New Age Islam
Tue Apr 21 2026, 01:59 PM

Urdu Section ( 18 Apr 2024, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Interpretations (Tafsir) Of The Qur’anic Context: A Discourse – Part Two قرآنی سیاق و سباق کی تفسیر: ایک مطالعہ

 ڈاکٹر عظمیٰ خاتون، نیو ایج اسلام

(حصہ دوم)

20 جولائی 2023

خلاصہ

عالمِ اسلام میں قرآن کی اولیت ہمیشہ سے ہی مسلم رہی ہے۔ عہد حاضر میں علماء اسلام نے ایک نئے انداز میں قرآن کو مصدر رشد و ہدایت کی شکل میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کی وجہ سے، یہ مذہبی و قانونی سمیت مروجہ روایت کے متعدد پہلوؤں اور دیگر شعبوں کے لیے، ایک چیلنج بن گیا ہے۔ حالیہ برسوں میں، قرآن اور اس کی  تفسیروں کے حوالے سے  مختلف نقطہ ہائے نظر، مختلف طریقے، قیاس آرائیاں، مفادات کے زور اور ٹھوس نتائج کا انکشاف ہوا ہے۔ قرآن کی مختلف تشریحات، اسلام کی فکری تاریخ کے مختلف مراحل سے تعلق رکھتی ہیں، اور ان کے اندر اسلامی فکر کی نشوونما کی عکاسی ہوتی ہے۔ اس مقالے میں، راقم نے اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے، کہ کس طرح مختلف مفسرین نے قرآن کے سیاق و سباق کو پرکھنے اور اس پر نظر ثانی کرنے کی کوشش کی۔ اور میں اس سلسلے میں کافی اختصار کے ساتھ مختلف نسوانی نقطہ ہائے نظر کا جائزہ لینے کی کوشش کروں گی۔

-------

قرآن کو جدید مسلمانوں سے جوڑنا

دور جدید کے متعدد اصلاح پسند مفکرین نے قرآن اور مسلمانوں کی روزمرہ زندگی کے درمیان پائے جانے والے اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کی، جو ایک قانونی انداز میں، قرآنی تعلیم کے زوال کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی۔ اس کی ایک بڑی وجہ قرآن اور مسلم نوجوانوں کے درمیان کا فاصلہ تھا، جو مغربی تہذیب کی کامیابیوں اور حصولیابیوں سے زبردست متاثر تھے۔ بیسویں صدی میں یہ مسلمان، اکثر مغربی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرتے تھے، یورپ کی زبانیں مثلاً، فرانسیسی، انگریزی اور جرمن وغیرہ سیکھتے تھے ۔ اس ذریعے سے انہوں نے یورپین لٹریچراور مغربی فکر کا بڑے پیمانے پر مطالعہ کیا اور ان سے متاثر ہوئے۔ وہ قرآن اور روایتی اسلامی علوم بشمول اس کے مباحث، زبان اور اصطلاحات وغیرہ سے ناواقف تھے۔

حالانکہ، ایک ’’جدید نقطہ نظر‘‘ کے حامل مسلم اسکالروں نے، قرآن کے مفہوم کو ان لوگوں کے سامنے ایک نئے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے، جو مغربی افکار سے متاثر تھے۔ ایسے ہی ایک جدیدیت پسند، ایک مشہور پاکستانی عالم اور نو احیاء پسند جماعت اسلامی کے بانی، ابو الاعلیٰ مودودی (وفات: 1979) نے، اپنی مشہور تفسیر، تفہیم القرآن کے دیباچے میں واضح طور پر لکھا، کہ اس کتاب کا بنیادی مقصد تعلیم یافتہ مسلم نوجوان کے سامنے قرآن کی تفسیر پیش کرنا ہے،  یہ علماء کے لیے نہیں ہے:

یہ کتاب نہ تو علماء اور محققین کے لیےہے اور نہ ہی اس کا مقصد ان لوگوں کی مدد کرنا ہے، جو عربی زبان اور اسلامی مذہبی علوم پر عبور رکھتے ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد قرآن کا گہرا اور عمیق مطالعہ پیش کرنا ہے۔ ایسے لوگوں کو پہلے سے ہی کافی مواد دستیاب ہوتا ہے۔ بلکہ یہ کتاب ایک عام قاری، اوسط تعلیم یافتہ شخص کے لیے ہے، جسے عربی زبان پر عبور نہیں ہے، اور وہ قرآن کی روایتی تفاسیر میں پائے جانے والے علم و حکمت کے خزانوں سے مکمل استفادہ کرنے سے قاصر ہے۔

