدید تہذیب کا حصہ بنے ہیں اور بن سکتے ہیں۔ اور جدید دنیا سے ان کی آمیزش نہ صرف تاریخ کا حصہ ہے بلکہ جدید وقتوں میں ہو رہی ہے۔

پاک افغان قبائل کے خصوصی کردار کی بحث میں جہاں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ تاریخی اعتبار سے یہ قبائلی لوگ مہذب معاشروں کا حصہ بنتے رہے ہیں، کبھی فاتح کی حیثیت سے تو کبھی تارکینِ وطن کے طور پر، اور یہ بھی نظر آتا ہے کہ قبائل مجموعی حیثیت سے بھی جدید تہذیب کا حصہ بن سکتے ہیں، جبکہ نسلی طور پر ان افغان قبائل کے بھائی بند یعنی ازبک، تاجک اور قازق قبائل نے حال ہی میں جدید طرزِ حیات اپنائی ہے، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ مذکورہ پاک افغان قبائل کے سفر کا رخ جدید عالمی معاشرہ کی مخالف سمت میں کیوں ہے؟ کیا یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ یہاں امریکہ نے اپنی افواج اتار دی ہیں؟ ۔

پہلی قابل غور بات تو یہ ہے کہ امریکہ نے دنیا کے مختلف علاقوں میں فوج کشی اور مداخلت کی ہے۔ جاپان پر ایٹم بم گرائے، کوریا پر حملہ کیا، ویتنام میں بیس برس کی جنگ میں برٹرینڈرسل کے بقول اتنے بم گرائے کہ ہر ویتنامی کے حصے میں دو ٹن بم آئے، عراق پر 1990ء میں بموں کی بارش کے بعد اب کئی برس سے بڑی فوج کشی میں مصروف ہے۔ لیکن ان ممالک نے جدید تہذیب کے خلاف کوئی پروگرام پیش نہیں کیا۔ نہ ہی ان ممالک نے اپنے ارد گرد کے ممالک کو درہم برہم کرنے کا کوئی اقدام کیا۔ حالانکہ جب کوریا پر حملہ ہوا تو مشرق بعید کے کئی ممالک امریکہ کے حلیف تھے، ویتنام کی جنگ میں کمبوڈیا، لاؤس ، تھائی لینڈ، ہانگ کانگ، تائی وان وغیرہ سبھی امریکہ کے حلیف بلکہ اڈے تھے۔ لیکن ویتنامیوں نے امریکہ کے خلاف جنگ مزاحمت کے دوران یا بعد میں ان میں سے کسی ملک کو تخریبی کارروائیوں کا نشانہ نہیں بنایا، نہ ان ملکوں کو ختم کر کے کوئی نئی ریاست قائم کرنے کا ارادہ کیا۔

دوسری بات یہ ہے کہ امریکی جارحیت سے پہلے کی تاریخ میں بھی افغان قبائل عالمی تہذیبوں سے ٹکراتے رہے ہیں۔ آریہ حملوں آوروں اور تاتاریوں کو چھوڑ کر باقی جتنے بھی حملہ آور برصغیر کی پرامن تہذیب کو درہم برہم کرنے آئے، تقریباً سبھی میں یہ قبائل شامل ہوتے رہے ہیں۔ ان قبائل نے چین کی تہذیب کو بھی کبھی قبول نہیں کیا۔ اور اگرچہ افغان اور تاجک قبائل نے قازقستانی قبائل کی طرح چینی تجارتی قافلوں پر مسلسل حملے نہیں کیے، تاہم ان کا رویہ بھی کبھی دوستی کا نہیں رہا۔ بلکہ چین کے مسلم آبادی والے جنوب مغربی علاقوں کے قبائل سے کہیں بڑھ کر یہ قبائل چین کی تہذیب سے مخالف سمت میں ہی چلتے رہے ہیں۔ ہندوستان کے طاقتور بادشاہوں نے مختصر عرصہ تک کابل اور قندھار پر بالادستی حاصل کی جس کا مقصد خالصتاً مدافعانہ یا پیش بندی کا رہا ہے، یعنی ان قبائل کو حملوں سے روکنا۔ لیکن یہ علاقے جدید صنعتی قوموں سے پہلے بھی ہر تہذیب سے متحارب رہے ہیں۔

URL for Part 11:

http://newageislam.com/urdu-section/mobarak-haider/cultural-narcissism--part-11---(تہذیبی-نرگسیت-حصہ-(11/d/87589

URL for this part: 

http://newageislam.com/urdu-section/mobarak-haider/cultural-narcissism--part-12---(تہذیبی-نرگسیت-حصہ-(12/d/87642

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content