certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (30 Jan 2015 NewAgeIslam.Com)



Yemen: From Past to Future یمن ماضی سے مستقبل تک

 

 

 

 

 

 

 

شکیل شمشی

یمن گزشتہ کئی برسوں سے خانہ جنگی میں مبتلا ہے، پہلے وہاں القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیموں نے عوام کی زندگی دشوار کر رکھی تھی، وہیں اب قبیلوں اور مسلکوں کی دشمنی نے خون خرابے کی شکل اختیار کر لی ہے۔ یمن کی موجودہ حالت دیکھ کر وہاں کا تابناک ماضی ضرور یاد آتا ہے۔یمن کا مسلمانوں کی زریں تاریخ سے ایسا شاندار رشتہ ہے، جس پر مسلمان جتنا بھی فخر کریں وہ کم ہے۔ جیسا کہ ہر مسلمان جانتا ہے کہ پیغمبر اسلام حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے ایک سال قبل یمن کے طاقتور بادشاہ ابرہہ نے ہاتھیوں کا عظیم لشکر لے کر کعبہ کو برباد کرنے کے ارادے سے کوچ کیا تھا ،لیکن مکہ سے کچھ دور مزدلفہ کے مقام پر اللہ کے بھیجے ہوئے چھوٹے چھوٹے پرندوں نے اپنے پنجوں میں دبائے ہوئے کچھ پتھر اس لشکر فیل پر اس طرح برسائے کہ ابرہہ کے ہاتھی چبائے ہوئے بھونسے کی طرح ریزہ ریزہ ہو گئے۔لشکر فیل کو ہجوم ابابیل نے اس طرح تباہ کیا کہ اہل عیسائیوں کی تاریخ کے صفحات پر ابرہہ کا نام تو موجود ہے، لیکن ا س کے مرنے کی کوئی وجہ تحریر نہیں ہے۔

شاید جان بوجھ کر ابرہہ کے مرنے کی وجہ کو چھپا کر رکھا گیا ہے، کیونکہ اگر ابرہہ کی موت کا ذکر کریں گے تو پھر ابابیلوں کا ذکر بھی ہوگا اور پھر یہ بھی بتانا پڑے گا کہ جب کعبہ پر ابرہہ نے حملے کا ارادہ کیا تو اس کے محافظ اور متولی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا حضرت عبد المطلب تھے، جن کے اونٹوں کوا برہہ کے لشکر نے پکڑ لیا تو وہ ابرہہ سے ملنے گئے اور اپنے اونٹ چھوڑے جانے کا مطالبہ کیا۔اس پر ابرہہ نے بہت غرور کے ساتھ کہا تھا کہ تم کو اپنے اونٹوں کی فکر ہے لیکن اس کعبہ کی نہیں جس کو میں برباد کرنے آیا ہوں ؟ اس پر حضرت عبدالمطلب نے نہایت اطمینان سے جواب دیا تھا کہ اونٹوں کا مالک میں ہوں لیکن کعبہ کا مالک اللہ ہے جو خود اس کی حفاظت کرے گا۔پھر کیا ہوا وہ دنیا کو معلوم ہے، ہمارے خیال میں ابرہہ کے لشکر کی تباہی حضرت محمد کے دنیا میں قدم رکھنے سے چند مہینے پہلے اس طرح ظہور پذیر ہوئی کہ دنیا کو معلوم ہو جائے کہ کعبہ کا اصل وارث بہت جلد اس دنیا میں قدم رکھنے والا ہے۔ یمن کی اسلامی تاریخ میں ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہاں کے کئی باشندوں نے بہت ابتدائی دنوں میں اسلام قبول کر لیا تھا۔

