New Age Islam
Sat Mar 07 2026, 10:08 AM

Urdu Section ( 14 Jan 2011, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Indian Pluralism – A Model Of Successful Coexistence, And New Challenges ہندوستانی تکثیر یت کامیاب بقائے باہم کا ایک نمونہ، اور نئے چیلنج

[Translate in Urdu by New Age Islam Edit Desk]

 

IN this post-9/11 world characterised by a burgeoning clash of civilisations, multiculturalism and tolerance of religious diversity is under threat practically everywhere in the world. It has virtually ceased to exist in large parts of South Asia. In Pakistan, for instance, a near civil war in raging among religious, sectarian, ethnic and linguistic groups. Poor Pakistanis don’t even feel secure to go to mosques to pray. How does India then thrive in relative peace in the midst of this chaos, despite having the second largest population in the world, an astounding variety of religions, cultures, ethnicities and languages and dialects? [Indian constitution, for instance, recognises 22 languages and the country is home to at least 844 major dialects.] This question has staggered political scientists and sociologists around the world in recent times. …......

To understand this one has to go to the very roots of Indian way of life, our dharma, that is now known as Hindu religion but it was always a conglomeration of religions, philosophies, including atheism and agnosticism. Yes atheism was as much an integral part of Hindu dharma as was faith in one God or a multiplicity of gods or any particular deity which may have had a following in only one small locality. So one Hindu family could have had a couple of devout believers in one God or several gods or atheists or agnostics, all living together under the same roof, their beliefs causing no hindrance in their lives together. In different parts of India too there were different religions, different scriptures, and people from different parts used to travel carrying their beliefs with them and sharing them with one another.

So when beliefs like Islam or Christianity or Judaism came from foreign lands, they hardly faced any problem in being accepted. In any case the Hindu or more correctly the Indian considered the whole world as a family, a kutumb.  One of the cardinal principles of Hindu philosophy was that there are many ways to the God and ultimately they all lead to the same divine truth. So while Islam’s encounter with some other religions was quite violent, Hinduism provided it with a fertile ground for growth. -- Sultan Shahin, Editor, New Age Islam, speaking at Geneva in a United Nations informal seminar on multicultural experiences on 10 June, 2010.

Urdu translation by New Age Islam Edit Desk is being posted below. 

For full text of the speech in English please click on the link below:

http://www.newageislam.com/islam-and-pluralism/indian-pluralism,-a-model-of-successful-co-existence,-recent-challenges/d/2978

 

 

سلطان شاہین، ایڈیٹر ،نیو ایج اسلام ڈاٹ کام

11/9حملے کے بعد تہذیبوں کے تصادم سے دو چار  دنیا میں تکثیر یت او رمذہبی تنوع کے تئیں رواداری عملی طور پر خطرے کی زد میں ہے۔ یہ ایک طرح سے جنوبی ایشیا میں معدوم ہی ہوچکی ہے ۔ مثال کے طور پر پاکستان میں مختلف مذہبی ، مسلکی، نسلی، اور لسانی خانہ جنگی جیسی صورتحال ہے۔ بیچارے پاکستانی عوام نماز کے لئے مسجد جانا بھی محفوظ نہیں سمجھتے ۔ تو پھر ہندوستان دنیا کا سب سے بڑی آبادی اور مختلف مذاہب ،زبان ، کلچر اور نسلوں والا ملک ہونے کے باوجود کس طرح امن وسکون برقرار رکھے ہوئے ہے۔ (مثال کے طور پر ہندوستانی آئین نے 22زبانوں کو منظوری دی ہے اور ملک میں 844مقامی بولیاں مروج ہیں)حالیہ وقتوں میں اس سوال نے ماہرین سماجیات اور ماہرین سیاسیات کو پریشان کررکھا ہے۔

