New Age Islam
Wed Apr 29 2026, 08:23 PM

Urdu Section ( 23 Dec 2024, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

End of Bashar al-Assad's Rule and the Situation in the Region بشارالاسد کے اقتدار کاخاتمہ اور خطہ کی صورتحال

احمد اللہ صدیقی

 20دسمبر،2024

2010 ء کے اخیر میں جب مشرق وسطیٰ میں عرب اسپرنگ کے نام سے تبدیلی کی ہواچلی، تو شام بھی ان ممالک میں شامل تھا جہاں بشارالاسد کو اقتدار سے باہر کرنے کے خلاف پر امن احتجاج بتدریج خونی کریک ڈاؤن اورمسلح جدوجہد میں تبدیل ہوگیا۔امریکہ میں خود کو جمہوریت اور آزادی کا چیمپئن ہونے کادعویٰ کرنے والے براک اوباما صدر تھے۔گرچہ مشرق وسطیٰ میں سیاسی تبدیلی کا پروجیکٹ براک اوباما کا تھا، لیکن امریکہ کی ڈیپ اسٹیٹ نے اس موقع کو خطہ میں موجود اسرائیل، امریکہ اور مغرب کے مخالفین کو ختم کرنے کیلئے کیا۔ خطہ میں سب سے اہم،بامعنی اور نامیاتی انقلاب مصر کا تھا جہاں حسنی مبارک کے 40 سالہ آمرانہ اقتدار کا خاتمہ ہوا۔ یہاں اخوان المسلمین عوامی امنگوں اور حمایت کے ذریعہ اقتدار میں آئی،لیکن سعودی عرب،متحدہ عرب امارات اور امریکہ ومغربی ممالک کی مدد سے نہ صرف اخوان المسلمین کے اقتدار کا خاتمہ کیا گیا، بلکہ اقتدار میں آنے کی جرأت کرنے کی یہ سزا دی گئی کہ اس کی قیادت کو جیلوں میں مار دیا گیا۔اگر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک نے اپنی کو تازہ بینی اور خوف کی وجہ سے مصر کے عوام کی امنگوں کے مطابق انقلاب کے خاتمہ میں اپنا کردار ادا نہیں کیا ہوتا تو آج خطہ کی تاریخ کچھ اور ہوتی۔ عالم اسلام لہولہان غزہ میں جس اذیت، پشمانی اور بے بسی کا احساس کررہاہے، ایسا ہرگز نہیں ہوتا۔راقم کی مشرق وسطیٰ میں دلچسپی بہار عرب کے نتیجہ میں ہی پیدا ہوئی،جوکہ بعد میں خونیں انقلاب میں تبدیل ہوگیا۔