  اسی تناظر میں، مولانا ابوالکلام آزاد نے قرآن کو ایک خاص صورت حال کے عین مطابق ڈھالنے کی کوشش کی، اور ترجمان القرآن میں ان کی حقیقی خواہش یہ ہے کہ قرآن کو ایک عام مسلمان کے لیے قابل فہم بنایا جائے۔ مولانا آزاد نے اسے دو اہم نکات کی روشنی میں ظاہر کیا ہے: اول،  یہ کہ سورۃ الفاتحہ، اور اس پر مولانا آزاد کی تفسیر، قرآن کی بنیادی تعلیم کا مظہر ہے۔ دوم، یہ کہ ان کا ترجمہ قرآن اور اس تفسیر عام مسلمانوں کی روزمرہ زندگی میں، قرآن کے اطلاق کو ممکن بناتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

میں یہ کہنے کی جرات کرتا ہوں کہ مسلمانوں کی مذہبی اصلاح کی راہ میں دور حاضر کی سب سے بڑی رکاوٹ اب دور ہو گئی ہے۔ اگرچہ،  یہ صرف ایک شروعات ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنی تحریروں میں، اس کے بہت سے ایڈیشن شائع کیے جانے ، دوسرے ضمنی لٹریچر لکھے جانے ، موضوع کے اشاریہ ، حوالہ جات اور اصطلاحات کی لغت ، اور دوسری زبانوں میں ترجمہ کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا۔ الغرض، انہوں نے ایسے تمام کاموں کو انجام دینے کے لیے ایک سوسائٹی کے قیام پر بھی زور دیا۔ لیکن انہیں یہ محسوس نہیں ہوا کہ یہ ان کی اپنی ذمہ داری ہے؛ان کے بنیادی مقاصد پورے ہو چکے تھے۔

  سید قطب نے بھی اپنی تفسیر (فی ظلال القرآن) لکھی، تاکہ آج کے دور جدید کے مسلمانوں کو، قرآن کی ضرورت و اہمیت پر ایک نیا نقطہ نظر فراہم کیا جا سکے۔ قطب کا مخصوص انداز تحریر، اسلام کے حوالے سے ان کا  مضبوط نقطہ نظر ، اور ان کا جدید معاشرے کے بہت سے اداروں کو جاہلیت (قبل از اسلام کے اداروں کے مترادف، یعنی غیر اسلامی) قرار دینا، ان لوگوں کے درمیان ان کی تفسیر کو اہمیت کی حامل بنا دیتی ہے، جن کا بنیادی مقصد اسلام کو مسلم معاشروں میں ایک غالب سماجی و سیاسی قوت کے طور پر قائم کرنا ہے۔ قطب کی تفسیر، ذاتی افکارکی عکاسی کرنے  والی نوعیت کی ایک اچھی تفسیر ہے، جس میں وہ نصوص قرآنیہ کی اپنے زیادہ آزاد خیال تفسیر میں، معیاری تفسیری روایت سے کچھ حد تک دوری اختیار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، اور جدید دنیا اور اس کے چیلنجوں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں، اور تفسیر قرآن کے معاملے میں قدیم طور طریقوں اور اصول و انداز کی بالکل پرواہ نہیں کرتے۔ یہ ’’قرآن کے سائے میں‘‘ ہے، جیسا کہ عنوان سے ہی ظاہر ہے ، اور اس میں جدید دور کے مسلمانوں کے لیے ذاتی اور اجتماعی سطح پر قرآن کی افادیت، اور اس کے معانی تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ غالباً اس تفسیر کی یہی خصوصیت، بڑے پیمانے پر مسلم نوجوانوں میں، ظلال کی پذیرائی کی بنیاد ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے درمیان جو اخوان المسلمین اور اس طرح کی تحریکوں سے نظریاتی طور پر وابستہ ہیں۔

