certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (19 Jun 2014 NewAgeIslam.Com)



Miracles of the Quran Part13 اعجاز القرآن قسط تیرہ

 

 

کشمکش حق و باطل ( باب سیز دہم)

خواجہ ازہر عباس

قرآن کریم اپنے وحی الٰہی  ہونے کے ثبوت میں نظری دلائل کو ہی کافی نہیں سمجھتا وہ کہتا ہے کہ اس کے نتائج کو پرکھ کر دیکھئے ، اگر اس کے نتائج اس کے دعاویٰ کے مطابق بر آمد ہوتے ہیں، تو یہ بات اس کے وحی الہٰی  ہونے کا ثبوت  ہے۔ اگر اس کے نتائج  اس کے دعاویٰ کے مطابق  بر آمدنہیں  ہوتے تو اس کی وحی ہونے کا دعویٰ باطل ہے۔یہ کیسا  عمدہ  اور واضح  ثبوت قرآن کریم نے پیش فرمایا  ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ میں ایک نظام پیش کرتا ہوں، اس کے مقابلہ  میں تم  ایک نظام پیش کرتے ہو تمہارے او رمیرے  دعاویٰ  کے پرکھنے کا طریقہ  یہ ہے کہ   اعْمَلُوا عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن تَكُونُ لَهُ عَاقِبَةُ الدَّارِ ۗ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ ( 6:135)

تم اپنے پروگرام پر عمل  کرو، میں اپنے  پروگرام پر عمل کرتا ہوں، نتائج خود بتادیں گےکہ کون  اپنے دعویٰ میں سچا ہے اور کون جھوٹا  ہے، جو نظام ظلم  پر استوار  ہوگا ، وہ کبھی کامیاب  نہیں ہوسکتا ۔

