certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (03 Jun 2014 NewAgeIslam.Com)



Cultural Narcissism- Part 6 (تہذیبی نرگسیت حصہ (6

 

 

مبارک حیدر

اصل مقصد کیا ہے؟

شاید یہ کہنا درست نہ ہو کہ ہمارے پالیسی ساز جو پاکستان کی داخلی اور خارجہ حکمت عملی پر اثرانداز ہوتے آئے ہیں، بھارت دشمنی کی ذہنیت اور دو قومی نظریہ کا محض بہانہ بناتے ہیں، جبکہ اِن کے پیشِ نظر مقاصد کچھ اور ہوتے ہیں۔ شاید یہ تصور کرنا بہتر ہے کہ ہمارے یہ دوست خلوصِ دل سے پاکستان اور اس خطہ کے لئے احسن خیال کرتے ہیں کہ دنیا کے اس خطہ پر وہ لوگ غالب حیثیت کے مالک ہوں جو جدید دنیا اور اس کے علوم و فنون سے نفرت کرتے ہیں یعنی ’’خالص اسلام‘‘ کے وہ علمبردار جنھیں بنیاد پرست کا نام دیا گیا ہے۔

بالکل ممکن ہے کہ افواج پاکستان اور مقتدر ایجنسیوں کے یہ پالیسی ساز حلقے پورے خلوص سے یہ سمجھتے ہوں کہ ساری دنیا پر مسلمانوں کی حکومت قائم کرنا ممکن ہے، یعنی احیائے خلافت ممکن ہے اور یہ کہ یہ غلبہ اسلام پاکستان کی سرزمین سے اٹھنے والا ہے۔ یا ممکن ہے وہ سمجھتے ہوں کہ یہ خلافتِ اسلامیہ ہمارے مدرسوں کی تعلیم سے پیدا ہو رہی ہے اور القاعدہ کی قیادت میں طالبان پوری انسانیت کی رہنمائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آج کی دنیا میں نظریات کی حیثیت یا تو انکساری پر مبنی سیکھنے کی ہوتی ہے یا اعتماد پر مبنی سکھانے کی اور تیسری طرز کے نظریات نجی یا گروہی تصور کیے جاتے ہیں جن میں کوئی بات قابلِ اعتراض بھی نہیں لیکن ان کے لئے شرط یہ ہوتی ہے کہ یہ نجی یا گروہی نظریات دوسروں پر مسلط نہ کیے جائیں۔ لہٰذا اگر کسی نظریہ کا دعویٰ یہ ہو کہ یہ سب کے لیے ہے تو اس کا واضح مفہوم صرف یہی ہوتا کہ یہ ساری دنیا کی رہنمائی کر سکتا ہے ۔ ممکن ہے یہ خیال بھی پایا جاتا ہو کہ جدید علوم و فنون کی دنیا سرے سے غلط ہے اور انسانوں کو ایسے کسی علم و ہنر کی ضرورت ہی نہیں جو آج کے دور میں پیدا ہوا ہے، یعنی سائنس اور ٹیکنالوجی کی موجودہ شکل ضروری نہیں۔ ایسے افکار کی صحت یا نقص کا فیصلہ تفصیلی فکری بحثوں کے بغیر ممکن نہیں۔ اور اگر پاکستان کی موجودہ حکمت عملی کے انتشار کا سبب یہی افکار ہیں تو پھر یہ تفصیلی بحثیں ہمارے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے فوری طور پر ضروری ہیں۔