 ان میں حضرت عمارابن یاسر ، حضرت مقداد?ابن اسود، حضرت العلاء الحضرم اور حضرت شرحبیل ابن حسنہ جیسے جلیل القدر صحابی موجود تھے۔ یمن میں اسلام پھیلانے کے لئے مسلمانوں نے کسی لشکر کا سہارانہیں لیا ، یمن میں اسلام کی تبلیغ کے لئے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے داماد اور چچا زاد بھائی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو 360 عیسویں میں بھیجا اور انھوں نے اہل یمن کو ایمان لانے کی دعوت دی اور رفتہ رفتہ یمن کی پوری آبادی بغیر کسی لشکر کشی کے پرچم اسلام کے سائے میں آگئی۔ جو لوگ اسلام کو تلوار سے پھیلائے جانے کا الزام لگاتے ہیں ان کی رد کے لئے فتح یمن کا واقعہ کافی ہے۔یہی نہیں ہجرت کے نویں سال میں یمن کی سرحد پر واقع شہر نجران کے عیسائیوں کو زیر کرنے کے لئے رسول اسلام نے مباہلے کا طریقہ اپنایا، جو اس سے پہلے کسی پیغمبر نے اختیار نہیں کیا۔واقعہ یوں ہے کہ حجاز میں رومن چرچ کے نمائندے اور نجران کے سب سے بڑے عیسائی راہب یعنی گرانڈ بشپ عبدالحارث ابن علقمہ کو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسلام قبول کرنے کے لئے ایک دعوت نامہ بھیجا تو اس نے آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گفتگو کرنے کی شرط رکھی۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط کو بخوشی قبول کیا اورعیسائیوں کے وفد کے ساتھ مسجد نبوی میں گفتگو کا اہتمام کیا۔ یہیں وہ عظیم لمحہ بھی آیا جب عیسائیوں نے اپنی عبادت کے لئے جگہ دئے جانے کا مطالبہ کیا تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مسجد نبوی کے ایک گوشے میں عبادت کرنے کی اجازت دی۔جو لوگ مسلمانوں پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ دوسروں کی عبادت کے معاملے میں کوتاہ قلبی کا مظاہرہ کرتے ہیں ان کو ہمارے پیغمبر  کی زندگی کا یہ عظیم کارنامہ دکھایا جانا چاہیئے کہ انھوں نے دنیا کی سب سے عظیم مسجد میں عیسائیوں کو اپنی عبادت کرنے کا موقع عنایت کیا۔ اس گفتگو کے دوران آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خلقت کے بارے میں آیات نازل ہوئیں جس میں اللہ نے حضرت عیسیٰ اور حضرت آدم کی خلقت کے بارے میں بتایا ہے، لیکن عیسائی اپنی ضد پر اڑے رہے جس کے بعد مباہلے کا حکم ہوا۔

جب عیسائی راہبوں کا وفد اپنی ضد پر اڑا رہا تو پھر مباہلہ کی نوبت آئی اور اس بات پر رضامندی ہوئی کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور عیسائی راہب اپنے اپنے نفسوں ، عورتوں اور بچوں کو لے کر میدان میں آئیں جھوٹوں پر لعنت کریں۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ، اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ اور اپنے نواسوں حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ مباہلے کے لئے پہنچے تو نجران کے عیسائیوں نے ان پانچوں کے نورانی چہرے دیکھ کر مباہلے سے پیچھے ہٹنے کا اعلان کرتے ہوئے شکست قبول کر لی اور جزیہ نام کا ٹیکس دے کر مسلمانوں کے علاقے میں زندگی گزارنے کی آزادی حاصل کر لی اور بہت سے عیسائیوں نے اسلام کے دائرے میں آنا شروع کر دیا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے آخری دنوں میں اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت راشدہ کیدور میں اسلام یمن میں بہت تیزی سے پھیلا اور پھر کچھ ہی برسوں میں پورا یمن مشرف بہ اسلام ہو گیا۔ خلافت راشدہ کے بعد بنی امیہ اور بنو عباس کے دور میں مسلمانوں کے درمیا ن جو لڑائیاں ہوئیں ان سے یمن بھی متاثر ہوا۔یمن ایک ایسا ملک ہے جہاں دوسری صدی ہجری میں مسلمانوں کا نیا فرقہ وجود میں آیا اس کو’’زیدیہ‘‘ کہا جاتا ہے۔

