New Age Islam
Sat May 02 2026, 11:14 AM

Radical Islamism and Jihad ( 4 May 2011, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Maulana Nadeemul Wajidi on Osama’s killing: The zealot is finally dead دوانہ مر گیاآخر

Several Urdu newspapers published from Delhi have published well-known Deobandi cleric Maulana Nadeemul Wajidi’s take on Osama bin Laden’s killing. Clearly Indian Urdu Press and Indian Taliban are no different whatsoever in their thinking and articulation from their Pakistani counterparts. This should open the eyes of those of our intellectuals who believe that India’s secularism and multiculturalism has impacted our maulanas and that there are no supporters of Al-Qaeda here. Some excerpts from his syndicated column translated by New Age Islam Edit Desk.

 

 “It is actually America that is the world’s greatest terrorist. It is the US that has made life difficult for the world, though out of fear many, even governments, dare mot say so. But the world is not devoid of courageous persons. The Imam of Delhi’s Shahi Masjid and the president of Jamiat-ul-ulema-se-Hind are among such valiant people. They have said that we cannot consider any one terrorist on the basis of Americans saying so. Imam Bukhari has gone even to the extent of saying that the US has not given any proof of Osama bin Laden being responsible for 9/11. It is inconceivable that Osama would have been able to launch such a daring attack.

“If the news of Osama’s death is correct, certainly this is great news for America and its allies. But that the world’s sole super power spent ten years hunting for him is very strange. That is why some people believe it is all a drama. Even people in Saudi Arabia do not believe Osama is dead. This is what people in India also think. It’s all just a drama staged beautifully.

“Expressing the sentiments of tens of millions of Indians, the President of Jamiat-ul-Ulema-e-Hind has said that something doesn’t sound right. The head of Jamia Azhar, Cairo, Sheikh Ahmad Al-Tayyab has condemned this act perpetrated by America. He has said that a Muslim’s dead body can be buried at sea only when he dies during a sea journey. The spokesman of Taliban in Pakistan Ehsanul Haque has vowed revenge and said that with Osama’s death their zeal is not going to die. Osama may be dead but America has not been able to kill the determination of Muslims to avenge the many injustices perpetrated by America against them. Their anger and hatred for America is still alive.

“But even if the news of Osama’s death is true, America’s joy will not last for long. The Taliban have already vowed revenge. The whole world knows that America has suffered heavy defeat in Afghanistan and is seeking to run away from here with some honour. Taliban have emerged as very strong. If Taliban start taking their revenge in the beginning of summer, this will create more problems for America. One Osama’s dearth will produce hundreds of Osamas. How many dead bodies will America bury in the sea?”

URL: http://www.newageislam.com/radical-islamism-and-jihad/maulana-nadeemul-wajidi-on-osama’s-killing--the-zealot-is-finally-dead/d/4578

دوانہ مر گیاآخر

مولانا جدیم الواجدی

امریکہ اس کے حلیف او راس کی زبان میں بات کرنے والے ممالک اسامہ بن لادن کو دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد قرار دے رہے ہیں، یہ چور مچائے شور والی بات ہے، ساری دنیا جانتی ہے کہ سب سے بڑا دہشت گرد کون ہے اور آج دنیا کو جیناکس نے حرام کررکھاہے، یہ او ربات ہے کہ بے ضمیر حکومتیں امریکہ کے خوف سے کچھ نہیں بولتیں او ربہت سے احتیاط پسند لوگ بھی دم سادھے بیٹھے رہتے ہیں، لیکن اس دنیا میں جرأت مند وں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے، دہلی کی شاہجہانی مسجد کے امام سید احمد بخاری اور جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی بلاشبہ ایسے ہی جرّی لوگوں میں شمار کئے جائیں گے۔ ان دونوں نے ایک ہی بات کہی کہ کیا اہم امریکہ کے کہنے پر کسی شخص کو دہشت گرد مان لیں گے۔ امام بخاری نے تو یہاں تک کہا کہ اگر اسامہ دہشت گرد تھے توان کے خلاف واقعاتی ثبوت اکٹھا کر کے دنیا کے سامنے کیوں نہیں رکھے گئے، ان پر عدالتوں میں مقدمہ کیوں نہیں چلایا گیا اس کے برعکس امریکہ مسلسل یہ پروپگنڈہ کرتا رہا ہے کہ اسامہ بن لادن ہزاروں امریکیوں کے قتل کا ذمہ دار ہے،نائن الیون کا واقعہ اس نے انجام دیا آج تک امریکہ یہ ثابت نہیں کرسکا کہ آخر ہزاروں میل دور بیٹھے ہوئے ایک شخص نے دنیا کے سپر پاور کے قلب وجگر میں گھس کر کس طرح اس کی آبرو کے نشان ولڈ ٹریڈ سینٹر اور قوت کی علامت پنٹاگن کو کیسے نشانہ بنایا، اس واقعے کو دس سال گزرچکے ہیں امریکہ اسی وقت سے اپنے اس مجرم کے پیچھے لگا ہوا تھا بالآخر اسے کامیابی مل گئی،امریکی صدر باراک اوبامہ نے اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ امریکہ کی بہادر افواج نے القاعدہ کے سربراہ اور ہزاروں امریکیوں کے قاتل اسامہ بن لادن کو پاکستان کے ایبٹ آباد میں کامیاب کارروائی کرکے ہلاک کردیا ہے، یاد رہے کہ اسامہ بن لادن کو زندہ یا مردہ گرفتار کرنے پر دس ہزار ڈالر کا انعام مقرر تھا۔