ذرا ہندوستان کی سیاسی واقتصادی زندگی میں سرگرم نمایا ں شخصیات پر نظر ڈالئے ۔ ملک کے وزیر اعظم سکھ فرقے سے تعلق رکھتے ہیں جو کہ ہندوستان کی ایک ارب سے زیادہ آبادی کا 2سے 3فیصد ہے۔ وہ وزیر اعظم کے عہدے کے دوسرے پنج سالہ مرحلے میں ہیں۔ برسراقتدار پارٹی کی سربراہ او ر غالباً ملک کی طاقتور ترین سیاستداں عیسائی فرقے سے تعلق رکھتی ہیں۔عیسائی فرقہ ہندوستانی آبادی میں سکھوں سےبھی چھوٹا ہے۔ تقریباً سال بھر پہلے ملک کا سربراہ مسلمان تھا جو اس طبقے سے تعلق رکھتا تھا جو ملک کی آبادی کا 13فیصد ہے۔ سبکدوشی کے بعد جناب عبدالکلام غالباً ملک کی سب سے بڑی محترم شخصیت ہیں۔ موجودہ وقت میں بھی نائب صدر جمہوریہ ایک مسلم ہیں۔ ہندوستان کا امیر ترین تکنیکی صنعت کار ایک مسلمان ہے۔ ہندوستانی فلمی صنعت کے 10میں سے 7سرکردہ اداکار مسلمان ہیں ۔فنکار وں ، موسیقاروں اور گلو کاروں کا ایک بڑا طبقہ الگ ہے۔

ہندوستانی عوام کے ذریعہ مذہبی ،لسانی اور ثقافتی تنوع کے احترام کی بے شمار مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ ڈیڑھ صدیوں پر محیط نو آبادیاتی آقاؤں کے ذریعے تقسیم کرو اور حکومت کرو کی قابل نفرت پالیسی نے ہمارے قومی اتحاد کو متاثر ضرور کیا ، بلاخر   ملک تقسیم ہوا اور ہم نے فرقہ وارانہ فسادات کےایسے  خوفناک مناظر دیکھے جو انگریزوں کی آمد سے قبل ہمارے لئے اجنبی تھے۔ اس کے باوجود آج بھی ایسا نہیں ہیکہ  کہ آپ کسی صوفی کے مزار پر جائیں اور وہاں غیر مسلم عقیدت مندوں کی ایک بڑی تعداد کو نہ پائیں ،جو یہاں کی مذہبی تنوع کا مظہر ہے ۔ بلاشبہ ہندوستان کا آئین ہر شہری کو عملی طور پر یکساں حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ اس نے پورے ملک میں مذہبی تنوع کا اعتراف کیا ہے، او رہندوستان کو ایسے مسلم اکثریتی ملک کی شناخت عطا کی ہے جہاں مسلمانوں کو ان کے ذاتی ،مذہبی ، قوانین اور اصولوں کی بنیاد پر زندگی گذار نے کا اختیار ہو۔

اس بات کا ادراک کرنے کےلئے ہندوستان کے کارنامے کتنے عظیم ہیں، آئیے ہم پاکستان کا تقابل ہندوستان سے کرتے ہیں جو ساٹھ برس قبل ہمارے ملک کا حصہ اور اسی کثیر مذہبی وثقافتی ماحول کا حصہ تھا۔ میں  یہاں ایک پاکستانی صحافی کا ملہ حیات کے الفاظ نقل کرتا ہوں۔ وہ لکھتی ہیں ‘‘ ہم میں وہ تمام لوگ جنہوں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اسکولوں میں تعلیم حاصل  کی ہے یہی پڑھا ہے کہ قومی پرچم میں موجود سفید پٹی غیر مسلموں کی نشاندہی کرتی ہے ، جو کل آبادی کا تین فیصد ہیں۔ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سبز رنگ جو اس ملک میں مذہبی تنوع کو برداشت نہیں کرتا اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں پر مواقع کے تمام دروازے بند کردیتا ہے اب اس سفید پٹی کو دھندلا کردے گا۔’’