اس فرقے کے وجود میں آنے کی وجہ یہ ہے کہ کربلا میں امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ان کی اولادوں میں صرف حضرت زین العابدین ہی زندہ بچے تھے۔امام زین العابدین کے چھوٹے بیٹے حضرت زید نے اس وقت کے اموی بادشاہ ہشام ابن عبد الملک کے خلاف جہاد کا نعرہ دیا تھا اور خو ن حسین رضی اللہ عنہ کا انتقام لینے کی قسم کھائی تھی،لیکن اموی حکومت کی بے پناہ طاقت کا مقابلہ وہ کر نہیں سکے اور شہید ہوئے۔ زید بن زین العابدین کربلا کی جنگ کے پندرہ سال بعد پیدا ہوئے تھے ، ان کی والدہ کا تعلق ہندوستان کے سندھ علاقے سے تھا۔ ان کو جائدہ سندھی کہا جاتا تھا۔حضرت زید کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے یحییٰ بن زید کی قیادت میں ان کا کنبہ عراق سے ہجرت کرکے یمن چلا گیا، جہاں کے لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے خاص لگاؤ رکھتے تھے، وہاں ان لوگوں کی کافی پذیرائی ہوئی اور ان کو یمن پر حکومت کرنے کا موقع ملا۔اسی زمانے میں زیدیہ فرقہ کی باقاعدہ تشکیل ہوئی۔ ا س فرقے کے عقائد شیعوں سے مختلف تھے یہ فرقہ خلفائے راشدین کی خلافت کو بھی تسلیم کرتا تھا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولادوں کو امام بھی مانتا تھا۔ ان لوگوں نے اثنا عشری شیعوں سے علاحدگی اختیار کرتے ہوئے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے بعد امام حسن رضی اللہ عنہ کے بڑے بیٹے حضرت حسن مثنیٰ کو امام مانا جو کربلا کی جنگ میں شدید طور پر زخمی ہوگئے تھے اور بعد میں صحتیاب ہو گئے تھے۔ ان کے بعد’زیدیہ‘ فرقے نے زید بن زین العابدین کو اما م کہا اور ان کے بعد ان کے بیٹے یحییٰ بن زید کو امام مانا اور یہ سلسلہ بڑھتے بڑھتے 12 اماموں تک پہنچا۔ ’زیدیہ‘ فرقے کے ایک خاندان نے یمن پر کل ملا کر ایک ہزار سال تک حکومت کی۔

 اسی فرقے کی دوسری حکومت حضرت حسن مثنیٰ کے پوتے ادریس بن عبد اللہ نے887 عیسوی میں مراکش میں قائم کی۔مراکش کی ادریسی حکومت دو سو چھ سال تک قائم رہی لیکن یمن میں زیدیہ فرقہ کا اقتدار طویل عرصے تک رہا۔ خاص بات یہ ہے کہ یمن میں ’زیدیہ‘ فرقے کی حکومت ہونے کے باوجود کبھی مسلکی تنازعات کھڑے نہیں ہوئے اور زیدیہ فرقہ ایک ہزار سال تک اپنا اقتدار قائم رکھنے میں کامیاب رہا۔ گوکہ کئی بار ان کو بے دخل کیا گیا مگر وہ پھر لوٹ آئے۔یہ سب یمن کی تاریخ کا ایک حصہ ہے، مگر ان واقعات کے تفصیلی ذکرکے لئے پوری ایک کتاب تحریر کئے جانے کی ضرورت ہے اس لئے اپنی بات کو مختصر کرتے ہوئے میں 1926 میں پہنچتا ہوں ، کیونکہ یہی وہ زمانہ تھا کہ جب سامراجی طاقتوں اور ان کے حلیفوں کی سازشوں کے نتیجے میں یمن کو دو حصوں میں تقسیم ہونا پڑا۔ 1926 میں امام احمد بن یحییٰ کا انتقال ہوا اور ان کے بیٹے کو اقتدار ملنے والا تھا تو فوج کے کئی اعلیٰ افسروں نے بغاوت کر دی۔جس کے بعد شمالی یمن میں خانہ جنگی کے شعلے بھڑک اٹھے۔اس خانہ جنگی نے پورے یمن کو ایک وسیع و عریض مقتل میں تبدیل کر دیا اور چھ سال تک وہاں خون برستا رہا،آخر کار 30 نومبر 1967 کو جنوبی یمن کی ریاست اور فروری 1968 میں شمالی یمن کی ریاست وجود میں آئی اس طرح یمن دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا۔