اس مختصر سی تمہید کے بعد عرض ہے کہ فکر انسانی اس وقت تک جس بلند ی پر پہنچی  ہے ، اس کا نچوڑ یہ ہے کہ ہر نظام تغیر  پذیر ہے ، آج ایک نظام وجود پذیر  ہوتا ہے ، کچھ عرصہ کے بعد وہ مٹ جاتاہے  اور اس کی جگہ دوسرا نظام کے نتائج بر آمد ہونے  کا وقت ہے اور اس کے لئے دعویٰ کیا جاتاہے کہ یہ نظام انسانیت  کے تمام مسائل حل کردے گا جب اس نظام کے نتائج بر آمد ہونے  کا وقت آتاہے تو  وہ نظام اپنے خاتمہ  کی طرف رواں دواں ہوتاہے اس کےبرخلاف قرآن کریم  کا دعویٰ  ہے کہ   وَأَمَّا مَا يَنفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ (13:17) جو نظام نوع انسانی  کے لئے نفع  بخش  ہوگا وہ ہمیشہ باقی رہے گا اور یہ وہ اصول  ہے جو کبھی  تبدیل نہیں ہوسکتا   لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ ( 10:64) اللہ تعالیٰ کےاصولوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ۔ آپ ملاحظہ فرمائیں کہ قرآن کریم کس طرح نظاموں کی تبدیلی کا تذکرہ  کرتا ہے ۔ وَيَمْحُ اللَّهُ الْبَاطِلَ وَيُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ (42:24) اللہ تعالیٰ باطل کو مٹانا  ہے اور حق  کو قائم کرتا ہے ۔ حق کوئی ذہنی  ، نظری، یا محض  عقیدہ نہیں ہوتا ۔ یہ صحیح عقائد او رمستقل اقدار کے تعمیری  نتائج  کا نام ہے جو ٹھوس او رمحسوس شکل  میں سامنے آتے ہیں ۔ یہ کسی خارجی  دلیل کےمحتاج نہیں ہوتے ۔ اس دنیا میں کوئی عقیدہ حق ثابت  نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کے تعمیر ی نتائج ایک ٹھوس حقیقت  بن کر سامنے نہ آجائیں ، مستقل  اقدار اور ابدی  نظریات کے اوپر  ایک محسوس  نظام قائم  کر کے ، اس کے خوشگوار نتائج سے اس کے حق  ہونے کی شہادت پیش کرنادین ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا  وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا (11:6)  زمین پر کوئی متنقس ایسا نہیں ہے جس کے رزق کی ذمہ داری اللہ پر نہ ہو۔ آپ اللہ کا دیا ہوا نظام قائم کریں ۔ جب اس مملکت  کے ہر فرد کو رزق میسر آنے لگے  تو یہ حق  کا ثابت ہونااور دین کی صداقت کی ایک دلیل ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ ( 47:7) اے ایمان والو اگر تم  اللہ  کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے قدموں کوجمادے گا ۔جب آپ اللہ کی مدد عملی  طور پر کر کے اللہ  کا دین قائم  کرنے کی کوشش  کریں گے تو اللہ  بھی دین کے قیام کی جد وجہد  میں آپ کی مدد کرے گا اور آپ کے قدموں کو جمادے گا اس طرح دین کا قیام ایک زندہ حقیقت یعنی  حق ہوگا اور قرآن کریم کی صداقت کی ایک دلیل ۔ ہم مسلمانوں  نے گذشتہ  چودہ سو سال  میں اللہ  کی مدد نہیں کی یعنی دین کے قیام  کی کوشش نہیں کی ۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ  نے بھی ہماری مدد نہیں فرمائی  جس کے نتیجہ میں آج مسلمان سب سے زیادہ  ایس سُوراندہ، آں سُودر ماندہ قوم  ہے لیکن جب  مسلمانوں  نے دین کی قیام کی کوشش کی تو اللہ کی مدد آئی اور یہ کیفیت  ہوئی کہ  وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ ( 8:17) جب تم تیر چلارہے تھے، تو وہ تیر تم نہیں  چلا رہے تھے بلکہ وہ تیر اللہ  چلا رہا تھا ، اور ا س طرح  ان مسلمانوں  کو اللہ  تعالیٰ کی رفاقت حاصل ہوئی جس  سے بلند تر مرتبہ انسان کے تصور میں نہیں آسکتا ۔

طبعی دنیا میں بھی کشمکش  حق و باطل  میں ہمیشہ  حق ہی غالب چلا آرہاہے ۔ اس کائنات  میں حق و باطل  کی کشمکش ہر آن  جاری و ساری  ہے زندگی  سب سے پہلے Amebea  یعنی ایک Cell  میں نمودار ہوئی ۔ یہ زندگی کروٹیں  بدلتی، جس کروٹ میں بھی تھی اور جس شکل میں بھی تھی ۔ قرآن کریم ا س کو ایک نوع میں اگر حق کا غلبہ رہا اور اس میں آگے  بڑھنے کی صلاحیت پیدا ہوئی تو یہ آگے بڑھ گئی ورنہ راستہ سے ہٹ کر ختم ہوگئی جس نوع پر بھی تخریبی قوتیں غالب آگئیں  وہ ختم ہوگئی جو حق تھا وہ آگے بڑھتا چلا گیا ۔ جو تخریب  و باطل  تھا وہ ختم ہوتا گیا ۔یہ کائنات پہلے دن سے اس صورت میں نہیں تھی، وہ ایک دفعہ ہی اس شکل میں نمودار نہیں ہوئی ۔ کائنات میں  ہمیں جتنی چیزیں نظر آتی ہیں وہ  ایک مرتبہ ہی  اس شکل میں نمودار نہیں ہوئیں ان کی پیدائیش کا آغاز ایک معمولی  نقطہ  سے ہوا پھر وہ نشو نما  پاتی ہوئی اگلی منزل  میں اس طرح رفتہ رفتہ  ، بتدریج  پہنچتی گئی اور ہر شے موجود شکل  میں تبدیل  ہوگئی ۔ جہاں  تک انسان کا تعلق  ہے یہ بھی انسانیت  کی منزل میں اسی پروگرام کے مطابق  پہنچا ہے ۔ اس کےمتعلق  مولانا روم نے اپنی  مثنوی  شریف میں فرمایا ۔

