certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (30 Jun 2014 NewAgeIslam.Com)



Popular Sharia Law Of Islam Is Actually The Cumulative Rulings Of Muslim مروجہ شرعی قوانین در حقیقت مسلم فقہاء کے مجموعی احکام کی ایک شکل ہےجس پر اسلام کا لیبل لگا دیا گیا ہے

 

 

 محمد یونس، نیو ایج اسلام

06 جون 2014

مشترکہ مصنف اشفاق اللہ سید (Essential Message of Islam, Amana Publications, USA, 2009)

یہ تحریر مندرجہ ذیل جامع مضامین کا ایک مختصر اور توجہ طلب نسخہ ہے اور اس کا مقصد ہندوستانی مسلم فقہاء کو مسلم پرسنل لاء میں انتہائی ضروری اصلاحات کے لیے جد و جہد کرنے کی ان کی ذمہ داری کا احساس کرا نا ہے جو کہ بہت سے معاملات میں (تاریخی تجزیہ اور صنفی غیر جانبداری کی بنیاد پر) قرآنی پیغامات سے متصادم ہے اور دیگر معاملات میں اس زمانے کے صنفی حرکیات، اقتصادی حقائق اور مروجہ جامع ہندوستانی معاشرے کے بھی خلاف ہے۔

 The Classical Islamic Law (Islamic Sharia Law) is NOT a Word of God!

http://www.newageislam.com/islamic-sharia-laws/the-classical-islamic-sharia-law-is-not-a-word-of-god!-(part-1--how-the-qur’anic-message-has-been-subverted)/d/5714

 The Classical Islamic Sharia Law is NOT a Word of God! (Part II: The Way Forward)

http://www.newageislam.com/islamic-sharia-laws/the-classical-islamic-sharia-law-is-not-a-word-of-god!-(part-ii--the-way-forward)/d/5723

Urdu:

اسلام کے قدیم شرعی قانون اللہ کے الفاظ نہیں ہیں(باب۱: قرآن کے پیغامات کو کس طرح تہ بالا کر دیا گیا

قدیم اسلامی قانون اللہ کے احکام نہیں ہیں(باب۲: مستقبل کی راہ

بنیادی طور پر سنی اسلام میں چار فقہی مذاہب ہیں؛ حنفی، مالکی، شافعی، اور حنبلی اور ہر مسلمان کا تعلق ان میں سے کسی ایک کے ساتھ ہونا ضری ہے ورنہ وہ مسلمان ہونے کے اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے۔ ان فقہی مذاہب کا نام ابتدائے اسلام کے چار بڑے عظیم فقہاء کے نام پر ہے جو اسلامی علوم اور فقہیات میں تبحر علمی کے لیے جانے جاتے تھے جن کے نام یہ ہیں ابو حنیفہ (80/699-149/766)، مالک ابن انس (97/713-179/795)، محمد الشافعی (150150/767-205/821)، احمد بن حنبل (164/780-240/855)۔ شیعی فقہی مذہب، مذہب جعفری حضرت امام جعفر صادق (متوفی 148/765) کے نام سے منسوب ہے۔ لیکن ان میں سے کسی بھی امام نے کسی ایک بھی فقہی مذہب کی بنیاد نہیں رکھی اور موطاء امام مالک کے علاوہ جسے کئی نسخوں میں تبدیل کر دیا گیا، ان میں سے کسی بھی امام کی تقریبا ایک بھی کتاب موجود نہیں ہے۔ اوائل اسلام کے ان اماموں نے اپنے پیچھے یا تو دولت یا اپنے زمانے میں پیش آنے والے قانونی مسائل پر اپنی رائے کا انبار چھوڑا یا اپنے زمانے کے حساس مسائل کا قانونی حل (فتویٰ) پیش کیا جیسا کہ بعد کی نسلوں میں ان کے پیروکاروں نے اسے منتقل کیا۔ لہٰذا، جن اسلامی شرعی قوانین کو ہم ان کے ناموں سے موسوم کرتے ہیں وہ ان فرسودہ احکام اور آراء کے سوا کچھ نہیں ہے جنہیں مندرجہ بالا اماموں کے پیروکاروں نے ان کی موت کے بعد، بعد کی نسلوں میں جاری کیا یا جن کی انہوں نے تائید کی۔ لہٰذا تکنیکی اعتبار سے اسلام کے کلاسیکی شرعی قوانین ایک مجموعی فقہی روایت ہے جو اسلام کے تمام گزشتہ فقہاء کے فتاویٰ اور ان کی رائے پر مشتمل ہے۔ اسی طرح ان کی تالیف و تدوین رسوم و روایات، سماجی اور سیاسی حالات، فقہی معیار اور ابتدائے خلافت (632-661/10-40) سے لیکر قرون وسطی کے دور کی طویل صدیوں میں استعماریت کے ظہور تک کی اسلامی تہذیب کے مختلف تاریخی نکات کے علم کے مطابق کی گئی ہے۔