یمن میں برطانوی حکومت کی لگاتار مداخلت اور غاصبانہ قبضے اور آس پاس کے عرب ملکوں کی دلچسپی اور عدم استحکام کی کوششوں نے وہاں کے لوگوں کا جینا دوبھر کر دیا تھا۔ اس کا اثر 1967 میں مصر کے صدر جمال عبدالناصر کے زمانے میں بھی نظر آیا، ناصر نے یمن کی ریپبلیکن پارٹی کی افواج کو ہتھیار بھی سپلائی کئے تو اسرائیل نے دوسرے متحارب گروپ کو اسلحہ پہنچائے۔کتنی مضحکہ خیز صورتحال تھی اس وقت کہ ایک طر ف اسرائیل کو نیست و نابود کرنے کا نعرہ دے کر جمال عبدالناصر کی قیادت میں عرب افواج سینائی کا محاذ کھول رہی تھیں تو دوسری طرف یمن کی سر زمین پر مسلمان آپس میں بر سر پیکار تھے۔ ادھر عربوں نے اسرائیل سے شکست کھائی اور ادھر یمن 1968 میں دو ٹکڑوں میں بٹ گیا، لیکن کچھ ہی عرصے بعدد وہاں کے لوگوں نے محسوس کرنا شروع کیا کہ مغربی طاقتوں اور خطہ کے عرب فرمانرواؤں کی سیاسی بازیگری نے ا ن کو جنت دینے کے نام پر جہنم کا کندہ بنا دیا ہے۔

 لوگوں کو لگا کہ برطانیہ ، امریکہ اور اس کے عرب حلیف یمن کے خلاف گزشتہ ایک صدی سے جو سازشیں کر رہے تھے ، یمن کی تقسیم اسی کا ایک حصہ ہے۔عوام میں تقسیم مخالف رجحان ہونے کے باوجود سیاسی، فوجی اور مغربی سازشوں کے سائے میں’ یمن عرب ریپبلک‘ اور ’پیپلز ڈیموکریٹک ریپبلک آف یمن‘ نام کے دو ملک دنیا کے نقشے پر بنی لکیروں کا حصہ بن کر اہل دنیا کو نظر آنے لگے۔دونوں ممالک کے درمیا ن امن قائم رہنا بھی ایک چیلنج بن گیا اور کشیدگی اس قدر بڑھی کہ 1972 میں دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان باقاعدہ طور پر جنگ چھڑ گئی جس کو عرب لیگ کی کوششوں کے بعد ختم کروایا گیا۔ اس جنگ سے یمن کے عوام بہت نالاں تھے، انھوں نے ملک کو پھر سے متحد کئے جانے کا مطالبہ تیز کر دیا۔جس کے بعد عرب لیگ نے یہ اعلان کیا کہ 1978 تک دونوں ممالک پھر سے ایک ہو کر متحدہ یمن میں تبدیل ہو جائیں گے۔اس درمیان یمن عرب ری پبلک میں علی عبد اللہ صالح کو صدر بنایا گیا۔ علی عبد اللہ صالح بھی دونوں ممالک کے انضمام کے حمایتی تھے، لیکن وہ بھی عرب لیگ کی مقرر کردہ تاریخ تک دونوں ممالک کا انضمام کروا نہیں سکے۔ 1979 میں پھر دونوں ممالک کی فوجیں ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں۔

 اس جنگ کے بعد انضمام کے مطالبے میں مزید تیزی آگئی۔ایک طرف عوام کی خواہش تھی کہ یمن پھر سے ایک ہی ملک میں تبدیل ہو جائے وہیں دوسری جانب سیاستدانوں اور اہل مغرب کے ہاتھوں کا کھلونا بن جانے والے فوجی افسروں کی مہربانی سے عدم استحکام کا دور یمن کے پیچھے لگا ہواتھا۔جنوبی یمن میں 1986 میں ہزاروں افراد سیاسی کشمکش اور اقتدار کی جنگ کی آگ میں لقمہ  اجل بن گئے، ان سب سے پریشان یمنی باشندوں نے ملک کی یکجہتی اور دونوں ٹکڑوں کے انضمام کا مطالبہ شدت سے کرنا شروع کردیا۔ عوام کے دباؤ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا لمبا دور چلا اور پھر اللہ نے وہاں کے سیاستدانوں کو توفیق دی اور انھوں نے ایک جامع معاہدہ کرکے یمن کو پھر سے ایک ملک کی شکل دے دی اس طرح 22 مئی 1990 کو دونوں یمن ایک ہوگئے۔ متحدہ یمن کی سربراہی علی عبد اللہ صالح کو ملی لیکن ابھی اس ملک کا نقشہ تبدیل ہو کر ایک متحدہ ملک کی شکل میں ابھرا ہی تھا کہ اس کے چھ مہینے بعد امریکہ نے عراق پر حملہ کردیا۔یمن کے صدر علی عبد اللہ صالح نے عراق پر امریکی حملے کی اس بنیاد پر مخالفت کی کہ کسی غیر عرب ملک کو عرب ممالک کے آپسی جھگڑوں کو بہانہ بنا کر فوجی مداخلت نہیں کرنا چاہیئے۔ یمن 1990 میں اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کا ممبر تھا اس نے سلامتی کونسل میں امریکہ کے حق میں ووٹ دینے کے بجائے کویت اور عراق کے معاملے میں ہونے والی ہر رائے شماری میں ووٹ دینے سیاجتناب کیا، جس کی قیمت کئی طریقوں سے یمن کو ادا کرنا پڑی۔ امریکہ نے تو یمن کو پریشان کیا ہے۔ پڑوسی ملک سعودی عرب نے امریکہ کی خوشنودی کے لئے سعودی عرب میں آباد آٹھ لاکھ یمنی مسلمانوں کو ملک بدر کر دیا۔

