New Age Islam
Mon Apr 13 2026, 11:50 AM

Urdu Section ( 4 May 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Quran Has Never Been Edited قرآن میں ترمیم کبھی نہیں کی گئی اور قرآن میں کسی بھی طرح کی ترمیم کی کوشش خود متضاد ہو جائے گی

معلمانہ، استدلالی ، جمہوری ، تاریخی اور تنقیدی  تناظر میں ایک مطالعہ ،جو  وجودیات سے متعلق کسی بھی  دلیل اورجمہوری  لوگوں کے  بین الاقوامی مباحثہ کو ردّ کر سکتا  ہے اور  جمہوریت کی سب سے بڑی قانونی عدالت میں خود کو ثابت کر سکتا ہے ،اور جو جاہل  یا دانشوراس کی  سالمیت پر شبہ کرےاسے خاموش کر سکتا ہے۔

 محمد یونس، نیو ایج اسلام

محمد یونس، مشترکہ  مصنف (اشفاق اللہ سید کے ساتھ)، اسلام کا اصل پیغام، آمنہ پبلیکیشن، یو ایس اے  2009

(انگریزی سے ترجمہ مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)

ایسی تجاویز پیش کی جا رہی ہیں کہ قرآن کی ان آیتوں میں ترمیم کر دی جائے ، جو مختلف زمانوں کے لئے تھیں اور وہ آج کے دور میں قابل  نفاذ نہیں  ہیں ۔ اگر یہ دلائل بجا   ہوتے تو   نزول کے 14سو سالوں بعد قرآن کریم کے بے شمار  نسخے پائے جاتے،اورعلماء کرام نے ہر اسلامی دور اور خطے میں کچھ ایسی  آيتیں تلاش کی ہوتی جو اس دور کے لئے  نا مناسب ہوتیں اور  انہیں یا تو  ترک کردیاجا تا یا تبدیل کر دیاجا تالیکن ایسا نہیں ہوا،یہاں درجہ ذیل میں کچھ دلائل پیش کئے جا رہے ہیں

1۔ خدا کاکلام  ہونے کی بنیادپر قرآن کا متن لغزشوں اورغلطیوں سے محفوظ ہے :

قرآن ابتدائی آیتوں  میں ہی اس بات کی وضاحت پیش  کرتا ہے کہ  یہ وہ عظیم کتاب ہے  جس میں کسی  بھی طرح کے شک کی کوئی گنجائش نہیں (2:2)۔ ایسی کوئی بھی تجویز جس میں قرآن میں ترمیم کی  با ت کی جا ئے وہ قرآن کے اس  انتہائی بنیادی بیان کے خلاف ہو گا  اور واضح طور پر یہ سوال پیدا  گا ،کہ  یہ خدا کی کیسی کتاب ہے جس میں  انسانوں کے ذریعہ ترمیم کی ضرورت ہے۔

قرآن بھی دعوی کرتا ہے کہ یہ  حکمت والی کتاب ہے (10:1، 31:2، 43:4 44:4)، جو  ایک واضح اور  روشن کتاب ہے (12:1، 15:1، 16:64،2: 26 ، 27:1، 36:69، 43:2، 44:2) اور جس میں ہر چیزکی صراحت کر دی گئی ہے (17:89، 18:54، 30:58 39:27) اور وضاحتوں کے ساتھ (7:52، 11:1 41:3,) جو ایمان والوں اور نیکو کاروں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے (7:52، 16:64 27:77) (31:3) اور پوری انسانیت کے لئے حق، ہدایت اور پیغام ہے (2:185، 10:108 14:52)۔

اور یہ بھی دعوی کیا جاتا ہے کہ یہ انسانیت کے لئے حق و باطل کا فیصلہ کرنے کا عمدہ معیار ہے(2:185، 25:1) اور انسانیت کے لئے انصاف کا میزان  ہے (42:17، 57:25) اور  جو سابقہ آسمانی  کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے ،اور   یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان فرق کو واضح کرتی ہے (5:15، 5:48، 6:92، 27:76)۔

اگر  ماہر قانون کی ایک جماعت  یا ارکان پارلیمنٹ اپنے دور کی تہذیبی حقائق کے ساتھ  اسے اپنانے کے لئے قرآن  کے کچھ حصے کو ختم  کر دیں تو قرآن کے  یہ تمام دعوے کھوکھلےاور بے بنیاد  ثابت ہوں  گے ۔

قرآن کے متن کی حفاظت  کو یقینی بنانے کے متعلق  فکر اور سنجیدگی کا اظہاردرجہ ذیل میں آنے والی آیتوں میں ہو گا جس میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ  قرآن میں کسی لفظ کا حذف و اضافہ یا تبدیلی اور ترمیم کرنے پر انہیں سخت مہلک نتائج  کی تنبیہ کی گئی ہے:

“اگر یہ پیغمبر ہماری نسبت کوئی بات جھوٹ بنا لاتے، (69:44) تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے، (45) پھر ان کی رگ گردن کاٹ ڈالتے، (46) پھر تم میں سے کوئی (ہمیں) اس سے روکنے والا نہ ہوتا ، (69:47)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیوں نے اس تنبیہ کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے اس حکم  پر انتہائی ادب کے ساتھ عمل کیا،حالآنکہ  یہ  آیت صرف نشانی بھی  ہو سکتی تھی لیکن اس نے نازل کے گئے قرآنی   پیغامات کے تحفظ کو یقینی بنانے اور اسے حفظ کرنے کے ان کےروحانی  جذبہ کوتحریک دیا۔ اور قرآن کے اللہ کی طرف سےنازل کئے جا نے پر واضح گواہی کی صورت میں   یہ  آج  بھی اسی طرح موجود  ہے۔ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس کی تصنیف کی  ہوتی   تو ہرگز وہ اسے  شامل نہ کرتے، جیسا کہ کوئی بھی مصنف کبھی بھی صرف ایسی  ایک ہی بات کے   لفظ لفظ پر قائم رہنے کا   دعوی نہیں کر سکتا جسے اس نے  ایک طویل مدت میں تیار کیا ہو، جیسا کہ یہ معاملہ وحی کے ساتھ تھا۔

2۔ قرآن میں اس کے متن  کے تحفظ کا دعویٰ

جیسا کہ نزول قرآن کا سلسلہ(610-632) جاری  تھا، بت پرست لگاتار وحی کے الفاظ میں تبدیلی کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر دباؤ بنا رہے تھے (10:15، 11:113) اور یہ کہ رہے تھے کہ  ان کے دیوتائوں  کو قرآن کی آیتوں  میں شامل کیا جائے۔ قرآن (6:34، 6:115، 15:9، 18:27، 41:42،/22  85:21)میں  اعلان کرتا ہے

“اور تمہارے پروردگار کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہیں اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور وہ سنتا جانتا ہے" (6:115)

“بےشک یہ (کتاب) نصیحت ہمیں نے اُتاری ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہی"(15:9)

" (یہ کتاب ہزل و بطلان نہیں) بلکہ یہ قرآن عظیم الشان ہے (85:21)۔ لوح محفوظ میں (لکھا ہوا"(85:22)۔

لوح محفوظ کا صحیح معنیٰ جو بھی ہو جس پر اسلام کی ابتدائی صدیوں میں فقہاءنے زبردست  بحث کی ہے،  اس آیت سے قرآن کے لفظ بہ لفظ تحفظ کے خدائی عزائم کا اظہار ہوتا ہے، گویا کہ   پتھر پر لکھے خدائی احکام جسے کوئی انسان بدل نہیں سکتا ۔

یہ قرآنی بیانات  اس کے متن کی سالمیت  کے ناقابل تردیدشواہد کی حیثت سے مو جود  ہیں۔  اگر  نزول وحی کے دوران قرآن کے متن  میں کسی طرح کی تبدیلی ہوتی  یا  کوئی  فساد پیدا ہوتا  تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی آپ  کے دشمنوں اور عام عربوں نے اسلام قبول نہیں کیا ہوتا، کیونکہ  انہیں قرآن کے دعووں میں تضاد کا احساس ہوتا۔  اور اگرانہو ں نے اس  دلیل اور  مشہور  تاریخی تناظر میں اسے قبول بھی کر لیا ہوتا  تونبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعدان کا  قرآن کو مسترد کر دینا  یقینی تھا ۔ لیکن  ایسا نہیں ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کےخلفاء کا  قرآن پر ایمان اتنا ہی شدید سخت  تھا جیسا کہ ان سے پہلے کے صحابہ کا نبی صلی اللّہ علیہ وسلم  کے زمانے میں تھا ۔  مسلمانوں  کی دوسری نسل کے درمیان  اس قدر قرآن کا احترام تھا کہ صرف نیزے  کی نوک پر  لپٹے قرآن کے کچھ صفحات کو دیکھنےپر حریف مسلم فوجوں کے درمیان ہو رہی جنگ آن واحد میں سرد پڑ جاتی تھی [1]۔ لہٰذاخالص معقول،تاریخی نقطہ نظر سے، اس میں ذرہ برابر بھی  شک کی گنجائش نہیں ہےکہ قرآن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جانشینوں  تک اور ان کے ذریعہ آنے والی نسلوں تک  اس کی اصل شکل میں منتقل کیا۔

3 ۔ قرآن کے اصل(قلمی نسخے ) صحیفہ کا تحفظ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتبوں نے طرح طرح  کی دیسی اشیاءمثلاً (کھجور کی پتی، اونٹ کی کھال، سفید پتھر، جانوروں کی ہڈیاں، سخت  مٹی، لکڑی کی پٹّی وغیرہ،) کا استعمال آیات کو محفوظ کرنے کے لئے کیااور ایک کتاب کی شکل میں تمام وحی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے تقریباً 20 سال بعد مرتب کر دیا [2]،ان کے بارے میں  جان بوجھ کر یا نادانستہ طور پر فساد  کا  شک ڈال دیا گیا۔ لیکن ایک تحریری ریکارڈ کے برعکس قرآن کی پختہ تشکیل کے  معاملے میں انسانی یا داشت جو  دماغ میں ان مٹ طور پر چھپ جاتی ہے،یہ وقت کے ساتھ مدھم  پڑ سکتی ہے ، حافظ کو معلوم  ہوئے بغیر یہ جزوی اخراج یا خرابی نہیں چھوڑ سکتے ہیں۔ جہاں تک قرآن کا  تعلق ہے، حفاظ ان  20 سالوں میں باقاعدہ قرآن کی تلاوت کر رہے  ہوں گے، جیسا کہ آج بھی حافظ قرآن کرتے ہیں۔ لہذامناسب ترتیب  کا خیال رکھے بغیر کسی آیت کو بھول جانےیا اس میں فساد پیدا ہو نے کا کوئی امکان نہیں ہے ۔

