نیو ایج اسلام اسٹاف
رائیٹر
22جولائی،2024
موجودہ دور میں موبائیل
فون انسانی زندگی کا جزولاینفک بن چکا ہے۔ یہ صرف ابلاغ وترسیل کا ذریعہ نہیں ہے
بلکہ ایک کثیرالمقاصد آلہ ہے جس کا استعمال ہر کسی کے لئےناگزیر ہو چکا ہے۔ طلبہ
سے لے کر بالغ اور پیشہ ور افراد کے لئے یہ ان کے فرائض منصبی کی ادائیگی کا ایک
لازمی حصہ ہے۔ اس لئے کوئی بھی شخص اب نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے استعمال پر مجبور
ہے۔
موبائیل فون کا ایک اور
مگر سب سے زیادہ مقبول مصرف تفریح ہے۔چونکہ موبائیل فون انٹرنیٹ سے مربوط ہوتا ہے
اس لئے اب زیادہ تر لوگ تفریح کے لئے ٹیلی ویژن کے بجائے موبوئیل فون کا ہی
استعمال کرتے ہیں۔ موبائیل کے بڑھتے ہوئے استعمال اور طلبہ میں آن لائن تعلیم کو
فروغ دئیے جانے کی وجہ سے اب بچوں کے ہاتھوں میں بھی موبائیل آگئے ہیں۔ رفتہ رفتہ
کم عمر طلبہ کے ساتھ ساتھ اسکول نہ جانے والے بچے بھی موبائیل استعمال کرنے لگے
ہیں ۔والدین بھی بچوں کی شرارت سے بچنے اور ان کو کام کاج میں مخل ہونے سے روکنے
کے لئے انہیں موبائیل کے ساتھ چھوڑ نے لگے اوروقتی راحت اور آرام کے لئے اس
کےدوررس مظراثرات کو نظرانداز کرنے لگے۔
بچوں اور بڑوں میں
موبائیل پر کھیلنا یا تفریح حاصل کرنا دھیرے دھیرے لت کی شکل اختیار کرلیتا ہے ۔
اس لت کوچھوڑنا یابچوں کو اس سے چھڑانا مشکل ہوتا ہے۔ ایسے کئی واقعات ہوچکے ہیں
جب والد یا والدہ کے ذریعہ بچے یا بچی کو موبائیل پر مصروف رہنے پر لعنت ملامت
کرنے کے نتیجے میں اس نے خودکشی کرلی۔ہندوستان اور پاکستان میں کئی بچے موبائیل
اڈکشن کی وجہ سے سنگین اعصابی بیماریوں میں مبتلا ہو کر داخل ہسپتال ہوچکے ہیں اور
زندگی بھر کے لئے دماغی طور پر معذور ہوچکے ہیں۔
اسلامی نقطہء نظر سے بھی
تفریح کے لئے موبائیل کا استعمال لھوالحدیث کے زمرے میں آتا ہے۔ قرآن میں
لھوالحدیث ہر اس کام کو کہا گیا ہے جو تضیع اوقات کا باعث اور مخرب اخلاق ہو۔
لھوالحدیث کا لغوی معنی باتوں کا کھیل ہے۔ سورہ لقمن کی آیت 6 ملاحظہ کریں:
۔"آاور بعض لوگ خریدار ہیں باتوں کے کھیل کے تاکہ دوسروں کو
اللہ کی راہ سے بھٹکائیں اور اس کا تمسخر اڑائیں۔۔ ان کے لئے ذلت کا عذاب
ہے۔"۔
لھوالحدیث سے مفسرین اور
فقہا نے کھیل تماشہ، بے ھودہ باتیں، ناچ گانا وغیرہ مراد لیا ہے۔ ۔ اس لحاظ سے ٹی
وی سیریل ، ڈرامے ، موبائیل گیم ، فحش ویڈیو ، اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر
فحش ، بے یودہ اور مخرب اخلاق پوسٹ جدید لھوالحدیث کے زمرے میں آتے ہیں۔ لہذا،
موبائیل فون پر ضروری کاموں کے سوا دیگر غیر ضروری تفریح اور ویڈیو گیم پر اپنے شب
وروز کا ایک بڑا حصہ ضائع کرنا نہ صرف اخلاق اور اعصاب کے لئے مضر ہے بلکہ دینی
طور پربھی گناہ ہے۔موبائیل کی لت میں مبتلا لوگ نہ صرف اپنی گھریلو ذمہ داریوں سے
بھاگتے ہیں بلکہ دینی فرائض کو بھی نظرانداز کرتے ہیں۔
موبائیل کی لت کا زیادہ
نقصان بچوں کو ہوتا ہے کیونکہ ان کا جسم اور دماغ غیر بالیدہ ، نازک اور کمزور
ہوتا ہے۔ موبائیل فون سے جو تابکاری خارج ہوتی ہے وہ بڑوں سے زیادہ بچوں کونقصان
پہنچاتی ہے۔ بچے بڑوں سے زیادہ دوگنا ریڈیئشن جذب کرتے ہیں۔ موبائیل یا دیگر
الکٹرانک آلات اور مشینیں جیسے ٹی وی ، اے سی وغیرہ کے گرد برقی مقناطیسی لہروں کا
ہالہ تیار ہوتا ہے جسے الکٹرومیگنیٹک فیلڈ (ای ایم ایف) کہتے ہیں۔ یہ انسان کے جسم
اور دماغ پر مضر اثرات مرتب کرتا ہے۔موبائیل فون کا ای ایم ایف بچوں میں اعصابی
اور دماغی بیماریوں یا آٹزم کا سبب بنتا ہے۔
لہذا، بچوں کو موبائیل
فون کی لت سے بچانے اور انہیں سوشل میڈیا کےمخرب اخلاق مواد اور مضر صحت اثرات سے
بچانے کے لئے والدین کو خصوصی احتیاطی اقدامات کرنے ہونگے ۔ کم عمر بچوں کو
موبائیل سے بالکل دور رکھنا ہوگا۔ اس کے بجائے بچوں کو جسمانی تفریح ، کھیل کود
اور صحت مند علمی اور فنی سرگرمیوں کی طرف مائل کرنا ہوگا۔پینٹنگ بچوں کی ذہنی
ترقی کے لئے بہت مفید شغل ہے۔ اس سے ان کی قوت ارتکاز بڑھتی ہے اور ان کی جمالیاتی
حس بالیدہ ہوتی ہے۔ اس کے برعکس موبائیل کی لت سے بچوں کی قوت ارتکاز میں کمی آتی
ہے جس سے وہ لکھنے پڑھنے میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے اور پڑھائی کے دوران جلد تھک
جاتے ہیں یا اکتا جاتے ہیں۔
اس لئے بچوں کی ذہنی
نشوونما اور انہیں تعلیم کی طرف زیادہ راغب کرنے اور ان کی اخلاقی تربیت کے لئے
والدین کو چاہئے کہ وہ بچوں کو جہاں تک ممکن ہو موبائیل کے غیرضروری استعمال یعنی
جدید لھوالحدیث سے بچانے کی کوشش کریں۔
---------------
URL:
New Age Islam, Islam Online, Islamic
Website, African
Muslim News, Arab
World News, South
Asia News, Indian
Muslim News, World
Muslim News, Women
in Islam, Islamic
Feminism, Arab
Women, Women
In Arab, Islamophobia
in America, Muslim
Women in West, Islam
Women and Feminism