اشعار ۔

(1)  از جمادی مردم و نامی شُرم                    و زنما مُردم بہ حیوان سر زدم

(2) مُردم از حیوانی و آدم  شدم                     پس چہ ترسم کی زمُرون کم شدم

(3) حملہ دیگر بہ مبرم از بشر                         تابر آدم  از ملائک بال و پر

(4) با  ردیگر از ملک  بَرّان شوم                       آنچہ در وہم نہ آید آں شوم

مثنوی  شریف کی زبان میں بہت آسان سہل  اور رواں ہے اس لئے ان اشعار کے ترجمے کی تو ضرورت نہیں ہے لیکن  ہم ان اشعار کامفہوم  تحریر  کردیتے ہیں تاکہ قارئین  کرام کو کوئی  دقت نہ رہے۔

(1)  میں جمادات تھا اور اسی حالت میں مر گیا تو دوبارہ  نبات کی شکل میں  پیدا ہوا

 پھر نبات کے روپ میں  مرا تو اگلی  نوع حیوان میں ترقی  کر گیا ۔

(2) حیوان کی نوع میں آنے کے بعد مرا تو زندگی انسان کی صورت میں ترقی  کر گئی ۔ مجھے موت سے اس لئے ڈر نہیں لگتا کیونکہ زندگی  ترقی کرتی جارہی ہے ۔

(3) اب میں انسان  ہوکر مروں گا تو فرشتہ بنوں گا اور فرشتوں کی طرح میرے  بال و پر بھی ہوں گے۔

(4) فرشتہ ہونے  کے بعد ترقی  کروں گا اور ا س طرح  ترقی کرتے کرتے ایسے مقام پر پہنچ جاؤں گا، جس کا ہم اس وقت تصور بھی نہیں  کرسکتے ۔

