certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (29 Apr 2014 NewAgeIslam.Com)



Muslims Should Behave Rationally, Not Just Emotionally مسلمانوں کو صرف جذباتی نہیں بلکہ فکری رویہ اختیار کرنا چاہیے، نیو ایج اسلام فاؤنڈیشن کی تقریب میں مشہور پاکستانی مفکرمبارک حیدر کا اظہار خیال

 

نیوایج اسلام نیوز بیورو

26 اپریل 2014

نیو ایج اسلام فاؤنڈیشن نے مشہور پاکستانی مفکر اور پوری دنیا میں ترقی پسندمسلمانوں کے درمیان نقد و نظر اور فکر و محاسبہ کا احیاء مانی جانے والی عالمی سطح پر مشہور کتابوں ’’تہذیبی نرگسیت‘‘ ، ’’مبالغے، مغالطے‘‘ کے مصنف جناب مبارک حیدر کے ساتھ مختلف مسائل پرخصوصی گفتگو کا انعقاد کیا۔ جناب مبارک حیدر ساؤتھ ایشیا فری میڈیا ایسو سی ایشن، لاہور کے ڈائریکٹر بھی ہیں۔

پروگرام کے شروع میں نیو ایج اسلام فاؤنڈیشن کے چئر مین اور نیو ایج اسلام کے ایڈیٹر ان چیف جناب سلطان شاہین نے ہندو مسلم مفکر، دانشوران اور صحافیوں پر مشتمل سامعین کے سامنے مہمان خصوصی جناب مبارک حیدر کا ایک مختصر سا تعارف پیش کیا۔ اور انہوں نے اس پراگرام کے لیے دعوت نامہ قبول کرنے پر جناب مبارک حیدر کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

سلطان شاہین نے ڈاکٹر مبارک حیدر کا استقبال کرتے ہوئے سامعین کے سامنے ان پاکستانی مسلم دانشوروں کی بہادری کو سراہا اور ان کی تعریف کی جو سچائی سے پردہ اٹھانے اور انتہا پسندوں کا سامنا کرنے کے لیے واقعی اپنی گردنوں کو تلوار کی دھار پر رکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "میرے خیال میں یہ اور بھی زیادہ قابل تعریف ہے اس لیے کہ اس جنگ میں ہندوستانی مسلم دانشوروں کی شمولیت بہت کم ہے، اگر چہ ہندوستان میں یہ انتہا پسند اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ تشدد پر اتر آئیں"۔

جناب مباک حیدرنے اپنی کتاب ’’تہذیبی نرگسیت‘‘ کے خصوصی حوالہ سے اپنے خیالات کا اظہار کیا جس کا ترجمہ خود انہوں نے انگریزی زبان میں کیا ہے اور اس کا نام ’’Cultural Narcissism‘‘ رکھا ہے۔ اپنی کتاب کے بنیادی نظریہ کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کتاب کا مقصد مسلمانوں کی موجودہ نفسیاتی دیوالیہ پن کو اجاگر کرنا ہے جو کہ گہرے فریب کی ایک کیفیت مرضیاتی نرگسیت کا شکار ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم مسلمان بری چیزوں کا بھی جواز پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اگر انہیں اسلام کی آڑ میں پیش کی جائے اور آفاقی اقدار اور جدید حقوق انسانی کو حقیر اور برا سمجھتے ہیں۔ انتہائی سرعت کے ساتھ تبدیلی اور تغیر پذیر جدید دنیا کے حقائق کے بر خلاف ہم اپنے ماضی میں گم رہتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں اور دور جدید کے تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہیں۔

اپنی کتاب "تہذیبی نرگسیت" کی دور جدید میں اہمیت و افادیت پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘‘ثقافتی اور تہذیبی نرگسیت مسلم نفسیات میں پوری گہرائی کے ساتھ سرایت کر چکی ہے۔ چونکہ ایک ہزار سال سے زیادہ مدت تک اس دنیا پر ہماری حکومت رہی ہے اسی لیے ہم محسوس کرتے ہیں اب بھی ہم دنیا پر غالب ہیں’’۔ ہم جدید اور انتہائی ترقی یافتہ تہذیبوں کو شریعت اسلامیہ سے متضاد اور متصادم سمجھتے ہیں۔ ہم اسے مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگوں کی توسیع مانتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ: "اس معروف حقیقت کے باوجود کہ صنعتی انقلاب اور مغربی تہذیب نے مذہب یعنی عیسائیت کو شکست دے دی ہے ہم مسلمان یہ ثابت کرنے پر اڑے ہوئے ہیں کہ یہ ایک مسلم مخالف تہذیب ہے’’۔