محترمہ حیات آگے چل کر پاکستانی ریاست کی عدم رواداری کی مثالیں پیش کرتی ہیں۔ پاکستانی دستور کی 18ویں ترمیم کی  جو سب سے ناگو ار بات ہے وہ یہ ہے کہ ملک کے وزیر اعظم کے عہد ے پر صرف ایک مسلمان فائز ہوسکتا ہے اور اس طرح غیر مسلموں پر وزیر اعظم کا عہدہ ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ عہد صدارت کو 1956سے ہی مسلمانوں کے لئے محفوظ کردیا گیا تھا۔ اس صورتحال کو واپس لوٹانے کی کوشش کے نتیجے میں مذہبی تنظیموں اور ان کے حمایتی گروہوں کی طرف سے واویلا مچے گا۔ کسی بھی سیاسی پارٹی نےان گروہوں اور تنظیموں کا سامنا کرنے کی اخلاقی جرأت کا مظاہرہ نہیں کیا ہے ۔ البتہ انٹر نیٹ پر مباحثہ فورمس پر ایک قابل ذکر تعداد نے اس اقدام کی مخالفت میں آواز بلند کی مگر بیشتر نے یہی دلیل دی کہ اسلامی ریاست کے سربراہ کو مسلمان  ہی ہونا چاہئے۔

وہ آگے لکھتی  ہیں:‘‘ اس ترمیم نے ایک خطرناک پیغام دیا ہے۔ یہ ترمیم ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب وقفے وقفے سے اکثر توہین رسالت کے الزام میں اقلیتی فرقے افراد پر تشدد اور غیر مسلموں پر ظلم اور ان کے مکانات کو جلانے کے واقعات سامنے آتے ہیں۔ ہم ان بنیادوں پر سرعام زدوکوب اور قتل کرنے کے مناظر دیکھ چکے ہیں ۔ دراصل اپنے چاروں طرف مذہب کی بنیاد پر ہم ایک قسم کی نسل کشی کا نظارہ کررہے ہیں جس پر ہمیں شرمندہ ہونا چاہئے۔ سندھ کے ہندو اور بعض دفعہ ان طبقوں کے افراد جو اپنے مسلم ہمسایوں کے ساتھ پر امن طور پر رہتے آئے تھے جبرا مسلمان بنائے جانے اور اپنی بیٹیوں کے اغوا سے بچنے کےلئے راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ جو چند سکھ کنبے قبائلی علاقوں میں اب تک رہ رہے تھے،وہ    طالبان کے ذریعے جزیہ ٹیکس کے نفاذ کی وجہ سے گھر چھوڑ نے پر مجبور ہو گۓ ہیں ۔ سنہ 1980کے بعد امتیازی سلوک کی وجہ سے عیسائی بھی غائب ہونے لگے ۔حتیٰ کے مشنر یوں کے ذریعہ چلائے جانے والے اسکولوں کے رجسٹروں میں درج ناموں سے پاکستانی معاشرے میں ہونے والی تبدیلی اور اس سوسائیٹی کی ایک ایک نسلی کا اظہار ہونا ہے۔

‘‘جن رویوں نے ان تبدیلیوں کو راہ دی ہے وہ بیشتر ریاستی پالیسیوں کی پیداوار ہیں۔ احمدیوں کے خلاف علیحدہ قوانین ، اقلیتوں کے لئے علیحدہ حق رائے دہی اور اسلا میانے کی پالیسی ان تمام نے مشترکہ طور پر  سماجی اور اقتصادی امتیاز کو فروغ دیا ہے۔ غیر مسلموں کے لئے مواقع مسدور کردیئے گئے ہیں۔ ملازمتوں میں ان کے لئے مواقع اور ترقیوں کے امکانات معدوم ہیں۔ اسکولوں میں داخلہ  نہیں دیا جاتا۔ بسنت تہوار کو ہندو تہوار قرار دیا گیا ہے اور اسی لئے یہ غیر مقبول ہے ۔ حتیٰ کہ پتنگ بازی جیسے معمولی عمل کو بھی مذہبی رنگ دے دیا گیا۔ بلاشبہ بسنت اور پتنگ بازی پر پابندی کی وجہ سے لاہور کے آسمانوں پر پھڑ پھڑاتی کاغذی پتنگیں ہوا ہوگئیں ،جبکہ کبھی لاہور کا یہ واحد سیکولر تہوار غیر معمولی جوش وخروش کے ساتھ منایا جاتا تھا۔’’

