New Age Islam
Sat Apr 11 2026, 04:55 AM

Urdu Section ( 29 March 2024, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Rethinking Hijab and ‘Awra of Women حجاب اور خواتین کی عورۃ پر نظر ثانی: لچک اور سیاق و سباق پر مبنی حقائق کو تسلیم کرنا اور پدرسرانہ نظام اور روایت پسندی کو مسترد کرنا

ادیس دودیریجا، نیو ایج اسلام

21 مارچ 2024

ایک طرف تو کلاسیکی فقہاء کی اکثریت عورت کے پورے جسم کو، ہاتھ اور چہرے کے علاوہ، 'عورۃ' مانتی ہے، جبکہ ایسے کئی دوسروں فقہاء بھی ہیں جن کی اقلیتی رائے کے مطابق، صرف کہنی یا گھٹنے کے نیچے والے حصے 'عورۃ' ہیں۔ مزید برآں، باندیوں کو لباس کے معاملے میں اجماع کی بنیاد پر کچھ  رعایتیں  حاصل تھیں، مثلاً نماز کے دوران سر ڈھانپنے سے ۔

------

حجاب اور عورۃ کے مسائل، جن کا تعلق سر ڈھانپنے اور جسم کے ان اعضاء سے ہے، جن کا پردہ کرنا ضروری ہے، فقہ اسلامی میں ایک طویل عرصے سے شدید بحث کا موضوع رہے ہیں۔ تاہم، یہ ماننا انتہائی ضروری ہے، کہ ان مسائل کے ابتدائی احکام پر ان سماجی اور تاریخی سیاق و سباق کا بڑا گہرا اثر تھا، جن میں ان کا ظہور ہوا۔ لیکن جیسے جیسے معاشرے ترقی کرتے ہیں، ضروری ہے کہ اصل ماخذ کی عبارتوں کا بغور جائزہ لے کرنظر انداز کیے گئے عناصر پر روشنی ڈالتے ہوئے ان احکام پر نظرثانی کیا جائے۔  نظر ثانی کا یہ عمل، جس کی بنیاد اسلامی قانونی نظریہ پر ہے، ہمیں قوانین کے ان پہلوؤں کی نشاندہی کرنے کے قابل بنا سکتا ہے، جو وقت اور حالات کے مطابق لچک کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ایک اہم عنصر، جو نظر ثانی کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے، وہ خواتین کے 'عورۃ' کی تعریف کے حوالے سے، قدیم مسلم فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ ایک طرف تو کلاسیکی فقہاء کی اکثریت عورت کے پورے جسم کو، ہاتھ اور چہرے کے علاوہ، 'عورۃ' مانتی ہے، جبکہ ایسے کئی دوسروں فقہاء بھی ہیں جن کی اقلیتی رائے کے مطابق، صرف کہنی یا گھٹنے کے نیچے والے حصے 'عورۃ' ہیں۔ مزید برآں، باندیوں کو لباس کے معاملے میں اجماع کی بنیاد پر کچھ  رعایتیں  حاصل تھیں، مثلاً نماز کے دوران سر ڈھانپنے سے ۔یہ تضادات بتاتے ہیں کہ 'عورۃ' کے تصورات اور پردہ کرنے کے طریقے ابھی اپنے ارتقائی مراحل میں ہی تھے، جن پر ان مخصوص سیاق و سباق کا گہرا اثر تھا، جن میں ان کا اطلاق کیا گیا، بجائے اس کے کہ وہ کوئی متعین احکام ہوں۔

مزید برآں، متعدد روایات، ایک مخصوص سماجی و ثقافتی فریم ورک کے اندر پردے والی آیات کے شان نزول کو بھی بیان کرتی ہیں، جن سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے، کہ رات کے وقت قضائے حاجت کے لیے جانے میں خواتین کو ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اور اس کا جو حل فراہم کیا گیا وہ سیاق و سباق سے متعلق تھا، جس کامقصد لباس کا ایک عالمگیر معیار مقرر کرنا نہیں بلکہ،ہراسانی کے مسئلے  کو حل کرنا تھا۔ مزید برآں، روایتوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے، کہ مدینہ میں خواتین بالعموم اچھے لباس پہنتی تھیں، لیکن کبھی کبھار ان کا لباس ستر ظاہر کرنے والا ہو جاتا تھا، مثلاً،  سر کا دوپٹہ  کندھوں کے پیچھے ہو جانا ، جس سے ان کے سینے بے نقاب ہو جاتے تھے۔ اس سے ابتدائی دور میں لباس کے حوالے سے نرمی اور لچک کا علم ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر سختی کے ساتھ کسی متعین  پردے کا حکم ہوتا ، تو اس سے انحراف کو خاموشی سے قبول کر لینے کی بجائے، اس کی سخت مذمت وارد ہوتی۔

