New Age Islam
Tue Feb 24 2026, 11:06 PM

Urdu Section ( 5 Aug 2009, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Mullah supporters of Chander Mohan alias Chand Mohammad have now gone underground چندر موہن کو مسلمان بتانے والے کٹھ ملاّ کی ا ب اس کے ارتداد کا فتویٰ جاری کریں گے؟

 

Now that Haryana’s former deputy chief minister Chandra Mohan alias Chand Mohammad  has gone back to his Bishnoi religion after having himself purified of the “pollution” caused by his foray into Islam in order to cheat his wife and  allegedly rape his friend of five years courtesy “conversion” to Islam, the Mullahs who had supported him through all his twists and turns, justifying his every move – conversion, nikah, talaq and re-nikah – have now gone underground following his re-conversion and re-talaq to the hapless lady Fiza alias Anuradha, a former assistant attorney general of Haryana, the Indian state of which her lover was the deputy chief minister. 

 

The Shahi Imam of Punjab, the state neighbouring Haryana, had opposed the conversion of such a man to Islam for the express purpose of cheating his wife – at that time it was not known that he allegedly also intended to just rape his friend and leave. Would these Mulahs now ask for his head, he asks, by clamping a fatwa of irtidad-e-Islam on him.

 

A furious Maulana Habibur Rahman Saani Ludhianwi called a press conference at Jama Masjid of Ludhiana yesterday to expose the greed and criminal action of the Mullahs, notably Maulvi Belal Bajralwi of Panipat, in “selling the dignity of Islamic Sharia at the hands of an imposter in whose case it was clear from the beginning that he had no intention of converting to Islam for spiritual reasons and he was merely trying to use Islam to cheat his wife and Indian law.”

According to Maulana Ludhianawi, these Mullahs or, as he put it with contempt, kath-Mullahs, are criminals of Islamic Sharia as well as Indian law, as they have aided and abetted a criminal act.

 

However, Muslims must realise that the problem is larger than this. It is embedded in our mindset of rejoicing at every conversion to Islam, no matter how farcical, under whatever pretext. What I find most inexplicable, however, is that while we celebrate every conversion we also harbour a desire to kill – no less - millions of those who are already Muslim, even if they interpret some teachings of the Quran somewhat differently and so belong to a different sect or school of thought.

 

 I wonder if the Chandra Mohan-Fiza episode will help us rethink our attitude towards conversions to Islam in general. After all, Chandra Mohan is not the first person in India to have exploited Islam for nefarious or other-than--spiritual purposes. How many of us have opposed the practice of forcing prospective spouses to convert to Islam just for the sake of getting married.  Could that possibly be a real conversion which should be for spiritual reasons alone? It is clear that it is not. But not only do we support these practices, many of us actually demand that this happen.

 

 Introspection and reform of our own attitudes is clearly the answer to our problem, not taking Mr. Chandra Mohan to court for denigrating Islam as Maulana Ludhianawi suggests or slapping a fatwa of irtidaad on him and thereby asking for his head. Islamic Shariat is violated in such cases with our consent, if not active participation.

 

Sultan Shahin, editor, New Age Islam

 

The following report in Urdu appeared on 4 August, 2009 in the daily Ekhbaar-e-Mashriq, New Delhi

URL of this page: https://newageislam.com/urdu-section/mullah-supporters-chander-mohan-alias/d/1602

 