‘‘اس بات کے بھی ثبوت ہیں کہ تنوع کو ختم کر کے ایک بے رس یک رنگی یکسانیت کو فروغ دینے کا ناگوار عمل جاری ہے۔ مسلم فرقوں کو ان لوگوں کے عتاب کا سامنا ہے جو انہیں غیر مسلم قرار دیتے ہیں۔ دومواقع پر کراچی میں محرم کے موقع پر شعیوں کا قتل عام اس کی ایک مثال ہے۔ دوسرے فرقوں کو بھی ایسے ہی خطرات کا سامنا ہے۔ ایک طبقے نے تو اپنے اور اپنے بچوں کے تحفظ کے لے اپنی شناخت پوشیدہ رکھی ہے۔ دوسرے فرقے نےجیسے یہودیوں کی چھوٹی سی آبادی جو کہ کراچی میں سکونت پذیر تھی ملک کو ہی خیر آباد کہہ دیا ہے۔ یہ ایک انتہائی خطرناک عمل ہے۔ اس نے ایک ایسی  خلیج پیدا کردی ہے جو ماضی میں سرے سے موجود ہی نہیں تھی۔ جسکے نیتجے میں  روز افزوں سماجی اضطراب نمایا ہے۔’’

بے شک ہم سب اس روز افزوں سماجی اضطراب سے واقف ہیں۔ پاکستان میں اوسطاً ہر روز لوگ مارے جارہے ہیں ۔ اس لئے یہ سوال اور بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہوجاتا ہے کہ ہندوستان کی طاقت کا راز کیا ہے؟ کس طرح ہندوستان کے لوگ دوسرے مذہب ،زبان، نسل اور خطے کو اقتدار میں اور مختلف میدانوں میں نمایاں شخصیتوں کو مکمل طور پر قبول کرلیتے ہیں ؟ اس بات کو سمجھنے کے لئے ہمیں ہندوستانی طرز زندگی ،اپنے دھرم جسے ہندو دھرم کہا جاتا ہے مگر اصلایہ مذاہب ،فلسفوں بشمول الحاد اور دہریت کا ایک مجموعہ ہے۔ جی ہاں ہندو دھرم کا خدا بھی وہی مادّ ہ تھا جیسا کہ ایک خدا یا بہت سے خداؤں یا کسی ایک دیوتا میں یقین رکھنے والوں کا اور جن کے پیروکار  آج بھی کسی ایک محدود علاقے میں موجود ہیں۔ لہٰذا ایک ہندو کنبے میں دو ایک افراد ایسے ہوسکتے ہیں جو ایک خدا یا کئی خداؤں میں یقین رکھتے ہوں یا پھر منکر خدا یا دہرے ہوں ۔مگر سب ایک چھت کے نیچے مل جل کر رہتے ہیں اور ان کا مذہبی عقیدہ ان کی زندگیوں میں پریشانی کا سبب نہیں بنتا ۔ملک کے مختلف خطوں میں  مختلف مذاہب ،مختلف مذہبی صحیفے تھے اور دوسرے خطے کے لوگ اپنے عقیدے لے کر آتے تھے اور اس کی تبلیغ کرتے تھے۔

اس لئے جب اسلام ،عیسائیت یا یہودیت غیر ملکوں سے ہندوستان میں  داخل ہوئی تو ہندوستانیوں کو ان کی  مقبولیت سے  کوئی پریشانی  درپیش نہیں ہوئی ۔ ہندو یا یوں کہہ لیجئے کہ ہندوستانی پوری دنیا کو ایک کنبہ (کنب) مانتے تھے۔ ہندو فلسفے کامرکزی اصول یہ تھا کہ خدا کی طرف رہنمائی کرنے والے راستے بہت سے ہیں اور حتمی طور پر سبھی اسی روحانی سچائی کی طرف جاتے ہیں۔ اس لئے ایک طرف جہاں دوسرے مذاہب کے ساتھ اسلام کا پرتشدد سامنا ہوا وہیں ہندوازم نے اسے اپنے فروغ کے لئے زر خیز میدان مہیا کیا۔ہندوستان کو سب سے پہلے اسلام سے متعارف کرانے والے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے زمانے میں وہ تاجر تھے جو ہندوستان کے جنوبی ساحل او ر عرب کے درمیان سفر کرتے تھے۔ بعد ازیں اسے عوام میں مقبول بنانے میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃعلیہ اور حضرت نظام الدین اولیا رحمۃ اللہ کی خدمات  کا فی نمایا ں رہیں ۔ ہندوؤں کے ہر طبقے کے افراد ان جیسے ہزاروں صوفیوں کے مزارات پراتنی ہی گہری عقیدت کے ساتھ حاضری دیتے ہیں جتنا کہ مسلمان۔ صوفیوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنی ساری زندگی ہندوستان میں گذاردی ۔ اور اسلام کوپھیلایا ۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہندوستان میں کشش محسوس کی۔

