certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (07 Nov 2013 NewAgeIslam.Com)



History of Namaz in Islam- Part 1 (اسلام میں نماز کی تاریخ - نماز (1

 

ناستک درانی، نیو ایج اسلام

7نومبر، 2013

تمام اسلامی مسالک کا اس پر اجماع ہے کہ ایک دن میں فرض نمازوں کی تعداد پانچ ہے، رکعات کی تعداد میں بھی اجماع پایا جاتا ہے، فجر کی نماز دو رکعات، ظہر، عصر اور عشاء چار رکعات، جبکہ مغرب کی نماز تین رکعات پر مشتمل ہے۔

ماضی یا حال میں اسلامی مسالک نے نماز کی بنیادی شکل پر کبھی اختلاف نہیں کیا، نا ہی اس کی ہیئت اور کیفیت پر، البتہ ہلکے پھلکے ذیلی مسائل پر اختلاف ضرور کیا ہے جن کا نماز کی عام وضع سے کوئی تعلق نہیں، رکوع وسجود کا طریقہ سب کے ہاں ایک ہی ہے، رکعات کی تعداد بھی متفق علیہ ہے اور کسی مسلک میں اس پر اختلاف نہیں ہے، قبلہ کی طرف رخ کرنا بھی بلا اختلاف تمام مسلمانوں کے ہاں واجب ہے، نماز کی بنیادی شکل سے ہٹ کر چھوٹی چھوٹی چیزوں پر اختلاف ضرور ہے جیسے قرات با آوازِ بلند پڑھنا یا نہیں، ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنا، ناف کے اوپر یا نیچے ہاتھ باندھنا، قنوت کا جائز یا نا جائز ہونا، تشہد میں انگلی اٹھانا یا نہ اٹھانا، سلام کے وقت دائیں بائیں سر گھمانا، نماز میں پڑھی جانے والی آیات کی کم سے کم حد وغیرہ، اور جیسا کہ ہم نے کہا کہ یہ سب چیزیں نماز کی بنیادی شکل پر اثر انداز نہیں ہوتیں حتی کہ کسی غیر مسلم کے لیے ان جزئیات کی تمیز کرنا انتہائی مشکل ہے۔

نماز انسان کی اپنے خالق کے ساتھ تعلق کا ایک مظہر ہے، اور اس کے مذہبی واجبات میں سے ایک واجب ہے چاہے یہ فردی نماز ہو یا جماعت کی، یہ اللہ سے مناجات اور خدائی رحمتوں کے شکر کے ساتھ انسانی حاجت کی طلب ہے 1 چنانچہ نماز میں دو عنصر ہیں: خدا کی عظمت وتخلیق پر اس کا شکر، مدح اور توقیر، اور قہار اللہ سے طلب کا عنصر کہ جس سے جب سوال کیا جاتا ہے تو وہ جواب دیتا ہے، یہ ان عبادات میں سے ایک ہے جس سے کوئی شریعت آزاد نہیں چاہے ہر شریعت میں اس کی شکل مختلف ہی کیوں نہ ہو 2۔

لغت میں نماز (صلاۃ) دعاء، رحمت اور استغفار ہے، اسلام نے اسے ایک ایسے معروف فریضہ کے طور پر مختص کیا ہے جس میں رکوع وسجود کے ساتھ ساتھ مخصوص حرکات اور پختہ قاعدے ہیں جو نمازی کے ارادے، رغبت یا رجحانات سے اور نا ہی اس وقت سے تبدیل ہوتے ہیں جن میں نمازی نماز پڑھنا چاہتا ہے اگر وہ نماز واجب فریضہ ہو 3، نمازی نے اپنی نماز میں قرآن وسنت سے ثابت اقوال پڑھنے ہوتے ہیں جیسا کہ شرع میں آیا ہے اور جو خلف نے سلف سے یاد کیا ہے۔

لفظ “صلاۃ” ایک آرامی لفظ ہے جو “ص ل ا” “صلا” کی اصل سے ماخوذ ہے، اس کا معنی ہے رکوع کرنا اور ٹیڑھا ہوجانا، پھر یہ صلاۃ کے اس رائج مذہبی مفہوم میں استعمال ہوا، پھر اس لفظ کو یہودیوں نے استعمال کیا اور یوں یہ ایک آرامی عبرانی لفظ بن گیا، عربی میں یہ لفظ اسلام سے پہلے اہلِ کتاب کے ذریعہ داخل ہوا، یہودیوں نے لفظ “صلوتہ” تورات کے دور کے آخری زمانوں میں استعمال کیا اور اس طرح یہ لفظ مخصوص مذہبی معنی کا حامل ایک مانوس لفظ بن گیا، لغت کی کتابوں میں “صلوات الیہود” کا مطلب “ان کی عبادت گاہیں” ہے، قرآن میں ہے: لَّہُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ (ترجمہ: تو خانقاہیں اور گرجے اور یہودیوں کے عبادت خانے اور مسلمانوں کی مسجدیں جن میں اللہ کا کثرت سے ذکر کیا جاتا ہے گرائی جا چکی ہوتیں – الحج 40) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: یہ (صلوٰت) یہودیوں کی عبادت گاہیں ہیں، یعنی صلوات کی جگہ اور عبرانی میں اس کی اصل صَلُوتا ہے 4۔

