New Age Islam
Tue May 12 2026, 12:40 AM

Urdu Section ( 22 Apr 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Environmental Pollution in Islam- Part-2 اسلام میں ماحولیاتی آلودگی کا جامع تصور

ڈاکٹر ظفردارک قاسمی، نیو ایج اسلام

( قسط دوم)

22 اپریل 2026

اس تمہیدی گفتگو کے بعد یہ سمجھنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ماحول آخر ہے کیا اور اس کا مفہوم کیا ہے ؟ ماحول کا لغوی معنی حالت ، بیئت کے آتے ہیں،  جسے عربی میں بیئہ کہا جاتا ہے ۔  ماحول کا ایک معنی یہ بھی بتایا جاتا ہے:  جو فرد جماعت کے اردگرد اور اس پر اثر انداز ہو جسے قدرتی ماحول ، اجتماعی ماحول ، اور سیاسی ماحول سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔

اصطلاح میں ماحول کا تصور ان تمام چیزوں سے ہے جو ارد گرد ہوں ۔ قاضی سعید اللہ اپنی کتاب " Environment and Islam" میں ماحول کے مفہوم کو مزید وضاحت سے لکھتے ہیں:

" ماحولیاتی آلودگی کا تعلق صرف ہوا، پانی، زمین اور مٹی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ اس میں اخلاقی، ثقافتی ،تعلیمی، سیاسی،  معاشرتی اور معاشی امور بھی داخل ہیں"  گویا ماحول کا مطلب ہے جن مسائل و معاملات سے ہمیں واسطہ پڑتا ہے اور ہماری زندگی کی بقاء کے لیے جو چیزیں لازمی ہیں ۔ جیسے : رہائش ، کھانے پینے ، سانس لینے ، علاج و معالجہ اور کاروبار کے متعلقات ، اسی طرح وہ اشیاء جن پر آپس میں رابطہ اور تعلقات کا انحصار ہو،  ان تمام کو ماحول سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ اس طرح سے ماحول اپنے اندر ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے ان تمام چیزوں کو برتنے اور ان کے ساتھ تعلقات نبھانے کی تعلیمات اسلام میں بڑی تفصیل سے موجود ہیں۔

اسلام جس ماحولیاتی آلودگی سے نبرد آزما ہونے یا اس کے خاتمہ کی بات کرتا ہے اس میں بنیادی طور پر توازن اور اعتدال شامل ہے ۔ ماحول کو سماج ، نوع انسانی اور تمام مخلوقات کے لیے پر امن اور پر سکون بنانا ہے تو ہمیں بنیادی طور پر توازن و اعتدال کے فلسفہ پر عمل کرنے اور اس کے مطابق زندگی گزانے کی ضرورت ہے ۔ افراط و تفریط یا عدم توازن  کے جہاں دیگر معاشرتی فسادات رونما ہوتے ہیں،  وہیں ماحولیاتی آلودگی اور ماحولیاتی بحران بڑی شد و مد کے ساتھ سامنے آتا ہے ۔  واضح رہے کہ ماحول میں توازن ہوگا تو لامحالہ انسانی زندگی صحت مند رہے گی ، اور اگر ماحول میں فساد یا بگاڑ ہوگا تو پھر زندگی کو خطرات کا سامنا ہوگا ۔

اس تناظر میں جب ہم اسلامی نظام ماحول کا مطالعہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اسلام زندگی کے تمام شعبہ جات کی طرح ماحولیات سے متعلق بھی سنہرے اصول فراہم کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ماحول کو متوازن بنایا ہے،  جس میں خالق کی اعلیٰ کاریگری ظاہر و باہر ہے۔  اسلام کی تعلیمات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے قدرتی ماحول کو ایک خاص انداز پر پیدا کیا ، جب تک اس میں انسان کی طرف سے فساد اور خرابی کی مداخلت نہ ہو تو یہ اسی طرح متوازن رہے گا کیونکہ اللہ تعالی نے زندگی کا ہر عنصر مخصوص اوصاف اور موزونیت کے ساتھ پیدا کیا ہے،  جو کہ ماحول کے توازن کا ذمہ دار ہے۔  اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَالْاَرْضَ مَدَدْنَاهَا وَاَلْقَيْنَا فِيْـهَا رَوَاسِىَ وَاَنْبَتْنَا فِيْـهَا مِنْ كُلِّ شَىْءٍ مَّوْزُوْنٍ (الحجر: 19)