قر آن کریم کا یہ اصل الاصول کہ  وَيَمْحُ اللَّهُ الْبَاطِلَ وَيُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ ( 42:24) اللہ باطل کو مٹاتا ہے اور حق کو اپنے کلمات  کے ذریعے  ثابت رکھتا ہے، سونے سے لکھنے  کے  قابل ۔ اس اصول  کے ماتحت حق و باطل  کی کشمکش کا سلسلہ  اس کائنات  میں جاری  و ساری  ہے۔ قرآن  کریم نےاتنی بڑی  حقیقت آج سے چودہ سو سال پیشتر  بیان  فرمائی تھی ۔ عرب کی سرزمین میں ایک بھی شخص کے تصور میں یہ بات  نہیں آسکتی  تھی ۔ لاریب کہ یہ عظیم اصول وحی الہٰی  کا عطا ء کردہ ہے ۔ قرآن کریم نےجو یہ اصول بیان فرمایا تھا ، ہماری ا س دور کی ساری سائنسی تحقیقات  اسی اصول  پر مبنی  ہیں۔ طبعی دنیا  میں یہ اصول جس طرح  کار فرما ہے اس کی مختصر مثال تحریر کی جاچکی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ طبعی دنیا میں عمل ارتقاء کا سارا دار و مدار  اسی اصول پر استوار ہوتا ہے ۔ جہاں تک نظریات کی دنیا  کا تعلق  ہے یہ سارے نظام جو قائم  ہوتے جارہے ہیں ، خواہ  وہ غلط  ہوں یا صحیح ہوں، ان کی بنیاد بھی یہی اصول  ہے ۔ اس اصول کی اس درجہ اہمیت  ہے لیکن ہمارے  گذشتہ دور کے مفسرین نے اس کو اس درجہ قابل  اعتناء نہیں سمجھا  اور وہ اس  کی گرفت نہیں کرسکے ۔ دیکھنے میں تو یہ صرف چند الفاظ کا مجموعہ ہے، جو اپنے اسی مفہوم  کے ساتھ کئی  مقامات پر آئے ہیں  لیکن یہ اپنے  اندر کتنی  عظیم حقیقت  لئے ہوئے  ہیں اس  کا اندازہ  موجودہ دور کے محققین  کی فکر کے نچوڑ سے ہوتا ہے کہ ان کی فکر کی انتہا  بھی اس حقیقت  کی تائیدوتصدیق کرتی ہے ،ہیگل انجلز ، مارکس  کے نظریات  کا ملخص  یہی نظریہ  ہے ۔ وہ سب اسی نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ساری  کائنات  میں حق و باطل کی کشمکش جاری ہے ۔ البتہ  وہ یہ نہیں کہتے کہ حق  باطل پر غالب  آجاتا ہے ۔ ان کے نزدیک نہ کوئی نظام حق ہے اور نہ کوئی باطل ہے یہاں  ہر شے تغیر پذیر ہے ۔ ان  کے خیال  میں دنیا  میں ایک نظام قائم ہوتا ہے کچھ  عرصہ بعد ایک اور نظام  اس کی جگہ لے لیتا ہے اور ابد تک جاری رہے گا ۔ ان کے نزدیک کوئی قوت ایسا  کرتی ہے جس کو وہ  تاریخی  وجوب  یا  Historical Necessity  کا نام دیتے ہیں لیکن  وہ اس قوت یا تاریخی  و جوب کی با لکل وضاحت نہیں کرتے  او رنہ وہ اس کی وضاحت کرسکتے ہیں ۔ انہیں اس تغیر کی کوئی ایسی  اساس نہیں  مل سکی  جو دلیل و برہان  پر قائم  ہو اور ہمارے  خیال  میں انہیں  یہ اساس  مل بھی  نہیں سکتی ، یہاں قرآن کریم  کی حفاظت واضح ہوتی ہے اس زیر غور  آیت میں جو  بِكَلِمَاتِهِ کا لفظ آیا ہے یہی قرآن کا اعجاز  ہے ، اسی کو دوسری جگہ قرآن  نے کلمہ کہا ہے ( 6:115) او رکلمات وہ ہی  چیزیں  ہی جن کو  Ideas  ( تصورات ) کہتے ہیں ۔ قرآن  کریم کہتا ہے کہ حق باطل پرکلمات  اللہ کی وجہ سے غالب  آتا ہے او ریہ وہ دین ہے جو قرآن کریم کے ذریعے عطاء فرمایا گیا ہے۔

جو نظام  حق پرقائم ہوتا ہے وہ باطل پر اس لئے غالب آتاہے کیونکہ ۔ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ (14:27)  اس طرح اللہ، اس محکم نظریہ زندگی کی رُو سے ، ایمان والوں کی جماعت  کو ان کی دنیاوی  اور اُخروی ( دونوں) زندگی میں ثبات اور تمکن  عطا ء کر دیتا ہے چونکہ  وہ قوم قوم  ثابت (محکم نظریہ حیات  پر کار بند ہوتی ہے، اس لئے اسے زندگی میں ثبات و استقلال  حاصل ہوتا ہے اس دنیا  کی زندگی میں بھی  اور آخرت میں بھی یہ ہے قرآنی  نظریہ حیات کی  امتیازی  خصوصیت ۔ یہ دنیا  بھی حسین اور تابناک اور اُخروی  زندگی بھی کامیاب و کامران لیکن یہ یونہی  اتفاقیہ نہیں  ہوجاتا ۔ یہ اللہ تعالیٰ  کے قانون  کے مطابق ہوتا ہے ۔ یہی اس نظریہ کے ثبات اور اس کے حامل قوم کے استحکام کی دلیل  ہے ۔ یہ کس طرح ہوتاہے ، اس کا ذکر آگے آتاہے ۔