ایک طرف تو آبادی میں اچانک آٹھ لاکھ نفوس کا اضافہ ہو گیا وہیں دوسری جانب ملک میں غذائی اشیا کی شدید قلت پیدا ہو گئی اور کھانے پینے کی چیزوں کی لوٹ مار شروع ہو گئی ، جلد ہی اس نے خانہ جنگی کا رخ اختیار کر لیا

غذائی بحران کے بعد شروع ہونے والی خانہ جنگی اور فسادات کے باوجود یمن میں جمہوری نظام کی بحالی کا عمل جاری رہا۔ وہاں230 نشستوں والی ایک متحدہ پارلیمنٹ کا قیام عمل میں آیا اور 1993 میں پارلیمانی انتخابات ہوئے، جس میں یمن کے عوام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، لیکن 1994 میں اردن کے ایما پر خانہ جنگی کو ختم کرنے کی جو کوششیں ہو رہی تھیں ان کے ناکام ہونے کے بعد ایک بار پھر دونوں ٹکڑوں کی فوجوں نے اپنے اپنے علاقوں میں مورچے سنبھال لئے اور پھر سے ملک تقسیم کے دہانے پر پہنچ گیا۔ اس خانہ جنگی میں پڑوسی ممالک کا رول بہت زیادہ جانبدارانہ رہا اور آخر کار 1994 میں جولائی کے مہینے میں ایک گروپ کو شکست ہوئی اور اس کے لیڈروں کو فرار اختیار کرنا پڑا۔ملک میں کچھ برسوں کے لئے سکون ہو گیا۔1999 کے پارلیمانی انتخابات میں علی عبداللہ صالح کو زبردست کامیابی ملی۔وہ 96 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

یمن نے ابھی امن و امان کا منھ دیکھا ہی تھا کہ امریکہ مخالف طاقتوں نے یمن میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔اکتوبر 2000 میں ایک امریکی بحری جہاز پر القاعدہ سے وابستہ ایک خو د کش بمبار نے حملہ کرکے 17 امریکی میرینس کو مار دیا،اس پر امریکہ میں ہنگامہ مچ گیا، لیکن یمن کے صدر علی عبداللہ صالح نے امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کا اعلان کرکے اپنے لئے کچھ مہلت ضرور حاصل کر لی۔یمن کیزیدیہ فرقے کی جانب سے مسلح جدو جہد 2004 میں شروع ہوئی۔ زیدیہ فرقے کے سربراہ مولانا حسین بدر الدین حوثی نے زیدیوں کو سیاسی اور سماجی حصہ داری کا مطالبہ کرتے ہوئے جد و جہد شروع کر دی( مولانا حوثی سے وابستگی کی وجہ سے ہی زیدیوں کو آج کل حوثی کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے) یمنی حکومت نے الزام لگایا کہ زیدیہ فرقے کے لوگ حکومت کو اکھاڑ پھینکنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ زیدیوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ساتھ ہورہی تفریق اور ناروا سلوک کے خلاف میدان میں آئے ہیں۔