"اور ہم نے زمین کو پھیلایا اور اس پر پہاڑ رکھ دیے اوراس میں ہر چیز اندازے سے اگائی۔"

اس آیت  میں اللہ تعالیٰ نے نظام توازن کی طرف اشارہ کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ خالق نے ہر چیز مناسب اور متوازن انداز میں پیدا کی ہے ۔ اس آیت کے ذیل میں سید ابو الاعلی مودودی نے اپنی تفسیر " تفہیم القرآن میں لکھا ہے:

"  اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کے ایک اور اہم نشان کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ نباتات کی ہر نوع میں تناسل کی اس قدر زبردست طاقت ہے کہ اگر اس کے صرف ایک پودے ہی کی نسل کو زمین میں بڑھنے کا موقع مل جاتا تو چند سال کے اندر روئے زمین پر بس وہی وہ نظر آتی ، کسی دوسری قسم کی نباتات کے لیے کوئی جگہ نہ رہتی۔ مگر یہ ایک حکیم اور قادر مطلق کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے جس کے مطابق بے حد و حساب اقسام کی نباتات اس زمین پر اگ رہی ہیں اور ہر نوع کی پیداوار اپنی ایک مخصوص حد پر پہنچ کر رک جاتی ہے۔ اسی منظر کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ ہر نوع کی جسامت، پھیلاؤ ، اُٹھان اور نشوونما کی ایک حد مقرر ہے جس سے نباتات کی کوئی قسم بھی تجاوز نہیں کرسکتی ۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے ہر درخت ، ہر پودے اور ہر بیل بوٹے کے لیے جسم ، قد، شکل، برگ و بار اور پیداوار کی ایک مقدار پورے ناپ تول اور حساب و شمار کے ساتھ مقرر کر رکھی ہے "

(تفہیم القرآن جلد دوم ، صفحہ: 502-593)

مفتی شفیع عثمانی نے اپنی معروف تفسیر معارف القران میں نظام قدرت میں توازن و اعتدال اور موزونیت کی خوبی و حسن کو درج ذیل الفاظ میں بیان کیا ہے:

"اور من کل شی ء موزون کا ایک مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تمام اُگنے والی چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے ایک خاص تناسب اور موزونیت کے ساتھ پیدا کیا ہے، جس سے اس میں حسن اور دل کشی پیدا ہوتی ہے، مختلف درختوں کے تنے ، شاخیں ، پتے، پھول اور پھل، مختلف سائز اور مختلف شکل، مختلف رنگ اور ذائقے کے پیدا کیے گئے ، جس کے تناسب اور حسین منظر سے تو انسان فائدہ اٹھاتا ہے، مگر ان کی تفصیلی حکمتوں کا ادراک کسی انسان کے بس کی بات نہیں ۔"

( معارف القرآن ، جلد پنجم ، صفحہ: 291)

دوسری جگہ اللہ تعالیٰ توازن و اعتدال کے تصور کو اس طرح بیان کرتاہے:

وَاِنْ مِّنْ شَىْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُهٝۖ وَمَا نُنَزِّلُـهٝٓ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ ( الحجر: 21)

"اور ہر چیز کے ہمارے پاس خزانے ہیں، اور ہم صرف اسے معین مقدار پر نازل کرتے ہیں."