قانونِ خد ا وندی کے مطابق حق ہر صورت میں باطل  پر غالب  آکر رہتا ہے لیکن حق کے غلبہ  حاصل کرنے  کی دو صورتیں  ہوتی ہیں ۔ ایک صورت تو یہ ہے کہ حق خدائی پیمانوں  کے مطابق  غالب آتاہے جس میں اللہ  تعالیٰ کا ایک ایک دن ہمارے ہزاروں  دنو ں کے برابر ہوتا ہے دوسری صورت یہ ہے کہ انسانوں کی ایک جماعت  اس کو ‘‘ کندھا ’’ دےکر اس کی رفتار کو تیز کردے ۔ جیسا کہ اوپر تحریر کیا گیا ہے اس صورت میں حق کا غلبہ یونہی  اتفاقیہ طور پر نہیں ہوتا اس کے لئے بہت کچھ محنت کی جاتی ہے اور اسے ‘‘ کندھا ’’ دیا جاتا ہے ارشاد عالی ہے ۔

مَن كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا ۚ إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ (35:10) جو شخص عزت کا خواہاں  ہو تو ساری عزت تو خدا کی ہے اس کی بارگاہ  میں اچھی باتیں پہنچتی ہیں اور اچھے کام کو وہ  بلند کرتا ہے ارشاد ہوتاہے کہ تم غلبہ و اقتدار  چاہتے ہو تو یہ قوانین  خداوندی سے وابستگی سے ہی حاصل ہوسکتاہے ۔ نا پائیدار خود کو فریب دینے والی  ، دوسروں کو دھوکہ دے کر حاصل کردہ عزت تو دوسرے طریقوں  سے بھی حاصل ہوسکتی ہے لیکن وہ عزت جس میں شرفِ انسانیت پوشیدہ ہے، وہ قوت ، وہ تکریم  ، اقدارِ خداوندی کے ساتھ وابستگی سے   حاصل ہوتی ہے یہ کس طرح حاصل ہوتی ہے فرمایا ۔

إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ (35:10) اچھی باتیں اس کی طرف پہنچتی  ہیں اور اچھے کاموں کو وہ بلند کرتاہے ۔ غلبہ حاصل کرنے کے لئے دو چیزیں  ضروری ہوتی ہیں ، ایک تو بہترین نظریہ زندگی جس میں بڑھنے اور خوشگوار نتائج دینے کی صلاحیت موجود ہو۔ دوسرے وہ اعمال صالح جو اس نظریہ کو کامیاب کریں ۔ اللہ تعالیٰ کے عطاء کردہ نظریہ حیات میں اتنی قوت  ، توانائی  اور صلاحیت  ہوتی ہے کہ وہ خو د بخود بغیر کسی  خارجی سہارے کے نتائج دیتا چلا جاتا ہے لیکن اس  کی رفتار بہت سُست اور اللہ کے قانون  کے مطابق ہوتی ہے اور اگر انسان اعمال اس کو سہارا دے دیں تو اس کی رفتار بہت تیز ہوجاتی ہے ۔

آیہ کریمہ اور اس کے درج شدہ مفہوم کی تفصیل یہ ہے کہ جو خدا کے کلمات  یا نظریات زندگی  ہیں، جنہیں  اس زمانہ میں Ideology  کہتے ہیں ان کی تعریف یہ ہے کہ وہ طیب ہیں (14:24) اور ہر موسم میں نہایت خوشگوار پھل دیتےہیں ( 14:25)  فرمایا کہ یہ جو خصوصیت اور جوہر ہے وہ ان کے اندر خود موجود ہے ۔ یہ استعداد اور صلاحیت تمہاری پیدا کردہ نہیں ہے ان میں یہ چیز از خود موجود ہے ۔ یہ ان کلمات کا  Potential ہے۔ یہ سب کچھ بن جانے کی صلاحیت  ان کے اندر پوشیدہ اور خفتہ ہے لیکن  یہ کلمات  جب از خود  تنائج پیدا کریں گے تو وہ اللہ کے دنوں  کےمطابق حاصل ہوں گے۔

يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ ( 32:5) وہ آسمان سے لے کر زمین تک کے امور کی تدبیر کرتاہے پھر یہ بندوبست اس دن کی مقدار ہمارے شمارے ہزار ہزار برس ہوتی ہے، اس کی بارگاہ  میں پیش ہوگا۔ اس جگہ انسان کا ہاتھ با لکل نہیں لگ رہا ہے ۔ یہ اس کا امر زمین پر آرہاہے ۔ پھر وہ اسکیم الیہ ہورہی ہے یعنی اپنی  منزل  مقصود (Destination ) کی طرف جارہی ہے ۔ لیکن یہ سکیم اپنے مراحل  ہمارے ہزاروں سالوں  میں مکمل  کررہی ہے ہمارے حساب  و شمار سے اس میں طویل  المیعاد عرصہ لگ جاتاہے  لیکن یہ از خود بغیر انسانی ہاتھ  لگے بڑھ رہی ہے اور اللہ کی  طرف بلند ہورہی ہے کلمہ ٔ طیب خود بھی  رفعت حاصل  کرتاہے ۔ خود اللہ  کے دلوں  کے حساب کےمطابق  اور اگر انسانی سہارا  مل جائے تو انسانی سالوں  کے حساب سے ۔

آیہ کریمہ  میں جو لفظ الیہ یعنی اللہ  کی طرف آیا ہے ۔ اس  الیہ  کے لفظ نے بڑی  غلط فہمیاں پیدا کی ہیں ۔ آپ کو یاد ہوگا کہ کلمہ  استر جع میں بھی یہ لفظ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ( 2:156) آیا ہے ۔ اس کا ترجمہ  لکھا جاتاہے کہ ہم خدا  کے ہیں اور ہم خدا کی طرف جائیں گے ۔ یہاں  بھی الیہ کا مفہوم  بالکل غلط لیا جاتاہے ۔ انسان  کے ذہن میں مقام یا Space کے بغیر کسی چیز کو حُجرو خیال آہی نہیں سکتا اس لئے الیہ کا غلط مفہوم لیا گیا ہے ۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ جو الیہ کا لفظ ہے اس کے معنی  یہ نہیں کہ  اللہ تعالیٰ  کسی خاص مقام پرمحدود ہے جہاں انسان اس کی طرف جاتاہے بلکہ اس کےمعنی  یہ ہیں کہ اللہ نے جو مقصد یا منزل مقرر فرمادی ہے اس کی طرف  جانا مثلاً جب حضرت ابراہیم علیہ السلام  کو بخوبی یہ اندازہ ہوگیا کہ وہ اپنے وطن میں نظام خدا وندی  قائم نہیں کرسکتے تھے  تو انہوں نے  وہاں  سے ہجرت  فرمائی اور فرمایا  ذَاهِبٌ إِلَىٰ رَبِّي (37:99) میں اپنے رب کی طرف جا رہا ہوں۔ ایک دوسرے مقام پر ارشاد  ہوتا ہے   إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّي (29:26) میں اپنے خدا کی طرف ہجرت کرر ہا ہوں ۔ ایک جگہ ارشاد ہے  وَمَن يَخْرُجْ مِن بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ (4:100)