مزید برآں، مردوں کے ساتھ ان کے باقاعدہ تعامل کے باوجود، باندیوں کو پردے کے کچھ تقاضوں سے مستثنیٰ رکھے جانے کا مطلب یہ ہے، کہ پردے کا یہ نظام  صرف جسمانی کشش سے متعلق شائستگی کے خدشات سے کہیں زیادہ ہے۔ چونکہ ملک کی معیشت کو فروغ دینے میں خواتین کا بھی ایک منفرد کردار ہے، جس کے لیے ان کا آزادانہ طو پر نقل و حرکت کرنے کے قابل ہونا ضروری ہے ، اور یہی بات ان کے لیے لباس میں نرمی کی ضمانت بھی بن جاتی ہے۔ اگر ضرورت کی بنیاد پر استثناء دیا جا سکتا ہے، تو ان حالات پر بھی غور کیوں نہیں کیا جاتا، جن میں پردہ  کے تقاضے، جدید خواتین کی فلاح و بہبود اور ان کے حقوق پر منفی اثر ڈالتے ہیں؟ مناسب طرز  استدلال اور مفاد عامہ کا خیال رکھنا، اسلامی قانونی صوابدید کا ایک اہم پہلو ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ ابتدائی کتب میں نماز کے احکام میں لفظ ’عورۃ‘ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اس کے بجائے، ان میں  مناسب اور شائستہ لباس کا ذکر ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ 'عورۃ'  ایک الگ تصور تھا، جو نماز میں لباس کے تقاضوں سے قطع نظر، آزادانہ طور پر فروغ پا رہا تھا، اسی لیے یہ اس بات کی ضمانت ہے، کہ عورۃ  کا مسئلہ، ایمان کے معاملات پر براہ راست اثر انداز نہیں ہے۔ مزید برآں، ستر 'عورۃ کے پردے' کے بغیر، نماز کے درست ہونے پر ابتدائی دور میں علماء کے  اختلافات، عبادات کے لیے  ستر 'عورۃ' کی ضرورت کے حوالے سے، ان کی مختلف تعبیرات و تشریحات  کی نشاندہی کرتے ہیں، جس سے اس باب میں ایک خاص لچک کی تصدیق ہوتی ہے۔

جب بوجہ مجبوری برہنہ حالت میں، یا کم سے کم لباس میں نماز ادا کرنے کے حوالے سے روایات پر نظر کرتے ہیں ، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی اصول مذہبی فرائض کی تکمیل ہے، جس میں اختیاری کپڑے کی عدم موجودگی کوئی رکاوٹ نہیں بنتی۔ اگرچہ یہ رخصتیں استثنائی ہیں، لیکن یہ حالات کے مقابلے میں اصل جوہر  کو ترجیح دینے کی مثالیں ہیں، اور غیر متناسب طور پر، پردے کو ضروری قرار دیے جانے کی صورت میں، حق تلفی یا کردار کشی ہونے پر، نظر ثانی کی دعوت دیتی ہیں۔ بوجہ مجبوری ننگی حالت میں نماز کی اجازت سے متعلق روایت، اسلامی قانون میں عام طور پر پائی جانے والی روایتی لچک کی مثال ہے ۔

الحاصل، ان نتائج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شائستگی، زیبائش، اور ان کے مذہبی مضمرات کے تصورات، متحرک سماجی حالات و معمولات کی روشنی میں تشکیل پائے تھے، بجائے اس کے، کہ وہ متعین اور غیر متغیر ہوں ۔ ان سے اس بات کی نشاندہی بھی ہوتی ہے کہ ان ابتدائی احکامات کا مقصد،  لباس کا کوئی سخت قانون مسلط کرنا نہیں، بلکہ اس زمانے کے مسائل کا حل پیش کرنا تھا۔ ان تصورات میں ہمیشہ اتنی لچک موجود تھی، کہ مخصوص لوگوں کے لیے، سیاق و سباق کی بنیاد پر مختلف مواقع اور حالات کے مطابق انہیں ڈھالا جا سکے،  جیسے فوجی اہلکار یا ضرورت کے وقت نوکرانیاں۔

 اہم بات یہ ہے کہ عورتوں کے لیے عورۃ اور پردے کے مسائل، قرآن کی بعض پدرسرانہ تشریحات، سنت کے تصور کی نوعیت پر کچھ مخصوص تعبیرات، اور عرف یا عادت کے تصور کے ساتھ اس کے تعلق پر مبنی تھے، اور ان کی بنیاد پدرسرانہ اعزاز کی منطق پر تھی۔

اگرچہ بنیادی اقدار، مثلاً پرائیویسی اور شائستگی کی اہمیت جزو لازم ہے، لیکن تاریخی احکام پر ایک گہری نظر ڈالنے سے، ہمیں حجاب کے طور طریقوں پر، باعتبار سیاق و سباق اور ثقافت کے، نظر ثانی کرنے کا موقع ملتا ہے، اور 'عورۃ' اور  اس اعتبار سےخود شائستگی کے تصور کو سمجھنے کا بھی موقع ملتا ہے۔ لیکن جیسا کہ میں نے کہیں دوسری جگہ بھی کہا ہے کہ، ان نظریات اور تصورات کو قرآن و سنت کی پدرسرانہ تشریحات اور پدرسرانہ نظام پر مبنی  وسیع تر سماجی و ثقافتی پس منظر  سے بھی الگ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں مصالح شرعیہ  پر مبنی مسلسل سوال اور استدلال  کا نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے، نہ کہ سیاق و سباق سے پرے فکر اور روایت پرستی کو ترجیح دینے کی، جو اب بھی ان لوگوں کے درمیان وسیع پیمانے پر رائج ہے، جو ان مسائل پر، کلاسیکی اسلامی قوانین کی تعبیرات و تشریحات  کو برقرار رکھنے پر اصرار کرتے ہیں۔

English Article: Rethinking Hijab and ‘Awra of Women: Embracing Flexibility and Contextual Realities and Rejecting Patriarchy and Traditionalism

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/hijab-awra-flexibility-contextual-patriarchy-traditionalism/d/132027

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..