مثال کے طور پر اپنے دور کے لئے عدل و انصاف کا مظہر اور بے شمار عظیم علوم و معارف اور احکام کا مخزن ہونے کے با وجود شرعی قوانین میں زنا کے لئے سنگساری، ارتداد اور توہین رسالت کے لئے سزائے موت، غیر مسلموں کے خلاف غلامی، امتیازی سلوک اور نفرت، عارضی شادی ، یکلخت طلاق، اسلامی اور غیر اسلامی کے درمیان علم کی تقسیم جیسے تصورات کو جگہ دی گئی ہے جو کہ قرآنی پیغامات سے متصادم ہیں۔ اس کے علاوہ، حالیہ صدیوں میں اسلام کے اندر سیاسی اور دانشورانہ تنزلی نے اسلام کے عدالتی نظام اور ادارہ جاتی تنظیمی ڈھانچے کی بنیاد کو درحقیقت کھوکھلا کر دیا ہے۔ یہ مکمل طور پر لفظ پرستی اور اکثر گزشتہ فقہاء کے سخت احکامات پر منحصر ہونے کی وجہ بنا اور اس طرح اس نے اسلام کو قرون وسطی کے دور میں منجمد کر دیا۔ لہٰذا، یوسی ایل اے (UCLA) کے پروفیسر خالد ابو فضل کا بیان ہے کہ: "شرعی قانون سے مراد مثبت اسلامی قانون یا احکام ہیں، مثبت قانونی احکام صدیوں سے چلے آ رہے مجموعی قانونی معمولات کی روشنی میں ماخوذ اور مبین ہیں۔" اسی لیے اسلامی شرعی قوانین کے نام پر حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں، خطرناک دہشت گردی، خواتین اور اقلیتوں کے اوپر جبر تشدد سے بچنے کے لئے شرعی قانون کے عظیم احکامات، اس کے عظیم ترین ورثے اور اس کے مذموم، سخت اور وحشیانہ احکام کے درمیان کے فرق کو آج واضح طور پر سمجھنا ضروری ہے۔

اس موقع پر الہی شرعی قوانین اور اس کلاسیکی شرعی قوانین کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے جو سیاسی اسلام کے حامیان نافظ کرنے کے خواہاں ہیں۔

قرآن اسلامی شریعت الٰہیہ کی نمائندگی کرتا ہے (​​5:48)۔ قرآن میں لفظ شرع (تکنیکی شرع) اور شریعت (​​تکنیکی۔ شریعت) ہے جو کہ ایک نظام یا اصول قانون کے ایک عام تصور کے مترادف ہے (45:18 5:48)۔ یہ انسانی معاشرے کے ایک انصاف پسند اور ہم آہنگ نظام حکومت کے بنیادی آفاقی تصور کی وضاحت کرتا ہے۔ جس کی چند اہم مثالیں یہ ہیں کہ اس میں انصاف، آزادی، اعتدال، اچھے اعمال، بہتر ہمسائیگی اور بین المذاہب تعلقات، غریبوں کے ساتھ دولت کا اشتراک، غلامی کا خاتمہ، مختلف پابندیوں سے خواتین کی نجات، خواتین کو بااختیار بنانے، عقل اور منطق (تفقہ) کے استعمال اور بہتری اور سربلندی کے لیے جد و جہد کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ یہ اسلام کے کلاسیکی شرعی قوانین سے مختلف ہے جو کہ فقہاء کی رائے اور احکام کی ایک لامتناہی فہرست کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ فقہاء نے یہ کہہ کر قرآنی احکام پر ان کے اپنے احکام کو فوقیت بھی دی کہ: " جو کوئی بھی قرآنی آیت ہمارے ائمہ اور اساتذہ کی رائے سے متصادم ہوگی اسے منسوخ مانا جائے گا یا ایسی صورت میں ترجیح کا اصول نافظ کیا جائے گا۔ لہٰذا بہتر یہ ہوگا کہ قرآنی آیات کی ترجمانی اس انداز میں کی جائے کہ ان کا تصادم ان کی رائے سے نہ ہو۔ "[ اسلام میں اجماع کے اصول، احمد حسین، نئی دہلی، 1992، صفحہ۔16]

ہمارا مقصد اپنے ان قوانین کو فوقیت دینے اور انہیں مقدس ٹھہرانے کا الزام جس کی کوئی نہ کوئی ٹھوس بنیاد ضرور ہوگی، فقہاء اسلام پر عائد کرنا نہیں ہے بلکہ ہم اولاد و اخلاف کو ان کے نظریات پر جمے رہنے اور اسلام کے کلاسیکی شرعی قانون کو قرون وسطی کی ہی ترتیب پر منجمد کرنے کے لیے ذمہ دار گردانتے ہیں۔