جو شخص اپنے گھر سے ہجرت کرنے اللہ اور رسول کی طرف چل پڑا اور اسے راستے  میں موت آگئی تو اس کا اجر اللہ کے ذمےہے ۔ یہا ں اللہ اور رسول  کی طرف جانے سے مراد مدینہ  کی طرف ہجرت  کرنا نہیں ہے ۔ ظاہر ہے کہ اللہ جس طرح مدینہ میں تھا  اسی طرح وہ مکّہ میں بھی تھا ۔ یہاں اس سے مراد  اسلامی نظام کی طرف جانا ہے ۔ ان آیات  کریمات  کے علاوہ اور متعدد آیات  اس بارے میں پیش  خدمت عالی کی جاسکتی ہیں ۔ قرآن کریم  میں جہاں  بھی الیہ ، الینا، الی اللہ، الی ربی کے الفاظ آئے ہیں تو اس سے مقصو د  کوئی خاص  مقام نہیں  ہوتا بلکہ  ان کے  معنی  وہ مقصد  ، وہ منزل وہ Destination  ہوتاہے  ، جو خدا نے مقرر کیا ہوتا ہے یعنی اللہ نے جو منزل مقرر فرمادی  اس کی طرف جانا ۔ زیر نظر آیہ  کریمہ  میں بھی الیہ  العصد سے یہی مفہوم  لیا جائے گا ۔

الکلم الطیب  کی از خود نتائج  دینے کی ایک صورت آپ نے ملاحظہ فرمائی ۔ اب اس کی  دوسری  صورت ملاحظہ فرمائیں  جس میں انسان  قوانین  خداوندی  کو سہارا  دیتا ہے اور انسان کے اعمال صالح اس کو بلند  کرتے ہیں ۔

الکلم الطیب کے بیج قرآن  کریم میں محفوظ  ہیں ۔ وہ قرآن  کے اندر موجود ہیں لیکن اگر وہ بوری میں بند پڑے  رہیں تو وہ پھل نہیں دے سکتے   وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ ( 35:10) اعمال صالح اس میں پھل لاتے ہیں ۔ کسی چیز  میں جو کچھ  بننے کی صلاحیتیں  موجود ہوں ، وہ کام  جو ان صلاحیتوں کو بروئے کار  لاتے ہیں وہ اعمال  صالح ہوتے ہیں ۔ ایک بیج میں درخت  بننے کی صلاحیت  موجود ہے ۔اس کو اچھی زمین میں کاشت کرنا ، اس کےلئے حرارت ، ہوا اور پانی مہیا کرنا ، اس کی نسبت  سے یہ سارے اعمال، اعمال صالحہ  ہیں ۔ اگر بیج  بوری میں پڑے رہیں  ، ان کو کبھی رفعت  حاصل نہیں ہوسکتی، انسانی ہاتھ  اس کو بوئے گا اس کی نگہداشت  کرے گا  تو اس کو رفعت  حاصل ہوجائے گی ۔ آج کل  جو ساری دنیا میں اسلام کا احیاء  ہورہاہے لیکن  اس کے نتائج سامنے نہیں آرہے ہیں کیونکہ  یہ لوگ مذہب  کو زندہ کرر ہے ہیں ، جس میں  زندگی کی صلاحیت ہی نہیں ہے اور قرآنی نظریات  کو رفعت  حاصل نہیں ہورہی ۔ اس لئے غیرمسلم اور لبرل حضرات یہ کہتےہیں کہ یہ نظریات  بوسیدہ  ، اور کاراز رفتہ  ہوگئے ہیں ۔ آپ دین کا نظام قائم کریں جس کی وجہ سے قانون خداوندی  کو انسانی سہارا  لگے گا پھر آپ ملاحظہ فرمائیں  کس طرح  ان اعمال  کو از خود رفعت ملتی چلی جاتی ہے ۔ دین  کے نظام کے قیام میں اور اس کو رواں دواں رکھنے کی جد وجہد میں جو کام بھی آپ  سر انجام دیں گے وہ  اعمال صالح ہوں گے ۔ دین  کے دائرے سے نکل کر اعمال صالح  سر انجام نہیں دیئے جاسکتے  ۔ آج  سے چودہ سو سال پیشتر  جب حضور نے دین قائم  فرمایا تھا یہی  الکلمہ  الطیب  اپنے خو شگوار  نتائج پیدا  کرنے لگاتھا جن کو ساری  دنیا نے اپنی آنکھوں  سے خود دیکھا ۔