 قرآن کے اخلاقی وقانونی نصوص پر ازسر نو کام

اس دور جدید میں، ایک اہم نظریہ جو کافی مقبول رہا ہے، وہ یہ ہے کہ قرآن کی متعدد اخلاقی و قانونی ہدایات، بنیادی طور پر مخصوص حالات میں مخصوص لوگوں، یعنی پہلی/ساتویں صدی کے اوائل کے حجازی مسلمانوں  کے لیے تھیں۔ لہذا، جب یہ اخلاقی وقانونی ہدایات مسلمانوں کی بعد کی نسلوں پر نافظ کی جائیں، جن کا سماجی اور تاریخی پس منظر، اور تجربہ ساتویں صدی کے حجاز سے کافی مختلف ہے، تو اس نئے ماحول میں، ان اخلاقی وقانونی ہدایات کی مطابقت پر کچھ تو غور کرنا ہوگا۔ اگر ایسا ہے تو، یہ دلیل دی جا سکتی ہے، کہ ہر نسل قرآن کی اخلاقی وقانونی ہدایات سے وہ مفہوم و معنی اخذ کر سکتی ہے، جو پہلے کی نسلوں سے مختلف ہو۔ نتیجتاً، قرآن کے اخلاقی وقانونی نصوص کی ایک نئی تفہیم، ایک نئے دور کی ضرورت ہے۔

اس دورِ جدید میں، مختلف ادوار اور مختلف سیاق و سباق میں قرآن کی ایک نئی تفہیم کی ضرورت کی حمایت میں، دو نظریات کافی مقبول  ہیں۔ سب سے پہلا، غلام احمد پرویز کا نظریہ کہ صرف قرآن ہی کافی ہے، ان کا ماننا ہے کہ اسلام کی بنیادی تعلیم اٹل اور ناقابل تبدیلی ہے، لیکن ان کے اطلاق میں کافی لچک ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ’قرآن کے  نصوص کا کوئی واحد، متعین معنی و مطلب نہیں ہے۔ بلکہ ہر نئی نسل قرآن میں معانی و مفاہیم کے نئے نئے خزانے تلاش کر سکتی ہے، کیونکہ قرآن کی تعلیم کو سمجھنے کی ان کی اپنی صلاحیت بڑھتی رہتی ہے۔‘‘ دوسرا نظریہ، یہ ہے کہ قرآن کی اخلاقی و قانونی ہدایات پر دوطریقوں سے عمل کیا  جا سکتا ہے: اول، سطحی- یعنی قرآن کی مخصوص اخلاقی و قانونی ہدایات کو عملی جامہ پہنایاجائے ، دوم، گہری-  یعنی ان ہدایت کی بنیادی حجت پر غور و فکر کیاجائے ۔ دلیل یہ ہے کہ، اس  بنیادی حجت کی روشنی میں یہ طے کیا جائے، کہ آیا قرآن کی وہ مخصوص اخلاقی و قانونی ہدایات ایسی ہیں کہ ہر زمانے، ہر جگہ اور ہر ماحول میں سختی سے ان پر عمل کرنا ضروری ہے، یا نہیں۔ اور اگر کسی اخلاقی و قانونی ہدایت کی بنیادی حجت کسی مخصوص سماجی، تاریخی، اقتصادی، سیاسی یا دیگر حالات کے ساتھ مخصوص ہے، اور یہ حالات اب کہیں موجود نہیں ہیں، تو اس اخلاقی وقانونی ہدایات پر عمل کو ترک کیا جا سکتا ہے۔ اور اگر حالات دوبارہ تبدیل ہو کر پہلے ہی جیسے ہو جاتے ہیں، تو ان اخلاقی و قانونی ہدایات پر عمل کو بحال کیا جا سکتا ہے۔ اب اس صورت میں  بنیادی حجت کو کافی اہمیت حاصل ہو جاتی ہے، جو کہ ایک ایسا نقطہ نظر ہے جو کلاسیکی مسلم فقہاء سے مطابق رکھتا ہے، جیسا کہ حکمت پر بحثوں سے ظاہر و باہر ہے۔ تاہم، اگرچہ اس سے قبل قرآن کے اخلاقی و قانونی نصوص کے مترجمین اسباب النزول کے ذریعے، قرآن کے تاریخی سیاق و سباق میں کسی حد تک دلچسپی رکھتے تھے، لیکن انہوں نے اس سیاق و سباق پر اس انداز میں روشنی نہیں ڈالی، جیسا کہ دورِ جدید کے سیاق و سباق کے ماہرین کرتے ہیں، جو قرآنی احکام پر نظر ثانی کے لیے اپنے دلائل میں آیات قرآنیہ کےسیاق و سباق کو اجاگر کرتے ہیں، جہاں دورِ جدید میں ایسے احکام نامناسب نظر آتے ہیں۔