اس آیت کے ذیل میں سید ابو الاعلیٰ مودودی نے لکھا ہے:

" یہاں اس حقیقت پر متنبہ فرمایا کہ یہ معاملہ صرف نباتات ہی کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ تمام موجودات کے معاملے میں عام ہے۔ ہوا، پانی، روشنی، گرمی، سردی، جمادات، نباتات، حیوانات، غرض ہر چیز، ہر نوع، ہر جنس ، اور ہر قوت و طاقت کے لیے ایک حد مقرر ہے جس پر وہ ٹھیری ہوئی ہے، اور ایک مقدار مقرر ہے جس سے نہ وہ گھٹتی ہے نہ بڑھتی ہے۔ اس تقدیر اور کمال درجے کی حکیمانہ تقدیر ہی کا یہ کرشمہ ہے کہ زمین سے لے کر آسمانوں تک پورے نظام کائنات میں یہ توازن، یہ اعتدال اور یہ تناسب نظر آ رہا ہے۔ اگر یہ کائنات ایک اتفاقی حادثہ ہوتی ، یا بہت سے خداؤں کی کاریگری و کارفرمائی کا نتیجہ ہوتی تو کس طرح ممکن تھا کہ بے شمار مختلف اشیا اور قوتوں کے درمیان ایسا مکمل تو ازن و تناسب قائم ہوتا اور مسلسل قائم رہ سکتا ؟"  ( تفہیم القرآن ، جلد دوم ، صفحہ: 503)

اسلام میں ماحول کے توازن اور اعتدال کا جو نظریہ پیش کیا ہے اس کی اہمیّت و افادیت  کا اندازہ ذیل کی آیات سے بھی لگایا جاسکتا ہے ۔  اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَالسَّمَآءَ رَفَـعَهَا وَوَضَعَ الْمِيْـزَانَ ۔ اَلَّا تَطْغَوْا فِى الْمِيْـزَانِ۔

وَاَقِيْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيْـزَانَ۔ ( الرحمٰن: 7-9)

"اور آسمان کو اسی نے بلند کر دیا اور ترازو قائم کی۔ تاکہ تم تولنے میں زیادتی نہ کرو۔ اور انصاف سے تولو اور تول نہ گھٹاؤ۔"

ان آیات کے ذیل میں اللہ تعالیٰ نے نظام عدل و توازن کی طرف واضح انداز میں کہا ہے ۔ چنانچہ مفسرین نے لکھا ہے:

" قریب قریب تمام مفسرین نے یہاں میزان (ترازو) سے مراد عدل لیا ہے،  اور میزان قائم کرنے کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالی نے کائنات کے اس پورے نظام کو عدل پر قائم کیا ہے۔  یہ بے حدوحساب تارے اور سیارے جو فضا میں گھوم رہے ہیں،  یہ عظیم الشان قوتیں جو اس عالم میں کام کر رہی ہیں، اور یہ لاتعداد مخلوقات اور اشیاء جو اس جہان میں پائی جاتی ہیں ، ان سب کے درمیان اگر کمال درجے کا عدل و توازن نہ قائم کیا گیا ہوتا تو یہ کارگاہ ہستی ایک لمحے کے لیے بھی نہ چل سکتی تھی ۔ خود اس زمین پر کروڑوں برس سے ہوا اور پانی اور خشکی میں جو مخلوقات موجود ہیں انہیں کو دیکھ لیجیے ان کی زندگی اسی لیے تو برقرار ہے کہ ان کے اسباب حیات میں پورا پورا عدل اور توازن پایا جاتا ہے ، ورنہ ان اسباب میں ذرہ برابر بھی بے اعتدالی پیدا ہو جائے تو یہاں زندگی کا نام و نشان تک باقی نہ رہے ۔ یعنی چونکہ تم ایک متوازن کائنات میں رہتے ہو جس کا سارا نظام عدل پر قائم کیا گیا ہے ۔ اس لیے تمہیں بھی عدل پر قائم ہونا چاہیے ، جس دائرے میں تمہیں اختیار دیا گیا ہے اس میں اگر تم بے انصافی کرو گے اور جن حق داروں کے حقوق تمہارے ہاتھ میں دیے گئے ہیں اگر تم ان کے حق مارو گے تو یہ فطرت کائنات سے تمہاری بغاوت ہو گئی ۔ اس کائنات کی فطرت ظلم و بے انصافی اور حق ماری کو قبول نہیں کرتی۔  یہاں ایک بڑا ظلم تو درکنار ترازو میں ڈنڈی مار کر اگر کوئی شخص خریدار کے حصے کی تولہ بھر چیز بھی مار لیتا ہے تو میزان عالم میں خلل برپا کر دیتا ہے۔