آپ نے یہ مضمون ملاحظہ فرمایا، نہایت مختصر اور صرف چند الفاظ  پرمشتمل آیت  نے حق و باطل  کی کشمکش  کو کیسے واضح  طور پر بیان کیا ہے ۔ حق  و باطل کی کشمکش  کا یہ اصول ، اتنا اہم، معنی خیز  اور پیچیدہ  ہے کہ آج ذہن اس مسئلہ پر دو صدیوں سے غور و فکر کرتا آرہا ہے لیکن  یہ اب تک کسی حتمی  فیصلہ  پر نہیں  پہنچ سکا ہے ۔ بے شمار کتب اس بارےمیں تحریر کی گئی ہیں ۔ کمیونسٹ (Communist ) حضرات نے خاص طور پر اس مسئلہ کوبڑی اہمیت دی ہے لیکن  آپ غور فرمائیں کہ حضور کے دورِ مبارک میں تو اس مسئلہ کا دور دور تک کوئی نام و نشان بھی نہیں تھا ۔ غیر مسلم حضرات یا ہمارے  Lapsed Muslims  یہ گمان رکھتے ہیں کہ قرآن کریم وحی الٰہی نہیں ہے بلکہ حضور نے خود اس کو تصنیف کر کے، اللہ کی  طرف منسوب کردیاہے لیکن کیا ایک اُمی شخص اس قسم کے اہم مسائل کو اس دور  میں سوچ سکتا تھا ۔حضور کے دور میں کوئی کتاب  ہی نہیں تھی ۔ عربی زبان میں قرآن کریم پہلی کتاب ہے ۔ ان کے ہاں  کوئی ایسی کتاب نہیں تھی جس  سے کوئی استفادہ کیا جاسکتا۔ وہ ماحول ہی یہ نہیں  تھاکہ کوئی سنجیدہ  زیر غور آئے ۔ قرآن کریم میں اس قسم کے بے شمار آیات  ہیں جن سے یہ بات سورج کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ لاریب یہ قرآن  اللہ کی کتاب ہے اگر حالات نے مساعدت کی تو ان میں سے چند آیات، مع تشریحات  اور اعجاز  کے آپ کی  خدمت عالی میں پیش  کردی جائیں گی۔

آپ یہ  بھی غور فرمائیں  کہ حق و باطل  کی کشمکش کا براہِ راست  تذکرہ قرآن کریم میں کافی مقامات  پر آیا ہے لیکن ہر مقام پر آیات  اس درجہ مختصر اور جامع ہیں کہ ہر آیت  کی نشر و توضیح کےلئے کئی کئی  مضامین  درکار ہوتے ہیں ۔ نیز یہ  کہ ان آیات  کی انیق  و عمیق تشریح  کا انحصار خود تشریح کرنے والے کے اپنے مبلغ علم پر بھی موقوف ہے ۔ جس درجہ  بڑا  مفکر ہوگا، وہ اسی  قدر عمیق  نتائج  ان آیات سے بر آمد کرے گا جو شخص فلسفہ تاریخ Philosophy of History کا ماہر ہوگا وہ ان آیات  سے ایسے لولو ء لالاء اور موتی  آبدار  نکال لائے گا، اس کی وجہ سے عقل انسانی  ساری دنیا کی رہنمائی  کرنے کے قابل  ہوجائے البتہ  جہاں تک ہماری عقل نار سا  اور دست کوتاہ کی پہنچ ہوسکی وہ بصد عجزہ انکسار آپ کی خدمت عالی میں پیش کردیا گیا  رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا  إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ( 2:127)

مارچ، 2014  بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق ، کراچی 

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/khwaja-azhar-abbas/miracles-of-the-quran-part13---اعجاز-القرآن-قسط-تیرہ/d/87630

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content