حجت کی اہمیت

  اس تنقیدی جذبے کا ایک پہلو، قرآن کے اخلاقی و قانونی نصوص کی تشریح میں حجت پر زور دینا تھا۔ بہت سے علماء کا ماننا ہے کہ عقل ایک اہم ذریعہ ہے، جس سے ہم خدا کے کلام کو انسانی ذہن کے لیے قابل فہم بناتے ہیں۔ ایک جدید مسلم مفکر غلام احمد پرویز (وفات 1985) کا ماننا تھا کہ، قرآن میں صحیح عقیدہ اور عمل کے اسلامی تصور پر عمل کرنے کے لیے تمام ضروری اصول موجود تھے۔ ان اصولوں کی وضاحت کا کام، حجت اور الہٰی طور پر منظور شدہ سیاسی حکام کو سونپا جانا چاہیے تھا۔

اس سے قبل، ابتدائی مسلمانوں نے نصوص قرآنیہ سے جو  غیر معقول یا افسانوی خیالات منسوب کیے تھے، انہیں مسترد کردیا جانا تھا۔ قرآن کی بعض جدید تشریحات میں حجت پر زور دینے کا ایک پہلو، اگرچہ ضروری نہیں کہ وہ قرآن کے اخلاقی اور قانونی نصوص سے ہی متعلق ہو، اس میں پائے جانے والے حکایات کے معجزاتی یا مافوق الفطرت عناصر کی نفی ہے۔ بہت سے جدیدیت پسند  اسکالروں نے 'افسانوی اور قدیم تصورات کے نصوص 1 کو ختم کرنے' کی کوشش کی۔

مثال کے طور پر، عبدو نے، 2:63 کی اپنی تفسیر میں، جس میں قرآن نے کوہ سینا کے 'بلند کیے جانے(و رفعنا فوقکم الطور)' کا ذکر کیا ہے  ، اس کی تشریح زلزلہ (وقد یکون ذلک فی الآیۃ بضرب من الزلزال) سے کی ہے۔ اسی طرح سید قطب (متوفی 1966) بھی  اپنی تفسیر ظلال میں ’’بلند کیے جانے‘‘ کے لفظی مفہوم سے پیچھے ہٹتے نظر آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ  2:63 میں اہم نکتہ یہ ہے کہ، یہ لوگوں کے سروں کے اوپر پہاڑ کی تصویر کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ قرآن کی دیگر 'افسانوی' حکایات، جیسے کہ اصحاب کہف اور پرندوں اور چیونٹیوں کی بات والی حکایتوں کی، جدیدیت پسند مسلم علماء، مثلاًغلام احمد پرویز اور خلیفہ عبدالحکیم (متوفی 1959) نے 'عقلی' تشریحات کی ہیں۔  اپنے عقلی نقطہ نظر پر زور دیتے ہوئے، احمد خان کا کہنا تھا، کہ قرآن میں جو کچھ ہے وہ فطرت کے خلاف نہیں ہے۔ معجزات کو معجزات کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے ، بلکہ ایسے مظاہر کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جو قوانینِ فطرت کے مطابق ہیں، لیکن انہیں اس زمانے کے لوگ قوانین فطرت کے مطابق، عمل کرتے ہوئے دیکھنے سے قاصر ہیں۔ آزاد کی قرآن فہمی کا یہ بھی ایک قابل ذکر پہلو یہ بھی ہے، کہ انہوں نے قرآن کی ان تعلیمات پر کافی زور دیا ہے، جن میں قرآن پڑھنے اور اپنی سوجھ بوجھ کے مطابق ایک درست نتیجے پر پہنچنے، اور قرآن کے پیغام میں مضمر حقیقت تک پہنچنے کے لیے، عقل اور استدلال کے استعمال کی بات کی گئی ہے۔ آزاد نے کئی مواقع پر یہ واضح کیا ہے، کہ قرآن انسان کو عقل سے کام لینے، اور آفاق و انفس میں خدا کی نشانیوں پر غور و فکر کرنے کی تاکید کرتا ہے تاکہ وہ ہدایت پا  سکے۔ ان کے نزدیک، استدلال اور غور و فکر کی دعوت، قرآن کے پیغامِ حق کے بنیادی محوروں میں سے ایک ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