ہمارا مستقبل دنیا کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے کہ نہیں یہ بھی ابھی تک سوال بنا ہوا ہے۔ کیا ہر سوال کا جواب بھارت کو سامنے رکھ کر دیا جائے گا؟ بھارت سے جنگ کرتے رہنا کیا ہمارے وجود کی شرط ہے؟ یعنی یہ کہ جنگ یا نفرت دو قومی نظریہ کی بنیاد ہے۔ دو قومی نظریہ کے سنجیدہ طالب علم کو معلوم ہے کہ یہ تشخص کا معاملہ ضرور تھا نفرت اور تصادم کا نہیں۔ کیا قومی آزادی کسی دوسری قوم سے نفرت کے بغیر ممکن نہیں؟ یعنی کیا جدید جاپان ، ملائیشیا یا چین کی ترقی کسی مخالف قوم سے نفرت کی بنیاد پر ہوئی ہے؟ کیا بھارت سے نفرت کے نتیجہ میں یا اسلام کا بڑھ چڑھ کر نعرہ لگانے سے ہم نے پچھلے ساٹھ برس میں ترقی کی ہے؟ کیا ترقی کا تصور ہی اسلام میں ممنوع ہے؟۔ لہٰذا ہمارے لئے ضروری نہیں؟ اور پھر یہ کہ کیا بھارت سے مسابقت اور ہماری قومی سربلندی کا دارومدار اس پر ہے کہ ہم اپنے اسلامی تشخص کو آخری حدوں تک شدید کرتے جائیں، حتیٰ کہ ہم تلوار اور گھوڑے کی تہذیبی سطحوں کو چھو لیں۔ تو کیا مادی وسائل کی ایسی حالت میں قومی یا ملی سربلندی کو قائم رکھا جا سکے گا؟ کیا ’’بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی‘‘ کا فلسفہ علمی ، عقلی بحث کے ذریعہ سے ماننا یا چھوڑنا ممکن نہیں، یعنی کیا اس فلسفے کی صحت کا فیصلہ صرف اسی دن ہو گا جب مسلمان پوری دنیا کو فتح کرنے خالی ہاتھ نکلیں گے اور جنگ میں فتح یا شکست کے بعد ہمارے علمائے دین نتائج پر اظہارِ خیال کی اجازت دیں گے؟ کیا اقوامِ عالم پر اسلامی تسلط کا نظریہ اور غلبۂ اسلام کی بشارت ، جس سے ہمیں سرشار کیا جا رہا ہے، واقعتا اسلام کے ابدی عقائد میں شامل ہیں؟ حتیٰ کہ یہ سوال کہ کیا اسلام میں کسی مدرسہ اور دینی طبقہ کی فائق حیثیت کا کوئی تصور موجود ہے؟ اور کیا پاکستان کو مذہبی بنیاد پر چلانے کا کوئی فکری، اخلاقی یا سیاسی جواز موجود ہے؟ کیا جدید علم و ہنر جائز ہیں؟ جائز ہیں یا ضروری؟ جائز ہیں تو اس نیم دلی سے اس کی اجازت دینا جب اصل مقصد علماء دین کا تسلط ہو، تو کوئی نتیجہ پیدا ہو سکتا ہے؟ اگر ضروری ہے تو کیا علم و ہنر کی طرف ہمارا سفر ایسی قیادت میں ممکن ہے جس کے شب و روز مذہب کی ترویج اور تبلیغِ دین میں گزرتے ہیں، جسے جدید علوم و فنون سے نہ تو عقیدت ہے نہ تعلق؟ ماہرین نفسیات اور ماہرین تعلیم کہتے ہیں کہ ذہنی عمل کا بنیادی قانون ہے کہ ہم وہ بات زیادہ واضح اور آسان طریقے سے سیکھتے ہیں جس کے لئے ہمارے ہاں پہلے قبولیت کے جذبات ہوں۔ اگر معاشرہ ایک طویل عرصہ سے صرف عقائد اور عبادات کا پرچار کرتا رہا ہو تو ریسرچ اور سائنس یا ٹیکنالوجی کا فروغ آسان نہیں ہوتا۔ چاہے مذہب اور سائنس میں تصادم نہ بھی ہو۔ یہاں ایران کی دینی قیادت کی علمی حیثیت کا تذکرہ ضروری ہے۔ اگرچہ ایرانی علماء دوسرے مسلم علماء کے مقابلے میں موجودہ علوم سے کہیں زیادہ واقف ہیں، اس کے باوجود اُن کے بنیادی طرزِ فکر کی وجہ سے ایران اپنے علمی سفر میں دوسری قوموں کے ساتھ نہیں چل سکا۔کیا جمہوری اصولوں اور اختلافِ رائے کی گنجائش ہماری دینی قیادت کی نظر میں کچھ ہے؟ کیا دین سے اختلاف کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ تو پھر آج تک کیوں نہیں دی گئی اگر نہیں دی جا سکتی تو پھر انسانی عقل کا مصرف کیا ہے؟ جب یہ طے ہے کہ سچائی صرف دینِ اسلام میں ہے اور انسانی علم و عقل کو اس سچائی کے تابع رہ کر کام کرنا ہے تو پھر عالمِ دین کے علاوہ اور کسی قسم کی قیادت یا ماہرین کی گنجاش کہاں ہے؟

URL for Part 5:

http://newageislam.com/urdu-section/mobarak-haider/cultural-narcissism--part-5--(تہذیبی-نرگسیت-حصہ-(5/d/87312

URL for this part:

http://newageislam.com/urdu-section/mobarak-haider/cultural-narcissism--part-6---(تہذیبی-نرگسیت-حصہ-(6/d/87336

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content