حتیٰ کہ اولین فاتح ہند۔ سندھ اور ملتان سنہ711محمد بن قاسم نے ہندوؤں کو اہل کتاب کا درجہ دیا تھا جو کہ اس وقت تک عیسائیوں او ریہودیوں کے لئے مختص تھا۔ انہیں اس بات کا ادراک تھا کہ ہندو صحیفے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ وہ اولین پیغمبروں پر نازل ہوئے جن کاذکر قرآن کرتا ہے او ر مسلمانوں کو ان کا بھی اتنا ہی  احترام کرنے کی ہدایت کرتا ہے جتنا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ۔ بعد کے مسلم امرا خصوصاً مغل شہنشاہوں نے حکمرانی کے ایک سیکولر نظام کو اپنایا اور ہندوؤں کو وزارت مالیات او رسپہ سالار لشکر جیسے اہم عہدوں پر سرفراز کیا۔ حتیٰ کہ وسط ایشیائی لیٹروں نے بھی جنہوں نے لوٹ مار کے دوران یہاں کے چند مندروں کو روندا، یہاں کی مذہبی رواداری اور اسلام کی قبولیت کو متاثر نہیں کرسکے۔

لیکن اس فرقہ وارانہ ہم  آہنگی کو پہلا دھجکا انگریز وں کی لڑاؤاو رحکو مت کرو کی پالیسی سے پہونچا ۔ حالانکہ یہ پالیسی 1800سے ہی جاری تھی اسے نظریاتی شکل بعد میں دی گئی ۔ بمبئی کے گورنر نے  گورنر جنرل لارڈ انفئن  کو لکھے گئے اپنے نوٹ مورخہ 14مئی 1858میں ‘‘لڑاؤ اور حکومت کرو’’کی پالیسی کو جاری رکھنے کی وکالت کی۔ انہوں نے کہا کہ Devide etempera(تقسیم کرو اور حکومت کرو) قدیم رومی پالیسی تھی جو  ہماری بھی ہونی چاہئے ۔ نوآبادیاتی نظام کے ایک اور حامی سرجان ووڈ نے بھی گورنر جنرل لارڈ ایلگس کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ‘‘ ہم نے اپنے اقتدار کو ایک حریف کو دوسرے حریف سے ٹکر ا کر برقرار رکھا ہے او رہمیں یہ سلسلہ جاری رکھنا چاہئے۔

اسی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے انگریزوں نے صوبہ بنگال کو 1905میں تقسیم کر کے ایک مسلم اکثریت صوبے کی تشکیل کی۔ اس کے بعد مسلمانوں کو ہندوؤں سے دور کرنے کے لئے مسلمانوں کو رائے دہی کا علیحدہ حق دیا اور اس حق کو 1909کے انڈین کونسل ایکٹ میں شامل کروایا ۔ یہی آگے چل کر ہندوؤں او رمسلمانوں میں تصادم او ردوری کا سبب بنا۔

انگریزوں نے دونوں فرقوں میں کچھ ایسے گروہوں کی پیدائش اور پرورش میں تعاون کیا  جنہوں نے خارجی رجحانات کو فروغ دیا۔ اس کی بنیاد پر ہندو اکثریت اور مسلم اکثریت کی بنیاد پر ملک کی تقسیم کی راہ ہموار ہوئی ۔لیکن جبکہ ایک طرف مسلم اکثریت والے پاکستان نے خود کو فوراً اسلامی جمہوریہ قرار دے کر اقلیتی فرقوں پر بہت سے دروازے بند کردیئے اور ان کے لئے بہت سی پریشانیاں پیدا کردیں۔ ہندو اکثر یت والے ہندوستان نے تمام مذاہب کو ایک خدا تک رہنمائی کرنے والے مختلف راستوں کی حیثیت سےتسلیم کرنے کے اپنے دیرینہ فلسفے کو اپنائے رکھنے کا فیصلہ کیا۔