زیدیوں کی شکل میں یمن میں امریکہ کی مخالفت کرنے والا ایک اور مضبوط گروہ پیدا ہو گیا تھا ورنہ اس سے قبل تک وہاں القاعدہ کے ممبران ہی امریکہ کے خلاف سرگرم تھے۔زیدیوں کی تحریک کو یمن کی حکومت نے سختی سے کچلنے کا فیصلہ کیا، جس میں سیکڑوں لوگ مارے گئے اور لاکھوں اپنا گھر چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہوئے۔واضح ہو کہ شمالی یمن میں زیدیوں کی حکومت 1962 تک قائم تھی، لیکن ان کی حکومت ختم ہونے کے بعد سے لگاتار ان کو اقتدار سے الگ رکھا جا رہا تھا۔ مولانا حوثی کے حامیوں اور سرکاری افواج کے درمیان مسلسل تصادم ہوتا رہا اور پڑوسی ملک سعودی عرب کی جانب سے بھی حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی ہوتی رہی، کیونکہ اس کو ڈر تھا کہ یمن کی سرحدسے متصل سعودی عرب کے شیعہ اکثریت والے علاقوں میں بھی یمن کی صورتحال کا اثر پڑ سکتا ہے۔ ادھر یمن میں القاعدہ کی جانب سے امریکی مفادات پر زبردست حملے جا ری تھے جس کی وجہ سے افغانستان اور پاکستان کے بعد امریکہ کو سب سے بڑا خطرہ یمن سے محسوس ہونے لگا۔ گوانتو نامو بے جیلوں میں یمن کے 101 باشندوں کے قید ہونے سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یمن میں امریکہ مخالف دہشت گرد کتنی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

خیال رہے کہ ابھی پیرس میں شارلی ایبدو پر حملہ کرنے والے دونوں بھائی بھی یمنی القاعدہ سے تعلق رکھتے تھے۔ یمن میں کئی بار امریکیوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، راجدھانی صنعا میں واقع امریکی سفارت خانے پر کچھ مسلح افرادنے17 ستمبر 2008کو حملہ کر د یا تھا جس کے بعد امریکہ اور یمن کے سفارتی رشتوں میں تعطل پیدا ہو گیا تھا۔واضح ہو کہ اسی سال مارچ کے مہینے میں امریکی سفارت خانے پرمارٹر توپ سے حملہ کیا گیا تھا لیکن نشانہ چوک جانے کی وجہ سے پاس میں موجود طالبات کا ایک اسکول تباہ ہوگیا تھا۔2009 کے اواخر میں القاعدہ کی زبردست موجودگی کو امریکی مفادات کے لئے بڑا خطرہ مانتے ہوئے امریکہ نے یمن میں اپنا سفارت خانہ بھی بند کر دیا تھا،لیکن اس کو یمن میں مداخلت کی سخت ضرورت تھی اور امریکہ کی جانب سے یمن میں القاعدہ کے اڈوں پر مسلسل ڈرون کے ذریعہ حملے کئے جاتے رہے۔

یمن میں زیدیوں کے ساتھ چلنے والا تصادم روز بروز تیز ہوتا ہی گیا۔اس درمیان فروری 2011 میں ’بہار عرب‘ کی ہوائیں تیونیشیہ سے شروع ہو کر مصر اور دوسرے ممالک تک پہنچیں ،ان ہواؤں نے یمن میں بھی اپنا اثر دکھانا شروع کیا۔ عوام نے علی عبد اللہ صالح کے خلاف مظاہرے شروع کر دئے، بہار عرب کے جھونکوں نے علی عبد اللہ صالح کا خیمہ تو اکھاڑا ہی ساتھ ہی ساتھ یمن کے عوام کا سانس لینا بھی دشوار کر دیا۔ وہاں پہلے ہی سے القاعدہ کی ذیلی جماعت انصار الشرعیہ ، زیدیہ فرقے کی حوثی ملیشیا انصار ا للہ، سنی قبائل کی الاصلاح ملیشیا اور یمن کی سرکاری فوج پہلے ہی سے برسر پیکار تھیں اوران چاروں مسلح گروہوں کی مار کاٹ کے بیچ امریکہ کی جانب سے کئے جانے والے ڈرون اور کروز میزائیل کے حملوں کا سلسلہ بھی جاری تھا کہ بہار عرب کا شوشہ مصیبت بن گیا۔ بہر کیف یمن کی انارکی، جنگ و جدال اور حالات کی خرابی کا سب سے زیادہ فائدہ امریکہ نیاٹھایا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکہ نے یمن میں دہشت گردی کے خلاف اپنی مہم کا آغاز 2002 میں کیا تھا ، 2002 سے 2012 کے درمیان اس نے ڈرون طیاروں کی مدد سے یمن پر کل 37 حملے کئے مگر علی عبداللہ صالح کی معزولی کے بعد 2012 سے 2014 تک 62 بار، ڈرون کے ذریعہ اپنے مخالفین کو نشانہ بنایا۔ یمن میں امریکہ اور اس کے حلیفوں کو صر ف اس بات میں دلچسپی ہے کہ وہاں امن قائم ہونے نہ پائے اور یمن ایک بڑے امریکہ مخالف ملک کی شکل میں ان کے سامنے کبھی ابھر نہ سکے۔ان کی یہ بھی کوشش ہے کہ یمن کو اب سیاسی بنیادوں پر نہیں بلکہ مسلک کے نام پر تقسیم کیا جائے۔ متحدہ یمن کا تصور امریکی مفادات کے لئے ایک بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے اس لئے اس کی خفیہ ایجنسیاں پوری طرح سے سرگرم ہیں کہ وہاں یکجہتی پیدا نہ ہونے پائے۔