 4 ۔ قرآن کے براہ راست مخاطبین  کے درمیان قرآن  کا خوف

نزول قرآن  کے دوران قرآن  نے دراصل اپنے مخاطبین   پر سحر کر دیا۔ جیسا کہ مکہ کے لوگوں  کا خود  اس سے دور رہنا اور دوسروں کو بھی اس سے دور رکھنا اس بات کی  گواہی دیتاہے  ،مکہ کے کافروں نے   لوگوں سے کہا کہ جب قرآن  کی تلاوت  ہو تو اس دوران تم خوب باتیں کرو یا شور مچاؤ، جس سے اس کا  جادوئی اثر زائل ہوجائے ،(41:26)۔اسی  خوف کے سبب لوگ  قرآن سے  دور ہو گئے،اور یہ  بالکل ایسا تھا جیسے سہما ہوا گدھا کسی  شیر کو بھگا رہا تھا (-5174:49)۔  حقیقت یہ ہے کہ مکہ کے وہ  تمام عرب جنہو نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا علی اعلان انکار کیا گیا تھا دائرہ اسلام میں داخل ہوئے (610-622)، یہ وہی  وقت تھا جب قرآن نے اپنے  پرزور اثر کے سبب نفرت کو زائل کر دیا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان  سے قرآن کی تلاوت سننے والوں پر سحر انگیزی طاری ہو جاتی تھی،  جو یک لخت  ان کی شخصیت کو فنا  کر اطاعت کے لئے مجبور کرتا  تھا۔ قرآن اس میں ایک بھی تضاد تلاش کرنے کاواضح  پر  چیلینج پیش کرتا ہے اور جب کو ئی اس چیلینج کو قبول کرتےہوئے  ایسا کرنے کی  کوشش کرتا ہےتو  اس پر قرآن کا  رعب ، حیرت اور مسرت میں اضافہ ہی ہوتا ہے، اگر نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم اس کے مصنف ہوتے  یا قرآن کسی اور کی نقل کی ہوئی ہوتی تو وہ اس طرح کے دعوے نہیں کر سکے تھے۔

"اور اگر تم کو اس (کتاب) میں، جو ہم نے اپنے بندے (محمدﷺ عربی) پر نازل فرمائی ہے کچھ شک ہو تو اسی طرح کی ایک سورت تم بھی بنا لاؤ اور خدا کے سوا جو تمہارے مددگار ہوں ان کو بھی بلالو اگر تم سچے ہو (2:23) لیکن اگر (ایسا) نہ کر سکو اور ہرگز نہیں کر سکو گے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے (اور جو) کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے"(2:24)۔

“بھلا یہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے؟ اگر یہ خدا کے سوا کسی اور کا (کلام) ہوتا تو اس میں (بہت سا) اختلاف پاتے"(4:82) ۔

“سب تعریف خدا ہی کو ہے جس نے اپنے بندے (محمدﷺ) پر (یہ) کتاب نازل کی اور اس میں کسی طرح کی کجی (اور پیچیدگی) نہ رکھی" (18:1)

لہذا  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرو کار اور دشمن، دونوں کو ایسی  پریشانی اور خدشات کا  سامنا  تھا کہ کہیں  ایسا نہ ہو کہ کوئی  وحی ان کے لئے کوئی خطرناک اعلان کر دے۔ مجموعی طور پر قرآن میں عربوں نے نہ تبدیل ہونے والے خدا کے احکامات کو دیکھا خدا کی تنبیہ، وعدے، چیلنجزاور لشکر کشی کے متعلق رہنمائی کے ساتھ ساتھ  میدان جنگ میں ان کے قریبی  رشتہ داروں کے قتل کے تمام احکامات حرف   آخری مانے جاتے تھے ۔  لہٰذامٹھی بھر عرب  کا قرآنی  آیات کو تبدیل کرنے کی ہمت  اورسازش کر پانا، ناقابل اعتبار ہے ۔

5 ۔ (610-632) میں یا بعد کے سالوں میں قرآن کی تالیف کے وقت تک (632-652) کسی بھی ممکنہ ترمیم کے خلاف دفاع ،کسی بھی تاریخی دستاویز میں  خلط ملط  یا تو اس کے معمار یا  اسے پھیلانے والوں کے ذریعہ ان کی تعظیم و تکریم کے مقصد سے  یا جانبدار انداز میں تاریخ کو پیش کرنے ، یا مخالفین کو  منفی انداز میں  پیش کرنے کے لئے کی جاتی ہے۔ لہٰذا اگران احکامات کے باوجود قرآن میں ترمیم کی گئی ہوتی تو  یہ  ترمیم  کچھ آیتوں کو خارج یا بدل کر کی  گئی  ہوتی۔

 5.1۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک عام انسان کے طور پر پیش کرنا

• محمد صلی اللہ علیہ وسلم  نہایت ہی شائستہ اور  منکسرالمزاج  تھے (93:6-93:8) ۔

• آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) دوسروں کی طرح  ہی ایک انسان تھے (18:110، 41:6) ۔

• آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) دونوں شہروں (مکہ اور مدینہ) میں مشہورومعروف  شخص نہیں تھے (43:31) ۔

• آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ا پنے آپ کو فائدہ یا نقصان (10:49) یا دوسروں کو نقصان اور ہدایت  دینے  کے قابل نہیں تھے (72:21) ۔

• آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کوئی بھی معجزہ  دکھانے کے قابل نہیں تھے (6:37، 11:12، 13:7، 17:90-93، 21:5، 25:7 / 8، 29:50) ۔

• آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو سمجھایا گیا تھا جب آپ نے ایک نابینا شخص کی بے وقت مداخلت کو نظر انداز کیا تھا(80:1-10) ۔

• محمد صلی اللہ علیہ وسلم شاعروں کی تضحیک کرتے تھے حالآنکہ وہ کسی دوسرے نئے ذرائع ابلاغ کی غیر موجودگی میں خبر وں کی ابلاغ و ترسیل میں  اہم  کردار ادا کرتے تھے (-22626:221) ۔

• محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعدد موضوعات کے  مختلف  حصوں میں حوالے کے باجودمسلسل نزول وحی کا دعویٰ کرتے تھے (18:1، 39:23 39:28) ۔

• ایک صحابی جن کا  نام  مذکور نہیں ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم  ان کے ساتھ ایک غار میں لاچار پائے گئے (9:40) ۔ ابتدائی روایات کے مطابق، غار میں جو صحابی آپ کے ساتھ تھے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سسر اور سب سے عظیم صحابی حضرت ابو بکر صدیقؓ تھے، جو بعد میں اسلام کےسب سے  پہلے خلیفہ بنے۔

5.2۔ تمام انبیاء علیہم السلام  میں سب سے عظیم اور اپنے  خاص مقصد میں  بڑی کامیابیوں کے سبب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نیک نامی نہ دینا

• جنگ بدر کے قیدیوں سے زیا دہ  قیمت لینے پر تعظیم و تکریم  کے بجائےمحمد صلی اللہ علیہ وسلم  کو مشورہ دیا گیا (-688:67)

• روحانی اعتبار سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیگر انبیاء کرام کے ساتھ یکساں مقام عطاء کیا گیا ۔ (2:136، 2:285، 4:152) ۔

 • محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو میدان جنگ(احد کے میدان میں)  میں  شرکت  کرنے کے لئے اپنے پیروکاروں پر دباؤ ڈالنے سے منع کریا گیا (4:84) ۔ اس اعلان نے آپ کے موقع پرست اور منافق امتیوں کومدینہ کے قریب میدان جنگ  سے راہ فرار اختیار کر نے کا موقعہ فراہم کیا ، جہاں مکہ کی ایک طاقتور فوج خیمہ زن  تھی، اور حملے کے لئے ہمہ تن  گوش تھی (3:167)۔

• 8:10 ، 3:126 میں  جنگ  بدر (624) اور احد (625) میں اللّہ کا  فرشتوں کو بھیجنے کا  وعدہ محض انکی حوصلہ افزائی   اورڈھارس باندھنےکےلئے تھا ۔

•  محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کو محض چند سال قبل  چاہے جتنی بیویاں  (33:50) رکھنے کی اجازت  کو  33:52 منسوخ کرتی ہے۔ یہ اجازت ان دیگر مومنوں کے مقابلے جنہیں چار بیویاں رکھنے کی اجازت تھی ، آپ  کے لئے خصوصی استثناء کے طور پر تھی۔ اس وقت یہ دونوں آیاتیں  نازل ہوئیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر شریف  50 سال  سے تجاوز کر چکی تھی ،اور آپﷺ تیزی  کے ساتھ فروغ پا رہے طبقے کےقائد  تھے۔ پوری تاریخ انسانیت  میں ایسی کوئی دوسری مثال نہیں ہو سکتی  کہ ایک انسان جو لامحدود طاقت کے ساتھ مسند بادشاہت پر ہو جلوہ گر ہو  (جیسا کہ یہ معاملہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا) جنہوں نے اپنی زندگی  کے عروج کے  زمانے  میں مزید کوئی  شادی نہ   کرنے کے  وعدہ کا پاس و لحاظ  رکھا اور وہ بھی ایسی عمر میں جب انہیں زندگی کی کئی اور دہائیاں اور مزید شادیوں کے ذریعے  بیٹوں سمیت کئی اور دوسرے معاملات  کی توقع اور اہمیت تھی۔

• قبیلہ بنو قریظہ  کے  کچھ افراد کا قتل (جن کا نام  قرآن میں مذکور  نہیں ہے)اور مدینہ منورہ سے ان کے اخراج کا حوالہ۔

اگر قرآن میں ترمیم کی گئی ہوتی تو (بنو قریظہ)کے قتل کے حوالے کو ضرور ہٹا دیا گیا ہوتا،اورمبینہ طور پر قتل عام کا واقعہ  محفوظ نہیں ہوا ہوتا ،اور اس طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کو اپنے مخالفین کے اس الزام کا سامنا نہیں ہوتا جس میں انہوں نے قتل عام  کی بات کہی تھی ۔ابن اسحاق (738 ڈی)  جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعدسو سال سے زیادہ (632 ڈی)دنوں تک با حیات تھے، انہوں نے  پھانسی کی تعداد 800-900  بتائی ہے جس کا حوالہ ان کے جانشیں الواقدی اور ابن سعد  نے بھی دیا ہے لیکن اوائل زمانے کے دیگر علماء کرام نے ان  تعداد کے مستند ہونے پرسوال اٹھائے ہیں جن میں سے کچھ نے  ابن اسحاق کو شیطان، [3] اور جھوٹا  تک کہا ہے۔

• محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے ملحق کسی بھی با وقار فوجی  ،اور طاقتور رومن سلطنت کی سرحد سے ملحق  فوجی چوکی اورتبوک تک مارچ کرنے کے لئے نیک نامی نہ دینا (48:24، 48:26 110:1-3) ۔

 5.3 ۔ ایسے کسی بھی دردناک لمحات کا تذکرہ نہ کرنا  جس کا  تعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ داروں ، صحابہ کرام کے ناموں اور آپ کے مشن سے  ہو۔

قرآن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے کسی بھی قریبی رشتہ دار یا کسی صحابی کا ذکر نہیں کرتاجنہوں نے  جنگ  میں شرکت کی ہویا اچھی کار کردگی  کا مظاہرہ کیا ہو یاہو اس میں شہید  ہو گئے ہوں یا  زندہ  بچ گئے ہوں ۔اس طرح کے واقعات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی   زندگی کے سب سے زیادہ تکلیف دہ اور غمگین واقعات کا مکمل احاطہ کر تی ہیں ، خاص طور سے  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ  خدیجۃالکبریٰ ، آپ کی چار میں سے تین بیٹیوں، آپ کا نو زائد بیٹااور  آپ کی حفاظت کرنے والے  چچا کی موت  اور میدان جنگ میں قریبی رشتہ داروں کی شہادت کے واقعات  ہیں ۔  اگر قرآن میں کسی بھی طرح کی  ترمیم کی گئی ہوتی تو  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے سب سے زیادہ غمگین اور المناک  لمحات کا تذکرہ  اس میں  ضرور کیا گیا ہوتا ، کیونکہ تاریخ اپنے   عظیم شخصیتوں کی تکالیف  اور درد ناک حالات کی عکاسی کر کے اپنے وقار میں چار چاند لگاتی ہے۔ پہلی مرتبہ  نزول وحی کے وقت نبی اکرم ﷺ پر طاری ہونے والی  بے چینی اور ذہنی کرب و اضطراب  کے  ذکر میں قرآن میں ایک لفظ  بھی نہیں ہے (-596:1) کیونکہ نبی اکرم ﷺ  مکہ  کے  ایک غار میں  مراقبہ کرتے تھے(-596:1) سورۃ نمبر 74 المدثرکے ابتدائی  آیات  میں ایک ہلکے اشارے کے علاوہ  کچھ نہیں ہے جس کا مفہوم صرف ـ وہ جو خیالوں میں کھو جاتا ہوـہے ۔ اس سے  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےطویل مشن  کی کامیابی اور ناکامی کی  تشویش کا  ، کوئی احساس نہیں ہوتا ۔ ترمیم شدہ قرآن ،موجودہ شخصیات اور جذبات سے عاری اصل نسخہ  کے بر عکس جو آپ کے مکہ سے جاتے ہو ئے ایک غار میں پناہ لینے کو ایک مختصر جملے میں بیان کرتا (9:40)نگارشات  سے بھر پوراور شخصیت کے  بیانسے بھرا ہوتا   :

" اگر تم پیغمبر کی مدد نہ کرو گے تو خدا اُن کا مددگار ہے (وہ وقت تم کو یاد ہوگا) جب ان کو کافروں نے گھر سے نکال دیا۔ (اس وقت) دو (ہی ایسے شخص تھے جن) میں (ایک ابوبکرؓ تھے) اور دوسرے (خود رسول الله) جب وہ دونوں غار (ثور) میں تھے اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو خدا ہمارے ساتھ ہے۔ تو خدا نے ان پر تسکین نازل فرمائی اور ان کو ایسے لشکروں سے مدد دی جو تم کو نظر نہیں آتے تھے اور کافروں کی بات کو پست کر دیا۔ اور بات تو خدا ہی کی بلند ہے۔ اور خدا زبردست (اور) حکمت والا ہے"(9:40)

5.4 ۔ انبیاءکرام ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور کنواری پاک مریم کی تعظیم و تکریم کا بیان۔

قرآن میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا  ایک  عام انسان کے طور پر ذکر  جیسا کہ درج بالا 5.1 میں سطحی  طور پر بیان کیا گیا ،  اور ازواج مطہرات اور تمام  صحابہ کرام درج بالا (5.3 میں) میں سے کسی کے بھی  نام کو ذکر نہ  کرنا ۔

اور اگر قرآن میں ترمیم کی گئی ہوتی تو  جو آیات انبیاء کرام ،حضرت عیسی علیہ السلام اور کنواری  پاک مریم کی تعظیم  و تکریم بیان کرتی ہیں انہیں فوراًخارج  دیا گیا ہوتا ان میں سے ایک حصے کی مثال  یہاں پیش کی جا رہی ہے:

“جب فرشتوں نے کہا: اے مریم! بیشک اﷲ تمہیں اپنے پاس سے ایک کلمۂ (خاص) کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسٰی بن مریم (علیھما السلام) ہوگا وہ دنیا اور آخرت (دونوں) میں قدر و منزلت والا ہو گا اور اﷲ کے خاص قربت یافتہ بندوں میں سے ہوگا۔  اور وہ لوگوں سے گہوارے میں اور پختہ عمر میں (یکساں) گفتگو کرے گا اور وہ (اﷲ کے) نیکوکار بندوں میں سے ہو گا۔ مریم علیہا السلام نے) عرض کیا: اے میرے رب! میرے ہاں کیسے لڑکا ہوگا درآنحالیکہ مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ تک نہیں لگایا، ارشاد ہوا: اسی طرح اﷲ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے، جب کسی کام (کے کرنے) کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو اس سے فقط اتنا فرماتا ہے کہ ’ہو جا‘ وہ ہو جاتا ہے۔ اور اﷲ اسے کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل (سب کچھ) سکھائے گا۔ اور وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول ہو گا (ان سے کہے گا) کہ بیشک میں تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے ایک نشانی لے کر آیا ہوں میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے کی شکل جیسا (ایک پُتلا) بناتا ہوں پھر میں اس میں پھونک مارتا ہوں سو وہ اﷲ کے حکم سے فوراً اڑنے والا پرندہ ہو جاتا ہے، اور میں مادرزاد اندھے اور سفید داغ والے کو شفایاب کرتا ہوں اور میں اﷲ کے حکم سے مُردے کو زندہ کر دیتا ہوں، اور جو کچھ تم کھا کر آئے ہو اور جو کچھ تم اپنے گھروں میں جمع کرتے ہو میں تمہیں (وہ سب کچھ) بتا دیتا ہوں، بیشک اس میں تمہارے لئے نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو۔ اور میں اپنے سے پہلے اتری ہوئی (کتاب) تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں اور ہ اس لئے کہ تمہاری خاطر بعض ایسی چیزیں حلال کر دوں جو تم پر حرام کر دی گئی تھیں اور تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں، سو اﷲ سے ڈرو اور میری اطاعت اختیار کر لو"(3:45-50) ۔

“اور کتاب (قرآن) میں مریم کا بھی ذکر کرو، جب وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر مشرق کی طرف چلی گئیں،تو انہوں نے ان کی طرف سے پردہ کرلیا۔ (اس وقت) ہم نے ان کی طرف اپنا فرشتہ بھیجا۔ تو ان کے سامنے ٹھیک آدمی (کی شکل) بن گیا،مریم بولیں کہ اگر تم پرہیزگار ہو تو میں تم سے خدا کی پناہ مانگتی ہوں،انہوں نے کہا کہ میں تو تمہارے پروردگار کا بھیجا ہوا (یعنی فرشتہ) ہوں (اور اس لئے آیا ہوں) کہ تمہیں پاکیزہ لڑکا بخشوں،مریم نے کہا کہ میرے ہاں لڑکا کیونکر ہوگا مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں اور میں بدکار بھی نہیں ہوں،(فرشتے نے) کہا کہ یونہی (ہوگا) تمہارے پروردگار نے فرمایا کہ یہ مجھے آسان ہے۔ اور (میں اسے اسی طریق پر پیدا کروں گا) تاکہ اس کو لوگوں کے لئے اپنی طرف سے نشانی اور (ذریعہٴ) رحمت اور (مہربانی) بناؤں اور یہ کام مقرر ہوچکا ہے۔"(19:16-21) ۔

نتیجہ: جیسا کہ ذکرکردہ ہ دلائل سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر  نزول  قرآن کے بعد اس میں کو ئی ترمیم کی گئی ہوتی تو  تو اس میں لامحالہ مندرجہ ذیل  باتیں  پائی جا تی:

1۔ خدا کا  کلام ہو نے کی بنیاد پر  اس کے متن کا شک و شبہ اور تغیر تبدل سے پاک ہونے  کے دعوے سے سمجھوتا کر لیا  جاتا (اوپر1 میں) جس کا  نتیجہ یہ ہوتا کہ  لوگوں کی ایک  بہت بڑی تعداد اسلام سے دور ہو جاتی، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور  آپ کے صحابہ کرام  کو  عام عرب لوگ  کی عربی زبان پر مہارت  ہونے کے باوجود (نعوز با للہ) صرف فریبی اور   بہروپیا ہی سمجھتے۔

2۔ جیسا کہ درج بالا (1) میں بتایا گیا کہ  اس کا انجام  یہ ہوتا کہ  اس کےمتن کے متعلق   سالمیت کے دعوں کی تردید کر دی جاتی ۔

3۔ ان حفاظ جنہوں نے قرآن  کے متن کو اپنے دلوں  میں محفوظ کر رکھا تھا ،اور کاتبوں کے درمیان الجھن پیدا ہو جا تی ، اور قرآن کریم کے جو عام  طور پر تحریری مواد دستیاب  ہیں ان سے قرآن مجید کے کئی مختلف نسخے ظاہر ہوتے ، جسکی وجہ  سے کردار الٰہی کے بارے میں سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے ہوتے۔

4۔جن  خوفناک  اور ناگزیر عذاب کی خبر  قرآن نے ان کو دی تھی ،اس سے پوری عرب برادری کوڈرایا جاتا ۔

5۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو (نعوز باللہ) ایک چالاک سیاستدان ، فوجی معاملات میں ہوشیار، ایک بہادر سپاہی، ایک زیر نہ ہو نے والا  فاتح، یہودیوں اور بت پرستوں کا خاتمہ کرنے والا ، بے رحمی کے ساتھ  بدلہ لینے والا، مخالف جنس پرستی کا  حامی، دنیاوی خزانے، لذت اور شہرت کی چاہت رکھنے والا، اوربد شگونی کے ساتھ خاندانی حکمرانی کی بنیاد رکھنے والا کے طور پر دنیا جانتی ۔

 6۔ آپ کو اپنے مشن میں  بڑی کامیابیوں کے لئے یا دیگر انبیاء کرام کے درمیان عظیم  المرتبت ہونے کی بنیاد پر  آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کونیک نامی دی جاتی ۔

7۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ داروں کے  اورصحابہ کرام کے نام قرآن میں شامل ہوتے۔

8۔ آپ کے مشن کے تکلیف دہ اور سب سے زیادہ اداس لمحات کا حوالہ اس میں شامل ہوتا۔

9۔ انبیاء کرام ،حضرت عیسٰی علیہ السلام اور کنواری  پاک مریم کی تعظيم  و تکریم والی آیتوں کو خارج کر  دیا گیا ہوتا۔

اس بات  کی وضاحت کرنا  کہ کیوں مندرجہ تبدیلیوں میں سے کوئی بھی واقع نہیں ہوئی تقریباً ناممکن ہے جسکی سطحی طور پر بھی قرآن پڑھنے والا آسانی سے تصدیق کر سکتا ہے۔ شاید یہ قرآن کی خود کو غلط ثابت کرنے کی مکمل عاجزی  ہی تھی کہ جیوفری پریندر اور جان برنٹن جیسےممتاز اسکالرس کو  مندرجہ ذیل مشاہدہ ہوا: 

“بغیر  کسی شک و شبہ کے نبوت، روحانی فیضان اور وحی کے تصورات کی دوبارہ تحقیق ،اللہ کے ذریعہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کی شکل میں نزول وحی کی روشنی میں کی جانی چاہئے۔" [4]

“جس شکل  مین متن ہم تک پہونچا ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ثیق  حاصل تھی اور جو آج ہمارے ہاتھوں میں ہے  وہ  محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مصحف  ہے۔" [5]

اس بحث کو یہیں ختم کرنا حق کے متلاشیوں کے لئے کا فی ہے ۔ قرآن کی شکل میں  جو ہمارے ہاتھ میں ہے وہ مصحف کی صحیح نقل ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی منظوری حاصل تھی اور اس کے نزول کے دوران اس میں ترمیم (610-632) ناممکن تھی ،اور  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وفات کے تقریباً 20 سال بعد  جب خلیفہ حضرت  عثمانؓ کے ذریعہ  توثیق شدہ قرآن کے  نسخےکاا جرا کیا گیا، اس کے بعد ہمیشہ کے لئے اس میں کسی بھی تبدیلی یا  ترمیم کی ذرہ برابر بھی  گنجائش ختم ہو گئی۔

اس حقیقت کی بنیاد پر  ان 20 سالوں کے دوران اس میں کسی بھی حذف و اضافے کے امکان کا  انکار کیا گیا کہ روزانہ سب سے زیادہ مقدس کتاب کے طور پر اس کی تلاوت ہوتی ہے ،اگر اس میں ترمیم  کی کوشش  کی گئی ہو تی   تو  فوراً اسے پہچان لیا جاتا اور منسوخ کر دیا جاتا۔ صرف کم  علم لوگ ہی  اس کی تدوین  اور  تحفظ کی سا لمیت  میں  شک کر سکتے ہیں،کہ اس میں  ترمیم عبوری مدت میں کی گئی ہے   یا ترمیم کئے جانے کا مشورہ دیتے ہیں۔  حقیقت یہی  ہے کہ ترمیم   کی کوئی بھی کوشش قرآن کو  غلط  ثابت کرے گی اور ترمیم کا ایک لا متناہی سلسلہ  چل پڑے گا  ، جس کا  نتیجے یہ ہو گا کہ  قرآن کے سیکڑوں نسخے سامنے آ جائیں گے ،جو  اسلام کو  ایسے دلدل میں ڈال دینگےجہاں سے واپسی  کا تصور نا ممکن ہے ، اور خدا کا کلام ہوامیں تحلیل ہو جا ئے گا   لیکن ایسا ہو نا ممکن نہیں ہے کیونکہ  حقیقت یہی ہے کہ  قرآن خدا کا کلام ہے۔ وہ لوگ جو قرآن کو لے کر الجھن میں ہیں انہیں ان  آیات کی تحقیقات کرنی چاہئے جو واضح اور مبہم (3:7) ہیں اور انہیں ان آیات کی طرف   خلوص  دل کے ساتھ  رجوع کرنا چاہئے (56:79) ان آیات کی  تحقیق کرنی چاہئے (38:29، 47:24) اور اس میں سب سے بہترین معنی کو تلاش کرنا چاہئے (39:18، 39:55)

نوٹ:

1 ۔ ایسا  خلیفہ حضرت علیؓ اور شام کے باغی گورنراور آپ کے مد مقابل امیر  معاویہ کی افواج کے درمیان جنگ صفین میں (657)  تصادم کے دوران ہوا۔ جب حضرت علیؓ کی فوج فتح کے قریب تھیں تب امیر معاویہ کے کمانڈر نے ایک چال چلی۔ اس نے اپنے سپاہیوں کے نیزے پر قرآن مجید کے صفحات کو باندھ کر  بلند کر دیا۔ مقدس صفحات پر نظر پڑتے ہی جنگ فوراً ہی پر سرد پڑ  گئی۔ فلپ کے ہٹی، ہسٹری آف دی عربس، 1937، 10واں ایڈیشن، 1993 ء لندن، صفحہ 180-181.