سابقہ گفتگو سے ایک یہ بات واضح ہو گئی کہ جسے ہم اسلام کا کلاسیکی شرعی قانون کہتے ہیں وہ مختلف فقہی مذاہب سے تعلق رکھنے والے مسلم فقہاء کا ایک ایسا قانونی نظام ہے جسے انہوں نے اپنی رائے، اسلام کے بارے میں اپنے علم و فہم، اپنی سمجھ بوجھ اور اس دور کے تاریخی حقائق کی بنیاد پر مرتب کیا تھا۔ انہوں نے قرآن میں مقرر کردہ حدود کی پاسداری تو کی لیکن وہ خلط مبحث کرنے اور کسی بھی واضح قرآنی حکم سے انحراف کرنے میں بالکل آزاد تھے۔ اس کی کلاسیکی مثال طلاق مغلظہ کو گناہ قرار دیتے ہوئے اسے جائز قرار دینااور طلاق کے لیے قرآن کے ذریعہ مدت متعین کیے جانے کے باوجود متعہ (عارضی شادی) کو روا رکھنا۔ لہٰذا تکنیکی اعتبار سے کلاسیکی اسلامی قانون صنعت تضاد کا شکار ہے اس لیے کہ یہ مجموعی مسلم قانونی روایت ہے کوئی ایسا قانون نہیں جو ضروری طور پر حقیقی اسلامی اصولوں پر مبنی ہو۔

یہ محض ایک تصوراتی دستاویز ہے اور انڈین مسلم پرسنل لاء یا اس طرح کے کسی بھی دوسرے گہرے شرعی مضمرات مثلاً علم کی تقسیم (مدارس میں عالمی علوم و فنون کا حاشیہ پر ڈالا جانا) کو ذرا بھی تفصیل کے ساتھ موضوع بحث نہیں بنایا گیا ہے۔ لیکن ایک بات کسی بھی سوال سے پرے اب بھی ہے۔ کہ جب تک روایتی مدارس کی تعلیم کو دیگر سماجی علوم سے ہم آہنگ نہیں کیا جاتا اور اس پر تاکید نہیں برتی جاتی اور تعلیمی نصاب سے ثانوی مصادر و مراجع کی شمولیت کو کم نہیں کیا جاتا تب تک ہندوستانی مسلمان ثانوی مصادر و مراجع کو ہی خدا کا کلام سمجھتے رہیں گے اور ٹیلویزن پر آنے والے مبلغین کو ہی خدا کا ترجمان سمجھیں گے اور اپنی پوری زندگی پرسنل لاء کے تحفظ میں گزار دیں گے اور اصلاحات پیدا کرنے کی کوئی بھی کوشش ناکام ہو کر رہ جائے گی۔

مندرجہ ذیل مضامین میں مدارس کی تعلیم پر گفتگو کی گئی ہے جن کا حل پرسنل لاء میں کسی بھی اصلاح کے لیے ایک نقیب کے طور پر پیش کیا جانا ضروری ہے۔

1.    An Open Reminder To The Ulema: Rejecting Universal Knowledge As Un-Islamic Is Brazenly Un-Islamic And Kufr (Denial Of Truth(

http://www.newageislam.com/islamic-sharia-laws/an-open-reminder-to-the-ulema--rejecting-universal-knowledge-as-un-islamic-is-brazenly-un-islamic-and-kufr-(denial-of-truth)/d/5961

2.    The Opponents Of The Right To Universal Education (RTE) To The Muslims Are The Enemies Of Indian Muslims

http://www.newageislam.com/islam,-women-and-feminism/the-opponents-of-women’s-equal-rights-to-education-and-employment-as-men-this-day-are-the-belated-proponents-of-the-pre-islamic-jahiliya-and-thus-enemies-of-islam/d/14306

 (انگریزی سے ترجمہ: مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)

محمد یونس نے آئی آئی ٹی سے کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے اور کارپوریٹ اکزی کیوٹیو کے عہدے سے سبکدوش ہو چکے ہیں اور90کی دہائی سے قرآن کے عمیق مطالعہ اور اس کے حقیقی پیغام کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کی کتاب اسلام کا اصل پیغام کو 2002میں الاظہر الشریف،قاہرہ کی منظوری حاصل ہو گئی تھی اور یو سی ایل اے کے ڈاکٹر خالد ابو الفضل کی حمایت اور توثیق بھی حاصل ہے اور محمد یونس کی کتاب اسلام کا اصل پیغام آمنہ پبلیکیسن،میری لینڈ ،امریکہ نے،2009میں شائع کیا۔

 URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-sharia-laws/muhammad-yunus,-new-age-islam/what-is-popularly-known-as-the-sharia-law-of-islam-is-actually-the-cumulative-rulings-of-muslim-jurists-with-a-tag-of-islam,-and-not-any-immutable-word-of-god-or-the-laws-of-the-qur’an/d/87378

URL for this article:

http://newageislam.com/urdu-section/muhammad-yunus,-new-age-islam/popular-sharia-law-of-islam-is-actually-the-cumulative-rulings-of-muslim--مروجہ-شرعی-قوانین-در-حقیقت-مسلم-فقہاء-کے-مجموعی-احکام-کی-ایک-شکل-ہےجس-پر-اسلام-کا-لیبل-لگا-دیا-گیا-ہے/d/97808

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content