"قرآن کے طریقہ دعوت کی بنیادی اور سب سے اہم خصوصیت، ان دلائل پر غور و فکر کی اپیل کرنا ہے، جو وہ پیش کرتا ہے۔ قرآن بار بار سچائی کی تلاش پر اور عقل اور بصیرت کو استعمال کرنے، اور زندگی کے ظاہری تجربات پر غور و فکر کرنے، اور ان کی روشنی میں درست نتائج اخذ کرنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ درحقیقت قرآن میں ایسی کوئی سورت نہیں ہے، جس میں انسان سے ہر چیز پر غور و فکر کرنے کی پر زور اپیل نہ کی گئی ہو۔

'اور یقین والوں کے لئے تو زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں، اور خود تمہاری ذات میں بھی، تو کیا تم دیکھتے نہیں ہو ؟' (21-51:20)

  برصغیر پاک و ہند کے محمد اقبال نے کہا، کہ قرآن میں’’داستانیں‘‘موجود ہیں۔ اس کی ایک مثال زوال کے قرآنی ’’داستانوں‘‘ کا حوالہ ہے۔ مصر کے طنطاوی جوہری (متوفی 1940) نے کہا کہ قرآن میں کچھ نظریات، فرسودہ اصول  و معتقدات   سے متعلق ہیں، مثال کے طور پر، سات آسمانوں اور سات زمینوں کا تصور (جس کی طرف قرآن متعدد بار اشارہ کرتا ہے)، طنطاوی جوہری کے مطابق، صابیوں کے ایک قدیم نظریہ کا حصہ ہے، جن کے لیے سات کا نمبر کافی اہم تھا۔

  حالیہ زمانوں میں، متعدد مسلم حقوق نسواں کے حامیوں نے یہ کہنا شروع کیا ہے، کہ مسلمانوں کے لیے قرآن کی ازسرنو تعبیر و تشریح پیش کرنا  ضروری ہے، مثلاً، فاطمہ مرنیسی، آمنہ ودود محسن، اسماء برلاس اور رفعت حسن نے، ابتدائی اور جدید مترجمین و مفسرین کے 'پدر سرانہ ' مطالعوں پر تنقید کی ہے،  اور انہیں خواتین کے خلاف تعصب اور خواتین کے خلاف تاریخی ناانصافی قرار دیا ہے۔ ان کا استدلال ہے، کہ اگر مسلم معاشرے کو مسلمانوں کے ایک آدھے حصے کو مساوات کی باعزت سطح پر لانا ہے، تو انہیں عورتوں سے متعلق قرآنی احکام و اقدار کو، زمانہ نزول کے سماجی و تاریخی تناظر کی روشنی میں سمجھنا اور ان کی از سر نو تعبیر و تشریح کرنا ضروری ہے۔  اور یہ  کہ اگر ایسے سیاق و سباق بدل سکتے ہیں، تو ان سے اخذ کردہ تشریحات اور احکامات بھی بدل سکتے ہیں۔