عرب ممالک نے ڈکٹیٹر عبدالفتاح السیسی کو اقتدار میں لانے کے لئے ربعہ اسکوائر پر اخوان المسلمین کے سیکڑوں حامیوں کاقتل عام کرایا، جن میں بچے اور بوڑھے بھی شامل تھے۔ میں نے درجنوں مضامین لکھے کہ اگر صرف مصر کے انقلاب کو محفوظ کرلیاجاتاتو خطہ میں یہ صورتحال پیدا نہیں ہوتی۔مسئلہ فلسطین کا حل نہ تو سعودی عرب کے پاس ہے اورنہ ہی عرب کے ان چھوٹے ممالک کے پاس ہے جو فوجی اور عوامی طاقت کے طور پر کسی بھی شمار میں نہیں آتے۔ مسئلہ فلسطین کے حل کی کنجی قاہرہ کے پاس ہے، جس کو عرب ممالک نے سازش کرکے چھین کر اسرائیل کے حوالے کردیا۔ یہ ایک کڑوا سچ ہے جس سے مشرق وسطیٰ پر نظر رکھنے والا کوئی بھی شخص انکار نہیں کرسکتا۔ آپ اس کو اس طرح سے سمجھ سکتے ہیں کہ اگر افغانستان کا پڑوسی ملک پاکستان نہیں ہوتا تو نہ ہی سوویت یونین کو یہاں شکست ملتی اور نہ ہی عالمی سپرپاور امریکہ تقریباً دو دہائیوں کی پوری قوت اور جنگ کے بعد اقتدار طالبان کے ہاتھوں میں سونپ کر فرار ہوتا۔ خطہ میں تین ہی ممالک ہیں جو فوجی اور عوامی طاقت کے ذریعہ اثرانداز ہوسکتے ہیں اور یہ ممالک ترکی، مصر اور ایران ہیں، لیکن مصر کو عملی طور پر اسرائیل کے زیر نگیں کردیا گیا۔ امریکہ کی ڈیپ اسٹیٹ نے اسی طرح اس بہار عرب کے موقع کا فائدہ اٹھاکر لیبیا میں معمر قذافی کواقتدار سے بے دخل کرنے کیلئے فوجی مداخلت کی۔ امریکی میڈیا نے ہمیشہ کی طرح ڈیپ اسٹیٹ کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے معمرقذافی کی کردار کشی کی۔ ان کے ذاتی حرم کے بارے میں کئی کہانیاں اڑائی گئیں۔ ایسا نہیں ہے کہ کئی دہائیوں تک اقتدار میں رہنے والے معمرقذافی میں کوئی انسانی کمزوری نہیں رہی ہوگی۔ 70لاکھ کی آبادی والے ملک میں معمر قذافی کے چند سیاسی مخالفین بھی ہوں گے، جنہیں نشانہ بنایا گیا ہوگا، لیکن کیا یہ عرب کے ان ممالک میں نہیں ہوتا جہاں کی خفیہ اور بدنام زمانہ جیلوں میں وہاں کے بڑے علماء، اسکالرز او ر حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والے قید ہیں، لیکن یہ عوامی انقلاب کے بعد امریکہ کی سربراہی میں نیٹو نے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قرار داد 1973 ء کو لاگو کرنے کے نام پر فوج کشی کی۔اس میں سیزفائز اور عوام پر حملے روکنے کے سلامتی کونسل کے مینڈیٹ کے بہانے کا استعمال کیا گیا۔ معمر قذافی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی وجہ یہ تھی وہ افریقی یونین کو مضبوظ کرنے اور تیل کی فروخت کوڈالر کے علاوہ سونے یادیگر کرنسی میں کرنے کے حامی تھے اور اپنی تمام ترشخصی کمزوریوں کے باوجود عرب کے حکمرانوں کی طرح منافق نہیں تھے۔

سب سے زیادہ خون آشام انقلاب شام کاہی تھا، جہاں بشارالاسد نے اپنے باپ حافظ الاسد کی طرح جنون کامظاہرہ کرتے ہوئے شدید خونریزی کی۔ درعا جس کو شام میں انقلا ب کا گہوارہ کہا جاتاہے،وہاں چند طلبہ نے دیوار پر بشارالاسد سے اقتدا ر چھوڑنے کا صرف ایک سرخ رنگ میں نعرہ تحریر کیا تھا،لیکن یہ نعرہ خونیں انقلاب کی وجہ بن گیا۔ شام کے بڑے پیمانے پر سمندر کے راستے یوروپ کے کسی ساحل پر پہنچنے کی کوششوں میں ہی محمد الکردی نام کا وہ پھول سا بچہ بھی پوری دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ نے پر مجبور ہوگیا تھا جس کی نعش کو اپنی بے رحم لہر کے باوجود سمندر نے کنارے لگادیا تھا۔ شا م میں ایک طرف امریکہ، اسرائیل اور عرب ممالک جمہوریت کے نام پر بشارالاسد کے اقتدار کا خاتمہ چاہتے تھے،لیکن ایران ہر قیمت پر اسد کو بچانا چاہتا تھا۔ یہ انتہائی مضحکہ خیز تھا کہ ایران نے مصر میں جمہوریت کی حمایت جب کہ سعودی عرب اور اس کے حلیفوں نے مصر کی جمہوریت کو دوبارہ تار تار کردیا، جب کہ شام میں سعودی عرب اور اس کے حلیف جمہوریت چاہتے تھے، لیکن ایران اسد کی حمایت میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑا ہوگیا۔ یہ ایک ایسا تضاد ہے جس کی تشریح صرف ’ذاتی مفاد‘ کے اصطلاح کے ذریعہ ہی ہوسکتی ہے۔مصر کاانقلاب عرب ممالک کو پسند نہیں تھا، جب کہ شام کا انقلاب ایران کو پسندنہیں تھا۔ بشارالاسد پیشہ سے آ نکھوں کا ڈاکٹر تھا، راقم ن اس وقت بھی اپنے مضمون میں لکھا کہ پیشے سے آنکھوں کا ڈاکٹر بشارالاسد اپنی آنکھوں کا موتیا بیندنہیں اتار سکا۔ اس نے خطہ میں بڑی تصویر دیکھنے سے انکار کردیا۔ گرچہ ایران کے شہید جنرل قاسم سلیمانی نے بھی بعد میں اس حقیقت کا ادراک کیا کہ بشارالاسد خو د اپنے ہی شہریوں کے خلاف جس حد تک بربریت اور خونریزی میں آگے چلا گیا، اس کا کوئی جواز نہیں تھا۔ بشارالاسد کے اقتدار کے خاتمہ کے بعد کئی ایسی رپورٹس سے اس کی وضاحت ہوتی ہے کہ ایرانی فوج کے جرنیل بار بار اسد کو عوام سے صلح کرنے کے مشورے دیتے تھے۔