-----------------

شاہی امام پنجاب کا فتویٰ

لدھیانہ 3اگست : ہریانہ کے سابق وزیراعلیٰ چندر موہن عرف چاند میاں کی طرف سے دوسری شادی کرنے کیلئے کئے گئے جھوٹے قبول اسلام کے ڈرامے کا اس ہفتے اس وقت ڈراپ سین ہوگیا جب چند موہن نے حصار کے ایک مندرمیں بشنوئی دھرم گرو کے سامنے دوبارہ ہندو بشنوئی دھرم اپناتے ہوئے شدھی کرن کروالیا، گزشتہ چار روز ہوئے اس شدھی کرن پر چند موہن کو مسلمان بتانے والے چند کٹھ ملا ؤں کی جانب سے کوئی رد عمل نہ ہونے پر آج مجلس احراراسلام ہند کے قومی صدر اور پنجاب کے شاہی امام مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی نے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ چند رموہن کے ہاتھوں اسلام کو فروخت کرنے والے کٹھ ملا شریعت اسلامیہ کے مجرم ہیں، آج یہاں جامع مسجد لدھیانہ میں بلائی گئی پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے شاہی امام مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی نے کہا ہم نے تو حالات اور حقیقت کے مطابق اس وقت ہی فتویٰ جاری کردیا تھا کہ چند موہن مسلمان نہیں ہے اس نے صرف قانون سے بچ کر عیاشی کے لئے مسلمان ہونے کیا سرٹیفیکٹ لیا ہے ایسے انسان کو مسلمان نہیں مانا جاسکتا، شاہی امام نے کہاکہ جب ہم نے چاند محمد ثابت کرنے کے لئے اسلامی شریعت کی مخالفت کی بلکہ اس فتویٰ کے خلاف نام نہاد بیان بازی بھی تادیر جاری رکھی ، پنجاب کے شاہی امام مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی نے اسلام کو چاندی کے چند سکو ں کی خاطر فروخت کرنے والے کٹھ ملاؤں پر برستے ہوئے کہا کہ چند موہن کو چاند محمد ثابت کرنے والے کہاں ہیں اب ان کو سانپ کیوں سونگھ گیا ہم نے اسے مسلمان مانتے ہی نہیں تھے ان کٹھ ملاؤں نے اسے مسلمان مانا اس کی امداد کی کیا اب یہ اسلام کے مطابق اس کے ارتداد کا فتویٰ جاری کریں گے؟

شاہی امام نے کہا کہ ان لوگوں کو معلوم تھا کہ یہ شخص صرف قانون سے بچنے کے لئے یہ کھیل کر رہا ہے لیکن انہوں نے اپنا ضمیر بیچ دیا اور پھر ناصرف کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا بلکہ اسلام کا بھی مذاق اڑایا ،شاہی امام پنجاب نے کہا کہ چند موہن بھی اسلام کا مجرم ہے اس نے اپنے مفاد کے لئے مذہب اسلام کو بدنام کیا اور کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا اس لئے ہماری جماعت مجلس احراراسلام ہند چند موہن کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کرے گی ، انہوں نے کہا کہ ہندوستان جمہوری ملک ہے یہاں کسی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی مذہب کے ساتھ کھلواڑ کرے، پنجاب کے شاہی امام مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی کٹھ ملا ؤں پر جم کر برسے انہوں نے کہا کہ ان بکاؤں ملاؤں نے چند موہن کو لیکر اسلام کے ساتھ جو ناپاک مذاق کیا ایسا کبھی اسلام کی تاریخ میں نہیں ہوا ،ان ملاؤں نے چند موہن کے لئے اسلام کا جم کر غلط استعمال کیا،پہلے اسے قانون سے بچ کر عیاشی کرنے کیلئے مسلمان ہونے کی سنددیکر اسکو فرضی نکاح نامہ دیا اور پھر جب اس کا دل بھر گیا تو اسے بتایا کہ تین طلاق دو اور بیوی سے نجات پاؤ اور پھر جب چند موہن دوبارہ اپنی بیوی کو تین نہیں دو طلاق دی ہیں اسے دوبارہ وہ اپنے نکاح میں رکھا جاسکتا ہے ،شاہی امام نے کہا کہ کتنے شرم کی بات ہے کہ ان ملاؤں نے حالات کے مطابق چند موہن کو اسلام کی ڈھال بنا کر دی تاکہ اسکو بچاسکیں ، پنجاب کے شاہی امام مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی نے ان کٹھ ملاؤں پر تنز کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہمیشہ حق بات کہی ہے کبھی حکومتوں سے مرعوب نہیں ہوئے ہم نے چند رموہن کو مسلمان ہی نہیں مانا اس لئے اس کے ارتداد کا فتویٰ ہم نہیں دے رہے ان کٹھ ملاؤں نے تو اسے مسلماننہ صرف مانابلکہ اس کی تائید اور مدد کی اب یہ کیوں نہیں اس کے ارتداد اور اس کی سزا کا فتویٰ دیتے ؟

