New Age Islam
Sat Jun 13 2026, 11:45 PM

Urdu Section ( 10 May 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Muslim Transgressors of Women’s Rights Should Reflect on the Verses of Qur’an حقوق نسواں کی خلاف ورزی کرنے والے مسلمان خواتین کو مساوی حقوق عطا کرنے والی قرآنی آیات پر غور کریں!

 

ورشا شرما، نیو ایج اسلام

04 مئی2014

اس حقیقت سے ہر انسان واقف ہے کہ اسلام کی آمد سے قبل عورتوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا تھا۔ خواتین کو مردوں کے برابر کی حیثیت حاصل ہونے میں ایک لمبا عرصہ بیت گیا۔ بہر حال، صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے صدیوں سے چلی آرہی جدوجہد کو مکمل طور پر انجام دیا جانا ضروری ہے۔ بدقسمتی سے خواتین کو بااختیار بنانے کی اس جدوجہد میں مصروف بہت سے لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ اسلام اس راستے میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کے بر خلاف جب ہم عورتوں کے بارے میں قرآنی آیات پر نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت اس کے بالکل بر خلاف ہے۔

قرآن کا فرمان ہے: ‘‘لوگو اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا (یعنی اول) اس سے اس کا جوڑا بنایا۔ پھر ان دونوں سے کثرت سے مرد وعورت (پیدا کرکے روئے زمین پر) پھیلا دیئے۔ اور خدا سے جس کے نام کو تم اپنی حاجت بر آری کا ذریعہ بناتے ہو ڈرو اور (قطع مودت) ارحام سے (بچو) کچھ شک نہیں کہ خدا تمہیں دیکھ رہا ہے۔’’ (4:1)۔

اس آیت سے یہ بات واضح ہو گئی کہ اسلام میں مرد اور عورتیں تمام معاملات اور فرائض میں مکمل طور پر ایک دوسرے کے برابر ہیں۔ خواتین کی حیثیت خلقی یا غیر خلقی طور پر مردوں سے کسی بھی طرح کم نہیں ہے۔ دونوں کے آپسی تعلقات اور خدا کی بارگاہ میں عبودیت کے فرائض بالکل برابر ہیں۔

اسلام سے پہلے عرب بچیوں کو زندہ در گور کرنے کے عادی تھے اس لیے کہ ان کا ماننا تھا کہ لڑکی کو جنم دینا ان کے لیے ذلت و رسوائی کا سبب ہے۔ قرآن نے بچیوں کی پیدائش پر عربوں کے اندر سرایت کر چکےجھوٹی ذلت کے اس مہلک احساس کی مذمت کی ہے۔ جو لوگ اس برے کام میں ملوث تھے قرآن انہیں تنبیہ کرتا ہے: "حالانکہ جب ان میں سے کسی کو بیٹی (کے پیدا ہونے) کی خبر ملتی ہے تو اس کا منہ (غم کے سبب) کالا پڑ جاتا ہے اور (اس کے دل کو دیکھو تو) وہ اندوہناک ہوجاتا ہے۔ اور اس خبر بد سے (جو وہ سنتا ہے) لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے (اور سوچتا ہے) کہ آیا ذلت برداشت کرکے لڑکی کو زندہ رہنے دے یا زمین میں گاڑ دے۔ دیکھو یہ جو تجویز کرتے ہیں بہت بری ہے۔" (59-16:58)

المیہ یہ ہے کہ ہم میں سے کچھ لوگوں میں اب بھی بچیوں کو جنم دینے میں یہ نامعقول شرم اور ذلت و رسوائی کا احساس موجود ہے۔ آج جب کہ ہم سائنسی اور سماجی ترقی، تعلیم اور روشن خیالی کے ایک روشن دور میں قدم رکھ چکے ہیں مسلم دنیا کے کئی حصوں میں اور خاص طور پر جنوبی ایشیا میں قبل از اسلام کے اس عربی کلنک کا پایا جانا بڑی ذلت و رسوائی کی بات ہے۔ ہمارے ہندوستانی معاشرے میں جہاں مرد ہی اکثر پورے خاندان کی دیکھ بھال کرتے ہیں ایک بیٹے کی پیدائش بیٹیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ فخر و مباہات اور عزت عظمت کا باعث مانی جاتی ہے۔

