certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (13 Mar 2014 NewAgeIslam.Com)



Iraq And Saudi Arabia- May the Rhetoric Not Become A Cause Of War, Again عراق اور سعودی عرب- کہیں آپسی بیان بازیاں پھر سے کسی جنگ کی وجہ نہ بن جائیں

 

 

 

 

باسل حجازی،  نیو ایج اسلام

14مارچ، 2014

عالمی تنازعات کی تاریخ کا ایک مقولہ بڑا مشہور ہے کہ: جنگ سب سے پہلے سروں میں شروع ہوتی ہے۔۔

جب کوئی دوسروں کے بارے میں دشمنانہ انداز میں سوچنا شروع کرتا ہے تو اسی وقت دونوں اطراف میں مستقبل کی جنگ کی بنیادیں پڑ جاتی ہیں جس کے نتیجہ میں ایک یا دونوں فریق شدید نقصان اٹھاتے ہیں، یہی کچھ عراق اور ایران، اور دوسری عالمی جنگ میں جرمنی اور یورپ کے درمیان ہوا۔

سب جانتے ہیں کہ کس طرح صدام حسین نے الجزائر کے معاہدے کو صحافیوں اور ٹی وی کیمروں کے سامنے پھاڑ ڈالا تھا کیونکہ وہ پہلے ہی ایران کے ساتھ جنگ کرنے کا پختہ ارادہ کر چکا تھا، یہی وجہ تھی کہ ایران نے جنگ کے نقصانات کی بھرپائی کے اپنے حق پر اصرار کیا کیونکہ جنگ عراق نے یا زیادہ صحیح الفاظ استعمال کیے جائیں تو صدام حسین نے شروع کی تھی نا کہ ایران نے۔

دیکھا جائے تو سنہ 2003 سے عراق کے حوالے سے سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کافی خشک رہی ہے، سعودی عرب نے کبھی عراق کے لیے کوئی نرم رویہ اختیار نہیں کیا، نا ہی کسی طرح کے دوستانہ مراسم بڑھانے کی کوئی کوشش کی، نا وفود کے تبادلے ہوئے اور نا ہی عراقی وزیرِ اعظم کا استقبال کیا گیا حالانکہ عراق نے سعودی عرب کے ساتھ بالکل ایک نئے آغاز کی بھرپور کوششیں کیں تاکہ خطہ میں صدام حسین کے گھولے گئے زہر میں کمی لائی جاسکے اور ماضی کی صدامی غلطیوں کا مداوا کیا جاسکے اور دونوں پڑوسی ملک پھر سے ایک نیا آغاز کر سکیں۔

عراق نے سعودی عرب سے دوستانہ مراسم اور تعلقات بحال کرنے کے لیے کئی دفعہ ہاتھ بڑھایا، کچھ سال قبل جب موفق الربیعی قومی سلامتی کے وزیر تھے تب وہ عراق میں دھماکوں میں ملوث سعودی ملزمان کو خصوصی طیارے پر بنفسِ نفیس سعودی حکومت کے حوالے کرنے گئے مگر سعودی عرب نے اپنا روایتی خشک رویہ بر قرار رکھا اور ان کے اس اقدام پر شکریہ کا ایک بیان تک جاری کرنے کی توفیق نہیں کی گئی، کسی بھی فریق کے خلاف جنگ شروع کرنے کے لیے سب سے پہلے آپ خود کو نفسیاتی اور فکری طور پر تیار کرتے ہیں جو شروع میں تو معمولی بات ہوتی یا لگتی ہے مگر کشیدگی بڑھنے پر کسی کی بھی طرف سے چھوڑا گیا ایک بھی پٹاخہ کشیدگی کو جنگ میں بدل سکتا ہے اور پھر بگڑتے حالات اور سیاست دانوں کے بیانات جنگ کے لیے ایندھن بن جاتے ہیں اور ایسی حماقتوں کا خمیازہ بے قصور عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔

ماضی کی طرف دیکھا جائے تو لبنان، شام، اور عراق اور ایران ایسی صورتِ حال کی زندہ مثالیں ہیں، مگر لگتا ہے کہ مشرقِ وسطی کا حاکم طبقہ تاریخ سے سبق سیکھنا نہیں جانتا اور بار بار ماضی کی غلطیوں کو دہرا کر تاریخ دہرانے کی راہ ہموار کرتا اور خطے کے ممالک کو جنگوں کی طرف دھکیلنے کی راہ ہموار کرتا رہتا ہے۔۔ ایسے ممالک جن کے وسائل پہلے ہی اتنے کم اور محدود ہیں کہ جن پر نا تو دشمن کو جلن ہوتی ہے اور نا ہی دوست خوش ہوسکتے ہیں۔

نیو ایج اسلام کے کالم نگارباسل حجازی کا تعلق پاکستان سے ہے۔ فری لانسر صحافی ہیں، تقابل ادیان اور تاریخ ان کا خاص موضوع ہے، سعودی عرب میں اسلامک اسٹڈیز کی تعلیم حاصل کی، عرب سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں، لبرل اور سیکولر اقدار کے زبردست حامی ہیں، اسلام میں جمود کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اسلام میں لچک موجود ہے جو حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جمود پرست علماء اسلام کے سخت موقف کے باعث دور حاضر میں اسلام ایک مذہب سے زہادہ عالمی تنازعہ بن کر رہ گیا ہے۔  وہ سمجھتے ہیں کہ جدید افکار کو اسلامی سانچے میں ڈھالے بغیر مسلمانوں کی حالت میں تبدیلی ممکن نہیں۔

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/basil-hijazi,-new-age-islam/iraq-and-saudi-arabia--may-the-rhetoric-not-become-a-cause-of-war,-again-عراق-اور-سعودی-عرب--کہیں-آپسی-بیان-بازیاں-پھر-سے-کسی-جنگ-کی-وجہ-نہ-بن-جائیں/d/56127

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content