بہر حال حالیہ دہائیوں میں ہندوستانی اتحاد کو درپیش چیلنجز میں اضافہ ہوا ہے۔ چند ہند تو اگروہوں نے جو نوآبادیاتی کی وراثت ہیں اپنی طاقت میں اضافہ کیا، جزوی طور پر مسلمانوں میں بڑھتی ہوئی قدامت پسندی اور عالمی سطح پر وہابی قدامت پسندی کے فروغ کے نتیجے میں بھی ، لیکن ہندوستانی اتحاد کو اصل چیلنج اپنے ہمسایہ ملک پاکستان سے ہے جو ہندوستان کو کمزور کرنے کے لئے دہشت گردانہ تنظیموں کو فروغ دے رہا ہے ۔ اس بات میں شبہ نہیں کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ لشکر طیبہ جیسی پاکستانی تنظیموں کا مقصد ہندوستان کے مسلم طبقے کو نقصان پہونچا نا ہے۔

ہندوستانی مسلمانوں کے دوسرے طبقوں کے شانہ بشانہ پورے اعتماد کے ساتھ پر امن بقائے باہم اور ترقیاتی رفتار  کا  تصور ہی پاکستان کے فلسفہ و جودیت پر کافی ضرب لگا رہا  ہے۔ ہندوستان میں خوشحال مسلم طبقے کا وجود پاکستان کے دوقومی نظریئے کو رد کررہا ہے جو اس کے قیام کی بنیاد بنا۔ یہ حقیقت ہی پاکستان کے وجود کے لئے ایک سوال ہے کہ ہندوستان کے مسلمان نہ صرف آپس میں پرامن طور پر رہتے ہیں بلکہ مختلف مذاہب ، نسلوں، اور زبانوں کے ماننے والوں کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہیں۔ جبکہ پاکستانی مسلمان آپس میں بری طرح متصادم اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔ پاکستانی حکومت جس نے اپنی دوغلی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ان دہشت گرد تنظیموں کی تخلیق کی ہے اس بات کو نظر انداز نہیں کرسکتی کہ پاکستانی مسلمان ،سندھی، بلوچی ، پٹھان ،سرائیکی اور مہاجرین کو اگر ایک چھوٹا سا بھی موقع دیا جائے تو وہ ہندوستان کے اصل دھارے میں شامل ہونا پسند کریں گے۔ ہندوستانی مسلمان ، اپنے وجود کے بل پر اور اپنے پر امن خوشحال بقائے باہم کے باعث پاکستان کے لئے ایک وجودی خطرہ ہیں۔ یہ امید رکھنا چاہئے کہ جب پاکستان کو ہوش آئیگا تو وہ اس طرح کی پالیسیوں سے کنارہ کشی اختیار کرلے گا۔ صورت حال چاہے جو بھی ہو ہندوستانیوں نے انتہائی مدافعتی قوت کا مظاہرہ کیا ہے اور کئی دہائیوں تک سیکولر زم اور اپنے اتحاد کو درپیش چیلنجوں کا سامنا کرنے کی صلاحیت پیدا کی ہے۔ وہ دنیا کو پر امن اور خوشحال بقائے باہم کا ایک کامیاب ماڈل پیش کریں گے خصو صاً ان لوگوں کو جو تکثیر اور تنوع سے خود کو ہم آہنگ کرنے میں دقتیں محسوس کرتے ہیں۔

(یہ تقریر 10جون 2010کو اقوام متحدہ ،جینوا میں کثیر ثقافتی تجربات کے موضوع پر منعقدہ ایک غیر رسمی سیمینار میں پیش کی گئی)

URL: https://newageislam.com/urdu-section/indian-pluralism-–-model-successful/d/3932

URL for English article : http://www.newageislam.com/islam-and-pluralism/indian-pluralism,-a-model-of-successful-co-existence,-recent-challenges/d/2978

 

Loading..

Loading..