اگر اسامہ کی موت کی خبر سچی ہے تو یقینا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے اس سے زیادہ خوشی کی خبر کوئی دوسری نہیں ہوسکتی، ان ملکوں کے سربراہ اور عوام خاص طور پر امریکہ کے صدر اور وہاں کی قوم جس قدر بھی بغلیں بجائے کم ہی ہے،بالآخر انہوں نے اپنے ایک دشمن کو موت کے گھات اتار دیا،یہ اور بات ہے کہ امریکی افواج اپنی پوری طاقت کے ساتھ اس کی تلاش میں مسلسل دس سال تک افغانستان او راس سے ملحقہ علاقوں میں سرگرداں رہیں، ایک کمزور اورنہتے انسان کو دس سال تلاش کرنے میں لگ گئے او روہ بھی دنیا کی سب سے طاقتور حکومت کو جو تلاش او رجستجو کے تمام ذرائع رکھتی ہے، دیکھنے او رسننے میں یہ بات کچھ عجیب سی لگتی ہے۔ اسی لیے بعض لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ محض ڈرامہ ہے، اس سے پہلے بھی ایک بار اسامہ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا جس کی بعد میں تردید کی گئی۔ آج بھی یہ دعویٰ کیا گیا ہے، کیا پتہ یہ خبر بھی غلط ہی ہو بین الاقوامی امور پر نظر رکھنے والوں کا تجزیہ یہ ہے کہ اپنے ملک میں او رملک سے باہر جس تیزی کے ساتھ صدر اوبامہ کی مقبولیت کی سطح میں گراوٹ ہورہی ہے اسے روکنے کے لیے یا مقبولیت کا گراف اوپر اٹھانے کے لئے اسامہ کی ہلاکت کاڈرامہ رچا گیا ہے، صدر اوبامہ اس ڈرامے سے خاطر خواہ فائدہ اٹھائیں گے یا نہیں۔ اس کے متعلق قبل از وقت کچھ کہنا مشکل ہے۔ البتہ ایک امریکی اخبار نے یہ بات صاف کردی ہے کہ امریکی صدر کی مقبولیت میں کچھ اضافہ ضرورہوسکتا ہے مگر یہ واقعہ انہیں دوبارہ صدارت کے منصب پر فائز نہیں کرسکتا، کیونکہ امریکیوں کے لیے اسامہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا ان کی نظر امریکی معیشت پر ہے جو صدر اوبامہ کے دور میں لگاتار عدم استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے،اس واقعے سے امریکی افواج کو اپنی شرمندگی کا کچھ اثر زائل کرنے کاموقع ضرور مل گیا جو انہیں طالبان کے ہاتھوں افغانستان میں ہزیمت کی صورت میں اٹھانی پڑرہی تھی، اوبامہ کے لیے افغانستان میں شکست کا معاملہ سوہان روح بنا ہوا تھا او راب ا س حوالے سے یہ مطالبہ کیا جانے لگا تھا کہ امریکہ اس خطے سے اپنی فوجیں فوراً واپس بلائے، یقینا اس واقعے سے شکست کی تکلیف کچھ کم ہوگی، البتہ افغانستان سے امریکی انخلاء کے مطالبے میں کمی کے بظاہر آثار نظر نہیں آتے،یہ کچھ لوگ یہ بھی کہنے لگے ہیں کہ اسامہ کی ہلاکت کے بعد افغانستان میں امریکہ کی موجودگی کاکوئی جواز نہیں رہا، کیونکہ وہ جس مقصد کے لیے خطے میں آیا تھا وہ مقصد پورا ہوچکاہے، القاعدہ کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔

اگر چہ امریکہ اپنے دعوے کے مطابق اسامہ کو ہلاک کرچکا ہے مگر حقیقت میں یہ کوئی اتنا بڑا واقعہ نہیں ہے کہ اس کے لیے امریکی افواج کی پیٹھ تھپ تھپائی جائے اور صدر اوبامہ کو مبارک باد کے پیغامات ارسال کیے جائیں،امریکہ کی یہ کامیابی بہت بعد از وقت ہے، ساری دنیا جانتی ہے کہ افغانستان میں امریکہ شکست کھا چکاہے اور اس خطے میں اسے اپنی عزت بچاکر رہنا بھاری ہورہا ہے، طالبان خاصے طاقتور ہوکر سامنے آچکے ہیں او راب یہ بات حامد کرزئی بھی مان چکے ہیں کہ طالبان کے بغیر خطے میں امن کا قیام مشکل ہی نہیں ناممکن ہے، قندھار جیل سے پانچ سو طالبان قیدیوں کا فرار اپنی نوعیت کا نادر واقعہ تو ہے ہی ان کی طاقت اور دانائی کا غمار بھی ہے، دس سال کی طویل جدوجہد کے بعد اگر اسامہ بن لادن کو ماربھی دیا گیا تو یہ کون سی بڑی کامیابی ہے۔ اگر مجموعی تناظر میں صورت حال کا تجزیہ کیا جائے تو یہ خوشی امریکہ کیلئے عارضی بھی ثابت ہوسکتی ہے، طالبان بدلہ لینے کا اعلان کرچکے ہیں امریکہ او را سکے اتحادیوں کی فوج دُم دبا کر بھاگنے کے چکر میں ہے،ان حالات میں اگر طالبان موسم گرما کے آغاز پر اپنی کارروائیاں تیز کردیں تو امریکی افواج کے لیے اور زیادہ مشکلات کھڑی ہوسکتی ہیں۔

امریکہ اس قدر جھوٹ بولتاہے کہ لوگ ا س کے کسی دعوے پر مشکل سے یقین کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کا ایک بڑا طبقہ ا س واقعے کوبھی جھوٹ کا پلندہ سمجھ رہا ہے، سعودی عرب سے خبر آئی ہے کہ وہاں لوگ اس خبر پر یقین نہیں کررہے ہیں، ہندوستان میں بھی عام خیال یہی ہے کہ یہ کوئی افسانہ ہے جس کو خوبصورتی کے ساتھ لکھا گیا او رمہارت کے ساتھ اسٹیج کیا گیا امریکہ کی کامیابی تو اس میں ہوتی کہ وہ اسامہ کو زندہ گرفتار کر لیتا رات کی تاریکی میں مسلح کمانڈوز یہ کام بڑی آسانی کے ساتھ کرسکتے تھے، واقعات بتلاتے ہیں کہ دشمن نے کوئی مزاحمت تک نہیں کی اپنے دفاعمیں گولی تک نہیں چلائی ہیلی کاپٹر تکنیکی خرابی کی وجہ سے زمین پر گرا پھر کیا وجہ ہے کہ اسامہ پر پچاس گولیاں برسائی گئیں،یہی نہیں بلکہ ان کی لاش کو آناً فاناً افغانستان منتقل کیا گیا، ڈی این اے ٹیسٹ ہوا اور فوراً ہی ان کے مردہ جسم کو سمندر میں ڈال دیا گیا، یہ ساری کارروائی چار گھنٹے میں پوری ہوئی،اس عاجلانہ کارروائی سے اور لاش کو سمندر میں ڈالنے سے پورا معاملہ مشکوک نظر آتاہے صدر جمعیۃ علما ہند مولانا ارشد مدنی نے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کی نمائندگی کرتے ہوئے صحیح کہا ہے کہ دال میں کچھ کالا نظر آتاہے، جامعہ ازہر کے سربراہ شیخ احمد الطیب نے امریکہ کے اس اقدام کی مذمت کی ہے اور اور کہا ہے کہ کسی مسلمان کی لاش کو سمندر کے حوالے اسی وقت کیا جاسکتاہے جب اس کا انتقال بحری سفر کے دوران ہو، انہوں نے کہا کہ لاش کو سمندر میں بہا دینے کا عمل اسلامی شریعت مذہبی او رانسانی قدروں کے خلاف ہے، امریکہ کے اس اقدام نے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مجروح بھی کئے ہیں او راس واقعے کو مشکوک بھی بنا دیا ہے اب لوگ برملا کہنے لگے ہیں کہ امریکہ نے اس خوف سے لاش کو سمندر میں ڈالا ہے تاکہ اس میں سو پچاس سال بعد یہ حقیقت سامنے نہ آجائے کہ جس لاش کو اسامہ کی لاش کہا جارہاہے وہ اسامہ کے بہانے کسی او ر کی لاش ہے۔