ہندوستان میں مسلم تہذیبی نرگسیت کی ایک مثال پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘‘ کہ جب نوآبادیاتی طاقت نے مسلمانوں کو شکست سے دوچار کر دیا تو ہندوستان میں ہندوؤں نے اسے آزادی کی ایک علامت کے طور پر دیکھا۔لیکن انہوں نے ترقی یافتہ تہذیب اور جمہوری ثقافت کے مثبت اور نتیجہ خیز سبق کو مسترد نہیں کیا۔ لیکن مسلم جاگیردارانہ طبقات اور خاص طور پر کٹر مذہبی علماء نے تمام مغربی علوم اور تہذیبی ترقی کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے کفر و شرک اور حرام مان لیا’’۔

انہوں نے کہا کہ اس سائنسی حقیقت کے باوجود کہ انسان اپنی عقل و خرد کی بناء پر جانے جاتے ہیں اور جانور اپنی جبلت کی بنا پر پہچانے جاتے ہیں مسلمانوں کی موجودہ حالت افسوس ناک ہے اس لیے کہ ان کا رویہ عقل د دانش پر نہیں بلکہ ان کی جبلت پر مبنی ہے۔ جس طرح جانوروں کا ریوڑ اپنے ارد گرد کسی دوسرے جانور کو برداشت نہیں کرتا اسی طرح آج بہت سارے مسلمان دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ بقائے باہمی کو برداشت نہیں کرتے جس کا مشاہدہ پاکستان میں آئے دن کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جبلی رویوں کے نتیجے میں آج پاکستان میں عیسائیوں کے ساتھ ناپاک اور تیسرے درجے کے شہریوں کی طرح سلوک کیا جا رہا ہے اور انہیں دشنام طرازیوں کا نشانہ بنایاجا رہا ہے۔ عام طور پر پاکستانی مسلمانوں کے اس قسم کے جبلی اور تباہ کن رویے ملک میں تباہی اور بربادی کی وجہ بن رہے ہیں لہٰذا اگر ہم بگڑتی ہوئی صورتحال کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو پاکستانی مسلمانوں کے اندر سے اس قسم کے رویوں کو ختم کرنا ہوگا۔

ڈاکٹر حیدر نے مزید کہا کہ ‘‘افسوس کی بات ہے کہ پوری دنیا میں مسلم معاشروں میں خود احتسابی کا بڑا فقدان ہے ’’۔ انہوں نے حیرت کیا اظہار کیا کہ وہ مسلمان جنہوں نے اپنے دور حکومت کے دوران کہ جس کا عرصہ تقریبا ایک ہزار سالوں پر پھیلا ہوا ہے دنیا کے تمام مذاہب اور تہذیبوں کی تنقید کی وہ اب کسی بھی داخلی تنقید و تجزیہ کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں، دیگر مذہبی کمیونٹیز کی جانب سے تنقید اور تجزیہ کی تو بات ہی چھوڑ دیں۔ جناب مبارک حیدر نے کہا کہ "فخر، انانیت، تکبر، تفوق پرستی، علیحدگی پسندی اور نرگسیت جیسی تمام اخلاقی برائیاں مسلمانوں کے ذہنوں میں گھر کر چکی ہیں۔ جس کے نتیجے انہوں نے یہ سوچنا شروع کر دیاہے کہ تمام غیر مسلم ان سے کمتر ہیں اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک ہزار سالوں سے زیادہ عرصے تک حکومت کر لینے کے بعد تفوق پسندی، خود پسندی، نفس پرستی اور مرضیاتی نرگسیت مسلم نفسیات میں سرایت کر چکی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ شاید مسلمان اب بھی یہی سوچتے ہیں کہ وہ اس دنیا پر حاکم ہیں۔ دنیا کے بڑے حصے پر مسلمانوں کے ایک طویل دور حکومت میں انہیں کبھی تنقید کا سامنا نہیں ہوا اسی لیے وہ ذرا بھی تنقید کے عادی نہیں ہیں اور کہیں سے نامنظوری اور ناپسندیدگی کے ادنیٰ اشارے پر بھی بھڑک اٹھتے ہیں۔ دوسرے تمام مذاہب کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور وہ اس عمل میں پختہ ہو چکے ہیں۔ ہمیں ذرا سی بھی تنقید ہضم نہیں ہوتی۔