مانا تو یہی جاتا  ہے کہ، اگرچہ قرآن نے پہلی/ساتویں صدی کے حجاز میں خواتین کے لیے بہت سی بہتریاں کی، لیکن اس کے بہت سے اصلاحی پہلوؤں کو اگلی نسلوں میں، اس کی تفسیروں میں نظر انداز کر دیا گیا، اور انہیں حاشیے پر ڈال دیا گیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ زیادہ تر مسلم معاشروں میں خواتین کی حالت بد سے بدتر ہوتی چلی گئی، اور تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ یہ مسلم حقوق نسواں کے حامی، اپنے حقوق کی بازیابی میں مذہب اور صحیفے کو پس پشت ڈالنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ ان کا سب سے اہم ذریعہ خود قرآن، اور اس کے مطالعے کے طریقوں پر مضبوط دلائل ہیں۔ ایک مراکشی ماہر عمرانیات، فاطمہ مرنیسی (پیدائش 1940) ، نے اپنی متعدد کتابوں میں قرآن کی ازسرنو تعبیر و تشریح کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کئی سالوں کے دوران، اسلامی روایت پر ایک تنقیدی نقطہ نظر تیار کیا،  اور ان موضوعات پر قلم اٹھایا جنہیں اب تک 'ممنوع' مانا جاتا تھا۔

اپنی متعدد کتابوں میں، انہوں نے ان احادیث کو بیان کرنے والے بعض صحابہ کے تعصبات پر خصوصی توجہ کے ساتھ، خاص طور پر خواتین سے متعلق، احادیث کی روشنی میں نصوص قرآنیہ کا جائزہ لیا ہے ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ صحابہ کرام نے بعض اوقات خود اپنے خیالات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دیا تھا۔ تعصب پر مبنی ان احادیث کو قرآن کی تفسیر میں غلبہ حاصل ہو گیا، اور مسلم فقہاء کو عورتوں کے حوالے سے جمود کو برقرار رکھنے کا جواز ہاتھ لگ گیا۔ مرنیسی نے صحابہ کرام کو (ایک عام انسان)  کی طرح سہو و نسیان کا مرکب بنانے ، اور انہیں اس مثالی اور ماورائی حیثیت سے نیچے لانے کی کافی کوششیں کی ہیں، جو انہیں سنی اسلام میں حاصل ہوا اور آج تک برقرار ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے، کہ خواتین کے حوالے سے قرآنی پیغام، غالباً ساتویں صدی عیسوی اور اس کے بعد کے ثقافتی معتقدات و معمولات میں فراموش کر دیا گیا تھا، مرنیسی ایک سوال کرتی ہیں : کیا یہ ممکن ہے کہ اسلام کے پیغامات کا، شدید توہم پرست ساتویں صدی کے عربوں پر، صرف ایک محدود اور سطحی اثر ہوا ہو،  جو پوری دنیا اور خواتین کو اپنے اس نئے نقطہ نظر سے جوڑنے میں ناکام رہے؟

ایک افریقی نژاد امریکی مسلمان اور ورجینیا کامن ویلتھ یونیورسٹی میں اسلامک اسٹڈیز کی ایسوسی ایٹ پروفیسر، امینہ ودود (پیدائش 1952) کا بھی نام ایسے مسلم حقوق نسواں میں آتا ہے، جو اصل نص قرآنی کے پیغام کی طرف لوٹ آنے کی دعوت دیتی ہیں۔ ان کی دلیل ہے کہ قرآن میں اتنی لچک اور گنجائش ہے، کہ بے شمار ثقافتی حالات کے تناظر میں اس کی درست تعبیر و تشریح کی جا سکتی ہے۔ ودود کا نقطہ نظر ایک جامع نوعیت کا ہے، اور وہ یہ کہتی ہیں کہ  روایتی اور بہت سے معاصر مفسرین کے کاموں میں یہ جامعیت ندارد ہے۔ کیونکہ وہ  ایک وقت میں ایک آیت پر توجہ کرتے ہیں ہے، اور "موضوعات کو پہچاننے، اور موضوعی طور پر قرآن کے خود اپنے ساتھ تعلق کو زیر بحث لانے"  کی بہت کم کوشش کرتے ہیں۔

اتھاکا کالج نیویارک میں شعبہ سیاست کے سینٹر فار دی اسٹڈی آف کلچر، ریس اینڈ اتھنی سیٹی کی ڈائریکٹر   اور ایک پاکستانی اسکالر، عاصمہ برلاس (پیدائش 1958) ۔ بارلاس اپنے کاموں میں نصوص کی کثرت معنویت  کے مسئلے پر بحث کرتی ہیں اور یہ بتاتی ہیں کہ بذات خود یہ ایک قرآنی روایت ہے۔ وہ یہ دلیل دے کر اخلاقی نسبتیت سے گریز کرتی ہیں، کہ تمام مطالعات کی قدرو اہمیت  یکساں نہیں ہوتی۔ ان کا کہنا ہے کہ قرآن خود "سیاق و سباق سے علیحدہ، منتخب اور ٹکڑوں میں مطالعہ کرنے سے خبردار کرتا ہے" اور "اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اس کے کچھ معانی، اور اس طرح کچھ مطالعات، دوسروں سے بہتر ہیں۔"