بہتر تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کر کے خواتین کے حقوق اور خود مختاری کی حفاظت کے لئے ٹھوس کوششیں کی جا رہی ہیں ہمیں مسلم معاشروں میں صنفی مساوات کے وسیع تر قرآنی تصور کو قائم کرنے کے لئے مزید مشترکہ جد و جہد کرنی چاہئے۔ یہ بالکل غلط اور بے بنیاد غلط فہمی ہے کہ اسلام جبری شادی، غیرت کے نام پر قتل اور خواتین کو گھر میں ہی قید رکھنے جیسے دیگر شیطانی رسوم و رواج اور خواتین مخالف ایسی سماجی برائیوں کی تائید کرتا ہے جو آج خواتین کے پورے وجود کے لئے عظیم خطرہ ہیں۔

یہ وقت کی بات ہے کہ مسلم دانشوران، سیاسی رہنما، علماء اور دیگر مسلم مذہبی رہنما خواتین کی حیثیت اور حقوق کے تعلق سے قرآنی نظریات کی واضح خلاف ورزی کی مزاحمت کر کے مسلم معاشروں سے زن بیزاری کی اس برائی کی بیخ کنی کرنے کے لئے پیش قدمی کر رہے ہیں۔ انہیں پاکستان کے قبائلی علاقوں جیسے روایتی طور پر قدامت پسند مسلم معاشروں کی اصلاح کے لئے کام کرنا چاہئے جہاں دن رات کھلے طور پر خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ حقوق نسواں کے بارے میں اسلام کی حقیقی تعلیمات کو اجاگر کرنے کے لئے انہیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے اور انہیں زن بیزار روایت، پدرانہ اقتدار اور خواتین کے خلاف وسیع پیمانے پر پھیلے تعصب کو مقدم رکھنا چاہئے۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ خواتین کے تعمیری کردار کو آج مجروح کیا جا رہا ہے اور ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اسی مذہب کے نام پر کی جا رہی ہے جس نے کسی بھی سماجی یا مذہبی نظام  سے کہیں زیادہ خواتین کو حقوق عطا کیا ہے۔

اسلام وہ مذہب ہے جس نے یورپی معاشروں میں خواتین کو وراثت کا حق حاصل ہونے سے بارہ صدیاں پیشتر ہی عورتوں کو وراثت کا حق عطا کیا تھا ۔ بہت پہلے ہی قرآن نے واضح طور پر یہ اعلان کر دیا تھا: "جو مال ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں تھوڑا ہو یا بہت۔ اس میں مردوں کا بھی حصہ ہے اور عورتوں کا بھی یہ حصے (خدا کے) مقرر کئے ہوئے ہیں۔" (قرآن کریم، 4:7)۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا ظہور ایک ایسے معاشرے میں ہوا تھا جہاں خواتین خود جائیداد کے طور پر وراثت میں حاصل ہوتی تھیں۔ اسلام ایسی تمام خواتین مخالف رواجوں کو کچلتا ہوا آیا اور عرب عورتوں کے لئے ان کی اپنی وراثت کا حق تسلیم کرنے کے لیے ایک انقلاب لے کر آیا۔

خواتین کے حقوق اور فرائض کا احترام کرنے اور ایک انسانی معاشرے کی تعمیروتشکیل میں ان کے اہم کردار کو باور کرنے کے لئے مسلمانوں کو تعلیم یافتہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلام نے تعلیم حاصل کرنے پر بہت زور دیا ہے اور مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے حصول علم کو لازم قرار دیا ہے۔ اسلام کا نظریہ یہ ہے کہ صرف تعلیم ہی کسی قوم کو جہالت اور پسماندگی کی تاریکی سے نکال کر ایک ترقی پسند اور روشن خیال معاشرے میں تبدیل کر سکتی ہے۔ لہذا قرآن تمام بنی نوع انسان کے سامنے ایک سوال رکھتا ہے: "بھلا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟" (قرآن 39:9)

انگریزی سے ترجمہ: مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)

نیو ایج اسلام کی مستقل کالم نگار ورشا شرما جامعہ ملیہ اسلامیہ، نیو دہلی سے تقابل ادیان میں ایم اے کر رہی ہیں۔

URL English article:

https://newageislam.com/islam-women-feminism/muslim-transgressors-women’s-rights-reflect/d/76863

URL for Hindi article:

 https://www.newageislam.com/hindi-section/muslims-violate-women-rights-enshrined/d/34706

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/muslim-transgressors-women’s-rights-reflect/d/76947

 

Loading..

Loading..