اس درمیان یمن کی سیاسی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، جہاں ایک طرف حوثی ملیشیا نے راجدھانی صنعا سمیت کئی اہم شہروں پر قبضہ کرکے حکومت کو بے سر ساماں ہونے پر مجبور کر دیا ہے وہیں دوسری طرف عام شہری یمن کی سڑکوں پر نکل کر تمام مسلح ملیشیاؤں کے شہروں سے ہٹنے کے لئے مظاہرے کر رہے ہیں۔ ادھر بالکل غیر متوقع طور پر سابق صدر علی عبد اللہ صالح اور حوثی ملیشیا کے مذاکرات کار عبدالواحد ابو راس کے درمیان ٹیلی فون پر ہونے والی خفیہ گفتگو کے ٹیپ الجزیرہ چینل پر سنائے جانے کے بعد یہ راز فاش ہوا ہے کہ علی عبد اللہ صالح( جو خود سنی ہیں) زیدیہ شیعوں کی حوثی ملیشیا کی مدد سے پھر سے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور حوثی ملیشیا اس بات پر راضی ہے کہ علی عبد اللہ صالح کے بجائے ان کے بیٹے احمد علی صالح کو نیا صدر بنایا جائے۔ واضح ہو کہ جب یمن میں بہار عرب کا آغاز ہوا تھا تو اس وقت حوثی ملیشیا نے علی عبد اللہ صالح کے خلاف مظاہرہ کرنے والے سنی عوام کا ساتھ دیا تھا، لیکن اب صالح اور حوثیوں میں مفاہمت ہونے کی خبر ہے۔ خیال رہے کہ یمن کی کل آبادی 2 کروڑ 40 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جس میں مسلمانوں کی تعداد 99 فیصد ہے۔ ان میں63 فیصد سنی اور 36 فیصد زیدیہ فرقے سے تعلق رکھنے والے شیعہ ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یمن میں کئی بار خانہ جنگی تو ہوئی لیکن شیعہ سنی فسادات کبھی نہیں ہوئے، مگر اب موجودہ سیاسی حالات کو شیعہ سنی جھگڑے کی شکل میں پیش کرنے کی کوشش اہل مغرب کی جانب سے لگاتار جاری ہے، لیکن حال ہی میں صدر جمہوریہ عبدالرب عبدالمنصور کے مستعفی ہونے کے بعد علی عبد اللہ صالح کے حامی سنیوں کی جانب سے اقتدار میں ان کی واپسی کے لئے مظاہرے شروع کرنے اور فرانس کی میگزین شارلی ایبدو کے خلاف حوثی ملیشیا کی جانب سے ہونے والے مظاہروں کی وجہ سے یمن میں شیعہ سنی تناؤ پھیلنے کی امید کم ہی ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ ان سب حالات میں یمن میں ایک ایسا گروہ سرگرم ہو گیا ہے جو مغرب کے ایما پر یمن کو دوبارہ تقسیم کئے جانے کی وکالت کر رہا ہے۔بہرحال یمن کے حالات کیا کروٹ لیں گے اس کا آخری فیصلہ تو امریکہ اور خطے میں اس کے حلیف ہی کریں گے کیوں کہ مسلم ممالک کی قسمت کا فیصلہ اب قرآن و حدیث کی روشنی میں نہیں مغرب کے اشاروں پر ہوتا ہے۔

بشکریہ: انقلاب ، نئی دہلی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/shakeel-shamsi/yemen--from-past-to-future--یمن-ماضی-سے-مستقبل-تک/d/101266

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content