عموماً مسلم ممالک میں اور پاکستانی معاشرے میں خصوصاً بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی کے بارے میں بات کرتے ہوئے جناب مبارک حیدر نے مسلم ممالک میں زور پکڑتے ہوئے سازشی نظریات پر کہ جس کا مقصد تمام الزامات کو دوسروں پر ڈالنا ہے سخت رویہ اپنایا۔

  ڈاکٹر حیدر نے مزید کہا کہ: ہم جدید تہذیب کو سیکولر یا غیر مذہبی نہیں مانتے جو کہ یہ فطرتاً ہے، بلکہ اسے مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگوں کا ایک تسلسل سمجھتے ہیں۔ مغرب نے عیسائیت کو شکست دے دی ہے جبکہ ہم مسلمان یہ ثابت کرنے پر اڑے ہوئے ہیں کہ یہ ایک مسلم مخالف تہذیب ہے۔ مسلمانوں میں جاگیردارانہ اور قبائلی طبقے چالاکی کے ساتھ ہر چیز کو صلیبی جنگوں کے تناظر میں دیکھنے کی مسلمانوں کی نفسیات کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ اس نفسیات کے بتدریج مراحل ہیں۔ مثال کے طور پر ہندوستان کو ہی دیکھ لیں کہ جب نوآبادیاتی طاقت نے مسلمانوں کو شکست سے دوچار کر دیا تو ہندوستان میں ہندوؤں نے اسے آزادی کی ایک علامت کے طور پر دیکھا لیکن وہ تہذیب اور جمہوریت کے نئے سبق کو حاصل کرنے میں کافی عقلمند تھے۔ انہوں نے انگریزی زبان میں مہارت حاصل کی اور جدید انقلاب میں اپنی شمولیت درج کرائی۔ لیکن مسلم جاگیردارانہ طبقات اور ملاؤں نے انگریزی تعلیم کو بھی ایک فتنہ قرار دیا۔ وہ عظیم مسلم سلطنت کے خاتمے کے صدمے سے ابھر نہیں سکے۔ 1857 میں جب مسلمانوں نے برطانیہ کے خلاف جنگ کی تو یہ ایک جدید جمہوری نظام قائم کرنے کے لیے کی جنگ نہیں تھی بلکہ یہ قرون وسطی کیان کی کھوئی ہوئی سلطنت کو دوبارہ حاصل کرنے کی جد و جہد تھی۔

ڈاکٹر حیدر بڑے پیمانے پر مسلمانوں کے اندر دانشورانہ تنزلی اور تعلیمی پسماندگی کی حالت زار پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان دانشورانہ طور پر شکست کا خوردہ ہیں اس لیے کہ وہ علم اور سائنس کے پیغمبرانہ ورثہ کو فراموش کر چکے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) علم کے حصول کے لئے لامحدود فیض الہی میں غوطہ زن تھے اسی لیے وہ مسلسل اللہ سے یہ دعا کیا کرتے تھے: " اے اللہ مجھے تمام اشیاء کی حقیقتوں کا علم عطا فرما"۔ لیکن آج ہم نے جدید سائنس کو حرام کفر اور الحاد قرار دیا ہے اس لیے کہ مغربی دنیا نے اس کی دریافت کی ہے اور اسے فروغ دیا ہے۔