مسلم حقوق نسواں کے حامیوں کے علاوہ، جدید دور کے کئی مفکرین نے ایک نئے انداز میں قرآن کی تعبیر و تشریح کے حق میں بات کی ہے اور قرآن کے اخلاقی و قانونی نصوص کی تشریح پر دوبارہ غور کرنے پر زور دیا ہے۔ جدید دور میں اخلاقی وقانونی نصوص کی تشریح (نظریاتی اور اطلاقی دونوں) سے متعلق لٹریچر، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بہت سے مسلمانوں، علماء اور عام لوگوں میں اس بات کی شدید خواہش ہے کہ،  قرآن کے مجموعی پیغام، اس کے نظامِ اقدار،  اس کے ضروری عقائد اور معمولات سے سمجھوتہ کیے، بغیر عصری مسائل کے حوالے سے نصوص قرآنیہ کی مطابقت تلاش کی جائے۔ بیسویں صدی میں علمائے اسلام نے قرآن کی عصری زندگی سے مطابقت کو ظاہر کرنے کی بہت سی کوششیں کیں ہیں۔ اصلاح پسند مفکرین، جیسے محمد اقبال (متوفی: 1938)، حسن البنا (متوفی: 1949)، مرتضیٰ مطہری (متوفی 1979)، فضل الرحمان (متوفی: 1988)، آیت اللہ خمینی (متوفی 1988)، نصر حامد ابو زید (ولادت 1943)، محمد ارکون (ولادت 1928)، عائشہ عبدالرحمٰن بنت الشاطی (متوفی 1998)، ان سب کا یہی کہنا تھا کہ قرآن کی تعلیمات دورِ جدید سے مطابقت رکھتی ہیں،  اور وہ بنیاد فراہم کرتی ہیں، جن پر کسی بھی اصلاحی منصوبے کو بروئے کار لانے کی  کوشش کی جانی چاہیے۔

-----

حوالہ جات اور نوٹس:

   مکی مکتبہ تفسیر کی بنیاد ابن عباس نے رکھی تھی اور یہ مکتبہ تفسیر قرآن میں  سب سے زیادہ بااثر اور نمایاں تھا۔ وہ پیغمبر اسلام کے پھوپھی زاد بھائی تھے اور قرآن، عربی زبان، قبل از اسلام کی شاعری، عربی تاریخ اور ثقافت کے گہرے علم کے لیے مشہور تھے۔

   آرتھر جے آربیری، ترجمہ، قرآن کی تشریح، (آکسفورڈ: آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، 1964)۔ ’’یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، پرہیزگاروں کے لیے ہدایت ہے۔‘‘ 2:3 ’’تمہارے پاس خدا کی طرف سے آیاایک نور اور کتاب ۔

جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ انہیں جو رضائے رب کے درپے ہوں سلامتی کی راہیں بتلاتا ہے اور اپنی توفیق سے اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف تا ہے ..." 5:16

   مولانا اسلم جیراجپوری، ہمارے دینی علوم، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ دہلی، 1989، صفحہ 31۔

   القرآن، 75:19۔

القرآن، 16:44

   غلام احمد حریری، تاریخ تفسیر و مفسرین، تاج کمپنی دہلی، صفحہ 4۔

   جیراجپوری، حوالہ مزکورہ، صفحہ21

   حریری، حوالہ مزکورہ ، صفحہ5

   سید شاہد علی، اردو تفسیر بیسویں صدی میں، کتاب دنیا، نئی دہلی، 2001، صفحہ 7۔

   القرآن، 14:4۔

   عبداللہ سعید، (Interpreting the Qur’an: Towards a Contemporary Approach)، نیویارک: 2006، صفحہ 9-10