شام میں بشارالاسد کے اقتدار کے خاتمہ کے بعد کئی طرح کی باتیں ہورہی ہیں۔عراق میں صدام حسین کے اقتدار کے خاتمہ کے وقت بھی مسلکی اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کی گئی اور ایک سنی رہنما کی معزولی پر خوشی کا اظہار کیا گیا۔ حالانکہ یہ حقیقت بھی لوگوں کے پیش نظر رہنی چاہئے کہ عراق میں صدام حسین کے اقتدار کا خاتمہ بھی امریکہ اور نیٹوں کی یورش سے ہی ہوسکا۔ شام میں بشارالاسد کے اقتدار کا خاتمہ امریکہ اور ترکی کی مدد سے ہواہے۔

عراق میں صدام حسین کی معزولی کے بعد یہ ملک آ ج تک خود مختا ر نہیں ہوسکا۔ پارلیمنٹ کئی بار عراق سے امریکی فوج کے انخلاء کی قرار داد پا س کرچکی ہے، لیکن امریکہ وہاں سے نکلنے کے لئے تیار نہیں۔عراقی تیل کا پیسہ براہ راست امریکہ کے ایک بینک میں منتقل ہوتاہے جہاں سے امریکہ ہر ماہ کاغذ کے ڈالر چھاپ کر جہاز کے ذریعہ عراق کو رقم مہیا کراتاہے۔ خطہ میں کسی شیعہ کو سنی اور کسی سنی کو شیعہ سے کوئی خطرہ نہیں۔ اصل خطرہ صیہونیت، اس کی درندگی اور گریٹر اسرائیل کا پروجیکٹ ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کسی بھی تبدیلی کو جانچنے کا پیمانہ یہ ہے کہ تبدیلی گریٹر اسرائیل کے پروجیکٹ اور امریکی مفاد کے حق میں یا اس کے خلاف ہے۔ فی الوقت شام کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا جہاں آزادی پسندوں کے اقتدار میں آنے سے قبل اسرائیل ہر اس بامعنی چیز کو ختم کررہا ہے جس سے وہ ایک خود مختار ملک کے طور پر دوبارہ کھڑا ہوسکے۔ فضائیہ کا نظام،اسلحوں کے ڈپو اور سبھی حساس تنصیبات کو اسرائیل پوری طرح سے ختم کررہا ہے۔ گولان کی پہاڑیوں سے آگے جبل الشیخ پر اس نے اپنا پرچم لہرا دیاہے اور اس کے ٹینک شام میں اندرون تک کارروائیاں کررہے ہیں۔ شام میں یہ تبدیلی کیا رنگ لائے گی، یہ ابھی دیکھنا باقی ہے۔

20 دسمبر،2024، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

-----------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/bashar-al-assad's-rule-situation-region/d/134106

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..