بعض مستشرقین نے نوٹ کیا کہ لفظ صلاۃ اور زکاۃ اس شکل میں نہیں لکھے جاتے تھے جس طرح ہم انہیں آج لکھتے ہیں بلکہ اسلام کے آغاز میں یہ دونوں لفظ حرف واو سے لکھے جاتے تھے: “صلوۃ” اور “زکوۃ” اس کی وجہ وہ لفظ کے آرامی الاصل ہونے کا اثر بتاتے ہیں 5 کیونکہ بنی ارم کی زبان میں لفظ صلاۃ “صلوتو” “Slouto” “صالوتہ” “صلوتہ” لکھا جاتا ہے جبکہ لفظ زکاۃ ان کے ہاں “زاکوت” لکھا جاتا ہے 6 اس کی اصل “زکی” یا “دکی” ہے یعنی پاک کرنا 7۔

بعض مستشرقین کا دعوی ہے کہ لفظ “صلاۃ” اسلام سے پہلے معروف نہیں تھا بلکہ عربی میں فرائض کی تعبیر کے طور پر قرآنِ مجید کے ذریعہ داخل ہوا 8 تاہم یہ ایک ایسا دعوی ہے جسے دلیل کی ضرورت ہے کیونکہ کوئی یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ ہم نے جاہلیین کی ساری لغت، اصطلاحات اور عقائد کا احاطہ کر لیا ہے کہ ہم یہ دعوی کرنے کے قابل ہوں، شاید مستقبل جاہلیوں کے ایسے مُتون سے پردہ اٹھا سکے جو ان کے اپنے ہاتھوں سے لکھے ہوئے ہوں اور ایسے معاملات پر فیصلہ کن ثابت ہوسکیں۔

تاہم اس بات سے اگر ان کا یہ مطلب تھا کہ اسلامی معنوں کی صلاۃ یا یہودی ونصرانی طریقے کی صلاۃ بت پرست جاہلیوں کے ہاں معروف نہیں تھی تو یہ رائے یقیناً درست ہے جس کی کوئی بھی مخالفت نہیں کر سکتا، کیونکہ معروف صلاۃ یعنی اسلامی صلاۃ کا حکم اسلام میں آیا لہذا یہ جاہلیت کے دور کی نہیں ہے چنانچہ ان کے ہاں معروف بھی نہیں ہے، رہی یہودی یا نصرانی صلاۃ تو وہ بھی بت پرست جاہلیوں کے ہاں معروف نہیں تھی کیونکہ وہ نا تو یہود تھے اور نا ہی نصاری لہذا انہیں نا تو یہودیوں اور نا ہی نصاری کی صلاۃ کا علم تھا ما سوائے ان لوگوں کے جو ان سے رابطے میں رہتے تھے، اس کی دلیل بعض جاہلیوں کی شاعری میں اس کا ذکر اور اس کے بعضر شعائر کی طرف اشارہ ہے جیسے رکوع، سجود اور تسبیح 9۔

رہی بات عرب یہود کی اور عرب نصاری کی تو وہ اپنی نمازیں اپنی عبادت گاہوں میں ادا کیا کرتے تھے لہذا وہ صلاۃ کو اپنے خاص طریقہ سے جانتے ہیں۔

تاہم ہمیں جاہلی بت پرستوں کی نماز کا کوئی علم نہیں کیونکہ ہم تک ان کے قلم سے تحریر کردہ ایسی کوئی تحریر نہیں پہنچی جس میں ان کی نماز کا ذکر ہو مگر یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ان کے ہاں کوئی نماز نہیں تھی، ایک ایسی قوم جو خاص موسموں میں حج کرتی ہو، جن کے مخصوص مذہبی رسومات ہوں اور خداؤوں کے لیے دعائیں اور مناجاتیں ہوں وہ نماز سے غافل نہیں رہ سکتے کیونکہ نماز تو انتہائی ابتدائی مذاہب میں بھی معروف ہے اور تمام مذاہب سے منسلک رہی ہے، لیکن ہم یقیناً یہ امید نہیں کر سکتے کہ ان کی نماز محض ایک ہی نماز ہو، اور یہود ونصاری کی طرز پر ہو، کیونکہ نماز کا مفہوم مذاہب، قوموں اور قبائل کے اختلاف سے بدل جاتا ہے، اس کی ہیئت بھی اس اختلاف سے بدل جاتی ہے، تاہم اپنے اس اختلاف کے با وجود یہ نماز ہی ہے، بالکل انہی لوگوں کی نماز کی طرح جن کا ذکر ہوچکا ہے، کیونکہ نماز کا تصور ایک ہی ہے تاہم اس کی تعبیر مختلف ہے وگرنہ سارے مذاہب ایک ہی مذہب بن جاتے۔ 

(جاری ہے)

حوالہ جات:

2- قاموس الکتاب المقدس 12/2 - Hastings, Dictionary of the Bible, P 744۔

3- المفردات فی غریب القرآن، للراغب الاصفہانی 287۔

4- لسان العرب 464/14 اور بعد کے صفحات، دار صادر۔

5- لسان العرب 466/14 دار صادر، القاموس 353/4، اصفہانی کی المفردات 287،

Noldeke, Geschi. Des qarans, I, S., 255, Frankel, De Vocabulis in antiquis Arabum Carminibus et in Corano Peregrinis P., 21, C.

Robin, Ancient west – Arabian, PP., 105.

6- Noldeke, geschichte des Qorans, I, S., 255, A Brockelmann, Arabische grammatik, S., 7, C. Robin, Ancient West – Arabian. PP., 105, Shorter Ency. Of Islam, P., 491.

7- Shorter Ency. of Islam, P., 654.

8- غرائب اللغۃ العربیۃ، للاب رفائیل نخلۃ الیسوعی 184۔

9- Shorter Ency. of Islam, P., 491.

10- لویس شیخو، النصرانیۃ وآدابہا فی الجاہلیۃ، القسم الثانی، الجزء الثانی (القسم الاول) ص 177 اور اس کے بعد۔

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam-ناستک-درانی/history-of-namaz-in-islam--part-1-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---نماز-(1/d/14330

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content