  ایضا.، صفحہ 10

13 Ignaz Goldziher، (Introduction to Islamic Theology and Law, trans)، ترجمہ۔ اندراس اور روتھ ہموری، پرنسٹن، این جے: پرنسٹن یونیورسٹی پریس، 1981۔

   Joseph Schacht ، (An Introduction to Islamic Law)، آکسفورڈ: کلیرینڈن پریس، 1964

    شاہ ولی اللہ، حجۃ اللہ البالغہ، ترجمہ، مارسیا کے ہرمینسن، لیڈن: ای۔ جے. برل، 1996، صفحہ. xxviii

   جے ایم ایس بلجون، (Modern Muslim Koran Interpretation)، لیڈن: ای۔ جے۔ برل، 1961، صفحہ. 2.

     جے ایم ایس بلجان، (Religion and Thought of Shah Wali Allah)، لیڈن: ای۔ جے۔ برل، 1986، صفحہ. 165.

شاہ    ولی اللہ، الفوز الکبیر فی اصول التفسیر، بیروت: دار البشیر، 1407/1987، ص۔ 112.

ایضا، صفحہ108

   یہ کام 1879 میں شروع ہوا اور 1898 میں ان کی موت کے وقت ادھورا رہ گیا۔

   ٹرول، سی ڈبلیو سید احمد خان: (A Reinterpretation of Muslim Theology)، نئی دہلی: وکاس پبلیکیشن۔ مکان، 1978، صفحہ 144-170۔

   محمد راشد ردا اور محمد عبدو، تفسیر القرآن الحکیم الشھیر بتفسیر المنار، 12 جلدیں ، بیروت: دار المعرفہ،، جلد1، ص، 24۔

ایضا، صفحہ19

ایضا، صفحہ19

   ابوالکلام آزاد، ترجمان القرآن، (اردو)، جلد 1، ساہتیہ اکیڈمی، دہلی، 1964، صفحہ 366-378

   میر، مستنصر، (Coherence in The Qur’an: A Study of Islahi’s Concept of Nazm in Tadabbur-i-Qur’an)، امریکن ٹرسٹ پبلی کیشن، 1983، صفحہ 1-2۔

   مودودی، تفہیم القرآن، صفحہ  1۔

   آزاد، ترجمان القرآن، محولہ بالا،  جلد اول، صفحہ 7، 14-16

ایضا،  48

   براؤن، (Rethinking Tradition in Modern Islamic Thought)، صفحہ۔ 48

   بلجون، (Modern Muslim Koran Interpretation)، صفحہ  21۔

   ردا اور عبدہ، منار، جلد 1، ص۔ 340.

   قطب، فی ظلال القرآن، جلد 1 ، ص۔ 76

   قرآن، 9-19

   قرآن، 27:17-20

   بلجون، (Modern Muslim Koran Interpretation)، صفحہ 22-24؛ خلیفہ عبدالحکیم، (Islamic Ideology, the Fundamental Beliefs and Principles of Islam and their Application to Practical Life)، لاہور: انسٹیٹیوٹ آف اسلامک کلچر، 1993۔

   ٹرول، سید احمد خان، محولہ بالا

   آزاد، ترجمان القرآن، صفحہ اول، صفحہ 31

   محمد اقبال، (The Reconstruction of Religious Thought in Islam)، لاہور: کے بازار، 1958، صفحہ۔ 85.

   بلجون، (Modern Muslim Koran Interpretation)، صفحہ 43-44۔

   فاطمہ مرنیسی، Women and Islam ، ترجمہ۔ میری جو لیکلینڈ، آکسفورڈ: بی بلیک ویل، 1991

   فاطمہ مرنیسی، (A Feminist Interpretation of Women’s Rights in Islam)، چارلس کرزمین (ایڈ.) لبرل اسلام، نیویارک: آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، 1998، 126۔

   آمنہ ودود محسن، (Qur’an and Woman)، کوالالمپور: فجر بکتی، 1992۔ پی پی ایکس -2

   عاصمہ برلاس، (Believing Women in Islam: Unreading Patriarchal Interpretations of the Qur’an)، صفحہ۔ 16۔

English Article: Interpretations (Tafsir) Of The Qur’anic Context: A Discourse – Part Two

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/interpretations-tafsir-quranic-discourse-part-two/d/132157

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..