شاہی امام مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی نے کہا کہ مکمل ذمہ داری سے یہ فتویٰ دیتا ہوں کہ جان بوجھ کر ایک غیر مسلم کو اس کی عیاشی کے لئے مسلمان ہونے کی سنددینے والے اس گناہ میں اس کی حمایت کرنے والے لوگ اللہ کے مجرم ہیں ایسے لوگوں پر اسلام کی حد مقرر ہوتی ہے انہیں شریعت کے مطابق سزادی جانی چاہئے تاکہ دوبارہ کوئی اس طرح اسلام کے ساتھ کھلواڑ نہ کرسکے، پنجاب کے شاہی امام مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی نے کہا کہ چند موہن نے اسلام کے ساتھ جو کھلواڑ کیا ہے اسے معاف نہیں کیا جاسکتا ہم اس مسئلہ کو لیکر چند رموہن کے خلاف ایف آر آئی درج کروائیں گے اور ان کٹھ ملاؤں کے خلاف بھی پرچہ درج کروائیں گے جنہوں نے چند رموہن کو مسلمان ہونے کا جھوٹا سرٹیفیکٹ دیا اور قانون کو گمراہ کرنے کے لئے جھوٹا نکاح نامہ بھی چند موہن کو بنا کردیا۔

انہوں نے کہا کہ بکاؤ مولویوں نے مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ ملک کے قانون کو بھی گمراہ کیا ہے اور ایک ایسے شخص کو پناہ دی ہے جو قانون کے مطابق ہندو میرج ایکٹ کا ملزم ہے شاہی امام نے ملک بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ اب وہ خود ہی اس ضمن میں فیصلہ کریں کہ ایک سیاست داں کی سہولت کے لئے اسلام کو فروخت کرنے والے کیا مولوی کہلانے کے حق دار ہیں ، قابل ذکر ہے کہ ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ چند رموہن نے اسی سال اپنی پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے جب دوسری شادی کرنے کے لئے مسلمان بننے کا ڈرامہ کیا تو اس وقت پنجاب کے شاہی امام مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی نے چندر موہن کے خلا ف فتویٰ جاری کردیا تھا کہ یہ شخص مسلمان نہیں ہے ، شاہی امام کے اس فتویٰ کے بعد چندر موہن کے حواریوں نے شاہی امام پنجاب کے خلاف نہ صرف بیان بازی شروع کردی بلکہ پانی پت کے بلال بجرونوی نے اس ضمن میں چندر موہن کے حق میں تحریک چلائی ، میری تیری اس کی بات، میں اس ضمن میں چندرموہن کے حق میں مضمون لکھے گئے لیکن اب جب چندر موہن کا الّو سیدھا ہوگیا اور وہ واپس ہندو مذہب میں چلا گیا تو یہ بکاؤ مولوی بھی غائب ہوگئے، پنجاب کے شاہی امام مولانا حبیب الرحمن ثانی لودھیانوی نے کہا کہ اسلام لاوراث نہیں اس کے کروڑوں وارث اس ملک میں موجود ہیں ہم کسی کو اپنے دین کھلواڑ نہیں کرنے دیں گے۔

4 اگست، 2009  بشکریہ۔ اخبار مشرق، نئی دہلی

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/mullah-supporters-chander-mohan-alias/d/1602

 

Loading..

Loading..