طالبان کی پاکستانی شاخ کے ترجمان احسان الحق نے اسے ظالمانہ کارروائی سے تعبیر کرتے ہوئے انتقام لینے کا اعلان کیا ہے،انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اسامہ کے مرنے سے وہ جذبہ فنا ہونے والا نہیں جو اس نے افغانستان اور پاکستان کے ہر گھر میں امریکیوں کے خلاف پیدا کردیا ہے حقیقت بھی یہی ہے کہ اگر چہ اسامہ مرچکا ہے، مگر کیا امریکہ نے اس نظریے اسی جذبے او راس عزم کی روح بھی کچل دی جو اسامہ کی پہچان تھا ایسا تو نہیں کہ اس واقعے سے وہ جذبہ او رعزم پھر مضبوط ہوجائے جو اگرچہ سرد تو نہیں ہوا تھا مگر بہت زیادہ متحرک بھی نہیں تھا، اب جب کہ امریکی اسامہ کی ہلاکت پر خوشیاں منارہے ہیں انہیں مستقبل کے بارے میں بھی سنجیدگی کے ساتھ غور وفکر کرنا چاہئے تھا، سوال یہ ہے کہ سعودی عرب جیسے مقبول خاندان کا ایک جوان امریکہ کا کٹر دشمن کیوں بنا؟ اگر امریکہ اس سوال پر غور کرلے او ران مسائل کا کچھ تدارک کردے جن کی وجہ سے اسامہ پیدا ہوئے ہیں تو امریکہ خود بھی بے خوف زندگی گزارے گا او رساری دنیا بھی امن کا گہوارہ بن جائے گی۔

امریکہ کو یہ احساس ہوجاناچاہئے کہ اسامہ اس غصے او رنفرت کی علامت کا نام تھا جو امریکہ او رمغربی طاقتوں کی ظالمانہ او رمعاندانہ کارروائیوں کے خلاف ہر مسلمان کے دل میں موجود ہے، جب تک یہ مسلم دشمن رویہ برقرار رہے گا او رجب تک مسلمانوں کے معاملے میں انصاف کے تقاضوں پر عمل نہیں کیا جائے گا اس وقت تک غصے اور نفرت کی یہ آگ ٹھنڈی نہیں ہوگی، ایک اسامہ کو مارکر او رایک القاعدہ کو ختم کرکے امریکہ کو یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ اس نے بڑا معرکہ سر کرلیاہے امریکہ جیسی طاقت کے سامنے ایک شخص کو ختم کردینے کا واقعہ اتنا بھی اہم نہیں جتنا اہم کسی چیونٹی کو پاؤں سے مارنا ہے، اس کے باوجود امریکہ خوش ہے تو اسے اس کی خوشی مبارک ہومگر ا س کو اپنے کردار پر نظر ڈالنی چاہئے ورنہ ایک اسامہ کی موت سو اسامہ پیدا کرے گی اور ایک القاعدہ سے سو القاعدہ جیسی تنظیمیں جنم لیں گی، آخر امریکہ کس کس کا پیچھا کرے گا، کس کس کو دس دس سال کی طویل تلاش او رمشقت کے بعد ہلاک کرے گا۔ کس کس تنظیم کا سر کچلے گا اور کس کس کی لاش دریا برد کرے گا، مغرب کا انصاف ہمیشہ کے لیے غصے او ر نفرت کا ماحول ختم کرسکتا ہے کاش یہ بات امریکہ او راس کے حلیفوں کی سمجھ میں آجائے۔

او راب آخر میں ایک شعر جس کا ایک جز ومضمون کا سرنامہ بنایا گیا ہے:

غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی

دوانہ مرگیا آخر کو، ویرانے پہ کیا گزری

URL: https://newageislam.com/radical-islamism-jihad/maulana-nadeemul-wajidi-osama’s-killing/d/4578


Loading..

Loading..