اپنی گفتگو کے دوران ڈاکٹر حیدر نے ان نفرت بھری کتابوں اور سید قطب، مولانا مودودی، ڈاکٹر اسرار اور ان جیسے انتہا پسندوں کی کتابوں کو بھی موضوع گفتگو بنایا جو پاکستان کے مدارس میں پڑھائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا مودودی اور سید قطب جیسے سخت گیر مسلم علماء نے اسلام میں مذہبی انتہا پسندی، تفوق پرستی اور نرگسیت کے عناصر کو شامل کیا ہے جنہوں نے مسلمانوں سے اپنے نظریات کے بارے میں سوال نہ کرنے اور کسی بھی قسم کے محاسبہ اور تجزیہ کو نظرانداز کرنے کی تعلیم دی ہے۔ ڈاکٹر حیدر نے مزید کہا کہ "یہ نرگسیت کی بدترین شکل ہے"۔

مسلم کمیونٹی میں نرگسیت کی ایک مثال پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب معروف مسلم شاعر ڈاکٹر محمد اقبال نے اپنی کتاب ‘‘شکوہ’’ میں مسلم کمیونٹی کو خود احتسابی کرنے اور اپنا جائزہ لینے کے لیے امادہ کیا تو انہیں ملحد قرار دیا گیا تھا لیکن جلد ہی انہوں نے جب ‘‘جواب شکوہ’’ لکھی جس میں انہوں نے مسلمانوں کی بہادریوں کو بیان کیا کہ یہ وہ مسلمان ہیں جنہوں نے دیگر اقوام اور ان کے مقدس آثار و باقیات کی لوٹ مار اور ان کے ساتھ جنگ و جدال کر کے دنیا بھر میں مذہب کی تبلیغ و اشاعت کی ہے تو انہیں ہیرو بنا دیا گیا اور ان کی تعریف کی گئی۔ تاہم، جناب مبارک حیدر نے واضح انداز میں یہ کہا کہ یہ تمام باتیں مکمل طور پر اس بر حق اسلام کے خلاف ہیں جو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے پیش کیا ہےاور انہوں نے جس کی مثال قائم کی ہے۔

اپنی گفتگو کے اخیر میں ڈاکٹر مبارک حیدر نے اپنی کتاب کے عنوان "تہذیبی نرگسیت" پر دوبارہ گفتگو کی اور انہوں نے کہا کہ تفوق پرستی، علیحدگی پسندی اور مطلق العنان نظریات کی غلط تعلیم جومسلمانوں کو دی جا رہی ہے اور اس کے بارے میں انہیں یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ بہتر ، خالص ترین اور سب سے نیک نظریات ہیں، مسلمان اس دنیا پر حکمرانی کے زیادہ مستحق ہیں۔ اور تلوار کے زور پر اپنے مذہب کی تبلیغ کے نظریہ نے مسلمانوں کو ایک مکمل نرگسیت زدہ کمیونٹی میں تبدیل کر دیا ہے جو کہ پاگل پن، انتہا پسندی اور تشدد کے رجحانات سے بھرا ہوا ہے۔

ان کی گفتگو کے بعد فوراً ہی براہ راست سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہواجس میں مختلف اردو، ہندی اور انگریزی اخباروں کے صحافیوں نے اپنے اپنے سوالات پیش کئے اور جناب مبارک حیدر نے ان تمام سوالات کے دانشورانہ اور تشفی بخش جوابات دئے۔ پروگرام کے اختتام میں نیو ایج اسلام کے ایڈیٹر جناب سلطان شاہین نے ان تمام حاضرین اور صحافیوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس فکری مجلس میں شرکت کی۔

(انگریزی سے ترجمہ مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-society/new-age-islam-news-bureau/muslims-should-behave-rationally,-not-just-emotionally,-says-renowned-pakistani-intellectual-mobarak-haider-at-a-talk-organised-by-new-age-islam-foundation/d/76761

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/new-age-islam-news-bureau/muslims-should-behave-rationally,-not-just-emotionally-مسلمانوں-کو-صرف-جذباتی-نہیں-بلکہ-فکری-رویہ-اختیار-کرنا-چاہیے،-نیو-ایج-اسلام-فاؤنڈیشن-کی-تقریب-میں-مشہور-پاکستانی-مفکرمبارک-حیدر-کا-اظہار-خیال/d/76786

 




TOTAL COMMENTS:-   1


  • myn dr haider ki tehriron ka bohot hi maddah hoon.

    By khobaib hayat - 4/30/2014 11:32:07 PM



Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content