(تفہیم القرآن ، جلد پنجم ، صفحہ: 251)

ایک جگہ اور اللہ تعالیٰ نے نظام کائنات کے حسن توازن کو پیش کیا ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اَلَّـذِىْ خَلَقَ سَبْعَ سَـمَاوَاتٍ طِبَاقًا ۖ مَّا تَـرٰى فِىْ خَلْقِ الرَّحْـمٰنِ مِنْ تَفَاوُتٍ ۖ فَارْجِــعِ الْبَصَرَ هَلْ تَـرٰى مِنْ فُطُوْرٍ ۔( الملک: 3-4)

"جس نے سات آسمان اوپر تلے بنائے، تو رحمان کی اس صنعت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا، تو پھر نگاہ دوڑا کیا تجھے کوئی شگاف دکھائی دیتا ہے۔"

ان آیات کے ذیل میں اللہ تعالیٰ نے نظام عدل و توازن کی طرف واضح انداز میں کہا ہے ۔ چنانچہ مفسرین نے لکھا ہے:

"اصل میں تفاوت کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کے معنی ہیں: عدم تناسب ۔ ایک چیز کا دوسری چیز سے میل نہ کھانا۔ انمیل بے جوڑ ہونا ۔ پس اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ پوری کائنات میں تم کہیں بد نظمی ، بے ترتیبی اور بے ربطی نہ پاؤ گے۔ اللہ کی پیدا کردہ اس دنیا میں کوئی چیز بے جوڑ نہیں ہے۔ اس کے تمام اجزا باہم مربوط ہیں اور ان میں کمال درجے کا تناسب پایا جاتا ہے۔"

( تفہیم القرآن ، جلد ششم ، صفحہ:42)

بجا طور نتیجہ کی شکل میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ماحولیاتی آلودگی کا ایک بڑا اور بنیادی سبب عدم توازن اور فطرت سے بغاوت ہے ۔ بدقسمتی سے عدم توازن یا فطرت کے اصولوں سے بغاوت کے مظاہر ہمیں کائنات میں کثرت سے دیکھنے کو ملتے رہتے ہیں ۔  ماحول کو آلودگی اور فساد و فتنہ سے محفوظ رکھنا ہے تو یقینی طور پر ہمیں  توازن و تناسب  کے اصولوں  پر عمل کرنا ہوگا ۔ اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہمارے اردگرد جتنے طبعی عناصر ہیں، ان کو اسی طبعی حالت پر چھوڑا جائے اور اسے ہر قسم کی جوہری اور غیر طبعی ملاوٹ سے پاک رکھا جائے۔  لیکن اگر انسان نے ان قدرتی عناصر کا بے دریغ استعمال جاری رکھا تو پھر ان کا توازن برقرار نہیں رہے گا اور نتیجہ یہ ہوگا کہ معمول کے مطابق یہ حیاتیاتی تنوع کی ضرورت پوری طرح ادا نہ کر سکے گا ۔

—--

مضمون نگار اسلامک اسکالر ، مصنف اور نیو ایج اسلام کے مستقل کالم نگار ہیں ۔

--------

Part-1: Environmental Pollution in Islam-Part-1 اسلام میں ماحولیاتی آلودگی کا جامع تصور

URL: https://newageislam.com/urdu-section/environmental-pollution-islam--part-2/d/139746

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..