2 ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اولین صحابہ میں سے کچھ نے اپنے  مسودات (مصحف) کو مرتب کیا۔ زید بن ثابت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اولین کاتبوں میں سے تھے، انہوں نے  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات (632) کے دو سے تین سال کے اندر ہی  تمام اصل مسودے (صحف) کو ترتیب کے ساتھ  مرتب کیا ۔ جسے سب سے  پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے (632-634) برقرار رکھا،  ان کے بعد دوسرے خلیفہ حضرت عمر ابن خطابؓ (634-644) کے ذریعہ اور  پھر حفصہ بنت عمرؓ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوائوں میں سے ایک کے ذریعہ اور  آخر میں تیسرے خلیفہ حضرت عثمان ابن عفان (644-656) کی قائم کردہ  خاص جماعت کی طرف سے توثیق کی گئی۔  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے ذاتی مسودات میں ہجّےکی  ترتیب ، سورتوں  اور مترادفات کی اعدادوشمار  میں برائے نام اختلافات ظاہر ہو ا۔ حضرت عثمانؓ کے ذریعہ قائم کمیشن نے حضرت حفصہؓ کے  اصل مسودات میں سے ہر ایک کی گہرائی سے تحقیق  کی اور  حفاظ کے ساتھ بھی جانچ کی اور اس طرح ایک  'واحد' متن کو تر تیب دیا گیا، جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ کا اجماع  تھا، اور اسے  بغیر شک  وشبہ کے مستند ہونے کا اعلان کیا گیا۔حضرت عثمانؓ کے مسودات میں سے کچھ کو محفوظ رکھا گیا ہے۔  انہوں نے پانچ کاپیاں بنائیں، اور  ان میں سے مصر، شام اور اسلام کے دیگر ریاستوں کو ایک ایک کاپیاں  بھیجی گئیں۔ ان میں سے تین کا پیاں  ابھی محفوظ  ہیں، اور جدید سیکولر تحقیق بھی ثابت کرتی ہے کہ نقطہ اور املا کے نشان جو بعد میں متعارف کرائے گئے،  کے علاوہ، جو آج  ہمارے پاس ہے وہ بالکل ویسی ہی ہے۔ احمد وون ڈینفر، علوم القرآن، یو۔ کے۔/1983 ملائیشیا1991،صفحہ  163.

3. رفیق زکریا کا حوالہ:

"وہ (ابن اسحاق) حقائق کے معاملے میں کافی محتاط تھے لیکن کبھی کبھی وہ حقائق اور افسانے کے درمیان تمیز نہیں کر پاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کئی ہم عصر ان کی ملامت کرتے تھے ... (امام )مالک، اسلامی فقہ کے چار مکتب فکر کے بانیوں میں سے ایک، جو ابن اسحاق کے معاصر تھے، انہوں نے ابن اسحاق کو شیطان کہا ہے۔  اسی زمانے کے ایک اور ممتاز مذہبی عالم ہشام بن عمارہ نے کہا کہ ' بدماش جھوٹ بولتا ہے'۔ امام احمد بن  حنبلؒ، اسلام کے سب سے بڑے فقہا ء میں سے ایک نے  ان کی ذریعہ جمع کی گئی  روایات پر اعتماد  کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی عالم ہیں جنہوں نے  ابن اسحاق کے کام کے بارے میں اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ کم و بیش یہی سچائی الواقدی،  ابن سعد جیسے ان کے جانشینوں کے بارے میں بھی   ہے ... "- محمد اینڈ قرآن، لندن 1992، صفحہ نمبر 12

4 ۔ جیسس ان قرآن،ون ورلڈ پبلیکیشن، یو ایس اے، 196،صفحہ173.

5 ۔ دی کلیکشن آف دی قرآن، کیمبرج یونیورسٹی پریس، کیمبرج1977، صفحہ 239-240

----------

محمد یونس نے آئی آئی ٹی سے کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے اور کارپوریٹ اکزی کیوٹیو کے عہدے سے سبکدوش ہو چکے ہیں اور90کی دہائی سے قرآن کے عمیق مطالعہ اور اس کے حقیقی پیغام کو سمجھنے  کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کی کتاب اسلام کا اصل پیغام کو 2002میں الاظہر الشریف،قاہرہ کی منظوری حاصل ہو گئی تھی اور یو سی ایل اے کے ڈاکٹر خالد ابو الفضل کی حمایت اور توثیق بھی حاصل ہے اور محمد یونس کی کتاب اسلام کا اصل پیغام آمنہ پبلیکیسن،میری لینڈ ،امریکہ نے،2009میں شائع کیا۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-sharia-laws/the-qur’an-was-never-edited-and-any-effort-to-edit-the-qur’an-will-be-self-contradictory-/d/6316

URL: https://newageislam.com/urdu-section/quran-been-edited-/d/7228

Loading..

Loading..